تازہ تر ین

عورت کے حقوق اور معاشرہ

ملیحہ سید …. زینہ
پاکستان میں آئے روزخواتین کے مسائل میں اضافہ اس بات کی نشاند ہی ہے کہ ہمیں اس وقت ایک ایسے نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں کچھ اور ہو یا نہ ہو خواتین کے احترام کی بحالی ضرور شامل ہو تا کہ وہ عزت و آبرو سے زندگی گزار سکیں۔ ابھی گزشتہ دنوں پھرڈی جی خان میں حوا کی بیٹی جس بربریت سے گزری ہے وہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بقاءکے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے اوپر سے میڈیا کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا گیا اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ زیادہ دور کیا جانا ، قندیل بلوچ جس راہ کی راہی تھی اسے کوئی بھی معاشرہ آسانی سے تسلیم نہیں کر سکتا مگر اس کو ہیروین بنا کر پیش کیا گیا، اس کے لیے شمعیں روشن کی گئیں اور کچھ مخصوص حلقوں کی جانب سے جیسے جسم فروشی کو قانونی اور جائز درجہ دینے کی کوشش کی جس کی مذمت بطور انسان ہم سب کو کرنی چاہیے۔ عورت کو عزت و احترام سے زندگی گزارنے میں مدد کرنی چاہیے اور سستی شہرت اور وقتی آسائشوں کے لیے اسے غلط راستوں کی جانب جانے سے روکنا بھی چاہیے مگر اس طرح نہیں کہ اس سے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں روایات کی جڑیں بہت گہری ہیں جس پر کلمہ کے اثرات تاحال زیادہ گہرے نہیں ہو پائے اور خدا کی بجائے زمانہ کیا کہے گا کہ خوف میں مبتلا افراد کی اکثریت اپنے جیسے انسانوں کا جینا مشکل کر دیتی ہے اسی لیے عورت اور معاشرے میں اس کے ساتھ ہونے والے برتا¶ کا موضوع قدیم ایام سے ہی مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے۔ دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ دنیا میں انسانی زندگی کا دار و مدار جتنا مردوں پر ہے اتنا ہے عورتوں پر بھی ہے جبکہ فطری طور پر عورتیں خلقت کے انتہائی اہم امور سنبھال رہی ہیں۔ خلقت کے بنیادی امور جیسے عمل پیدائش اور تربیت اولاد عورتوں کے ہاتھ میں ہے مگر اس کے اہم کردار کو بھول کر کوئی بات یاد رہتی ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ ایک عورت ہے۔ انسان کو جنس میں تولنے والے معاشروں میں خواتین کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے جو پاکستان میں آج ہے جہاں اولادیرینہ کی خواہش میں بیٹی کی حیثیت دب کر رہ جاتی ہے اور وہ اپنے ہی گھر میں ایک دوسرے سیارے سے آئی مخلوق کی سی زندگی گزار رہی ہوتی ہے کسی حق اور آزادی کے بغیر جبکہ روز ازل سے ہی عورت اپنا وہ کرداربہت احسن طریقے سے نبھا رہی ہے جو اسے تفویض کئے گئے تھے۔
اس لیے عورت کو ایک بلند مرتبہ انسان کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ اس کے حقوق کیا ہیں اور اس کی آزادی کیا ہے؟ عورت کو ایسی مخلوق کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جو بلند انسانوں کی پرورش کرکے معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تب اندازہ ہوگا کہ عورت کے حقوق کیا ہیں اور اس کی آزادی کیسی ہونا چاہئے۔ عورت کو خاندان اور کنبے کے بنیادی عنصر وجودی کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے، ویسے تو ایک کنبہ مرد اور عورت دونوں سے مل کے تشکیل پاتا ہے اور دونوں ہی اس کے معرض وجود میں آنے اور بقاءمیں بنیادی کردار کے حامل ہیں لیکن گھر کی فضا کی طمانیت اور آشیانے کا چین و سکون عورت اور اس کے زنانہ مزاج پر موقوف ہے۔ عورت کو اس نگاہ سے دیکھا جائے تب معلوم ہوگا کہ وہ کس طرح کمال کی منزلیں طے کرتی ہے اور اس کے حقوق کیا ہیں؟ عورت کو اس پہلو سے بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح اپنے ارد گرد رہنے والے مردوں کے سخت جملے بھی برداشت کرتی ہے اور ان کے رویے بھی سہتی ہے اور اُف کئے بغیر جئے جاتی ہے۔کئی مقامات پر جہاں وہ پوری توجہ نہیں دے پاتی تو مجرم بھی کہلاتی ہے اور ”مردانہ گردی“ کا بھی شکار ہو جاتی ہے حتیٰ کہ جینے کے حق سے بھی محروم کر دی جاتی ہے اور یہ کوئی آج یا ایک معاشرے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری انسانی تاریخ میں مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے اوریہ انسان کی جہالت کا نتیجہ ہے۔ بعض انسانوںکا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اگر ان کے سر پر کوئی سوار نہیں ہے اور کوئی طاقت ان کی نگرانی نہیں کر رہی ہے، خواہ یہ نظارت انسان کے اندر سے ہو جس کا اتفاق بہت کم ہی ہوتا ہے یعنی قوی جذبہ ایمانی، اور خواہ باہر سے ہو یعنی قانون، اگر قانون کی تلوار سر پر لٹکتی نہ رہے تو اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ طاقتور، کمزور کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتا ہے۔اس لیے انسان نے اپنے تمام تر دعو¶ں کے باجود، اپنی تمام تر پر خلوص اور ہمدردانہ مساعی کے باوجود، عورت کے سلسلے میں انجام دیے جانے والے علمی و ثقافتی کاموں کے باوجود ہنوز دونوں صنفوں بالخصوص صنف نازک کے بارے میں کوئی صحیح راستہ منتخب اور طے کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی۔دوسرے لفظوں میں، زیادہ روی، کجروی اور غلط نتائج نکالنے اور پھر اسی بنا پر زیادتی، نا انصافی، ذہنی امراض، خاندان سے متعلق مسائل، دونوں صنفوں کے روابط اور میل ملاپ سے متعلق مشکلات آج بھی انسانی معاشرے میں لا ینحل باقی ہیں یعنی جس انسان نے مادی شعبوں میں، فلکیات کے میدان میں، سمندروں کی گہرائیوں میں اتر کر بے شمار دریافتیں کیں اور جو نفسیات کی مو شگافی اور سماجی و معاشی امور میں باریک بینی کا دم بھرتا ہے اور حقیقت میں بھی بہت سے میدانوں میں اس نے ترقی کی ہے، اس (عورت کے) مسئلے میں ناکام رہا ہے۔دوسری جانب حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ پوری تاریخ میں ہمیشہ عورت ظلم کی چکی میں پسی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ عورت کی قدر و منزلت اور مقام و اہمیت کو نہیں سمجھا گیا۔عورت کی بنیاد محبت اور قربانی ہے اس کی فطرت کو پانی کی طرح رکھا گیا ہے اس لیے عورت کو شان و شوکت حاصل ہونی چاہئے اورعورت ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہئے تبھی انسانی معاشرہ اپنی بقاءکی جنگ جاری رکھ سکے گا ورنہ عدم انصاف کا یہ رویہ ہمارے معاشرے کو تباہ کر دے گا۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved