تازہ تر ین

نظام کی اصلاح، وقت کا تقاضہ

اکرام سہگل ….خاص مضمون
ٹرانسپرینسی انٹرنشیل کی ”عوام اور بدعنوانی: ایشیا پیسیفک“ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ برائے 2017 عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی عدم مساوات، غربت اور کمزور طبقات کی پس ماندگی سے متعلق خدشات کو آواز دیتی ہے۔ متنوع اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس خطے، ” ایشیا پیسفک میں شامل ممالک کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے کہ وہ پائیدار اور انصاف پر مبنی ترقی کی منزل حاصل کریں۔ یہ فیصلہ سازی میں مفادی عامہ کو اہمیت دینے ہی سے ممکن ہے۔ بدعنوانی اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، یہ جمہوری عمل کو مسخ کردیتی ہے اور عوامی مفاد کے مقابلے میں ذاتی مفاد کو بڑھاوا دیتی ہے۔“ گزشتہ بائیس برسوں سے ٹرانسپرینسی انٹرنیشل کی درجہ بندیCorruption Perception Index (CPI) کے مطابق پاکستان بدعنوان ترین ممالک میں شامل ہے۔ کرپشن پاکستان کے ریاستی و حکومتی اداروں میں اس طرح سرائیت کرچکی ہے کہ حکومتی نظام برباد ہوچکا۔ مو¿ثر انداز میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ اس کا بنیادی سبب اینٹی کرپشن کے اداروں کا کردار ہے، جس پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔ سماجی ترقی کے لیے نظام حکومت کے نقائص دور اور کرپشن کا مقابلہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ سماجی ترقی سے مراد یہ ہے کہ عوام کی زندگی میں بہتری لائی جائے، انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے تاکہ وہ طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیوں سے استفادہ کرنے کے قابل ہوں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ترقی اپنے معاشی یا کسی بھی تعریف کے مطابق اسی وقت حقیقی تصور ہوگی جب اس عمل سے عوام کو فائدہ حاصل ہو اور اس ترقی کی صورت گری کرنے والے بھی عوام ہوں۔ سماجی ترقی کو جانچنے کے چند بڑے پیمانے ہیں جن میں غربت کی شرح، نومولود بچوں کی شرح اموات، اوسط عمر، شرح خواندگی، صحت عامہ، صنفی مساوات وغیرہ شامل ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اگر پاکستان ان سبھی پیمانوں میں پس ماندگی کا شکار نہیں تو اکثر میں طے شدہ معیارات پر پورا نہیں اترتا۔
کرپشن پہلے سے کمزور حکومتی نظام کے ڈھانچے کو مزید خستہ حال کردیتی ہے اور ریاستی ذمے داریوں کی بجا آوری کی راہ میں حائل رہتی ہے۔ ریاستی اداروں کی کمزوری کی ذمے داری باربار آنے والے فوجی حکومتوں پر عائد کی جاتی ہے، لیکن ان منتخب حکومتوں کے بارے میں کیا کہا جائے جنھوں نے برسراقتدار آنے کے بعد حکومتی نظام کی بہتری میں ذرہ بھر دلچسپی ظاہر نہیں کی؟ 2008میں ڈاکٹر عشرت حسین کی تیار کردہ ”نیشنل کمیشن آن گورنمنٹ رفارمز(این سی جی آر)“ رپورٹ حکومتوں کی بے حسی عیاں کرتی ہے۔ یہ رپورٹ نظام حکومت کے نقائص اور مسائل کا جامع تجزیہ پیش کرتی ہے اور انتہائی غوروفکر کے بعد اس میں مسائل کے مو¿ثر حل تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ طاق پر رکھ دی گئی ہے اور تباہی کا عمل جاری ہے۔
پاکستان کے سماجی اشاریے زوال پذیر کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ عوامی ترقی یہاں کبھی ترجحیات میں شامل نہیں رہی۔ 2016 کے ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس میں پاکستان 188ممالک میں 147ویں نمبر پر تھا۔ اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کو روزگار کی فراہمی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کے لیے صحت مند سرگرمیوں جیسے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی، آبادی میں جن کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ عوام جس زندگی کے آرزو مند ہیں، اس کے لیے سماجی خدمات اور ساز گار ماحول فراہم کرنا پڑے گا۔ حال ہی میں حزب مخالف کی سیاسی پارٹیوں اور گروپس کی جانب سلسلہ وار ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو داخلی بے چینی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ حکومت پالیسی سازی میں ناکام ہوچکی ہے اور نہ تو عوامی ضروریات اور نہ عوامی سطح پر پائے جانے والے تحفظات کی شنوائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ نظام حکومت سے متعلق یہ سب منفی اشاریے ہیں۔ بہتر طرز حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور سماجی ترقی کے مابین گہرا ربط ہے، اسی تناظر میں پاکستان کے نظام حکومت میں اصلاحات ناگزیر ہوچکی ہیں۔
اصلاحاتی عمل کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا اور بالخصوص سیاسی حکمران خوف زدہ ہیں کہ نظام میں بہتری آئی تو طاقت کا وہ ڈھانچا متاثر ہوجائے گا جو اگلے انتخابات میں ان کی کامیابی کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ سماجی شعبے کی دگرگوں حالت دیکھتے ہوئے قومی وعوامی مفاد کا یہی تقاضا ہے کہ لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ گو کہ این سی جی آر کی رپوٹ میں کچھ اضافوں کی ضرورت ہے بہرحال اسے اصلاحاتی عمل کے لیے نقطہ آغاز ضرور بنایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق” حکومتی اصلاحات جامع، متوازی، غیر جانبدارانہ اور کسی سے متاثر ہوئے بغیر ہونی چاہییں۔ ہنگامی کوششیں وہ فضا قائم نہیں کرسکتیں جس سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔“
اختیارت کی نچلی سطح تک منتقلی حکومتی اصلاحات کا مرکزی نقطہ ہونا چاہیے۔ مرکزیت پر مبنی ہمارے نظام حکومت کے چند مثبت پہلو ضرور ہیں لیکن وہیں منفی پہلو بھی ہیں۔ اسی مرکزیت کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا، صوبوں میں بے چینی پیدا ہوئی جس نے خود مختاری اور علیحدگی کی تحریکوں کو جنم دیا۔ ہمیں زیادہ بااختیار مشترکہ مفادات کونسل اور این ایف سی کی نئی بنیادوں کے ساتھ وفاقی سیٹ اپ کی تنظیم نو کرنا ہوگی۔ان اقدامات سے قوم پرستانہ سیاست اور تحریکوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قومی اتحاد مستحکم ہوگا۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا عمل حقیقی انداز میں ہونا چاہیے تاکہ اس حقیقی بلدیاتی نظام حکومت کی تشکیل ممکن ہو سکے جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 140اے میں دی گئی ہے۔
ریاست عوام کو نچلی سطح پر بلدیاتی نظام کے ذریعے خدمات فراہم کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں اسی نظام کی خامیوں پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔ میڈیا نے درست طور پر پناما گیٹ اور سوئس مقدمات پر توجہ مرکوز رکھی تاہم یہ عوامی مسائل سے براہ راست متعلق معاملات نہیں۔ بلدیاتی یا علاقائی حکومت کی عدم موجودگی یا جس شرمناک انداز میں اس تصور کو استعمال کیا جارہا ہے، ہمارا میڈیا اس جانب سنجیدگی سے متوجہ نظر نہیں آتا۔ صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے لیے 2010میں دیے گئے منصوبے پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا ہے، اختیارات کی منتقلی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ بلند سطح پر اختیارات رکھنے والے نچلی سطح پر ان کی منتقلی کے لیے راستہ خود ہموار کردیں۔ روایتی اور ”جدید“ جاگیرادروں کے زیر تسلط نظام میں یہ کبھی ممکن نہیں ہوسکے گا۔
این سی جی آر رپورٹ میں وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر اداروں میں اصلاحات کو واضح طور پر متعین کیا گیا ہے اور انہیں آپس میں خلط ملط نہیں ہونے دیا گیا۔ برطانوی سول سروس کے ارکان جس دیانت داری سے کام کرتے تھے، افسوس کے اس کا اب تصور بھی باقی نہیں رہا۔ ذمے داریوں کی دیانت داری سے ادائیگی یقینی بنانے کے لیے تمام حکومتی سطحوں پر تربیت کے ساتھ ساتھ شفاف نظام احتساب کے قیام کی ضرورت ہے۔ احتسابی عمل نہ صرف کرپش کے خاتمے کے لیے راستہ بنائے گا بلکہ اس سے نظام حکومت مزید مو¿ثر اور عوامی اعتماد بحال ہوگا۔ ماضی قریب میں ہونے والے سیاسی احتساب کے تجربات میں جہاں قانونی اور اخلاقی احتساب میں گہری خلیج نظر آتی ہے، اس کے برعکس ریاست اگر قانون کا بلا تفریق نفاذ کرتی ہے تو عوام میں مساوات کا احساس پیدا ہوگا، جو جمہوریت کی بنیاد ہے۔ہم اپنی خاص شناخت رکھتے ہیں، اسے مدنظر رکھتے ہوئے قانون و اخلاق کے مابین پائی جانے والی خلیج کو پاٹنے کے لیے نظام حکومت کے اخلاقی پہلوو¿ں کو اسلامی اصولوں پر منطبق کرنا ضروری ہے۔ غربت اور افلاس کے نرغے میں آئی یہ قوم، مایوسی کے گہرے ہوتے سایوں میں، تبدیلی اور اپنے مسائل کے حل کی طلب گار ہے۔ بڑھتی ہوئی بددلی اور بداعتمادی اپنی جگہ تو دوسری جانب قوم کو درپیش چیلنجز سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ احتساب راتوں رات تو نہیں ہوسکتا لیکن تبدیلی کے کچھ آثار ضرور نظر رآرہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس کی تازہ مثال ہے جس میں نواز شریف کی بہتان طرازی، دروغ گوئی اور حقائق کو مسخ کرنے کی حقیقت عیاں کی گئی ہے۔ اتفاق دیکھیے کہ سعودی ولی عہد نے بھی کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز کردیا ہے، کیا مریم اب ”شریفوں کے خلاف سازش“ میں اعلیٰ عدلیہ اور فوج کے ساتھ سعودیوں کا بھی نام لیں گی؟
(فاضل مصنف سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved