تازہ تر ین

حامد کرزئی کا اعتراف

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
رابطے رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں اگر رابطے کا فقدان ہو توبھائی کابھائی سے رشتہ بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔ملکوں اور قوموں کی سطح پر بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہوتی ہے، آنا جانا رہے تو تعلق توانا رہتے ہیں، معیشت اور معاشرت دونوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جو عالمی برادری کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایوں سے بھی اپنے تعلق اور رابطے کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیتے۔ اختلافات اور ناراضگیاں اپنی جگہ لیکن رابطہ لائن ہی کاٹ دی جائے، پاکستان سے ایسی نادانی کبھی سرزد نہیں ہوئی۔پاکستان نے تو ہمیشہ ان ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار روابط کی خواہش رکھی جن کا سب سے بڑا خواب ہی یہ ہے کہ پاکستان کو پنپنے نہ دیا جائے۔عجیب بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ایسے بدخواہوں میں چند ممالک ایسے بھی ہیں جن کے ساتھ پاکستان نے ہمیشہ ہمدردی اور بھائی چارے کا سلوک روا رکھا۔ ایسے بدقسمت ممالک میں افغانستان بھی شامل ہے۔اس حقیقت سے سب ہی آشنا ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام نے بھی ہمیشہ اپنے افغان بھائیوں کی بہتری اور خوشحالی کے لیے وہ کچھ کیا جس کی عموما ً بین الاقوامی تعلقات میں مثال نہیں ملتی لیکن ہمارے اس برادر اسلامی ملک نے ہماری محبتوں کا جواب ہمیشہ ہی سازشوں سے دیا۔سچ پوچھیں تو ہماری سرحدوں کو بھارت سے اتنا خطرہ نہیں رہا جتنا افغانستان کی طرف سے رہا، افغانستان کی طرف سے بارہا دہشت گردوں کے گروہ ہمارے علاقے میں قائم فوجی چوکیوں پر حملہ آور ہوئے، ہمارے بہت سے جوان ان حملوں کے نتیجے میں شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی، ہمارے سیکورٹی اداروں کے جوابی حملے میں افغانستان سے آنے والے بہت سے حملہ آور مارے بھی گئے اور بہت سے بزدل دم دبا کر فرار بھی ہوئے لیکن اس سب کے باوجود بھی پاکستان نے افغانستان کی مدد امداد کا سلسلہ کبھی رکنے نہیں دیا۔آج بھی پاکستان لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کا بوجھ خوشدلی سے برداشت کر رہا ہے۔خود افغانستان کے لوگ پاکستان کی مہربانی اور تعاون کے معترف بھی ہیں اور ممنون احسان بھی لیکن مسئلہ شاید افغانستان کے لوگوں کا نہیں۔ بعض دفعہ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان میں بننے والی ہر حکومت امریکا براستہ بھارت روٹ پر چلنے والے ٹرالر کی طرح ہوتی ہے۔ چاہے حامد کرزئی صاحب ہوں یا پھر محترم اشرف غنی، ہر حکمران امریکا کو خوش کرنے کے لیے بھارت کی گود میں بیٹھنے کو تیار دکھائی دیتا ہے۔افغانستان کی اقتصادی زبوں حالی نے وہاں کے عوام کو روٹی روزی کے چکر میں ایسا پھنسایا کہ انہیں خبر ہی نہ رہی کہ ان کے ہمدم دیرینہ پاکستان کو کس قسم کی سازشوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
چند ہی روز پہلے جلال آبادکے ایک انتہائی بارونق علاقے میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک ملازم نیئر اقبال رانا کو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔یقینا شہید نیئر اقبال رانا نے نہ تو کبھی پاکستان افغانستان تعلقات بنانے یا بگاڑنے میں کوئی بہت اہم کردار ادا کیا ہوگا نہ ہی اس کے اختیار میں امریکی مفادات کو کسی قسم کا کوئی بھی نقصان پہنچانا ہوگا اور نہ ہی اس کے ہونے یا نہ ہونے سے وہاں طالبان یا پھر داعش کو کوئی فرق پڑے گا، اگر سب کچھ ایسا ہی ہے تو پھر اس پاکستانی سفارتی اہلکار کے خون سے ہاتھ رنگنے کی کیا ضرورت تھی۔ہمارے خیال میں اس بے گناہ پاکستانی کا خون بہا کر پاکستان کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملات سے خود کو بالکل الگ کر لے، اب یہ پیغام کس نے دیا، نیٹو نے، امریکا نے، صدر اشرف غنی نے یا پھر افغانستان میں مصروف عمل کسی مبینہ انتہا پسند گروہ نے یا پھر مودی کے بھارت نے۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اتنے بگڑ جائیں کہ سلام دعا سے بھی جائیں، اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے خیال میں بھارت کے علاوہ اور کسی کو بھی نہیں ہو سکتا، اگر امریکا افغانستان میں من مانیاں کر رہا ہے تو اس کا مقصد بھی صرف یہی ہے کہ بھارت کو افغانستان میں امریکی وائسرائے کا درجہ دےنے کے لیے راہ ہموار کی جائے۔افغانستان کے منظر نامے سے پاکستان کا نام مٹائے بغیر اور بھارت کو اپنے تنخواہ دار نمائندے کے طور پر تعینات کرنا کسی طور بھی امریکا کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کبھی پاکستان پردہشت گردی کے خاتمے میں عدم تعاون کا الزام لگائے گا تو کبھی پاکستان پر اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دی جائیں گی، رہی سہی کثر ان دہشت گرد گروہوں کی مدد سے پوری کی جائے گی جن کا اعتراف سابق صدر افغانستان جناب حامد کرزئی اپنے ایک حالیہ بیان میں کر چکے ہیں۔انہوں نے نہایت واضح الفاظ میں کہا تھا کہ امریکا افغانستان میں داعش جیسے گروہوں کو ہر طرح کی مدد اور تعاون فراہم کرتا رہا ہے ا نہوں نے کہا،’ افغانستان میں امریکا کی کی صورت حال بالکل اس ڈاکٹر کی طرح ہے جس پر مریض بھروسہ کرتا ہے لیکن وہ ڈاکٹر اسے غلط دوا تجویز کردیتا ہے۔ افاقہ ہونے کی بجائے نقصان ہونے لگتا ہے۔ اگر آج ہمارے ملک میں انتہا پسندی ہے، بد امنی اور دہشت گردی ہے تو اس کا ذ مے دار بڑی حد تک امریکا ہے۔‘ اگرچہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان کے مسائل کو حل کرنا کبھی بھی کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوگا۔ افغانستان کی تقدیر لکھنے والوں کو اس سچائی کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان نہ تو کسی کا غلام ہے نہ ہی کسی سے خوفزدہ اور سہما ہوا ملک۔
پچھلے تیس چالیس سال سے ہم پاکستانی ایک ہی پراپیگنڈہ سن رہے ہیں کہ پاکستان بہت جلد ایک ناکام ریاست کے طور پر جانا جائے گا مگر بدخواہوں کے لیے کڑوی سچائی یہ کہ پاکستان کل بھی تھا اور آج بھی ہے اور آنے والے تمام زمانوں میں پاکستان اسی طرح چمکتا دمکتا رہے گا، کوئی سازش کوئی منصوبہ ہمیں نہ تو ناکام کر سکتا ہے نہ ہی مٹا سکتا ہے۔ تھوڑا سا انتظار کر لیجیے، ہماری حکومت ہر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے کہ جو پاکستان کی ترقی میں معمولی سی بھی رکاوٹ کا باعث ہوسکتا ہے۔وہ دن زیادہ دور نہیں جب ہمارا ملک توانائی کے بحران سے نکل جائے گا، کارخانے دن رات کام کریں گے،بے روزگاری کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا،دہشت گردوں کو روزی کمانے کے لیے پاکستان کی بجائے دوسرے ملکوں کا رخ کرنا پڑے گا۔اور جس دن سی پیک پراجیکٹ مکمل ہوگیا، یقین کیجیے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کے باہر ویزہ لینے کے خواہشمندوں کی ایسی لمبی قطاریں دکھائی دیں گی جن کی طوالت کو ناپنا ممکن نہیں ہوگا۔ہمارا کل ہمارے آج سے کہیں زیادہ روشن ہوگا، ہمارے کار فرما اسی روشنی سے خوفزدہ ہیں، اسی روشنی کو بجھانے کی خواہش میں معلوم نہیں،وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ اور کیا کیا جلا بیٹھیں۔
(کالم نگار قومی اور بین الاقوامی امور
پر انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved