تازہ تر ین

بڑی خبر آنے میں صر ف48گھنٹے باقی ،کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع ،اہم ترین سیاستدانوں میں کھلبلی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے نیب کی اپیل پر شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے، دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل ہیں۔سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ 13 نومبر کو پہلی سماعت کرے گا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔یہ درخواست قومی احتساب بیورو نے لاہور ہائی کورٹ کے سنہ 2014 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کےلئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے ،بینچ میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل کو بھی شامل کیا گیا۔تین رکنی بینچ کیس کی پہلی سماعت 13نومبر کو کرے گا جس کے لئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے نیب پراسکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کردیا،اگلے ہفتے کےلئے سپریم کورٹ کی کاز لسٹ میں بھی یہ کیس شامل کر لیا گیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پہلے نیب کی درخواست کی سماعت کرے گا اور پھر حدیبیہ پیپرز مل کے ریفرینس کو دوبارہ کھولنے یا نہ کھولنے کے بارے میں احکامات جاری کرے گا۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کےخلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کردیا تھا،جس کے بعد پاناما پیپر کیس کے دوران سپریم کورٹ کے فل بنچ کی آبزرویشن پر نیب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی تھی جس نے پاناما لیکس کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔پاناما فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پر اسی پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر سابق وزیر اعظم نے چند روز پہلے کہا تھا کہ ججز بغض سے بھرے بیٹھے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے اس ریفرنس کو تین سال پہلے ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نیب کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی تھی۔حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نواز شریف کے علاوہ، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی قابل ذکر ہے جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شریف بردران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔سابق وزیر اعظم کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران اس وقت کے نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے اور اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے سے انکار کردیا تھا۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ان کی نظر میں نیب وفات پا گیا ہے تاہم انھی درخواستوں کے سماعت کے آخری روز نیب کے حکام نے حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں عندیہ دیا تھا۔حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔اگرچہ ابتدائی ریفرینس میں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا تاہم جب نیب کے اگلے سربراہ خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔یہ ریفرنس ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاو¿نٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباو¿ میں آ کر دیا تھا۔اکتوبر 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے خلاف کرپشن کے 3 ریفرنسز دائر کیے تھے جن میں سے ایک حدیبیہ پیپر ملز کیس بھی تھا۔ 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں حدیبیہ پیپرز ملزکیس میں نیب کی تحقیقات کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد احتساب عدالت نے اس ریفرنس کو خارج کردیا تھا۔ تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے پاناما کیس کی سماعت کے دوران حدیبیہ ریفرنس کا معاملہ دوبارہ سامنے آگیا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved