تازہ تر ین

ضیاشاہد کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے نام کھلا خط

ضیا شاہد
محترم! شدید دھند کے باعث لاہور ملتان روڈ پر ٹریفک حادثے، اموات اور زخمی ہونے والے شہری آپ سے انصاف کے طالب ہیں۔نیشنل ہائی وے پر جگہ جگہ ٹول ٹیکس کے ذریعے لوٹ مار کے باوجود سڑک پر ٹریفک کا کوئی نشان ہے نہ دیگر انتظامات، سڑک کے کنارے یعنی شولڈر کٹے پھٹے اور ٹوٹے پھوٹے۔ کسی یو ٹرن پر نہ کوئی سائن بورڈ اور نہ ریفلکٹر، ساہیوال سے لاہور شدید دھند میں دو گھنٹے کا سفر 7 گھنٹے میں مکمل ہوا۔این ایچ اے نے سڑک کنارے ڈیوائیڈر پر ایک جگہ بھی ییلو

اور بلیک نشان نہیں لگائے گئے۔ سائنیج غائب، ایرو کے نشانات مفقود، ڈیوائیڈر تباہ ح گاڑیاں فٹ پاتھ پر چڑھ جاتی ہیں۔ پوری سڑک پر کیٹ آئیز موجود نہیں۔
این ایچ اے کی لوٹ مار اور رشوت خوری ختم کروائیں، وزیرمواصلات مولوی عبدالکریم کو ہدایت کریں کہ وہ مساجد کے لئے سعودی عرب سے چندہ مانگنے کے بجائے اپنی وزارت پر توجہ دیں۔
کیا نیشنل ہائی وے اتھارٹی این ایچ کے سربراہ اشرف تارڑ پر مرنے والوں کے لواحقین کی طرف سے قتل کا مقدمہ درج کروانا چاہئے؟ لاہور سے فیصل آباد پانچ ٹول پلازے، یہ لوٹ مار کیوں؟ کروڑوں اربوں کی رقم سڑکوں پر خرچ کیوں نہیں کی جاتی؟ بڑے ٹرالرز پر کنٹینرز کے اطراف میں بتیوں کا کوئی نظام نہیں جن سے کراس کرنے والی کاریں ٹکرا رہی ہیں ییلوسٹیکرز جن پر روشنی منعکس ہو سکے غائب، ٹول پلازہ پر رقم بٹورنے والے موجود مگر گاڑیوں، ڈرائیوروں کو ہدایات یا مشورے دینے والے غائب، کسی شہر سے نیشنل ہائی وے کے شروع میں توکاریں یا دوسری سواری کی لائٹ چیک کرنے کا بندوبست اور نہ کوئی انسپکشن۔ دنیا بھر میں دھند پڑتی ہے چوبیس چوبیس گھنٹے بارشیں ہوتی ہیں مگر اتنی اموات نہیں ہوتیں، موٹر وے کی حالت قدرے بہتر ہے مگر نیشنل ہائی ویز پر موت کا راج ہے۔ ٹھیکوں میں لوٹ مار، این ایچ اے سونے کی کان جس میں سیاسی بنیاد پر تقرریاں ہوتی ہیں یا بھاری رشوت دینے پر۔ کیا پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ہونے کی وجہ سے آپ پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ دھند کے دنوں میں کچھ کریں، کیا بے گناہ شہری ان سڑکوں پر کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے رہیں اور کچلے جاتے رہیں؟ مال بردار گاڑیوں کی کوئی انسپکشن نہیں کتنا وزن اٹھا سکتی ہیں اور کتنا لے جایا جاتا ہے؟ ان سے کوئی پوچھنے والا ہے کیا۔ ہرٹول پلازہ پر پیسے بٹورنے کے ساتھ ساتھ انسپکشن کا عملہ کیوں موجود نہیں۔ ہرشہرکے آغاز سے اختتام تک موٹر وے کی طرح سڑک پر لائٹیں کیوں نہیںہوتیں؟ کسی نیشنل ہائی وے پر موٹروے کی طرح انسپکشن کی نہ گاڑیاں ہیں نہ کوئی عملہ۔ برسوں سے سڑک کے شولڈرز یعنی کنارے پرمٹی ڈالنے والا عملہ مفقود ہے۔ جو گاڑی شولڈر سے ذرہ نیچے کچی مٹی پر اُترے تو دوبارہ پختہ سڑک پر آتے وقت اس کا ٹائر پھٹ جاتا ہے۔ نیشنل ہائی وے پر تھوڑے تھوڑے فاصلے کے بعد ہسپتال اگر فوری ممکن نہ ہوں توڈسپینسریز ضرور ہونی چاہئیں تا کہ خدانخواستہ حادثے کی شکل میں ابتدائی طبی امداد تو مل سکے، کیا پاکستان میں واقعی سڑکیں قتل گاہیں نہیں بن گئیں اوردھند بلکہ سموگ کے اس دور میں گھر سے چلتے وقت واقعی لوگوںسے گلے مل کر اور معافی مانگ کر جانا پڑتا ہے کہ اللہ جانے خیر خیریت سے پہنچیں گے بھی کہ نہیں۔ کرپشن میں لتھڑے ہوئے این ایچ اے کو کون لگام ڈالے گا جس نے ٹول پلازوں کی بھرمار کررکھی ہے۔ اور ہر تیس چالیس کلو میٹر کے بعد لوگوں کی جیب سے زبردستی پیسہ نکالنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ٹول پلازے بھی رشوت یا سفارش کے ذریعے الاٹ ہوتے ہیں۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لئے موٹر وے پر لاہور سے اسلام آباد جانے کے لئے 7 سو روپے کا کوئی جواز موجود ہے کہ بہت اخراجات کے بعد سڑک بنی ہے اور اس کی مینٹی ننس اور حفاظتی اقدامات اور موونگ ورکشاپ بھی ہیں اور موونگ ڈسپنسریاں بھی مگر نیشنل ہائی وے پر کوئی سہولت نہ ہونے کے باوجود اس لوٹ مار کا کیا جواب ہے؟ یہ پیسہ کس سے لیا جاتا ہے؟ کہاں خرچ ہوتا ہے کیونکہ سڑکوں کی حالت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے اور سہولیات بالکل صفر ہیں۔ کیا شہریوں کے جان و مال کا تحفظ آپ کی حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ کیا این ایچ اے جوکرپشن کا سب سے بڑا ادارہ ہے اس کو لگام دینے کی ضرورت نہیں؟ کیا مواصلات جیسے ٹیکنیکل شعبے کی وزارت کسی مولوی صاحب کو دینا انصاف پسندی ہے؟ جس کی قائم کردہ یونیورسٹی کے بچے روتے پھرتے ہیں کہ ان کی ڈگری کو جعلی سمجھا جاتا ہے کیا آپ کی حکومت اور پارٹی نے طے کر رکھا ہے کہ ہر تقرری یا تعیناتی سفارش کی بنیاد پر ہو گی؟ آج کے سائنٹیفک دور میں مسجد کے مولوی صاحب مواصلات کے نظام کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں؟ دنیا میں دھند ہو یا دوسری قدرتی آفات اس کے مقابلے کے لئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں اس سے یہ حضرت صاحب واقف ہو سکتے ہیں؟ آپ خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں آپ نے دنیا دیکھی ہے خود آپ کی ذاتی ایئرلائن ہے کیا اس طرح کی لوٹ مار کی اجازت آپ اپنی کمپنی میں دیں گے؟ کیا سفارش اور سیاسی تعلق کی بنا پر پائیلٹ اور دوسرا عملہ رکھیں گے؟ ریلوے تو تباہ ہو چکی تھی اور سابق وزیر ریلوے اور ہمارے دوست غلام احمد بلور کا ایک ہی کام رہ گیا تھا کہ ہفتے میں دو مرتبہ وہ اعلان کیا کرتے تھے کہ چار ٹرینیں تو بند ہو چکی ہیں اور پانچ اگلے ہفتے بند ہو جائیں گی۔
عزیزم سعد رفیق نے محنت کی اور کچھ بہتری ہوئی مگر چند روز پہلے میں اپنے آبائی شہر بہاول نگر گیا تو یہ خوشخبری ملی کہ بہاول نگر سے فورٹ عباس لائن بند ہوچکی، فورٹ عباس سے امروکہ کی ٹرین بھی بند ہے اور سمہ سٹہ سے بہاول نگر جانے والی ٹرین بھی بند ہو چکی ہے اور اب یہ شہر صرف سڑکوں کے ذریعے باقی ملک سے ملا ہوا ہے۔ جناب سڑکوں پر رش بڑھ گیا ہے کیونکہ اندرون ملک پروازیں بند ہیں کیونکہ پی آئی اے تباہ ہو چکی ہے آج لاہور سے بہاول پور پروازبند ہے۔ ڈیرہ غازی خان بند ہے ملتان کے لئے کسی وقت دن میں دو پروازیں ہوتی تھیں جو ایک تک محدود ہے اور سڑکوں پر موت کا رقص ہے۔کیا ہماری حکومتیں شہر کو شہر سے اور صوبے کو صوبے سے کاٹنا چاہتی ہیں؟
جناب! ہمارے ہاں بدنظمی انتشار اور سرکاری محکموں کی دن بدن خراب حالت اور سہولتوں کی کمی کا یہ عالم ہے کہ یہ جو ہر سال بیرون ممالک پاکستان زرمبادلہ بھیجتے ہیں کیا آپ نے یا دوسرے پالیسی سازوں نے سوچا کہ جب بیرون ممالک پاکستانیوں کے ماں باپ بھی سے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے جو دنیا میں ہیں ہم نے بھی اللہ کے حضور جانا ہے ان پاکستانیوں کی نئی نسل جو ان ہو گئی تو ان کی طرف سے پاکستان بھیجنے والی رقوم تیسرا حصہ نہیں تو آدھی ضرور ہو جائے گی کیونکہ آپ خود بھی تحقیق کر چکے کہ بیرون ممالک پاکستانیوں کے بچے اب واپس نہیں آنا چاہتے، تعلیم صحت سفری سہولتیں، انرجی کی کمی اور سسٹم کی ٹوٹ پھوٹ سے وہ چھٹیوں پر بھی اپنے وطن آتے ہیں تو کم از کم نئی نسل کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس جاتی ہے۔
جناب محترم! کیا میں امید کروں کہ خاقان عباسی کے بیٹے جو ایک روشن خیال اور انتہائی شائستہ مزاج انسان ہیں کچھ عام آدمی کی مشکلات پر بھی توجہ دیں گے؟ اور بطور وزیراعظم اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گے؟ کیا میں امید رکھوںکہ آپ دھند کے موسم میں کم از کم سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات کا نوٹس لیں گے اپنے متعلقہ وزیر سے این ایچ اے تک اور صوبوں کے انتظامات میں پولیس کے اہلکاروں کے ذمہ داران کا خصوصی اجلاس میں بلائیں گے؟ موسم کے ماہرین کے ساتھ ساتھ سانٹیفک انداز میں خراب موسم میں سڑکوں پر شرح اموات کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے؟
محترم شاہد خاقان صاحب جو ذمہ داری آپ کو ”عارضی“ طور پرہی سہی ملی ہے اس پر آپ کو اپنے ضمیر کو بھی جواب دینا ہے۔ آپ نے عوام کو بھی اور سب سے بڑھ کر خدا کو بھی اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق عطاءفرمائے کیونکہ ہوائی اور ریل گاڑی کا سفر تو باوجوہ محدود ہو گیا اب سارا پریشر سڑکوں پر آنے کے بعد ان کی مرمت، دیکھ بھال، ٹریفک کے انتظامات، حادثات کی شکل میں جا بجا ڈسپنسریوں کے علاوہ برے موسم میں حادثات سے بچنے کے لئے دنیا بھر میں جو انتظامات کئے گئے ہیں ان کی رشنی میں یہاں بھی کام کروانے کی ابتدا کریں۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں اور فوراً اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کا اجلاس بلائیں اور سڑکوں پر موت بانٹتی ہوئی دھند کے پیش نظر ضروری انتظامات کریں۔
ضیا شاہد چیف ایڈیٹر خبریں

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved