تازہ تر ین

ڈی آئی خان، عورت اور ہم

اسرار ایوب….قوسِ قزح
ڈیرہ اسماعیل خان ہمارے ان علاقوں میں سے ایک ہے جن میں اسلام کے ساتھ لوگوں کی رغبت نسبتاً زیادہ ہے، یہاںشاید ہی کوئی فرد ایسا ہو جو صوم و صلوة کا پابند نہ ہو؟ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ جمعیت علما ءاسلام( ف) کا گڑھ بھی ہے جہاں سے اسلام کے مولانا فضل الرحمان جیسے عظیم سپوت منتخب ہو کر ہر اسمبلی تک اس طرح پہنچتے ہیں کہ کوئی حکومت بھی ان کے بغیر نہیں چل سکتی۔ ایک طرف یہ عالم ہے اور دوسری طرف مومنوں کی اس بستی میںایک معصوم لڑکی کو دن دیہاڑے کوڑے مار مارکر اور گھسیٹ گھسیٹ کر سرِ بازار لایا گیا اور پھرننگا کر کے ایک گھنٹہ گلیوں کوچوں میں پھرایا گیا، اسلام کی اس نگری میںوہ جس گھر میں بھی پناہ مانگنے گئی اسے بلا تامل باہر نکال دیا گیا کیونکہ اسے یہ سزا ”معززینِ علاقہ“پر مشتمل پنچائت نے اس کیس کی سماعت کے بعد سنائی تھی کہ اس کے بھائی کے کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات تھے اور انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ بہن کی چادر چھین لی جائے۔ تو کیا اسلام یہی سکھاتا ہے؟ اگر نہیں تو اس کے خلاف کوئی فتوی کیوں صادر نہیں کیا گیا؟
ہو گئی مرگِ مفاجات ضعیفی اپنی
جرم کوئی نہ کیا اس لئے جرمانے لگے
آخر ہمارے علماءکرام اس قسم کے واقعات پر کیوں ہڑتال کر کے سڑکیں بلاک نہیں کرتے ؟ بورے والا کی اس مریضہ کو یاد کیجئے جسے ہسپتال میںعلاج کے نام پر بے ہوشی کا انجکشن لگا کر گینگ ریپ کیا گیا، اور پانچ سال کی وہ بچی جسے لاہور کے ایک پرائیویٹ سکول میں ہوس کے بھینٹ چڑھایا گیا تومیڈیا میں یہ خبر نشرہوئی کہ ایف آئی آر اس لئے درج نہیں کی جا رہی کہ سکول کا مالک ایک بااثر شخص ہے۔اس بچے کا واقعہ بھی کس سے پوشیدہ ہے جسے درندگی کا نشانہ بنا کر ایک مسجد میں سولی پر لٹکا دیا گیا لیکن اہلِ محلہ کی نشاندہی کے باوجود امام مسجد نے نمازِ باجماعت میں تاخیر نہیں ہونے دی اور اسے ادا کرنے کے بعد ہی بچے کو سولی سے اتارا گیا؟قصور والا واقعہ بھی کون بھول سکتا ہے جہاںسینکڑوں بچوں کے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی اور پھر ان کی گندی ویڈیو فلمیں بنا کر والدین تک کو بلیک میل کیا جاتا رہا؟ کراچی پولیس کے ان دو حیوانوںکو یاد کیجئے جنہوں نے ایک تین سالہ بچی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کر دیاتھا،اور اس باپ کے دُکھ پر تو ایک مرتبہ عرش بھی لرز اٹھا ہوگا جو اپنی بیٹی کے گینگ ریپ کی شکایت لے کر تھانے گیا تو الٹا اُسی کے خلاف” ایف آئی آر“ کاٹ دی گئی۔
پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے،کیا اس لئے کہ یہاں اسلام کے نام پر(اور تو اور) سکول کے پھول جیسے معصوم بچوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی جاتی ہے لیکن اس کے خلاف بھی کھل کر بیان دینے کا حوصلہ علماءکرام کو نہیں ہوتا؟ ہم کس قدر کھوکھلے ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اسی سے لگا لیجئے کہ ٹی وی پرچاہے خود کش بم دھماکوں سے ہونے والی تباہی پرہی پروگرام کیوں نہ کر رہے ہوں، میک اپ کروانا نہیں بھولتے۔ماتمی پروگراموں کے لئے بطورِ خصوصی کالے رنگ کے بیش قیمت ملبوسات تیار کروائے جاتے ہیں،خدا کی پناہ کئی حضرات تو ایسے بھی ہیں کہ آنکھوں میں گلیسرین ڈال کر روتے ہیں۔
خود غرضی، بے حسی اور بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں کسی شے کی کوئی حد نہیں ورنہ پوری سول سوسائٹی سڑکوں پر نہ نکل آتی، ہر طرف ہڑتالیں اور دھرنے نہ ہوتے؟ ہمارے حکمرانوں کی نیندیںحرام نہ ہو چکی ہوتیں؟ کوئی اور اس طرح کا احتجاج نہیں کرسکتاتو کیا علماءکرام بھی معصوموں اور مجبوروں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف فیصلہ کن آواز نہیں اٹھا سکتے، امتِ مسلمہ کے غم سے سرشار یہ ”جنتی لوگ“فلسطین،کشمیراور عراق کے لیے تو ہڑتالیں کرتے رہتے ہیں لیکن کیا ان معصوموں کے حق میں کوئی مظاہرہ نہیں کر سکتے ؟ اس اعلان کے ساتھ ملک گیر ہڑتال کر دی جائے کہ یہ احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک گنہگاروں کوواقعی میں قرار واقعی سزا نہیں دے دی جاتی تو کس کی مجال ہے کہ وہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن سکے ؟
بات شروع ہوئی تھی اس قیامت سے جو مومنوں کی بستی میں ایک یتیم،بے بس اور معصوم لڑکی پر ٹوٹی، علی امین گنڈاپور نے اسکی شادی کروانے اور کفالت کرنے کی ذمہ داری اٹھائی تو بے اختیار اپنے یہ اشعار یاد آ گئے کہ :
میں نے بروقت کئی بار جسے بلوایا
مر چکا میں تو بچانے وہ مسیحا آیا
یا خدا دور یہ کیا آیا ترے بندوں پر
آج ہمسائے سے محفوظ نہیں ہمسایہ
(کالم نگار ڈزاسٹر مینجمنٹ کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved