تازہ تر ین

ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اور مریم نواز پر فرد جرم عائد

عبدالودودقریشی
اسلام آباد میں احتساب عدالت نے متفرق درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے میاں نوازشریف کی صاحبزادی مر یم نواز اور داماد کیپٹن صفدر پر فرد جرم عائد کردی ملزموں نے ان جرائم سے انکار کیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ فوج اپنے ریٹائرڈ ملازمین کا بھی تحفظ کرتی ہے اور موجود معاملات کے پیچھے فوج ہی ہے ان باتوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو ظرافت کی کئی کونپلیں پھوٹتی ہیں اگر جنرل مشرف یا دیگر ریٹائرڈ فوجیوں کا دفاع فوج کرتی ہے تو پھر کیپٹن صفدر بھی اس اصول کی بنیاد پر فوجی پشت پناہی سے مستفید ہو رہے ہیں ورنہ احتساب عدالت سے ضمانت نہ ہوتی۔ ماہرین قانون کے مطابق احتساب عدالت کسی کو بری کر کے آزاد کر سکتی ہے یا سزا دے کر جیل بھجوا سکتی ہے۔ ملزم کی ضمانت ہائی کورٹ ہی لے سکتی ہے مگر کیپٹن صفدر کی ضمانت سورج کی پہلی کرن پھوٹتے ہی لے لی گئی۔ اگر مریم نواز کی بات کو لیا جائے کہ سب فوج کررہی ہے تو کلیبری فونٹ جو بعد میں ایجاد ہوا پرانی دستاویزات تیار کرنے کیلئے کیوں استعمال کیا گیا فوج نے وہ کمپیوٹر سال قبل انکو دیا تھا جس پر سال بعد ایجاد ہونے والا کیلبری فونٹ ڈال دیا تھا اور انہوں نے دستاویزات تو سال قبل تیار کیں مگر فونٹ آنے والے دور کا ڈال دیا مریم نوازکا کہنا تھا کہ سسلین مافیاعدالت میں یہاں پیش ہو رہا ہے وہ تاریخ سے نابلد ہیں سسلین مافیا کو اٹلی میں ججوں نے ہی سزائیں دی تھیں اس مافیا کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے حج کو مار دیا تھا اور پھر اس قتل کے مقدمے کی سماعت جو جج کررہا تھا اسے بم مار کر مار دیا گیا پھر اس مافیا کو جیل کے اندر ایک بنکر کے اندر پنجروں میں لاکر پیش کیا جاتا ہے اور ان میں سینکڑوں افراد کو سزائیں دی گئیں کئی کو پھانسی چڑھایا گیا۔ جبکہ پاکستان کا حکمران طبقہ تو بی ایم ڈبلیو اور سرکاری پروٹوکول میں بن سنور کر خوشبو لگا آتا اور جاتا ہے میڈیا پر اپنے علم اور فضل کی دھونس بٹھاتا ہے ججوں کو بھی دھمکاتا ہے اورسسلین مافیا کی طرح بنکر اور پنجرے کے برعکس مرضی کے مطابق آتا جاتا ہے حکومتی ارکان نے فرد جرم لگانے کو روکنے کیلئے مقامی عدالت اور ہائی کورٹ کا بھی سہارا لینے کی کوشش کی اور پھر پانچویں پیشی پر فرد جرم لگ گئی ۔ آج پھر عدالت میں دسویں جلد کا ذکر آیا جسے کھولنے کیلئے سپریم کورٹ میں کہا گیا جج صاحبان نے شریف فیملی کے وکیل کو جلد پڑھنے کیلئے دی اور پھر پوچھا کہ اسے بھی کھول دیں جس پر وکیل نے کہا اسے بند ہی رہنے دیں اور پھر جب وکیل صاحب نے اسکی تفصیلات اپنے کلائنٹ کو بتائیں تو وہ خاموش ہو گئے اور اسے کھولنے کامطالبہ نہیں کیا جبکہ اب اپوزیشن خاص کر پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے دی جانے والی سیل بند اس دسویں جلد کو کھولا جائے اور عوام کو اس تک رسائی دی جائے مگر فرد جرم کو رکوانے کیلئے اسکا بھی ذکر کیا گیا کہ ہمیں اسکی کاپی نہیں دی گئی جبکہ وہ جلد عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں اور نہ شہارت کا حصہ ہے فردجرم کا لگ جانا اصل کام نہیں اصل کام جرم کو ثابت کرنا یا اسے جھوٹا قرار دے کر ملزموں کو سزا یا بری کرنا ہے ثبوت تو موجود ہیں جس پرہر پاکستانی کہہ رہا ہے کہ ملزموں کو سزا یقینی ہے عدالت کو جھوٹی دستاویزات دی گئیں دستاویزات پرانی مگر اس پر نیا ایجاد ہونے والا خط ہے اس فونٹ کو ایجاد کرنے والوں نے اس کی تصدیق کر کے خط دے دیا کہ اسے کمرشل طور پر یا لوگوں کے استعمال کیلئے سن دو ہزار سات2007 ءمیں دیا گیا مگر اسے ایک سال پرانی دستاویزات کو جعلی طور پر تیار کرتے ہوئے لگایا گیا جس سے ثابت ہے کہ دستاویزات جعلی ہیںاور تازہ تیار کی گئی ہیں۔ یہ جعل سازی اپنی جگہ مگر عدالت کے سامنے جعلی اور جھوٹی دستاویزات پیش کرنا الگ جرم ہے جرائم کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے لہٰذا شریف فیملی کی سپریم کورٹ میں بھی درخواست ہے کہ تمام جرائم کو ایک ہی جرم تصور کر لیا جائے یہ استعداءاس غریب بوڑھی عورت کی تصویر سے مماثلت رکھتی ہے جو سیلاب میں امداد مانگ رہی تھی پرمن چلے یہ کیپشن لگا کر سوشل میڈیا پر بار بار پوسٹ کررہے ہیں کہ ”پتر سارے جرم میرے نے تساں کجھ وی نہیں کیتا“ حیرت ہے دبئی میں اسحاق ڈار کا کاروبار ¾ پلازے بیٹوں کے نام ذاتی اور اپنی جائیدادیں کافی نہیں کہ ان سے سوال کیا جاسکے کہ یہ سب کچھ کہاں سے آپ نے بنایا اور اگر دوبئی کے حکمران کی نوکری بھی کی اور مشیر تھے تو تنخواہ کتنی ہوگی دس لاکھ پچاس لاکھ یا ایک کروڑ روپیہ ماہانہ وہ کسی تو بنک سے بطور چیک کسی بنک میں گیا ہوگا یا نقدی بکس سر پر اٹھا کر دوبئی کے حکمران کے محل سے ہر ماہ کی دس تاریخ کو نکلتے تھے ۔ ظاہر ہے یہ کہانی بھی قطری خط کی طرح ثابت نہیں کی جاسکتی اور دوبئی کا حکمران بھی پرانی تاریخوں میں ادائیگی ثابت نہیں کر سکے گا۔ ابھی تو معاملہ اسحاق ڈار کی ذات تک ہے دوسرے مرحلے میں بیٹوں کی جائیداد کا بھی باب کھلے گا تو اسکا ثبوت کیا ہوگا یا پھر باپ بیٹے ارب روپیہ ماہانہ پر ملازم تھے اور یہ تنخواہ تو امریکی صدر کی بھی نہیں ہے اور نہ خلیفہ اتنی رقم ماہانہ بھائیوں کو دیتا ہے۔ جب کچھ ثابت نہیں ہو سکے گا تو سزا ضروری ہوگی جبکہ اسحاق ڈار تو خود عدالت میں وعدہ معاف گواہ کا بیان دیتے جرائم کو قبول کر چکے ہیں جب کوئی ملزم وعدہ معاف گواہ بن کر بیان حلفی تحریری دیتا ہے اور اپنے جرائم کو قبول کرتا ہے پھر اپنے بیان سے منحرف ہونے پر اسکا بیان حلفی اسی کے خلاف استعمال ہوتا ہے جس پر سزا ضرور بہ ضرور دی جاتی ہے ڈرائینگ روم میں جھوٹ کی کہانی اور دباﺅ ¾ ڈرانا، دھمکانہ تو چلتا ہے مگر عدالت میں نہیں کیونکہ جب اس طرح کا بیان دیا جاتا ہے تو عدالت میں صرف جج اور بیان دینے والا ہوتا ہے اور جج ملزم کو بتانا ہے کہ یہ بیان آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے جس پر آپ سزا سے بچ نہیں سکیں گے اس کے بعد یہ بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے ہر بات صاف اور واضح ہے مگر ملزموں کے سامنے سب کچھ ابھی بھی خفیہ لوگوں ¾ عدالت ¾ دنیا سے پوشیدہ ہے اسے کہتے ہیں آنکھوں ¾ دلوں اور کانوں پر مہر کا لگنا۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved