تازہ تر ین

ملک میں انارکی وزراءوزیراعظم پر بھاری

عبد الودود قریشی
ملک میں اس وقت مکمل انارکی ہے۔ بیورو کریسی بے مہار ہے اور بغیر کسی بحث و تمحیص کے بیورو کریسی جو جو سمریاںمنظور کروانے کے لئے موقع کی تلاش میں تھیں موقع پاتے ہی منظور کروا رہی ہے جن میں سے ایک ممنوعہ بور کا اسلحہ پچاس ہزار میں حکومت کو فروخت کرنا بھی شامل ہے جب کہ لوگوں نے کلاشنکوف ڈیڑھ سے اڑھائی لاکھ میں خریدی اور اس کی فیس وغیرہ الگ ادا کی۔ ایک بار لوگوں سے ممنوعہ بور کا اسلحہ واپس لیکر دو تین سال بعد پھر ممنوعہ بور کے لائسنس جاری کر دئیے جائیں گے۔ ممنوعہ بور کے لائسنس پانچ سال کےلئے جاری کئے گئے تھے اور پانچ ہزار روپے بھی وصول کئے اس طرح کروڑوں روپے بھی ہڑپ کئے جانے کا یہ اقدام ہے اور بیورو کریسی تین چار سال بعد پھر ممنوعہ بور کے لائسنس جاری کرنے میں الگ سے اربوں روپے کی رشوت بھی وصول کرے گی۔ اس معاملے میں وزارت داخلہ کے کئی افسران کوایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ صرف امریکیوں کو پانچ لاکھ روپے فی لائسنس لیکر اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے بڑی تعداد میں لوگ فیض آباد تحریک ختم نبوت کے دھرنے کی وجہ سے بند ہیں کوئی سرکاری عہدے دار اور وزیر ان سے بات کرنے کو ہی تیار نہیں جبکہ ایک سال قبل کئے گئے تحریری معاہدے سے بھی حکومت منحرف ہو گئی اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ مقامی آبادی علماءاور وکلاءبھی شامل ہیں اور دارالحکومت کو محفوظ قلعہ بنانے کےلئے ہزاروں کنٹینرز لگائے گئے ہیں اور ان کے لاکھوں روپے روزانہ کے اخراجات دوسرے صوبوں سے بلائی گئی فورس اور ایف سی پر اٹھنے والے اخراجات الگ ہیں ایک کنٹینر اٹھانے اور رکھنے کےلئے چار چار ہزار روپے اور کنٹینر کا روزانہ کرایہ الگ سے ہزاروں میں ہے اس طرح اس معاملے کو موقع غنیمت جان کر کمیشن وصول کی جا رہی ہے۔ پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنے کی بجائے ذاتی وصولیوں میں مصروف ہے گزشتہ روز ایک خاتون نے فیز آٹھ سے راولپنڈی ریسکیو پولیس کو مطلع کیا کہ گھر کے باہر ڈاکو آ گئے ہیں اور اہل محلہ نے اس معاملے کو ذاتی جھگڑا سمجھا اور جب لوگ جمع ہونا شروع ہوئے تو ڈاکو جن کے ساتھ خواتین بھی تھیں بڑے آرام سے ایک گھنٹے بعد چلے گئے اور پولیس نے تین گھنٹے بعد متعلقہ خاتون کے موبائل پر فون کیا کہ معاملہ کیا تھا ….! اسلام آباد میں فیض آباد بند ہونے کی وجہ سے رش بڑھ گیا بیس منٹ کا سفر تین گھنٹے میں آغا شاہی ایکسپریس وے پر طے ہو رہا ہے۔ ٹریفک پولیس گلیوں میں چھپ کر گاڑیوں پر جھپٹتے ہیں چالان کی دھمکی دے کر چمک وصول کر رہے ہیں بھاری ٹریفک ان کےلئے سونے کی کان بنی ہوئی ہے۔ بیورو کریسی نے حکومت کے وزراءکی بات ماننے سے عملی طور پر انکار کر دیا ہے جب تک وزیر دفتر ہو بیوروکریسی غائب ۔جب وزیر چلا جائے بیورو کریسی اپنے کام کرنے آ جاتی ہے۔ وزارتوں میں فائلوں کے ڈھیر لگ چکے ہیں۔ سی ڈی اے تجاوزات کے نام پر روزانہ لاکھوں نہیں کروڑوں روپے وصول کر رہی ہے۔ بجلی اور سوئی گیس کا عملہ لوگوں کے گھروں کے میٹر اتار کر بجلی گیس بند کر دیتا ہے اور رقم وصول کر کے اسے بحال کر دیتا ہے۔ اس کےلئے کئی بہانے ہیں کہ یہ کمرشل استعمال ہو رہا ہے، اس میٹر کو ٹمپر کیا گیا ہے، مالک مکان یا کرایہ دار تبدیل ہو گیا ہے، نئے نام سے میٹر لگوایا جائے۔ یہ چند مثالیں تھیں مگر بڑے پیمانے پر معاملہ اس سے بھی گھمبیر ہے۔ سی ڈی اے کے کرتا دھرتا اربوں روپے کے پلاٹ کروڑوں میں چند ماہ کے اندر لوگوں کو نیلامی کے نام پر دینا چاہتے ہیں۔ وزارت خزانہ جو ملکی حیثیت کےلئے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے کے وزیر لندن کے ہسپتال میں لیٹے ہوئے ہیں ان کا قائم مقام کوئی موجود نہیں ہے ان کے اثاثے اور بنک اکاﺅنٹ عدالت نے منجمد کر دئیے ہیں مگر وہ ابھی تک وزیر خزانہ ہیں۔ ملک میں آٹھ ماہ بعد ہونے والے انتخابات بھی دھندلا چکے ہیں اس کےلئے مردم شماری آڑے ہے جب تک کوئی آئینی ترمیم نہیں آتی انتخابات میں ڈیڑھ سے دو سال کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ میاں نواز شریف کے اقتدار سے ہٹتے ہی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی جیسے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے بھی ساتھ لے گئے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی کوئی بھی رکن اسمبلی بات سننے کو تیار نہیں۔ کابینہ کے مو¿ثر اور اہم عہدے میاں نواز شریف کے قریبی رشتہ داروں کے پاس ہیں جو شاہد خاقان عباسی کو کسی خاطر میں نہیں لاتے وہ انہیں دوسرے درجے کا پارٹی ورکر خیال کرتے ہیں۔ اب اہم فیصلے وزیراعظم کی بجائے سپیکر قومی اسمبلی کے گھر طے کئے جارہے ہیں جبکہ سپیکر اصولی طور پر منتخب ہونے کے بعد غیرجانب دار ہوتا ہے اور اس کا بڑی حد تک حکمران جماعت سے تعلق نہیں ہوتا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایف سیون اپنے گھر رہتے ہیں وزیراعظم ہاﺅس استعمال نہیں کرتے۔ انکی پہلی ترجیح اپنی ائیر لائن ہے اور اس کے رکے ہوئے کام ہیں وہ وزارت عظمی کو شام پانچ بجے تک دفتری اوقات میں چلاتے ہیں اس کے بعد چھٹی۔ اس طرح ملک مکمل بے مہار اور افراتفری کا شکار ہو چکا ہے۔ سبزی پھل گوشت کی قیمتیں دگنی کر دی گئی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس صورت حال میں غریب اور درمیانہ طبقہ مشکل سے دوچار ہے۔ البتہ بھارتی طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے جواب میں پاکستانی ہوائی کمپنیوں کے طیارے بھارت کی فضائی حدود استعمال کر سکیں گے اس کا فائدہ یقینی طور پر ہوائی کمپنیوں کو ہوگا۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved