تازہ تر ین

لاوارث وزارت

توصیف احمد خان
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حدیبیہ کیس سننے سے معذرت کرلی ہے ، اس سے پہلے خبریں شائع ہوچکی تھیں کہ شریف خاندان کے وکلاءکی ٹیم نےجسٹس کھوسہ کی اس بنچ میں تعیناتی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس اقدام سے پہلے ہی معزز جج نے از خود معذرت کرلی اور جواز یہ دیا کہ پانامہ کیس کے دوران وہ ریمارکس دے چکے ہیں کہ یہ کیس کھولا جائے، رجسٹرار آفس نے غالباً یہ فیصلہ پوری طرح پڑھا نہیں اور بنچ کے سربراہ کے طور پر انکا نام شامل کردیا گیا، جسٹس کھوسہ سپریم کورٹ کے انتہائی سینئر جج ہیں، انہوں نے وہی کیا جو ایک جج کے شایان شان ہے، ورنہ اس معاملے پر بہت سے سوالات اٹھ سکتے تھے، تاہم انہوں نے ایک باوقار جج کی طرح ایسے سوالات کا موقع ہی نہیں دیا۔
یہ تو ہوگیا ایک انتہائی قابل ستائش عمل …..ایک عام شہری کی حیثیت سے جو قانون کی باریکیوں سے آگاہ اور شناسا نہیں، ذہن میں کئی قسم کے سوالات پیدا ہوتے ہیں، وہ سوالات خصوصی طور پر اس کیس سے متعلق نہیں بلکہ عمومی سے ہیں …..سوال اٹھتا ہے کہ ایک جج یا ایک سے زیادہ ججز فیصلہ صادر کرتے ہیں ، متاثرہ فریق اس سے اوپر اپیل کا حق استعمال کرتا ہے اور اس کی اپیل قبول کرلی جاتی ہے یعنی پہلا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا جاتاہے …عدلیہ کے تمام تر احترام کے باوجود …ذہن میں یہ خیال اور سوال پید اہوتا ہے کہ کیا ان ججوں نے غلط فیصلہ دیا تھا …؟ میرے خیال میں یہ توہین عدالت نہیں ہوگی ، کیونکہ سوچ پر بہرحال کوئی آئین و قانون پابندی نہیں لگا سکتا ، اس سوچ کا منشا منفی کے بجائے مثبت ہوتو یہ یقینا قانون یا عدلیہ کی توہین نہیں بلکہ مثبت سوچ میں بھی ایک طرح سے قانون کے احترام کا پہلو اجاگر ہوتا ہے کہ ذہن نظام عدل اور اسکی باریکیوں سے آگاہ ہونا چاہتا ہے …سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ججوں کو قانون کا علم نہیں تھا ، تاہم ایسا سوچنا تو دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص تمامتر علم اور تجربے کے بعدہی انصاف کی کرسی پر بیٹھتا ہے ، اسے علم ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے سامنے تو جوابدہ نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے روبرو اس سے ضرور سوال و جواب ہونگے ، دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس نے قانون کو غلط طور پر استعمال کیا ، مگر ایسا سوچنا بھی ممکن نہیںِ اب تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نزدیک قانون کی تشریح کچھ اور تھی…یہی سوال اس معزز محترم ہستی کے بارے میں بھی تو پیدا ہوسکتا ہے جس نے فیصلے کو تبدیل کردیا…پھر آخری اپیل کے بعد فیصلہ کون کریگا کہ کس نے درست فیصلہ دیا اور کس کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا، قانون کے مطابق اس لئے کہا جارہاہے ہمارا نظام انصاف قانون پر مبنی ہے ، ہماری عدالتیں قانو ن کی عدالتیں ہیں ، قانون بعض اوقات کچھ اور راہ اختیار کرتا ہے مگر انصاف اس کی نفی کررہاہوتا ہے مگر منصف کو بہرصورت قانون پر عمل کرنا پڑتا ہے اور غالباً بہت سے مجرموں کے بچ نکلنے کی وجہ بھی یہی ہوسکتی ہے ۔
ہم حدیبیہ کیس کو ہی مثال کے طور پر لے لیتے ہیں ، ہائیکورٹ کے دو ججوں نے اسے سنا، ایک جج نے کیس کھولنے کے حق میں ، ایک نے اس کی مخالفت میں فیصلہ دیا جس پر تیسرا جج مقرر کرنا پڑا، تیسرے جج کا فیصلہ تھا کہ کیس نہیں کھولا جاسکتا، اب دو ججوں کی رائے کیس نہ کھولنے کے حق میں ہوگئی ، ہمیں علم نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا مگر ہم فرض کرلیتے ہیں کہ سپریم کورٹ معاملے کو دوبارہ کھولنے کے حق میں فیصلہ دیتا ہے تو کیا ہائیکورٹ کے دو ججوں کا فیصلہ غلط تھا؟… وہ قانون کو نہیں سمجھ سکے ، یا انہوں نے قانون کی درست تشریح نہیں کی …یہ باتیں ہماری سمجھ س بالاتر ہیں، کوئی ماہر قانون ہی ہمیں سمجھائے تو سمجھائے۔
ویسے اگر جسٹس آصف سعید کھوسہ ہی اس بنچ کے سربراہ رہتے تو ایک بات طے تھی کہ بنچ کا سربراہ کیس کھولنے کے حق میں ہے ، باقی دو ججوں میں سے ایک بھی اسکی حمایت کر دیتا تو کیس کھل جاتا…لیکن اب تو ایسا نہیں ہے ، محترم چیف جسٹس نیا بنچ بنائیں گے اور معلوم نہیں اس میں کون سے جج صاحبان شامل ہونگے اور وہ کیا فیصلہ دینگے۔
ہم نے یہ باتیں ایک قانون پسند شہری کی حیثیت سے کی ہیں اور یہ سوچ کرکی ہیں کہ ہم سے کسی مرحلے پر عدلیہ کی توہین نہیں ہوئی تاہم معاملہ ہماری سوچ کے برعکس ہوتو ہم پیشگی معذرت کرلیتے ہیں ، مگر ایک بات ضرور کرینگے کہ رجسٹرار آفس کی اس کوتاہی یا غلطی کے بارے میں کوئی انکوائری ضرور کرائی جائے ، ہماری محترم چیف جسٹس سے یہی استدعا اور گذارش ہے کیونکہ یہ بات کسی اور نے نہیں خود عدالت عظمیٰ کے ایک سینئر ترین جج نے کی ہے اور اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ ہماری یہ استدعا قبول کرلی گئی تو یہ ایسی انکوائری نہیں ہوگی جو عموماً حکومتیں کراتی ہیں کہ کچھ علم نہیں ہوپاتا نتیجہ کیا نکلا ہے ، اس قسم کی انکوائری کا نتیجہ یقینا نکلے گا اور عوام الناس کو معلوم بھی ہوگا۔
اب آتے ہیں محترم وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار کی طرف جو لندن میں موجود ہیں اور کہا یہ جارہاہے کہ وہ علیل ہیں ، دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں، معلوم نہیں ابھی مزید کتنا عرصہ زیر علاج رہیں گے، غالباًعلاج کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلے گا جب تک ان کے خلاف کیس کوئی واضح رخ اختیار نہیں کرلیتا، ان کو سزا ہو جائے تو وہ ملکی جیل میں جانے کی بجائے بیرون ملک قیام کو ترجیح دے سکتے ہیں کہ اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی انکے خاندان کا وسیع کاروبار ہے ، قیام و طعام کوئی مسئلہ نہیں بنے گا، دوسری صورت یہ ہے کہ انہیں بری کردیاجائے، ایسا ہوتو سکتا ہے مگر انکے رویّے سے ایسا لگتا نہیں، محسوس یہ ہورہا ہے کہ محترم ڈار صاحب کے پاس اپنے دفاع کیلئے مناسب مواد نہیں ، یہ اندازہ ہم اس بنا پر لگا رہے ہیں کہ وہ خود کو حق پر سمجھتے تو دل کا مرض بھی نہ پالتے، سنا تھا بینظیر انکم سپورٹ پر وگرام کی موجودہ چیئرپرسن اور پرویز مشرف کی سابق ساتھی ماروی میمن انکی تیمارداری کیلئے جارہی ہیں، معلوم نہیں گئی ہیں یا نہیں ، ویسے جانا ضرور چاہئے کہ لوگ بتاتے ہیں تعلق کافی قریبی ہے اور ایسے کڑے وقت میں اپنے ہی ڈھارس بندھایاکرتے ہیں۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اسحق ڈار صاحب کی وزارت کو برقرار رکھنے میں کونسی مصلحت ہے، کیا انکے بغیر پاکستان کا نظام معیشت ہی نہیں نظام زندگی بھی درہم برہم ہوجائیگا جو اس وقت ہو چکا ہے کہ وزارت خزانہ بے یار و مددگار ہے، کوئی اسکا پرسان حال نہیں…یہی حکومت کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ اس کی سب سے اہم وزارت کا کوئی والی وارث نہیں، ایسا لگتا ہے کہ جناب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم ضرور ہیں مگر بہت سے معاملات میں انکے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ مجبور ہیں کہ کچھ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کرسکتے یا کرپاتے کہ ہاتھ جلنے کا امکان رہتا ہے ، جب معاملہ محترم نوازشریف کے سمدھی کا ہو تو بات اور بھی بڑھ سکتی ہے ، غالباً یہی واحد وجہ ہے کہ محترم وزیراعظم اپنے وزیر خزانہ پر ہاتھ نہیں ڈال پارہے ، یعنی ان سے استعفیٰ نہیں مانگ رہے اور وزارت لاوارث پڑی ہے ، ویسے ڈار صاحب کیخلاف ریفرنس تو چلا ہے اور چلتا رہیگا، ہمیں فی الحال معلوم نہیں کہ وہ اس معاملے میں مجرم ہیں یا نہیں لیکن وزارت کی جان نہ چھوڑنے کے معاملے میں وہ مجرم ضرور ہیں کہ ان کا یہ اقدام پورے ملک کا بیڑا غرق کرنے کے مترادف ہے اور یقینا ملک کا نقصان ہوبھی رہا ہے ، اب نوازشریف صاحب ہی اس معاملے میں کچھ کریں تاکہ ڈار صاحب سے جان چھوٹ سکے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved