تازہ تر ین

امی جان“ عظیم ماں کی کہانی ….1”

محمد اسلم لودھی …. اظہار خیال
ضیا شاہد( اصلی نام ضیا محمد) کانام پاکستانی صحافت میں ایک مرد حر کی طرح جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ انہیں بات کہنے اور کرنے کا خوب ڈھنگ آتا ہے۔ وہ مجدد صحافت مجیدنظامی مرحوم کی طرح جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے نہیں گبھراتے۔اگر انہیں مزاحمتی صحافت کا نقیب کہاجائے توغلط نہ ہوگا۔ وہ جس اخبار میں بھی رہے اور جس عہدے پر بھی فائز رہے انہوںنے اپنے وجود کوحقیقی معنوںمیںمنوایا۔اپنی ابتدائی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے ضیا شاہدلکھتے ہیںکہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ کمانے کے لیے سائن بورڈ اور دیواروں پر اشتہاربھی لکھاکرتا تھا۔ روزنامہ تسنیم میں کاتب کی ملازمت کے لیے پہنچا تو اردو اچھی ہونے کی بنا پر سب ایڈیٹر کے طور پر مجھے نیوز ڈیسک پر بٹھالیاگیا۔ پھر مختلف اخبارات سے ہوتا ہوا میں اردو ڈائجسٹ پہنچا۔(جسے ڈائجسٹوںکی ماں قرار دیا جاتاہے ) جہاں مجھے ٹرانسلیٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا پھر یہیں پر سب ایڈیٹر اور آخر میں اسسٹنٹ ایڈیٹر بن گیا۔4 جنوری 1945ءگڑھی یاسین ضلع شکار پور سندھ میں پیدا ہونے والے ضیا محمد روزنامہ تسنیم لاہور سے ہوتے ہوئے ہفت روزہ اقدام، روزنامہ کوہستان، روزنامہ حالات، ہفت روزہ کہانی لاہور، مغربی پاکستان، ہفت روزہ صحافت، نوائے وقت، روزنامہ جنگ، ہفت روزہ آواز پنجاب، روزنامہ پاکستان اور زندگی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اب آپ روزنامہ خبریں، خبرون (سندھی)، خبراں (پنجابی)، دی پوسٹ (انگریزی)، دوپہر کے اخبار”نیا اخبار“کے چیف ایڈیٹر / پبلشر ہیں۔آپ سینئر نائب صدر اے پی این ایس کراچی ¾ سابق سینئر نائب صدر سی پی این ای کراچی اور صدر کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر بھی ہیں۔ بے باک صحافتی خدمات اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی پاداش میں آپ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شاہی قلعے کے مہمان بھی رہے اور سات ماہ تک جیل بھی کاٹی۔ اعلی صحافتی خدمات کے عوض صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی جانب سے آپ کو اعلی سول اعزاز ستارہ امتیاز بھی ملا جبکہ سی پی این ای کی طرف سے آپکو وزیراعظم نواز شریف کے ہاتھوں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی میسر آیا۔ آپکی چند مشہور کتابوں میں خون کا سمندر، چپکے سے، حیرت ناک کہانیاں، طوفان کی سرزمین، جنگ عظیم کی کہانیاں، خوفناک کہانیاں، عقابوں کا نشیمن، ولی خان جواب دیں، جمعہ بخیر، پاکستان کےخلاف سازش، گاندھی کے چیلے، قائد اعظم زندگی کے دلچسپ اور سبق آموز واقعات اور زیر نظر کتاب ”امی جان “شامل ہیں۔
آپ اپنے خاندان کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جالندھر کی تحصیل نکودر کے گاﺅں ”جھگیاں عیسی“ میں ایک ہی پختہ اینٹوں کا بنا ہوا مکان تھا جسے عرف عام میں تحصیل دار کی بیٹھک کہاجاتاتھا۔ اس مکان پر سفید پتھر کی ایک تختی آویزاں تھی جس پر ”بقا منزل“لکھا تھا۔ بقا محمد، میرے والد کے سب سے بڑے بیٹے تھے،جو والد چوہدری جان محمد اور میری والدہ کے پرتو تھے۔ شکل کے ساتھ ساتھ عاداتیں بھی ملتی جلتی تھیں۔ جو اس وقت چوتھی یا پانچویں میں پڑھتے تھے۔ان سے چھوٹی بہن مظفر النسائ، ان کے بعد مزمل بھائی اور چوتھے نمبر پر میں تھا۔جس وقت والد چوہدری جان محمد کا دماغ کی شریان پھٹنے سے انتقال ہوا تو والد ہ (جسے ہم سب بی بی جی کہہ کر پکارتے تھے ) اپنے چاروں بچوںکو لے کر جالندھر واپس چلی آئیں۔ جہاں ان کا آبائی گھر اور خاندان کے دیگر لوگ آباد تھے۔
ضیا شاہد اپنے آبائی گاﺅں کے ایک ناقابل فراموش واقعے کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ ایک دن سب سے بڑے بھائی بقا محمد کو میرے تایا زاد بھائیوں نے اس بات پر ڈانٹا کہ تم روزانہ سکول پڑھنے کیوں جاتے ہو۔ پڑھائی چھوڑو اور اپنے چاچوں، تاﺅں کی بھینسیں اور بکریاں چرایا کرو بھائی بقا محمد نے جب ان کی بات ماننے سے انکار کیا تو انہوں نے بھائی کو کنویں میں لٹکا کر اپنی بات ماننے پر مجبور کرنا چاہا۔ اس واقعے کے چند چشم دید لڑکوںنے والدہ کو گھر آکر صور ت حال سے آگاہ کیا۔والد ہ اپنے دو کزنوں کے ہمراہ جب کنویں کے پاس پہنچی تو اپنے بیٹے کو کنویں میں لٹکا ہوا پایا۔تایا زاد بھائی اسے سکول چھوڑنے اور بھینسیں چرانے پر آمادہ کررہے تھے اور دھمکی دے رہے تھے کہ اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو ہم تمہیںکنویں میں پھینک دیںگے۔ بھائی بقامحمد انکار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے میں اپنے ابا کی طرح تعلیم حاصل کروںگا اور پڑھتا رہوں گا۔بی بی جی نے بھائی بقا محمد کو ان کے چنگل سے آزاد کروانے کے بعد جواب دیا۔ ان بچوں کے اباجی نے لاہور اسلامیہ کالج سے بی اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں اپنے بچوں کو بی اے سے بھی زیادہ ایم تک پڑھاﺅں گی۔ میرے بیٹے بکریاں نہیں چرائیں گے بلکہ میں انہیں پڑھنے کے لیے ولایت تک بھجواﺅں گی۔ یہ سن کر تایا زاد بھائی ہنس کر مذاق اڑ رہے تھے۔ پھر کہا ”پلے نئیں دھیلا۔کردی اے میلہ میلہ“۔ پھر بولے زمین کا مرلہ تمہارے پاس نہیں اور اس پر ہمارا قبضہ ہے گھر میں کھانے کو نہیں اور توبچوں کو ولایت بھیجنے کے خواب دیکھ رہی ہو۔ چاچی عقل سے کام لے۔ بی بی جی غصے میں آگئیں۔ انہوں نے کہا اللہ تمہارے باپ کو بھی زندگی دے اور مجھے بھی ¾ میںنے جو کہا کرکے بھی دکھاﺅں گی۔ پاکستان بنا تو ہم جالندھر سے ہجرت کرکے بہاولنگر آگئے، تیس بتیس میل دور ہارون آباد کا شہر تھا جس کے قریب والد صاحب نے اپنی ملازمت کے دوران دو مربع زمین قسطوں پر خریدی تھی۔ ہمارے نانا میاں نظام الدین محکمہ نہر میں ملازم تھے اور بہاولنگر شہر سے تین میل دور واقع ایک گاﺅں موضع ماتراں میں دو مربع زمین کے مالک اور رہائشی تھے۔ انہوںنے اپناگھر جو بہاولنگر شہر میں تھا ہمیں رہائش کے لیے دے دیا۔ بقا محمد بھائی، باجی مظفر،مزمل بھائی اور مجھے سکول کی مختلف کلاسوں میں داخل کروادیاگیا۔ وقت گزرتا رہا بقا محمد بھائی نے میٹرک کاامتحان پاس کرلیا تو بی بی جی ہم سب کو لے کر ملتان چلی گئیں ہم نے محلہ قدیر آباد میں کرائے پر گھر لے لیا اور بھائی بقامحمد گورنمنٹ ایمرسن کالج، مزمل بھائی اور میں گورنمنٹ سکول میں داخل ہوگئے۔چند سال بعد جب بقامحمد بھائی نے بی ایس سی کاامتحان پاس کرلیا تو والدہ ہمیں لے کر لاہور آگئیں یہاں ہم اچھرہ میں کرائے پر مکان لے کر رہنے لگے۔ بھائی بقا محمد پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی ٹیکنالوجی اور باجی مظفر نے ایف ایس سی کے بعد فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کلاس میں داخلہ لے لیا۔ جبکہ میں گورنمنٹ انٹر کالج کے شعبہ آرٹس میں فرسٹ ائیر میں داخل ہوگیا۔بھائی بقا محمد ایم ایس سی ٹیکنالوجی کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج مظفر گڑھ میں لیکچرار بھرتی ہوگئے۔باجی مظفر پانچ سالوں میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرکے ڈاکٹر بن گئیں اور مزمل بھائی بی فارمیسی کرنے کے بعد ایک دوا ساز کمپنی سے منسلک ہوگئے۔انہی دنوں سعودی عرب سے ڈاکٹروں، فارماسسٹوں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تلاش میں آنے والے وفد نے باجی مظفر اور بھائی مزمل کو اپنے ہاں ملازمت کےلئے منتخب کرلیا۔ اس طرح بی بی جی، بہن مظفر کے ساتھ بطور گارڈین اور بھائی مزمل بھی مدینہ منورہ چلے گئے۔جہاں امی جان نے اپنی زندگی کے بہترین 22 سال گزارے۔اس دوران 15حج اور 150 عمروں کی سعادت حاصل کی۔یہ کہانی بے شک ایک ایسی مشرقی ماں کی ہے جس کی ہر ہر جھلک پرانی ماﺅں میں پائی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے ہر شخص ضیاشاہد کی امی جان کی کہانی میں اپنی ماںکو تلاش کرتا نظرآتا ہے۔ضیا شاہد (ضیا محمد ) ایک جگہ لکھتے ہیںکہ جب ہمارے نانا جان میاں نظام الدین کی وفات ہوئی تو بی بی جی نے اپنے بھائی کو ساتھ لے کر خود قبر کی جگہ منتخب کی، قبرستان کے قریب ہی مسجد بنانے کی تلقین کی، جس میں بچوں کو قرآن پاک پڑھا یا جائے۔اس مقام پر دو تین نلکے اس لیے لگوانے کی ہدایت کی تاکہ نمازیوں کو وضو کرنے اور راہگیروں کو پینے کا ٹھنڈا پانی میسر آسکے۔ اپنے بھائیوں سے یہ بھی کہا پانی میٹھا اور ٹھنڈا ہونا چاہئے۔ ٹھنڈا پانی ساری عمر بی بی جی کی کمزوری رہا، میںنے کبھی نہیںدیکھا کہ انہوں نے ٹھنڈا پانی پیا ہو اور ہاتھ اٹھا کر رب کا شکرادا نہ کیا ہو۔ بی بی جی فرماتی تھی ¾ پانی سب سے بڑی نعمت ہے،روٹی کے بغیر انسان دو چار روز زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر نہیں۔ گاﺅں میں ہوتیںتو مویشیوں اور پرندوں کے لیے ٹھنڈے پانی کااہتمام کرتیں۔(جاری ہے)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved