تازہ تر ین

ٹنل میں سبزیوں بالخصوص ٹماٹر کی کاشت

آغا جہانزیب
ٹماٹر ہمارے ملک کی ایک اہم سبزی ہے جس کی ضرورت سارا سال رہتی ہے ۔ ٹماٹر نہ صرف سالن کا ذائقہ بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کا استعمال سلاد کے طور پر بھی کیاجاتا ہے ۔ علاوہ ازیں اس سے مختلف قسم کی مصنوعات مثلاََکیچپ اور پیسٹ وغیرہ بھی تیار کی جاتی ہیں۔ ٹماٹر میں لائیکو پین موجود ہوتی ہے جو کہ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میںمدد دیتی ہے ۔ ٹماٹر کا پودا اچھے نکاس والی زرخیز میرا زمین میں بہترین پیدواری نتائج دیتا ہے ۔ زمین میں نامیاتی مادوں کی موجودگی بہت ضروری ہے تاکہ زمین میں نمی دیر تک برقرار رہے اور پودے کو غذائی اجزاءبھی ملتے رہیں۔ درمیانہ یا بہار جیسا موسم ٹماٹر کی نشوونما اور پھل لگنے کے لیے نہایت موزوں ہے ۔ ٹماٹر کے پودے کو بڑھوتری اور پھل دینے کے لیے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے ۔چونکہ پنجاب کے علاقوں میں دسمبر جنوری کے مہینوں میں شدید سردی اور کورا پڑتا ہے اس لیے ٹماٹر کی فصل ان سے متاثر ہوتی ہے ۔ خادم پنجاب کی ہدایت پر حکومت پنجاب 3000ایکڑ زپر ٹنل کی تنصیب کے لئے مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ محکمہ زراعت کی جانب سے کسانوں کو ٹنل کی تنصیب کے لئے 225,000روپے فی ایکڑ یا ٹنل کی تنصیب پر آنے والی اصل لاگت کا پچاس فیصد (جو کم ہو) بطور سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ بقیہ رقم منصوبہ میں حصہ لینے والے کسان خود ادا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ کاشتکار ٹنل فارمنگ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔ بالخصوص ٹما ٹر کی پیداوار میں اضافہ کر کے وہ بھاری منافع کما سکتے ہیں۔ حکومت نے ٹماٹر کی درآمد پر پابندی کسانوں کے مالی مفاد کے تحفظ کے لیے عائد کی ہے۔ اسی طرح کھیرا، شملہ مرچ ،کریلا اور دیگر سبزیوں کو ٹنل فارمنگ کے ذریعے فروغ دیا جاسکتا ہے ۔کاشتکار اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی آمدنی میں بے پناہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ ٹنل میں کاشت کی گئی فصل سے صرف اگیتی بلکہ زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے ۔ ٹنل ٹی آئرن ، جستی پائپ ، سریے اور بانسوں کی مدد سے بنائی جاسکتی ہے ۔ بلندی کے لحاظ سے ٹنل کی اقسام میں بلند ٹنل تقریباََ3تا5میٹر اونچی ، واک ان ٹنل تقریباََ2میٹر بلند اور پست ٹنل تقریباََ1تا 1.5میٹر اونچی ہوتی ہے ۔ڈرپ نظام آبپاشی اور سولر سسٹم کے ذریعے ٹنل فارمنگ میں کاشت کو مزید کامیاب بنایا جا سکتا ہے ۔ ٹماٹر کی ٹنل میں کاشت کے لیے دو طرح کی اقسام ہیں۔لمبے قد والی اقسام جن کی بڑھوتری موافق موسمی حالات میں جاری رہتی ہے اور دوسری چھوٹے اور درمیانے قد والی اقسام جو خاص حد تک بڑھتی ہیں ۔تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ٹنل میں کاشت کے لیے ٹماٹر کی دوغلی یعنی ہائبرڈ اقسام زیادہ موزوں ہیں۔ لمبے قد والی اقسام کو صرف بلند اور واک ان ٹنل میں ہی لگانا چاہیے جبکہ چھوٹے قد والی اقسام کو پست ٹنل میں لگایا جاسکتا ہے ۔ بلند اور واک ان ٹنل میں کاشت شدہ لمبے قد والی اقسام کو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جبکہ پست ٹنل میں لگائی جانے والی چھوٹے یا درمیانے قد والی اقسام کو تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ٹنل میں ٹماٹر کی کاشت کے لیے نرسری کی بجائی کا موزوں وقت اکتوبر کا پہلا پندھواڑہ ہے ۔ جبکہ ٹنل کے اندر منتقلی کا موزوں وقت نومبر کا پہلا پندھواڑہ ہے ۔ ٹماٹر کے بیج کی مقدار کا تعلق اس کے اگاﺅسے ہوتا ہے ۔ اگر بیج کا اگاﺅ اچھا یعنی 80فیصد سے زائد ہو تو 50گرام بیج ایک ایکڑ فصل کی نرسری کاشت کرنے کے لیے کافی ہے ۔ اچھے نکاس والی زرخیز میرا زمین نرسری کی کاشت کے لیے موزوں ہے ۔ نرسری کی کاشت دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے پہلے طریقے میں نرسری اگانے والی پلاسٹک کی ٹرے استعمال کی جاتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ٹرے کے خانوں کو تیار شدہ کھاد یعنی کپموسٹ سے بھر دیاجاتا ہے ۔ علاوہ ازیں گلی سڑی کھاد اور مٹی یا بھل کو بالترتیب 3اور 1کے تناسب سے اچھی طرح ملا کر ٹرے کے خانوں میں بھر دیا جاتا ہے ۔ بعد میں بیج کی کاشت کر کے پانی لگا دیا جاتا ہے ۔ دوسرے اور زیادہ مقبول طریقہ میں چھوٹی چھوٹی ہموار تقریباََ ایک مربع میٹر کی کیاریاں بنائی جاتی ہیں۔ یہ کیاریاں زمین کی سطح سے تقریباََ15سینٹی میٹر بلند ہوں تاکہ بوقت ضروررت فالتو پانی کا نکاس ہو سکے ۔ بیج کم گہرائی یعنی 1تا 2سینٹی میٹر پر قطاروں میں کاشت کریں اور بعد میں مٹی یا بھل سے ڈھانپ دیں ۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 7تا8سینٹی میٹر ہونا چاہیے۔ ٹماٹر کی ٹنل میں کاشت 3سے 4ماہ پہلے جنتر یا گوارا بطور سبز کھاد کاشت کریں اور بعد میں روٹا ویٹر یا ڈسک پلو ہ چلا کر زمین میں ملا دیں۔ علاوہ ازیں گوبر کی گلی سڑی کھاد بحساب 20تا 25من فی ایکڑ بھی کاشت سے تقریباََ 4ماہ پہلے ڈالیں۔ پنیری کی منتقلی سے پہلے زمین کو تین یا چار مرتبہ ہل چلا کر اور دو مرتبہ سہاگہ چلا کر نرم بھر بھر ا اور ہموار کرایا جائے۔ زمین کی تیاری میں روٹا ویٹر اور ڈسک پلوہ کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ زمین تیار کرنے کے بعد ٹنل کی لمبائی کے رخ پٹڑیاں اور کھالیاں بنائی جاتی ہیں ۔ پٹڑی کی چوڑائی تقریباََ 1.25میٹر ہونی چاہیے اور ایک کھالی کے سنٹر سے لے کر دوسری کھالی کے سنٹر کا فاصلہ تقریباََ1.75میٹر ہونا چاہیے ۔ نرسری کی منتقلی سے پہلے پٹڑی کے کناروں پر تقریباََ دو فٹ چوڑی سیاہ پلاسٹک کی شیٹ بچھادی جاتی ہے ۔ اس سے نہ صرف جڑی بوٹیاں کنٹرول ہوتی ہیں بلکہ پانی کی بھی بچت ہوتی ہے ۔ پلاسٹ شیٹ میں 40سینٹی میٹر کے فاصلے پر پودے لگانے کے لیے سوراخ کر دیے جاتے ہیں۔ پست ٹنل میں یہ فاصلہ 50سینٹی میٹررکھا جاتا ہے ۔ ایک ایکڑ ٹنل میں پودوں کی تعداد 10سے 12ہزارہونی چاہیے ۔نرسری کی منتقلی سے پہلے ٹنل کو پانی لگادیں اور جب پوری ٹنل اچھی طرح سیراب ہوجائے تو نرسری کے پودے منتقل کردینے چاہیے ۔ نرسری کے پودے پانی کی سطح سے کچھ اوپر لگانے چاہیے۔ بلند اور واک ان ٹنل کے اندر چونکہ پودوں کی تعداد زیادہ رکھی جاتی ہے لہٰذا انھیں پٹڑی پر پھیلانے کے بجائے رسی کی مدد سے اوپر چڑھایا جاتا ہے اور رسی کے دوسرے سرے کو ٹنل کی چھت پر موجود تار سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ ٹماٹر کے پودے کی بغلی شاخیں کاٹ دی جاتی ہیں تاکہ پھل صرف مرکزی تنے پر ہی لگے اور پودا اطراف کی جگہ استعمال کرنے کی بجائے اوپر کی جگہ اور روشنی استعمال کرے ۔ تاہم اگر پست ٹنل میں چھوٹے یا درمیانے قد والی قسم کاشت کی گئی ہے تو پودے کی تربیت یعنی ٹریننگ کی ضرورت نہیں رہتی ۔ ٹنل میں کاشت شدہ ٹماٹر کے لیے موزوں درجہ حرارت بہت ضروری ہے ۔ دن کے وقت ٹنل کے دروازے کچھ وقت کے لیے کھول دیں تاکہ ٹنل کو پلاسٹک شیٹ سے اس انداز میں ڈھانپا جائے کہ ٹنل میں ٹھنڈی ہوا نہ جانے پائے تاکہ دن کے وقت حاصل کردہ درجہ حرارت رات کے وقت کام آسکے۔ آخر جنوری اور فروری میں نمی کے اخراج کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پودوں کے بڑا ہونے کی وجہ سے ٹنل میں نمی کی زیادتی ہوسکتی ہے جو کہ بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے ۔ اس لیے ٹنل کے دروازوں کو زیادہ دیر کے لیے بند نہ رکھیں۔ٹماٹر کے پودے کو گرم موسم میں ہر ہفتہ بعد یا اس سے بھی پہلے پانی لگانا پڑے گا۔ مزید برآں ڈرپ اریگیشن کے طریقہ سے بھی ٹنل کو پانی لگایا جاسکتا ہے ۔ ٹنل کے پودوں کو N.P.Kبالترتیب 230:90:175کلو گرام فی ایکڑ درکار ہیں۔ جن کے حصول کے لیے زمین کی تیاری کے وقت 4بوری یوریا ، 12بوری ایس ایس پی ، 4بوری سلفیٹ آف پوٹاش یا 3بوری یوریا ،4بوری ڈی اے پی اور 4بوری سلفیٹ آف پوٹاش نرسری کی منتقلی سے پہلے لائنوں کے اوپر بکھیر دیں۔ زنک کی کمی پودوں میں دیگر خوراکی اجزاءکے استعمال کی صلاحیت کو کم کردیتی ہے ۔ اس سے بچاﺅ کے لیے زنک سلفیٹ کھاد بھی 8کلو گرام فی ایکڑ کے حساب سے جنوری کے آخر میں ڈالیں۔ ٹنل کے اندر کھیلیوں میں گوڈی کرنے سے نہ صرف جڑی بوٹیاں تلف ہوتی ہیں بلکہ وتر بھی زیادہ دیر کے لیے محفوظ ہوجاتا ہے ۔ٹماٹر کے پھل کو رنگت تبدیل ہونے پر توڑنا چاہیے اگر پھل کو دور دراز منڈی میں بھیجنا ہو تو رنگ تبدیل ہوتے ہی توڑ لیں۔ پھل توڑتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ پھل زخمی نہ ہونے پائے اور نہ ہی پودے کا تنا ٹوٹے۔
٭٭٭

 

 

 

 

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved