تازہ تر ین

ستلج مررہاہے

سینیٹرمحمد علی درانی۔۔خاص مضمون
پانی کی تقسیم کے حوالے سے بہاولپور کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں نے ایک عرصہ سے سابق ریاست بہاولپور کی معیشت (جو کہ زیادہ تر زراعت پر مشتمل ہے) کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دوسری طرف ماحولیاتی حوالے سے بھی صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے۔ ماضی کا ایک بہتا ہوا دریا صحرا بن چکا ہے اور وادی ستلج کی تہذیب سسکیاں لے رہی ہے۔
1960ءمیں پاکستان اور بھارت کے مابین دریائی پانی کی تقسیم کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان نے تین مشرقی دریاﺅں‘ راوی‘ بیاس اور ستلج کے زرعی پانی سے دستبرداری اختیار کرلی جبکہ مغربی دریاﺅں کا پانی پاکستان کو ملتا رہا‘ ستلج واحد دریا تھا جس کا پانی بہاولپور کے خطے کو سیراب کرتا تھا۔ گویا ستلج کے پانی سے دستبرداری بہاولپور کے ساتھ سب سے پہلی اور بڑی زیادتی تھی اس کی کوکھ سے ایک ایسے المیے نے جنم لیا کہ آج ستلج کی تہذیب اور دریا کے اطراف بسنے والے انسان اور دیگر حیات سسک رہے ہیں۔ بھارت میںدریائے ستلج پر فیروزپور کے مقام پر ہیڈورکس بنایا گیا ہے۔ ستلج اور بیاس کا پانی فیروزپور ہیڈورکس پر روک لیا جاتا ہے اور اس سے نیچے پانی کی ایک بوند بھی نہیں آتی جس سے دریائے ستلج مکمل طور پر خشک ہوکر صحرا میں تبدیل ہوچکا ہے۔
بہاولپور سمیت چھ اضلاع کے ساتھ پانی کے حوالے سے ہونے والی پہلی زیادتی کا بھارت بھی ذمہ دار ہے کیونکہ عالمی قوانین کے تحت وہ کسی بھی قدرتی آبی وسیلے کو مکمل طور پر بند کرنے کا مجاز نہیں تھا بلکہ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ راوی‘ بیاس اور ستلج کی آبی حیات‘ ماحولیات اور اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی کم از کم ضرورت کیلئے پانی فراہم کرے لیکن بھارت نے ایسا نہیں کیا۔ اس طرح وہ اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل واٹر کورس کنونشن کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔ اس کنونشن کے آرٹیکل 7‘ 10‘ 20‘ 21‘ 22 اور 23 اس بارے میں بالکل واضح ہیں جن کے تحت کوئی بھی ملک کسی بھی قدرتی آبی وسیلے کو مکمل طو پر بند نہیں کرسکتا اور وہ آبی حیات‘ ماحولیات اور آبی وسائل کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی کم از کم ضرورت کیلئے پانی فراہم کرنے کا پابند ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان مشرقی دریاﺅں (راوی‘ بیاس‘ اور ستلج) کا پانی آبپاشی وغیرہ کے مقاصد کیلئے حاصل نہیں کرسکتا لیکن بھارت ایک قدیم دریائی گزرگاہ اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے پانی کی درکار کم سے کم مقدار فراہم کرنے کے اخلاقی اور بین الاقوامی ضابطے کی پابندی سے مستثنیٰ نہیں کیونکہ مغربی دریا‘ یعنی سندھ‘ جہلم اور چناب جب بھارتی علاقوں سے گزرتے ہیں تو وہ ان میں سے اس قدر پانی لیتا ہے جو کم از کم انسانی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے درکار ہے۔ پانی کی یہ مقدار سات فیصد ہے لیکن مشرقی دریاﺅں یعنی ستلج اور راوی کے پانی سے وہ ان بنیادی ضرورتوں کیلئے پانی نہیں دے رہا جو دنیا کی تاریخ کے تمام قانونی اور اخلاقی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل IV(1) میں یہ طے کیا گیا تھا کہ چونکہ مشرقی دریاﺅں کا پانی زرعی مقاصد کیلئے اب پاکستان کو نہیں ملے گا اس لئے دریاﺅں سے نکلنے والی نہروں کیلئے متبادل نظام کے طور پر 6 نئی رابطہ نہریں تعمیر کی جانا تھیں۔ 1۔ مرالہ راوی لنک‘ 2۔ بلوکی سلیمانکی لنک کینال‘ 3۔ بی آر بی ڈی لنک کینال‘ 4 رسول قادر آباد‘ قادرآباد بلوکی لنک کینال 5۔ تریموں اسلام لنک کینال اور حویلی کینال تھی۔ تریموں اسلام لنک دراصل واحد کینال تھی جس سے ہیڈ اسلام اور اس سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کیا جانا تھا۔ (اس مجوزہ لنک کینال کی طے شدہ گنجائش بیس ہزار کیوسک ہے)۔ پاکستان کو اس متبادل آبی ذرائع کی تعمیر کے لئے چھتیس ارب روپے دیئے گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس رقم سے سندھ طاس معاہدہ میں تجویز کی گئی تمام متبادل نہریں تعمیر ہوچکی ہیں لیکن صرف وہ نہر تعمیر نہیں کی گئی جس نے دریائے ستلج کو چلتا رکھنا تھا اور ہیڈ اسلام سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کرنا اور چولستان کو سیراب کرنا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل II کے تحت یہ متبادل لنک تعمیر کرنے کیلئے مقررہ مدت 31 مارچ 1967ءتھی لیکن آج نصف صدی ہوگئی یہ لنک کینال (تریموں اسلام لنک) تعمیر ہی نہیں کی گئی۔ ایک طرف بھارت نے فیروز پور ہیڈ ورکس سے آگے ستلج کیلئے پانی کی ایک بوند نہیں چھوڑی دوسری طرف اس کمی کو پورا کرنے کے لئے متبادل لنک کینال بھی تعمیر نہیں کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں سے بہتا ہوا دریا ہیڈ سلیمانکی سے ہیڈ پنجند تک صحرا میں تبدیل ہوگیا۔ آج ستلج کے دونوں اطراف کے اضلاع میں ماحولیاتی تباہی کی لرزہ خیز صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہاولپور‘ بہاولنگر‘ رحیم یارخان‘ لودھراں‘ پاک پتن اور ساہیوال کے علاقوں میں زیرزمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے اور جو پانی دستیاب ہے وہ اس قدر آلودہ ہے کہ پینے کے قابل نہیں۔ اس میں سنگھیا اور دیگر زہریلے عناصر دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ کئی بین الاقوامی اداروں نے ان علاقوں میں زیرزمین پانی کے حوالے سے سروے کئے ہیں اور یہاں کے زیرزمین پانی کو انسانی استعمال کیلئے غیرموزوں قرار دیا ہے۔
پانی کے زیرزمین ذخیرہ کو بڑھانے کا ایک قدرتی ذریعہ بارش ہے لیکن بہاولپور میں سالانہ بارش کی اوسط بہت کم ہے۔ یہاں سالانہ اوسطاً ایک سے ڈیڑھ انچ بارش ہوتی ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں بارش نہ ہونے کے برابر ہے‘ اس کیلئے خصوصی توجہ اور انتظامات کی ضرورت تھی۔ دریائے راوی کو آٹھ متبادل ذرائع سے پانی فراہم کیا جارہا ہے حالانکہ راوی کے اطراف میں بارش کی سالانہ اوسط 20 انچ تک ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسا نہ کیا جاتا‘ لیکن انصاف کا تقاضا تھا کہ ترجیحات کو علاقائی ضرورت کے تناظر میں طے کیا جاتا۔
ریاست بہاولپور کے زمانہ میں 1920ءمیں ستلج ویلی پراجیکٹ بنایا گیا تھا۔ یہ ایک جدید نہری نظام تھا جو ریاست کے صحرائی اور زرعی علاقوں کی ضرورت کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا۔ اس پراجیکٹ کی تعمیر سے ریاست کے آب پاشی نظام میں گویا ایک انقلاب آگیا۔ اس پراجیکٹ کے تحت ریاست میں تین ہیڈ ورکس‘ چھ بڑی نہریں اور کئی ایک چھوٹی نہریں نکال کر آبپاشی کا جال پھیلایا گیا۔ اُچ کے قریب پنجند ہیڈ ورکس اور دریائے ستلج پر سلیمانکی اوراسلام ہیڈ ورکس بنائے گئے۔ اس پراجیکٹ سے لاکھوں ایکڑ رقبہ سیراب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ہیڈ سلیمانکی سے نہر صادقیہ اور فورڈ واہ نکالی گئیں جو ریاست کے مشرقی حصے کو سیراب کرتی تھیں۔ ہیڈ اسلام سے بہاولپور کینال اور قائم پور کینال نکالی گئی۔ یہ ریاست کے وسطی حصہ کو سیراب کرتی تھی جبکہ پنجند سے عباسیہ کینال اور پنجند کینال نکالی گئی۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد ستلج کا پانی بھارت کو دے دیا گیا۔ ہیڈ اسلام میں تریموں سے ہیڈ اسلام تک بیس ہزار کیوسک پانی لانے والی لنک کینال تعمیر نہ کرکے ستلج ویلی پراجیکٹ کی افادیت کو بھی ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ پانی نہ ہونے کے باعث چولستان کو سیراب کرنے کے لئے 1930ءمیں بنائی گئی نہریں آج ریاست سے بھر چکی ہیں اور ان کے پل اور کلورٹس کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔
1892ءکی دستاویز کے مطابق ریاست بہاولپور میں چھوٹی بڑی نہروں کی تعداد 43 اور ان کی مجموعی لمبائی 999 میل یعنی 1600 کلو میٹر تھی۔ حالانکہ اس وقت ریاست کی آبادی صرف ساڑھے چھ لاکھ تھی۔ اب ان میں سے کئی ایک نہریں پانی نہ ملنے کے باعث بند ہوچکی اور ان کا وجود ہی مٹ چکا ہے۔ محض کتابوں میں ان کا ذکر رہ گیا ہے۔
بہاولپور میں تقریباً چونسٹھ لاکھ ایکڑ رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جسے چولستان کہتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا صحرا ہے۔ یہاںہر طرف موت کے سائے ہیں۔ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ جن لوگوں نے کبھی اس صحرا کا سفر کیا ہو وہ جانتے ہیں کہ خشک سالی کے دنوں میں چولستان کے صحرا میں پانی نہ ملنے کی وجہ سے مرنے والے جانوروں کے ڈھانچے تو ایک طرف بیاس کے باعث مرنے والے انسانوں کے لاشے کس طرح بے گوروکفن تپتی ہوئی ریت پر جل رہے ہوتے ہیں۔ اسی چولستان کے صحرائے ملحق سرحد کی دوسری طرف بھارت کا صحرائی علاقہ راجستھان بھی ہے لیکن راجستھان کی ویرانی اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ بھارت نے سرحد کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی کینال بنائی ہے جو پہلے راجستھان کینال کہلاتی تھی اب اسے اندراگاندھی کینال کانام دے دیا گیا ہے۔ یہ نہر جب تک پنجاب کے ان علاقوں سے گزرتی ہے جہاں زیرزمین پانی میٹھا ہے یا جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں وہاں ان میں سے کوئی ذیلی نہر نہیں نکالی گئی بلکہ صحرائی علاقوں میں اس نہر کے پانی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس نہر سے راجستھان کے صحرا کو پانی فراہم کیا جاتا ہے‘ اس میں پانی کی گنجائش انیس ہزار پانچ سو کیوسک ہے یعنی تریموں اسلام لنک کینال کی طے شدہ گنجائش سے بھی کم لیکن اس کی بدولت آج وہ علاقہ سرسبز و شاداب ہے‘ یہاں کے لوگ جو کسی زمانے میں پیاس اور خشک سالی کے باعث زندگی کو ایک عذاب کی مانند جھیل رہے تھے آج خوشحال ہیں۔ اس نہر نے نہ صرف علاقے کو خوشحالی دی بلکہ سرحد کو بھی ناقابل عبور بنا کر ان کے دفاع کو بھی مضبوط بنایا۔ دوسری طرف ہماری حالت یہ ہے کہ 1930ءکی دہائی میں ستلج ویلی پراجیکٹ کے تحت بنائی گئی نہروں کو پانی کی فراہمی بند کر کے چولستان کی ویرانی میں مزید اضافہ کردیا گیا اور اسے موت کی وادی بنا دیا گیا۔ پاکستان کو دفاعی اور معاشی دونوں حوالوں سے نقصان پہنچایا گیا۔ پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھئے‘ بہالپور اور چولستان پاکستان کی کمر پر واقع ہیں۔ یہاں سے پاکستان کی چوڑائی انتہائی کم ہے۔ پاکستان کے شمالی اور جنوبی حصوں کو ملانے والا سارا مواصلاتی سسٹم یعنی ریل اور قومی شاہراہ یہاں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان کی Soft Belly ہے لیکن اس خطے اور مشرقی سرحد کے درمیان ایک صحرا کو قائم رکھ کر ایک لحاظ سے پاکستان کے دفاع کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔
جدید دنیا کے مسلمہ ضابطوں میں یہ بات شامل ہے کہ آبادی اور شہری تنصیبات دفاع کے قدرتی ذرائع ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں سرحد کے قریب بسنے والے عوام کو خوشحال بنایا جاتا ہے۔ وہاں زیادہ سے زیادہ خوشحالی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ بھارت ہی کو دیکھ لیں‘ وہاں راجستھان کے صدیوں پرانے صحرا کو نہروں کا جال بچھا کر آباد کیا گیا اور وہاں کے عوام کو خوشحال بنایا گیا ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے ان کی حالت ایسی نہ تھی مگر آج وہ خوشحال ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہم نے بہاولپور اور چولستان کو ان کے حصے کا پانی نہ دے کر خستہ حالی‘ بے سروسامانی اور بدحالی کا نشانہ بنا دیا۔ یہ دنیا میں واحد مثال ہے کہ آج 2017ءمیں بھی چولستان میں انسان اور جانور ایک ہی ٹوبے (تالاب) سے پانی پیتے ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے فوری طور پر تریموں اسلام لنک کینال کی تعمیر کا آغاز کرے اور ماضی کی غلطیوں اور بہاولپور کے عوام کے ساتھ جاری زیادتی کی تلافی کرے تاکہ خطے کو درپیش ماحولیاتی تباہی سے بچایا جا سکے اور جب تک یہ مکمل نہیں ہوتی موجودہ ذرائع سے فراہم کئے جانے والے پانی کی مقدار میں اضافہ کرے‘ چولستان کی بند نہروں کو چلائے اور صحرا کے زیادہ سے زیادہ حصے کی آبادکاری کو ممکن بنائے۔ دوسری یہ کہ بھارت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلائے‘ بھارت پر سفارتی دباﺅ ڈالا جائے اور برطانیہ سمیت ورلڈ بینک اور وہ تمام ممالک جو سندھ طاس معاہدے میں بطور ضامن شریک تھے ان کے ساتھ یہ معاملہ خالص انسانی بنیادوں کے تحت اٹھائے کہ وہ ماحولیات کے لئے 20سے30فیصد پانی چھوڑے کیونکہ ستلج کے اردگرد آباد تقریباً اڑھائی کروڑ لوگ اور چھ اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں اور ہیڈسلیمانکی سے پنجند تک تقریباً تین سو کلومیٹر دریا صحرا بن چکا ہے اور وادی ستلج کی تہذیب موت کے دہانے پر ہے۔
(کالم نگار سابق وفاقی وزیر اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved