تازہ تر ین

ایم کیو ایم کی سیاست

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
ایم کیو ایم کے فاروق ستار بانی متحدہ کے ابتدائی ساتھیوں میں سے ہیں۔ مہاجر سٹوڈنٹس فیڈریشن سے براہ راست الطاف حسین کے ساتھ منسلک ہوئے۔ ایک فقرے میں اگر ان کا طرہ امتیاز گنوایا جائے تو وہ یہ ہے کہ وہ طارق عظیم وغیرہ کے قتل سے لے کر ڈاکٹر عمران فاروق کے لندن میں ہوئے قتل کے علاوہ رشید گوڈیل جیسے سینکڑوں قاتلانہ حملوں کے باوجود نہ صرف آج تک ”عتاب الطاف حسین“ سے محفوظ ہیں بلکہ زندہ ہیں، تندرست وتوانا ہیں اور تاحال ایم کیو ایم پاکستان نامی تحریک یا سیاسی جماعت کی سربراہی پر بھی براجمان ہیں۔ کہنے کو تو یہ طرہ امتیاز ایک فقرے میں بیان ہوگیا۔ مگر جب اسی فقرے کے سیاق و سباق پر غور کریں گے تو اس سے ڈاکٹر فاروق ستار کی شخصیت کے تمام پہلو روشن ہوجائیں گے۔ پتہ چل جائے گا کہ وہ کس قماش کے انسان ہیں اور وہ اپنی شخصیت کو حالات کی نزاکت سے ہم آہنگ رکھ کر زندگی کو کس طور پر آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کس طرح سے ایک لسانی زبان پر بنائی گئی جماعت پہلے اپنا سیاسی قدو قامت قائم کرتی ہے اور اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ دہشت کے رنگ چڑھا کر ایک لازوال مافیا کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ایک ایسا مافیا ”سسلین اطوار اور گاڈ فادر“ جیسے میل پتھر کب کے عبور کرکے دہشت اور مافیا کے ایسے اسلوب متعین کرتی ہے کہ دنیا محو حیرت رہ جاتی ہے۔ المختصر یہ کہ آنے والے ماہ و سال میں جب بھی ”انڈر گراﺅنڈ ورلڈ“ کی با ت ہوگی تو اس پر چلنے والوں کو سسلین مافیا کی بجائے کراچی مافیائی ورلڈ سے رہنمائی لینا پڑے گی۔ جن قارئین نے گاڈ فادر کے کردار کا مطالعہ کیا ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ اگرچہ ”گاڈ فادر“ ایک مستقل مافیائی کردار ہوتا ہے مگر گاڈ فادر کی کرسی پر براجمان جرائم پیشہ شخصیت کی اپنی ذاتی زندگی ہمیشہ محدود رہی ہوتی ہے۔ کیونکہ مافیاز کی اندرونی تگ ودو میں ”گاڈ فادر“ کی ٹاپ نشست تک رسائی پانے کے لئے اندرونی قتل و غارت بھی متواتر ہوتی رہتی ہے۔اس تاریخ کے برعکس ہمارے کراچی والے مافیا کے گاڈ فادر نے طویل العمری میں بھی ایک ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ کراچی تو کراچی ہے اگر سات سمندر پار بھی کبھی اس کی کرسی کو خطرہ محسوس ہوا تو لندن میں عمران فاروق بھی پراسرار طور پر قتل ہوگئے تھے۔ کہنے کو تو عمران فاروق کی موت آج تک ایک راز ہے مگر واقفان حال جانتے ہیں کہ وہ کیونکر قتل کروا دئیے گئے تھے۔
بہرحال! بات ڈاکٹر فاروق ستار صاحب کی ہورہی تھی۔ تو یہ بات ظاہر ہے کہ وہ ایک عرصے تک ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں۔جوکہ وہ آج بھی ہیں۔ ایم کیو ایم کی انتظامی کمیٹی کے برعکس دنیا کے سامنے فقط یہ رابطہ کمیٹی کا سیاسی چہرہ ہی ہے جس سے کہ یہ پارٹی جانی پہچانی جاتی ہے۔ یہی لوگ بالعموم عوام کے سامنے بھی آتے ہیں اور مختلف اسمبلیوں اور سینٹ وغیرہ میں بھی منتخب کروا کر پہنچائے جاتے ہیں۔ اس رابطہ کمیٹی کی ”دیکھ بھال“ براہ راست انتظامی کمیٹی کے عہدیداران کرتے ہیں، جن کے چہروں سے عمومی طور پر عام لوگ ناآشنا ہوتے ہیں مگر رابطہ کمیٹی کے اسمبلی ممبران اور وزیرامیر انہیں خوب جانتے بھی ہیں اور پہچانتے بھی ہیں ۔ یہی وہ انتظامی کمیٹی ہے کہ جس کی باگ ڈور براہ راست لندن سے چلائی جاتی ہے اور اسی کو بانی متحدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ احکامات بھی جاری کرتے رہتے ہیں۔ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن ، جس میں کہ ایک فیکٹری میں سینکڑوں مزدوروں کو جلا کر مار ڈالا گیا تھا اور جس کا بڑا ملزم حماد صدیقی اب دبئی میں زیر حراست ہے، بھی اسی ”انتظامی کمیٹی“ کا کارندہ قرار دیا جارہا ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محترم فاروق ستار جنہوں نے کہ اڑتالیس گھنٹوں میں پہلے تو برسرعام ، مصطفی کمال کے ساتھ نئی پارٹی اور نئے نشان کا اعلان کیا پھر یکدم اپنے اس فیصلے سے منحرف ہوئے، پھر ایم کیو ایم کی رکنیت اور سیاست سے مستعفی ہوے اور پھر ایک گھنٹے بھر ہی میں اس فیصلے سے بھی منحرف ہوگئے۔ یہ ایک ایسا ڈرامہ ہے کہ جس کی تربیت انہوں نے اپنی سیاست کے بچپن میں اپنے مربی و محسن الطاف حسین سے حاصل کی تھی، الطاف حسینی تربیت ان کی گھٹی میں رچی بسی ہے جس سے کہ وہ شاید حقیقی کیا، خوابوں کی دنیا میں بھی چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔ لہٰذا ان سے کسی قسم کا بھی سیاسی معاملہ کرنے سے پہلے ان کی شخصیت کے اس پہلو کو مدنظر رکھناہوگا۔ اس پہلو کے ساتھ ہی دوسرا جڑا ہوا معاملہ یہ بھی ہے کہ ”ایم کیو ایم پاکستان“ نامی نام پرانی ہی چیز کی ایک نئی پیکنگ ہوسکتی ہے۔ یہ پرانے مشروب کی نئی بوتل ہوسکتی ہے۔ یہ ہرگز بھی کوئی نئی چیز نہیں ہوسکتی۔ موجودہ وقت تک شہر کراچی اور سندھ بھر میں امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کی رٹ پورے جوبن پر ہے۔ جونہی اس رٹ کی انفورسمنٹ میں تھوڑی لچک یا ڈھیل دکھائی دی ، غالب خیال ہے کہ متحدہ کی پاکستان و لندن وغیرہ کی تفریق بھی ختم ہوجائے گی اور یہ فی الفور اپنے پرانے رنگوں اور طریق پر لوٹ جائے گی۔ کسی بھی صاحب رائے ساتھی کو اس امر میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ ایسا رویہ اختیار کرنے میں فاروق ستار کو کوئی باک ہوگا۔ وہ اہل زبان ہیں۔ لہٰذا بڑی ہی شستہ اور سلیس اردو میں وہ تمام ایسی دلیلیں دھرا سکتے ہیں جیسے کہ انہوں نے اڑتالیس گھنٹوں میں ”منحرفی کا ڈرامہ“ کرکے اپنی والدہ کی گود میں بیٹھ کر پیش کی ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ایسے اعلانات اور منحرفیاں اس تنظیم اور اس کے بانی کا ہمیشہ سے خاصہ رہے ہیں۔ منحرفیاں تو ایک طرف وہ سرعام غلیظ اور ناروا زبان کے استعمال کے بعد کیمروں کے روبرو معافیاں مانگنے کی بھی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔
اب اس مقام پر دو نقاط بڑے کھل کر سامنے آتے ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ کسی بھی گروہ ، قوم یا زبان کو اپنی شناخت کو ہمیشہ قائم رکھنے کا سوچنا، ان کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ سو یہ حق ہر صورت میں اہل کراچی اور لسانی بنیادوں پر قائم ان کی تنظیم کو بھی میسر رہنا چاہئے۔ تاکہ یہ پاکستانی بھی سیاست پاکستان میں اپنا متحرک کردار بخوبی ادا کرتے رہیں۔ دوسرا یہ کہ ایسا حق کسی بھی ایسی تنظیم یا تحریک کے پاس قطعاً نہیں رہنا چاہئے جن کے جرائم کی سالہا سال کی ایک تاریخ ہے۔ یہی وجہ تھی جب عوام پاکستان نے ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے ادغام کی خبر سنی تو ان کی اکثریت نے سکھ کا سانس لیا۔ کیونکہ اب کراچی کی سیاست کو اس کے اصولوں کے مطابق چلانا مقصود تھا ، ناکہ کسی جرائم پیشہ تنظیم یا تحریک کی طرح۔ اس باب میں نئے نام، نئے پرچم، نئے نشان بھی اتنے ہی ضروری تھے جتنی کہ کوئی بنیادی منشور اور اصول۔ لہٰذا جب الٹا پھر کر کراچی کے ڈرامے ہوئے تو اس کی وجہ سے تقریباً ساری قوم انگشت بدنداں ہے۔ ضروری امر یہ ہے کہ اردو سپیکنگ کمیونٹی یہ فیصلہ کرے کہ انہوں نے جرائم زدہ سیاست کو ترک کرکے ، سیاست کو اس کے اصولوں کے مطابق چلانا ہے ۔ امید کرنی چاہئے کہ شہر کراچی کی بے پناہ اہمیت کے پیش نظر مہاجر قوم اپنے مجرم اکابرین اور ان کے بے بہا جرائم پر تبرا کرکے اپنی کمیونٹی کی فلاح کے پیش نظر مثبت سیاست کا نیا آغاز کریں گے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved