تازہ تر ین

عیسیٰ خیلوی،عمران خان اور کے پی کے

محمد صابر عطائ….اظہا ر خیال
پاکستان کی سیاست ان دنوں پارٹی قیادتوں کی رونق سے چمک دمک رہی ہے ۔تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادتیں ان دنوں سرائیکی وسیب کے اضلاع میں جلسوں میں شرکت کرکے آئندہ الیکشن کی کمپین شروع کیے ہوئے ہیں ۔پاکستان تحریکِ انصاف اُن میں نمایاں نظر آرہی ہے ۔میانوالی کے سپوت عمران خان ان دنوں ملتان ،تونسہ ،خانیوال اور دیگر اضلاع میں جلسے کرتے پھر رہے ہیںاور تجزیہ نگار ان جلسوں کے بارے میں اچھی آراءقائم کیے ہوئے ہیں ۔اس بار ان جلسوں میں جو بات منفرد اور شاندار تھی وہ وسیب کے ماتھے کے جھومر لالہ عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی بھی وسیب کے ان جلسوں میں شامل تھے اور لاکھوں لوگ محض ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ان جلسوں میں اُمڈ آئے اور ان جلسوں کی رونق بنے ۔اس سے قبل عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی الگ صوبے کے قیام کی تحریک کے لانگ مارچ میں بھی شامل ہوئےجو کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔
لالہ اس دھرتی کے وہ فرزندہیں جو ایفل ٹاور کے پاس بھی کھڑے ہوں تو لوگ انہیں پہچان لیتے ہیں ۔لالہ کی گائیکی نے نہ صرف پاکستان میں امن کو فروغ دیا بلکہ اس وسیب کو بھی عالمی شہرت سے ہمکنار کیااور یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں کسی پیر کی طرحم مانتےہیں اور ان کی ایک جھلک کو دیکھنے کے لیے ان کے پروگراموں اور جلسوں میں شرکت کرتے ہیں ۔یہ تحریک ِ انصاف کی خوش بختی ہے کہ لالہ جی کا ساتھ انہیں میسر آیا۔
تحریکِ انصاف کی قیادت سرائیکی وسیب کو ان دنوں اپنا محور بنائے ہوئے ہیں جس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس علاقے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے ۔اس خطے کے فنڈز کو اپر پنجا ب کے اضلاع میںخرچ کیا گیا ۔یہا ں اگر فنڈز خرچ ہوئے بھی تو یہاں کے ضروریات کے پیش ِ نظر آٹے میں نمک کے برابر ۔اس وسیب کے پہلے ضلع میانوالی سے لیکر کوٹ سبزل تک یہاں ریونیوکی وصولی 95فی صد جبکہ یہاں پرخرچ کی شرح 30فی صد رہی۔میانوالی کا شہر عیسیٰ خیل میانوالی شہر کے سامنے ہے ۔اگر دریائے سندھ پر پُل بن جائے تو اس کا فاصلہ 20سے 30کلومیٹر بنتا ہے لیکن اب پُل نہ ہونے کی وجہ سے یہ فاصلہ 100کلومیٹر بنتا ہے ۔اوپر سے کئی سالوں سے تعمیر ہوتی ہوئی ”سڑک“اس فاصلے کے وقت کو بڑھا ئے ہوئے ہے ایک گھنٹے کا سفر کم ازکم دو گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے ۔21ویں صدی میں بھی عیسیٰ خیل تحصیل کے لوگ پینے کے پانی سے محروم ہیں ۔خواتین کو کئی کئی میل پیدل دور دراز کا سفر کر کے پانی گھڑوں میں بھر کر لانا پڑتا ہے ۔ستم کی بات ہے یہاں سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی جن میں اب تو صوبائی وزیر آب پاشی امانت اللہ شادی خیل بھی شامل ہیں ۔نے آج تک اس خطے کے لیے کچھ نہیں کیا ۔اسی طرح لیہ میں لیہ تونسہ پل کی 70سالوں سے جو ضرورت تھی اسے بھی محض سیاسی بیانوں تک محدود رکھا ہوا ہے ( شاید اس باراس پُل کی سنی جائے ) ۔
تحریکِ انصاف کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ عوام جن سیاسی افراد سے مایوس ہیں ان کی اکثریت اس وقت تحریکِ انصاف میں شامل ہو چکی ہے اور وہ عوام کو اکٹھا کرنے کی بھرپور صلاحیت سے محروم ہیں ۔تحریکِ انصاف کے مذکورہ جلسوں میں اگر عوام کی کثیر تعداد شامل ہوتی ہے تو اس کی بنیادی اور اہم وجہ عمران خان اور عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی کی شخصیات ہیں ۔جن پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں سننے اوردیکھنے کے لیے آتے ہیں ۔لالہ عطاءاللہ خان نے خانیوال جلسہ میں الگ صوبے کے قیام کے لیے عمران خان کو مخاطب کرکے مطالبہ پیش کرکے اس خطہ کے کروڑوں افراد کی ترجمانی کی اور دل جیت لیے ۔
تحریکِ انصاف کے سربراہان اگر چاہتے ہیں کہ ان کا پیغام ہر آدمی تک پہنچے تو عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی کو اس خطے کے لیے ذمہ داریاں دے دیں۔ لالہ عطاءاللہ کو جاوید ہاشمی کی جگہ تحریکِ انصاف کا مرکزی صدر بنا کر ملک بھر کی عوام کی محبتیں سمیٹے ۔ میں سمجھتا ہوں لالہ ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو اس عہدے کے لیے موزوں ہیں ۔ تحریکِ انصاف لالہ جی سے اور بھی فائدے حاصل کرسکتی ہے ۔لالہ جی پاکستان کے وہ فنکا ر ہیں جو اس ملک کے ثقافتی سفیر تسلیم کیے جاتے ہیں اورملک بھر کی فنکار برادری ان کا بے پناہ احترام کرتی ہے ۔تحریکِ انصاف کلچر ونگ کے لیے لالہ جی کی خدمات سے بھر پور فائدہ حاصل کر سکتی ہے اس کے لیے لالہ جی کو کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کا ثقافتی مشیر بنایاجائے او ر لالہ جی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے ۔
(کالم نگار شاعرو صحافی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved