تازہ تر ین

تلہ گنگ حادثہ اور بے حسی

نمرہ ملک …. نقطہ نظر
تلہ گنگ کا آخری علاقہ ڈھوک پٹھان اس وقت درد کی داستان بن گیا جب مندوری تحصیل الاچی ضلع کوہاٹ سے براستہ تلہ گنگ راولپنڈی روڈ،رائے ونڈ جانے والی اہل حق کی مسافر گاڑی شدید حادثے کا شکار ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔مذکورہ بس میں چوراسی افراد سوار تھے جو رائےونڈ اجتماع کے دوسرے مرحلے میں شرکت کر نے کے لیے عازم سفر ہوئے تھے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق نو افراد موقع پہ ہی راہی عدم ہو گئے جب کہ ہاسپٹل پہنچنے تک مزید زخمی بھی اللہ کو پیارے ہو گئے رات تک ےہ تعداد سترہ ہو گئی تھی اور تادم تحریر ستائیس مسافر راہ حق کے شہداءمیں شامل ہو چکے ہیں۔اس حادثے نے ہر درد مند کے دل کو دکھ سے بھر دیا اور لوگ جوق در جوق جائے حادثہ پہ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔اس موقع پہ بھی تلہ گنگ کی عوام نے اپنی محبت اور ہمدردی کا بھرپور مظاہرہ کیا جبکہ منتخب عوامی نمائندگان نے روایتی ہٹ دھرمی،سستی اور بے حسی کا ریکارڈ قائم کیا۔سابقہ نائب وزیر اعظم اور ق لیگ کے ممتاز رہنما پرویز الہی کی خصوصی ہدایت پہ ق لیگ کے کارکنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کاروائی میں حصہ لیا۔فرزند تلہ گنگ حافظ عمار ےاسر کے معاون حاجی عمر حبیب نے اپنی نگرانی میں انتظامات کروائے۔فرزند تلہ گنگ کی خصوصی ہدایات پہ ہر ممکن طریقے سے زخمیوں کی مدد کی گئی اور زا تی گاڑیوں کے علاوہ تلہ گنگ اور چکوال سے بھی گاڑیاں منگوائی گئیں۔حافظ عمار کی فراہم کردہ پندرہ ایمبولینسوں نے رات گئے تک زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو سٹی ہسپتال اور ڈی ایچ کیو ہسپتال تلہ گنگ پہنچایا،شدید ذخمیوں کو پنڈی ڈی ایچ کیو ریفر کیا گیا جب کہ ہلاک ہونے والوں کے لیے تیس سے زائد تابوت بھی مہیا کئے گئے۔معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی کثیر تعداد نے رستے میں دم توڑا ےا ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور عملے کی کم یابی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہاری ۔ کسی سرکاری ےا کسی سماجی شخص کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ مشکل میں پھنسے ہوئے ان لوگوں کی مدد کو پہنچتے اور انہیں ہسپتال پہنچاتے۔چیرمین میونسپل کمیٹی تلہ گنگ ملک رفیع دھولہ،حافظ شیر خان دھولر،سلیم اقبال بلوچ چینجی،ملک شفقت غلہ منڈی اور محمد بلال بھی موقع پہ پہنچے اور امدادی کاروائیوں میں حصہ لیا۔مشیر خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال دوسرے دن گیارہ بجے اس حادثے پر افسوس کرتے نظر آئے جبکہ ایم پی اے ذوالفقار دلہہ اور ان کے میڈیا ایڈوائزر مبشر نذر جو بقول ان کے ڈاکٹروں کو سپیڈ پکڑنے کی ہدایت دیتے ہیں،اس افسوسناک موقع پہ کہیں سپیڈیں لگواتے نظر نہیں آئے،میڈیا ایڈوائزر مبشر نذر بھائی نے بھی دوسرے دن سہ پہر اک سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا کہ ایم پی اے ذوالفقار دلہہ نے ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے لواحقین کو وقت دیا جائے تا کہ وہ آرام کر سکیں،ہمارے بھولے شہزادے بھائی کو ےہ پتہ ہونا چاہیے کہ جن کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہو ےا جن کے پیارے دوسرے ڈویژن بلکہ دوسرے صوبے میں زخموں سے چور پڑے ہوں،انہیں آرام کی نہیں،بلکہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔شہر ےار اعوان مشیر خصوصی پنجاب کے نواسے بھی ہیں،ان کا بیان بھی کسی کو نظر نہیں آیا،رہ گئے ہمارے ضلع ناظم،جو مقامی انتظامیہ کے کرتا دھرتا ہیں،انہیں شاید بھولنے کی قدرتی بیماری ہے ورنہ اس وقت کہیں نہ کہیں ضرور نظر آتے۔خاکم بدہن!شاید سیاست میں ےہ بھی اک ادا ہو گی کہ صرف کام کے وقت ہی اپنے حلقے کا وزٹ کیا جائے ورنہ ضرورت نہیں ہے کہ وقت ضائع کیا جائے۔اک بات واضع کر دوں کہ مرا کسی بھی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ےہ کالم صرف حقیقت پہ مبنی ہے اور اس سے کسی کی دل آزاری بھی مقصود نہیں نہ ہی کسی کی خوشنودی۔
وہ سارے لوگ جو الیکشن کے دنوں میں منہ دکھاتے ہیں کیا ان کے ذمے کوئی بھی کام نہیں ہے کہ وہ علاقے کے ان چلتے پھرتے اور رلتے لوگوں پہ وقت ضائع کریں؟اس سے بھی افسوسناک بات ےہ ہے کہ چکوال کا میڈیا بھی بہت کم ایکشن میں نظر آیا۔کسی کو دو حرفی خبر سے آگے کچھ لکھنے کی توفیق نہ ہوئی۔ےہ المیہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ادویات کی شدید کمی ہے۔خاص طور پر حادثے کی صورت میں ایمرجنسی ادویات کا فقدان ہے۔ مریضوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اور راولپنڈی ریفر کیا جاتا ہے جن کی اکثریت رستے میں ہی دم توڑ جاتی ہے۔ سنا ہے وزیر اعلیٰ نے اس حادثے پہ نوٹس لیتے ہوئے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ عوامی نمائندوں کے بجائے عوام سے رپورٹ طلب کریں تا کہ عام آدمی کی رسائی بھی انصاف اور خادم اعلیٰ تک سچائی سے ہو سکے۔
(کالم نگارسماجی مسائل پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved