تازہ تر ین

بے بس کسان،سرمایہ دار حکمران

نور الحق جھنڈیر….توجہ طلب
میں بے حد مشکور ہوں جناب محترم ضیاشاہد صاحب کا کہ انہوں نے زراعت سے متعلقہ مسائل کواجاگر کرنے کے لیے کسان مشاورت سیمینار کے ذریعے ہمیں مدد فراہم کی ہے۔ہمارے ملک کی 70فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے اور زراعت کی ترقی ہمارے ملک کی ترقی ہے۔ کیونکہ ہمارا بیشتر زرمبادلہ کا ذریعہ زراعت ہے غریب اور امیر سب کامشترکہ مفاد زراعت سے منسلک ہے۔ کیونکہ بیشتر مزدور طبقہ کا ذریعہ آمدنی بھی زراعت سے منسلک ہے۔ لیکن حکومتوں اور صاحب اقتدار طبقوں اور عوامی نمائندوں نے اسے وہ اہمیت نہیں دی جس کا یہ شعبہ مستحق ہے۔ میں اس کے ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ تھیوری اور پریکٹیکل میں بہت فرق ہے۔ میرا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جن کی وجہ شہرت زراعت،کتاب بینی اور فلاحی کام ہیں۔ میں تقریباً 40سال سے زراعت سے عملی طور پر وابستہ ہوں اور مجھے اس کی ہر حقیقت سے متعلق معلومات حاصل ہیں۔
آج کے فورم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جن مسائل سے ہم زراعت پیشہ لوگ نبردآزما ہیں میں انہیں حقیقی معنوں میں پیش کررہا ہوں اور تقریباً جتنے معززین اور ماہرین زراعت تشریف فرما ہیں وہ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ ان نقاط کے متعلق مجھ سے اتفاق کریں گے۔ہمارا ملک ایگروبیسڈ ملک ہے۔ اس کی ترقی کا دارومدار زراعت ہے جبکہ زراعت پیشہ افراد کو وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ ہمارے ہمسایہ ملک یا دیگر ملکوں میں میسر ہیں۔ زراعت میں چند چیزیں انتہائی اہم ہیں جن کے بغیر زراعت ترقی نہیں کرسکتی۔
٭پانی، ہمیں فی ایکڑ وہ پانی دیا جارہا ہے جو انگریز دور میں نہری نظام کی ابتداءکے وقت مقرر کیاگیا تھا۔ اس وقت بیشتر زمینیں بنجر اور غیر آباد تھیں۔ اس وقت 3ایکڑ زمین والے کو ایک ایکڑ کے لیے یعنی کل زمین کا تیسرا حصہ (1/3 حصہ) پانی دیا گیا تھا۔ جبکہ اس وقت کے لحاظ سے کاشت کے حساب سے پانی وافر تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی جنوبی پنجاب میں 4 کیوسک فی ایکڑ پانی جبکہ اس کے مقابلے میں اپر پنجاب میں 9کیوسک فی ایکڑ پانی اور سندھ میں 11کیوسک فی ایکڑ پانی دیا جارہا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی اور معاشی قتل کے مترادف ہے۔ جبکہ کپاس کا تقریباً 75 فیصد جنوبی پنجاب (سرائیکستان) میں پیدا ہوتا ہے اور گندم کا بھی زیادہ حصہ جنوبی پنجاب پیدا کرتا ہے۔
٭بجلی،آج کے دور میں بجلی کا میسر ہونا زراعت کے لیے بہت اہم ہے۔ ہمارے ہاں کسان کو بہت کم اور مہنگی بجلی دی جاتی ہے جس کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ بھی بے اصولی کی جاتی ہے۔ لہٰذا کسان کو بجلی مسلسل دی جائے نہ کہ وقفہ وقفہ سے۔ بل بھی ہر مہینے اضافی یونٹوں کے ساتھ پکڑا دئیے جاتے ہیں۔ کسان کی اکثریت اس سے بھی ناواقف ہے کہ میٹر کیسے چیک کیے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہمارے ہمسائے ملک میں بجلی فری ہے اور فصل کے برداشت ہونے پر بل وصول کیے جاتے ہیں۔ پہلے تو کسان کو بجلی فری دی جائے یا کم از کم مناسب فلیٹ ریٹ مقرر کیے جائیں۔
٭بیج، ہمارے ہاں کسان کو صحیح بیج ملنا نا ممکن ہے ہمارے ہاں کوئی ایسا دارہ نہیں ہے جوکہ بین الاقوامی معیار کا بیج کسانوں کو مہیا کرسکے۔ فصل کی بہتر پیداوار کے لیے اعلیٰ معیار کا بیج ہونا بنیادی شرط ہے۔ پنجاب میں بیج پیدا کرنے والا صرف ایک ہی ادارہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کے نام سے ہے۔ وہ بھی اب کاشتکاروں سے بیج خرید کر فروخت کرتا ہے۔ جبکہ ان کے پاس اپنا بیج پیدا کرنے کےلئے زمین بھی کم ہے۔ میری سائنسدانوں سے گزارش ہے کہ وہ ایسے بیج کا شتکاروں کو مہیا کریں جو اچھی پیداوار، موسمی حالات کے سات مقابلہ کرنے کی صلاحیت، بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے خلاف قوت مدافعت اور کم وقت یعنی کم سے کم Duration اور کم پانی کی ضرورت کے حامل ہوں اور کم سے کم Inputs استعمال کرنے کے حامل ہوں۔ کئی مسائل ایسے ہیں جو وفاقی سطح پر حل ہونے کے حامل ہیں لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک سے وفاقی سطح پر وزارت زراعت ہی ختم کر دی گئی ہے۔
٭مارکیٹنگ، ہمارے ہاں مارکیٹنگ کا نظام انتہائی فرسودہ اور ناقص ہے حالانکہ کسی بھی چیز کو پیدا کرنے والا ادارہ اس چیز کی قیمت خود مقرر کرتا ہے۔ جبکہ زراعت میں الٹی گنگا بہتی ہے۔ کاشتکار کا اس کی اپنی پیدا کی ہوئی فصل کی قیمت مقرر کرنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ جبکہ زراعت سے ناتجربہ کار لوگ زرعی اجناس کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں پیداوار ہونے کے باوجود کمیشن کے لالچ میں غیر ممالک سے اجناس درآمد کی جاتی ہیں جس سے ہماری اجناس کے ریٹ پر انتہائی برا اثر پڑتا ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسان کی دن رات کی محنت کے باوجود یہ جواز بنا کر کہ فصل زیادہ ہوئی ہے کسان کو مناسب قیمت نہیں ملتی۔ حالانکہ بین الاقوامی سطح پر فصل کم ہو یا زیادہ حکومت اجناس مقررہ قیمت پر خرید لیتی ہے۔
٭ زرعی ریسرچ، کسی بھی شعبہ کی ترقی کے لئے ریسرچ کا ہونا لازمی ہے۔ ہمارے ہاں زراعت کے متعلق اس سطح کا ریسرچ کام نہیں ہو رہا جو کہ دیگر زرعی ممالک میں ہو رہا ہے وہاں ریسرچ کو اہمیت حامل ہے۔ 1992ءسے اب تک وائرس فری یا پیسٹ فری، موسمی حالات سے مقابلہ کرنے والی اور کم دورانیہ والی فصلوں کا بیج تیار نہیں ہو سکا۔ جس کا ایک جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ریسرچ سنٹروں کو ضرورت کے مطابق فنڈ مہیا نہیں کئے جاتے۔
٭ متفرق، ڈیزل سستا کیا جائے اور وافر مقدار میں مہیا کیا جائے۔ زرعی قرضہ جات سیاسی اثرورسوخ سے بلاتر ہو کر مستحق کاشتکاروں کو میرٹ پر دیئے جائیں۔ زرعی ماہرین کی حوصلہ افزائی کی جائے اور محکمہ زراعت کو سیاست سے پاک رکھا جائے۔ریسرچ ورک کو کاشتکاروں تک پہنچانے کے لئے محکمہ زراعت کو زیادہ سے زیادہ وسائل مہیا کئے جائیں۔محکمہ زراعت کے ماہرین کو دفتری کاموں یعنی رپورٹس وغیرہ میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ان کے پاس کاشتکاروں کے پاس جانے کے لئے وقت ہی نہیں بچتا۔ ان کو آمدورفت کے لئے پورے وسائل مہیا کئے جائیں۔ فیلڈ اسسٹنٹ کی بجائے کوالیفائیڈ افسروں کی کاشتکاروں تک رسائی ممکن بنائی جائے۔ زرعی معاملات کو حکومتی سطح پر ہمیشہ اولیت دی جائے۔ فصلات کیInsurance سکیم متعارف کرائی جائے،C.E.C(کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن) میدان میں آئے۔
(کالم نگار جدید کاشتکار اور سماجی رہنما ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved