تازہ تر ین

سوویت انقلاب کے سو سال

عامر بن علی….مکتوب جاپان
آئندہ نسلوں کو تو شاید معلوم بھی نہ ہو کہ سوویت یونین نام کا بھی ایک ملک اس کرہ ¿ ارض پر ہوا کرتا تھا۔واقفان حال مگر جانتے ہیں کہ گزشتہ صدی کی یہ سپر پاور ہوا کرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کا فاتح اور انسان کو پہلی مرتبہ خلا کی رفعتوں سے روشناس کروانے والا دیس۔ ایک طرف جس کی سرحدیں ہمارے ہمسائیوں افغانستان‘ چین اور ایران سے ملتی تھیں‘ تو دوسری طرف امریکہ سے متصل تھیں۔ یورپی یونین کے کئی ممبر ممالک اس سوویت ریاست کا حصہ تھے اور پورا مشرقی یورپ اس کے سامنے سجدہ ریز تھا۔ ہٹلر کو شکست دینے کے بعد جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ مشرقی جرمنی میں اسی کا نظام چلتا تھا۔ انسانی تاریخ کی رٹ کے اعتبار سے یہ سب سے بڑی ریاست تھی۔ یہ نظریاتی ریاست ایک انقلاب کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ اس اکتوبر میں اس تاریخی انقلاب کو سو سال پورے ہوگئے ہیں۔ انقلاب کا پیش خیمہ بننے والا یہ پہلا سوشلسٹ انقلاب تھا اس کے نتیجے اور محنت کشوں کی جدوجہد سے صدیوں پرانی روسی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ زار کہلانے والا بادشاہ نکولائی اپنے خاندان سمیت قتل کردیا گیا۔ انقلاب کے مرکزی رہنما ولادیمرلینن کی قیادت میں کیمونسٹ جنگجوﺅں پر مشتمل سرخ سپاہ اور بادشاہ کی وفادار سفید فوج کے درمیان اکتوبر کا آخری عشرہ فیصلہ کن معرکوں کا تھا۔ اسی سبب سے روس میں برپا ہونے والے اس انقلاب کو بالشویک انقلاب‘ سرخ اور سوویت انقلاب کے علاوہ اکتوبر انقلاب کے نام سے تاریخ کی کتابوں میں یاد کیا جاتا ہے۔
گزشتہ صدی کے اہم واقعات کا ذکر کیا جائے تو دو عظیم جنگجوﺅں اور کیمونزم کے ابھار سے کوئی بھی واقعہ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔ کارل مارکس کے معاشی نظریے کی بنیاد پر برپا ہونے والے سوویت انقلاب کی اہمیت اس لئے سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس سے آنے والے اگلے درجنوں طبقاتی جدوجہد پر مبنی سوشلسٹ انقلابات کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔ حالانکہ جرمنی کے یہودی خاندان میں پیدا ہونے والے کارل مارکس نے اپنی تحریروں میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ سوشلسٹ انقلاب پہلے صنعتی معاشروں میں برپا ہوگاجبکہ روس اور اس کے اردگرد کی ریاستیں جن کے اشتراک سے پہلی اشتراکی حکومت وجود میں آئی وہ زرعی معاشرہ تھا۔ اکتوبر انقلاب سے ستر برس قبل جرمن زبان میں ”داس کاپی تال“ اور ”کیمونسٹ مینوفیسٹو“ تحریر کرتے ہوئے مارکس کے ذہن کے کسی کونے میں بھی شاید نہ ہوگا کہ یہ معاشی نظام روس اور چین جیسے زرعی اور دور دراز ممالک میں انقلاب کو جنم دے گا۔ خیر وہ خود تو روسی انقلاب برپا ہونے سے 35 برس پہلے ہی جلاوطنی کے دوران لندن میں سپردخاک ہوگیا۔ اس کے جنازے پر فقط چند ہی لوگ آئے تھے۔ نظریاتی ساتھی اور دوست اینگلز نے قبر پر اپنے تعزیتی خطبے میں کہا کہ کارل مارکس نے انسانی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ جنازے میںشریک ایک دوست نے اینگلز کا تمسخر اڑاتے ہوئے سرگوشی میں کہا کہ جس آدمی کے جنازے میں دو درجن افراد بھی اکٹھے نہ ہوسکیں وہ دنیا پر کیا اثرات چھوڑ سکتا ہے؟ وقت نے ثابت کیا کہ کارل مارکس کے متعلق اس کے دوست کے توصیفی کلمات مبالغہ آرائی نہ تھے۔ اس کی نظریاتی حقانیت کا پہلا ثبوت فراہم کرنے والے سوویت بالشویک تھے۔ یہ تذکرہ کرتا چلوں کہ انقلاب کے وقت مختلف ترقی پسند خیالات رکھنے والی جماعتیں جدوجہد میں مصروف تھیں ان میں بالشویک سب سے بڑا گروہ تھا‘ جس کے سربراہ لینن‘ جنرل سیکریٹری جوزف اسٹالن اور عسکری ونگ کے سربراہ لیون ٹرائسکی تھے۔ اسی نے سرخ سپاہ کی بنیاد رکھی۔ لیون ٹرائسکی سرخ سپاہ کے معمار بھی تھے اور انقلاب کی کمان بھی اسی کے ہاتھ میں تھی۔ روسی زبان میں بالشوئی کا مطلب بڑا ہوتے ہیں۔ اس سے لفظ بالشویک نکلا ہے۔ روسی زبان پر دسترس کے سبب شاید میں سوویت انقلاب کو عام پاکستانیوں کی نسبت زیادہ وسیع تناظر میں دیکھ اور بیان کرسکتا ہوں۔
سینٹ پیٹرزبرگ وہ شہر ہے جس پر روسی فخر کرتے تھے۔ ماسکو سے پہلے یہ روس کا دارالحکومت ہوتا تھا۔ بادشاہ زار کا سرما محل یہیں ہے۔ انقلاب کی چنگاری اسی شہر میں شعلہ بنی تھی۔ برسبیل تذکرہ روس کے موجودہ صدرولادیمرپیوٹن کے علاوہ انقلاب کے بانی ولادیمر لینن کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ انقلاب کے بعد اس کا نام لینن گراڈ یعنی لینن شہر رکھ دیا گیا تھا۔ سویت یونین کے انہدام کے بعد پیٹراول کے تعمیر کردہ اس شہر کو اسی کے نام سے دوبارہ موسوم کردیا گیا ہے۔ اکتوبر 1917ءکے ان دنوں میں یہاں فیصلہ کن معرکہ برپا تھا۔ ریڈ آرمی کے معمار اور سرخ سپاہ کے کمانڈر نے اپنی دو کتابوں انقلاب روس کی تاریخ اور آپ بیتی میری زندگی میں اکتوبر کی اس فیصلہ کن رات کا تذکرہ بہت تفصیل سے کیا ہے‘ فقط ایک منظر ملاحظہ فرمائیں۔ لیون ٹرائسکی لکھتا ہے:
”25 اکتوبر کو ہماری افواج نے سرما محل کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ شہری ساری رات امن سے سوئے رہے‘ انہیں معلوم ہی نہیں ہوا کہ اقتدار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ ریلوے سٹیشن‘ ڈاک خانہ‘ تارگر‘ پیٹروگراڈ‘ ٹیلی فون ایجنسی اور اسٹیٹ بینک‘ سب پر ہمارا قبضہ ہوچکا تھا۔ اسی شام جب ہم سوویتوں کی کانگریس کے افتتاح کا انتظار کررہے تھے تو لینن اور میں ہال سے ملحقہ ایک کمرے میں آرام کررہے تھے۔ کمرہ بالکل خالی تھا‘ ماسوائے کرسیوں کے۔ کسی نے ہمارے لئے فرش پر کمبل بچھا دیا۔ شاید وہ لینن کی بہن تھی جو ہمارے لئے سرہانے لائی تھی۔ ہم ساتھ ساتھ لیٹے ہوئے تھے۔ جسم اور روح تنے ہوئے تاروں کی طرح تھے۔ ہم نے یہ آرام بڑی محنت کے بعد کمایا تھا۔ نیند نہیں آرہی تھی۔ لہٰذا ہم مدھم آواز میں باتیں کرنے لگے۔ شورش ختم کرنے کے خیال سے لینن اب مصالحت کرچکا تھا۔ وہ سرخ محافظوں‘ سپاہیوں اور جہاز رانوں کے ان ملے جلے ناکوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا‘ جو شہر میں ہر جگہ لگے ہوئے تھے ” لینن کا کہنا تھا ”یہ کیسا حیرت ناک نظارہ ہے۔ محنت کش نے سپاہی کے پہلو بہ پہلو رائفل ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی اور وہ آگ تاپ رہے ہیں“ وہ اپنے گہرے احساس کو دہرائے جارہا تھا۔ آخر کار محنت کش اور سپاہی اکٹھے ہوئے تھے۔
ولادیمرلینن اکتوبر 1917ءسے اپنی وفات 1924ءتک اس نوزائیدہ انقلابی اشتراکی ریاست کے سربراہ رہے۔ ترپن برس کی عمر میں اس دارفانی سے ان کے کوچ کے بعد پارٹی کے جنرل سیکریٹری جوزف اسٹالن ملک کے سربراہ بنے۔ اسٹالن اپنی سخت گیری کی بنیاد پر نہ صرف دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کی تنقید کا ہدف رہتا بلکہ ان دنوں بائیں بازو کے دانشوروں کی تنقید کا بھی نشانہ رہا۔ اس کے آہنی ہتھکنڈوں کے سبب یہ تنقید کچھ بے جا بھی نہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے چند ہی برس بعد پولٹ بیورو کے چوبیس ممبران میں سے صرف ایک رکن بچا تھا‘ باقی تئیس جلاوطن‘ قتل یا پھر سائبیریا کی جیلوں میں قید کردیئے گئے تھے۔ لیون ٹرائسکی کے دانشور انقلابی کو میکسیکو کی جلاوطنی کے دوران ہی قتل کروا دیا گیا تھا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیمونسٹ پارٹی کو پولسٹ بیورو کا واحد آزاد رکن جوزف اسٹالن خود تھا۔ مگر اس کی شخصیت کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ ہٹلر کو شکست فاش دینے اور روس جیسے زرعی معاشرے میں صنعتی انقلاب برپا کرنے والے اس شخص کی جب موت ہوئی تو اس کے اثاثہ جات میں کپڑوں کے تین جوڑوں اور دو جوتے کی جوڑیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ کوئی بینک اکاﺅنٹ اور نہ ہی کوئی مکان۔ آج دنیا بھر کے سیاسی رہنماﺅں میں جب پیسے اکٹھے کرنے کی دوڑ لگی ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے جہنم کا ایندھن اکٹھا کرنے کا مقابلہ نظر آتا ہے‘ تو یہ بیان معجزہ دکھا دے گا کہ دوسری جنگ عظیم کے ہنگام‘ جب اسٹالن سربراہ مملکت تھا تو اس کا حقیقی بیٹا سوویت یونین کی فوج میں بطور نوجوان لیفٹیننٹ جرمنی کے خلاف اگلے مورچوں پر لڑ رہا تھا۔ جنگ کے دوران جرمن فوج نے اسے گھیرا ڈال کر گرفتار کرلیا اور جنگی قیدی بنا ڈالا۔ جرمن چانسلر ایڈولف ہٹلر چاہتاتھا کہ اسٹالن کے گرفتار بیٹے کے بدلے وہ اپنے ایک اہم فوجی جرنیل کو آزاد کروالے‘ جو کہ سوویت یونین کی قید میں تھا۔ہٹلر کا یہ پیغام اور جنگی قیدیوں کے باہمی تبادلے کی یہ خواہش لے کر ناربراسٹالن کے پاس پہنچا تو اس نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ ”ایک سپاہی کے ساتھ ایک جرنیل کا تبادلہ نہیں کیا جاسکتا“ اگرچہ وہ سپاہی اسٹالن کا اپنا بیٹا تھا‘ وہ ہٹلر کی قید میں جنگ کے دوران اس کے کنسٹریشن کیمپ میں وفات پا گیا۔ اسٹالن کے دور کا خاتمہ 1959ءمیں اس کی موت پر ہوا۔ خردشیف کے سربراہ مملکت بننے سے لے کر 1991ءمیں میخائل گورباچوف کی نااہل حکومت اور سوویت یونین کے انہدام تک‘ گزشتہ صدی کا تذکرہ اکتوبر انقلاب اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی اشتراکی ریاست کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔
(کالم نگار بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved