تازہ تر ین

اس نکاح کا کیا ہو گا

توصیف احمد خان
قومی حکومت …. اتفاق رائے کی حکومت…. ٹیکنو کریٹس کی حکومت اب تو یہ سنتے ہی سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں جب عام انتخابات قریب آتے ہیں تو اس قسم کے شوشے کو ن چھوڑ دیتا ہے اور کیوں چھوڑ دیتا ہے۔ ہم سب کو علم ہے کہ یہ ناممکنات میںسے ہے۔ آئین موجود ہے تو اس میں ان سارے معاملات کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اس وقت تو باقاعدہ شرم محسوس ہوتی ہے جب اچھے بھلے لوگ اس طرح کی حکومتوں کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ایسے افراد میں سے اکثر کو عوام الناس فہم وفراست والے قرار دیتے ہیں۔ ان کی زبان سے ایسی باتیں سن کر احساس ہوتا ہے کہ یہ لوگ عقل وخرد سے بالکل عاری ہیں۔
اگلے برس یعنی 2018ءمیں عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ اللہ کرے یہ وقت پر اور پروگرام کے مطابق ہو جائیں اور ان میں پڑنے والی رخنہ اندازیاں دور ہو جائیں۔دراصل یہی معاملہ انتخابات کے ساتھ بھی ہے۔ انتخابات جوں جوں قریب آتے ہیں ان کے التوا کی باتیں بھی تواتر کے ساتھ شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ باتیں کرنے والے اس طرح کا تاثر دیتے ہیں کہ مذکورہ دونوں امور کے بارے میں فیصلہ ان کے سامنے کیا گیا یا ان سے باقاعدہ مشورہ ہوا۔ ہمیں تو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا کہ اس قسم کے فیصلے کرنے والے ہیں کون۔ لوگ عموماً فوج کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ فوج ایسے فیصلے کیوں کرے گی خصوصاً جب یہ فیصلے آئین سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ فوج کو ان سارے معاملات میں اتنی ہی دلچسپی ہوتی تو وہ خود اقتدار کیوں نہ سنبھال لیتی۔ ہمارے نزدیک وہ دن اب ہوا ہوئے جب ایسا ہوتا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ پرویز مشرف اس قبیل کے آخری فرد تھے۔ بعد والوں کو ایسے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں۔
اوپر بھی ذکر آ چکا ہے کہ آئین میں اس نوعیت کی کوئی شق نہیں۔ فرض کریں ٹیکنو کریٹس کی حکومت، قومی حکومت یا انتخابات کے التوا کی بات میں کچھ حقیقت ہے تو یہ دو صورتوں میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اول یہ کہ پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں ترمیم کر دے اور اس نوعیت کی شق اس میں شامل کر دی جائے۔ دوسری صورت کے مطابق وہی معاملہ کیاجائے جو پرویز مشرف تک اکثروبیشتر ہوتا آیا ہے یعنی فوج حکومت پر قبضہ کرے اور پھر سپریم کورٹ ماضی کی طرح اسے آئین میں اپنی مرضی کی ترمیم کااختیار بھی دے دے لیکن ایسا بظاہر ممکن نہیں لگتا کہ ہر دو فریق کافی سبق حاصل کر چکے ہیں مگر وقت کا کیا ہے بدلتے دیر نہیں لگتی۔
یہ سب باتیں تو ہوتی رہتی ہیں اور ہوتی رہیں گی مگر اس نکاح کا کیا جائے جو ہو تو گیا مگر رخصتی عمل میں آنے سے پہلے ہی بات علیحدگی تک جا پہنچی مگر فی الحال یہ علیحدگی یکطرفہ ہے۔ قارئین ہم ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال کے نکاح کی بات کر رہے ہیں جس کا نکاح نامہ خواجہ اظہار نے تحریر کیا تھا۔ شاید نکاح خواں بھی وہی ہو۔ میاں بیوی میں سے ایک فریق تو راضی ہے مگر دوسرا روٹھ گیا ہے۔ فی الحال اس میں یہ تنازعہ بھی باقی ہے کہ میاں کون اور بیوی کون ہے۔ بہرحال ڈاکٹر فاروق ستار اس نکاح کو طلاق دے چکے اور طلاق کی گواہی بھی اپنی والدہ اور اہلیہ محترمہ سے دلوائی کہ ان کی پریس کانفرنس میں دونوں محترم خواتین موجود تھیں مصطفی کمال کی بات کریں تو وہ اس نکاح نامے کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نکاح نامے…. نہیں بلکہ انہوں نے معاہدے کا ذکر کیا تھا۔ دراصل نکاح نامہ بھی تو معاہدہ ہی ہوتا ہے جو ہمارے ہاں مولوی صاحب دو فریقوں میں کراتے ہیں اور انہیں عرف عام میں نکاح خواں کہا جاتا ہے۔
اس سارے معاملے یعنی نکاح اور پھر طلاق میں مصطفی کمال کا تو خیر کیا بگڑے گا۔ ان کیلئے دونوں صورتیں ایک جیسی ہیں مگر ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر میں پھوٹ پڑتی ضرور نظر آ رہی ہے۔ گھر سے مراد آپ کہیں یہ نہ لے لیں کہ میاں بیوی میں پھوٹ کا معاملہ ہے…. اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ ہم تو اصل میں ان کی پارٹی کی بات کر رہے ہیں جسے وہ ایم کیو ایم پاکستان قرار دیتے ہیں…. کہتے ہیں لندن سے ان کا نکاح ٹوٹ چکا ہے…. کیا واقعی….؟ ہاں ورنہ دوسرا نکاح کیوں رچاتے۔ یہ امر یقینی ہے کہ کسی تیسرے نے ایسی صلاح دی اور پھر کسی طرح سے پہلی مطلقہ آڑے آ گئی ہو۔ اللہ ہی بہتر جانے ہم تو اوپر مصطفی کمال کاذکر کر رہے تھے اور کہنا یہ چاہتے تھے کہ بقول مصطفی کمال وہ معاہدے کی تمام شرائط کے پابند ہیں…. حق مہر، روٹی، پانی وغیرہ کی سب شرائط انہیں قبول ہیں۔ کراچی والے کوشش کریں کہ یہ دو بچھڑے ہوئے پھر سے مل جائیں۔ اگرچہ معاملہ ٹیڑھا ہے مگر کوشش کر لینے میں کیا ہرج ہے۔ کراچی والے تو اس قسم کے معاملات کا بہت تجربہ رکھتے ہیں۔
فاروق ستار اور مصطفی کمال والا قصہ یہیں چھوڑتے ہیں اور جناب ٹرمپ کی طرف رخ کرتے ہیں جن کے بارے میں دلچسپ خبر آپ سب نے پڑھ ہی لی ہو گی کہ چار سال قبل وہ روس گئے تو انہیں روسی عورتوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس قسم کی پیشکش کرنے والی حکومت نہیں وہاں کا ایک پاپ اسٹار تھا۔ حکومتیں ویسے بھی براہ راست اس قسم کی پیشکش نہیں کیا کرتیں۔ خواہش ان کی بھی ہو تو پیغام کوئی اور ہی دیتا ہے لیکن ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن میں تو ویسے بھی ”گہرے رشتوں“ کا ذکر اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ویسے تصور کریں کہ روسی عورتیں جس قسم کے ڈیل ڈول کی مالک ہوتی ہیں وہ بیچارے اکیلے ٹرمپ کا کیا حشر کر دیتیں کہ معاملہ یک ناشد پانچ شد کا تھا یعنی پیشکش پانچ عورتوں کی تھی۔ پانچ عورتیں اور وہ بھی روسی لیکن دوسری جانب بھی معاملہ ٹرمپ کا تھا جو ماضی میں نامی گرامی پہلوان کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے اکثر مخالف کا بھرکس بھی نکال دیا کرتے تھے ممکن ہے ان پانچوں کو چت کر دیتے۔
لیکن یہ مذاق کی نہیں سوچنے والی بات ہے کہ روسی حکومت کے حوالے سے ٹرمپ کے معاملات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ان کی قربتوں کے فسانے اکثر وبیشتر سننے میں آتے ہیں اور مذکورہ معاملے کی تو ہاﺅس کی ایک کمیٹی نے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے جس میں ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر کا بیان لیا گیا۔ انہوں نے اگرچہ اسے مذاق قرار دیا۔ تاہم تسلیم کیا کہ ٹرمپ کیلئے 2013ءمیں پانچ روسی عورتوں کی پیشکش ان کے ذریعے کی گئی تھی۔ بات کچھ بھی ہو روس اور ٹرمپ کا معاملہ امریکہ میں جس سمت میں جا رہا ہے اس سے بہت سے مبصرین کوئی اور ہی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لگتا نہیں ٹرمپ اپنا عہدہ صدارت پورا کر پائیں گے…. ان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا جائے گا یا پھر ان کا مواخذہ ہو جائے گا۔ ماضی میں ہم نے نکن کا استعفیٰ دیکھا ہے جنہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کی ابتدا کی مگر وہ معاملہ دوسرا تھا…. اب دیکھتے ہیں ٹرمپ کا کیا بنتا ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved