تازہ تر ین

بندہ خود ہی احساس کرے

توصیف احمد خان
سیانے کہتے ہیں ہنڈیا کا منہ کھلا ہو تو بندے کو ہی شرم کرنی چاہئے، عمر کے اس حصے میں تویہ بھی یاد نہیں کہ شرم کس کو کرنی چاہئے ، بندے کو یا کسی اور کو ، کوئی بھی ہو ، ہنڈیا کا منہ کھلا ہو تواس میں یکدم منہ نہیں ڈال دینا چاہئے کہ گردن پھنسنے کا خطرہ بہر صورت موجود رہتا ہے ، جب ہنڈیا گرم ہو، تازہ تازہ چولہے سے اتاری گئی ہو تو پھر آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ منہ ڈالنے والے کا کیا حشر ہوگا ، جان چھڑانی بلکہ جان بچانی مشکل ہوجائیگی۔
مسئلہ یہ ہے اب یہ بھی یاد نہیں آرہا کہ بات کس کے بارے میں کرنے والے تھے، قصہ یہ ہے کہ ہم میں دو ہی تو خوبیاں ہیں، ایک یہ کہ یاداشت بہت اچھی ہے اور دوسری …..دوسری یہ کہ …..نہیں ! یاد نہیں آرہی ، چلیں چھوڑیں کوئی اور ذکر کرتے ہیں ، ہمارے سامنے ٹی وی چل رہاہے اور اس پر خبر یہ ہے کہ محترم اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے ہیں، ان کی گذشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی تھی ، مگر وہ اسلام آباد کیسے پہنچتے ، اسلام آباد اور لندن میں تو ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ ہے اور وہ ٹھہرے دل کے ہاتھوں مجبور…..دل کا معاملہ نہ ہوتا تو شاید پہنچ ہی جاتے ، اب صدا دیتے ہیں کہ کوئی ہے جو ان کے دل کو ڈھارس دے اور اس کی دھڑکنوں کو قابو میں لائے، کل ہم نے کچھ ذکر تو کیا تھا مگر وہ کیا ذکر تھا…خیر چھوڑیں! وہ بھی یاد نہیں آرہا…لیکن محترم وزیر اعظم اسحق ڈار کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کررہے، نوازشریف صاحب وزیراعظم ہوتے تو ایسا ہی سلوک ہوتا …؟ ہرگز نہیں …سمدھی تو عزت و احترام کا رشتہ ہوتا ہے …نوازشریف صاحب انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے۔
لیکن یہ شاہد خاقان عباسی ایسا کیوں کررہے ہیں، ایک کے بعد ایک کمیٹی یا کمیشن سے فارغ کئے جارہے ہیں، اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سربراہی سے سبکدوش کرکے اسے خود سنبھال لیا…اب تک معلوم نہیں کہاں کہاں سے جواب مل چکا ہے ، آخر کار گذشتہ روز مشترکہ مفادات کی کونسل سے بھی فارغ کردیاگیااور انکی جگہ احسن اقبال کو دیدی…اچھی لاٹری نکلی ہے احسن اقبال کی ، پہلے وزارت داخلہ اور اب مشترکہ مفادات کونسل کی ترجمانی، معلوم نہیں انکے حصے میں اور کیا کچھ آئیگا، لے دے کر ایک وزارت ہی تو رہ گئی ہے ، شاہد عباسی صاحب کا اس پر بس نہیں چل رہا ورنہ کب کی فراغت ہوچکی ہوتی۔
اگر محترم وزیراعظم کہہ نہیں پارہے ، مروت انکے آڑے آرہی ہے تو بندے کو خود ہی احساس کرنا چاہئے ، ایک کے بعد ایک دروازہ بند ہورہاہے ، اب مین گیٹ رہ گیا ہے ، دیکھیں وہ کب بند ہوتا ہے …..وزیراعظم صاحب ایک کام کیوں نہیں کرتے …ڈار صاحب رہیں لندن میں ہی ،وہیں دل کا علاج ہوتا رہے گا، ساتھ ہی ساتھ وزارت کا دفتر بھی وہیں بنوادیں ، عہدے کے ساتھ کچھ اضافہ کردیا جائے کہ وفاقی وزیرخزانہ حال مقیم لندن۔ ہسپتال میں کچھ نہ کچھ معاملات دیکھ ہی لیں گے، پہلے ہی ”غالب خستہ حال “ کے بغیر کون سے کا م بند ہیں ، وزارت تو جیسی تیسی ہے چل ہی رہی ہے ، کونسا ہر ایک وزیر اپنی وزارت کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے ، یہاں بھی معاملہ چلتا ہی رہیگا ، پاکستان کا نہ سہی انکا اپنا تو چلے گا، پاکستان اور اسکے مفاد کی پرواہوتی تو اب تک فیصلہ کرچکے ہوتے لیکن غالباً کمبل انہیں نہیں چھوڑرہا۔
وزارت اور وزیروں سے یاد آیا ، ہمارے ایک دوست کو وزیر بنادیاگیا، یہ آج کل کا نہیں بہت پرانا قصہ ہے اور دو چارسال بعد نصف صدی ہوجائیگی، دفتر میں گئے تو فائلوں کا پلندہ پڑاتھا، سیکرٹری کو بلایا کہ انکا کیا کرنا ہے ، اس نے بڑے ادب سے کہا …سر ادھر والی فائلوں پر محض SEENلکھ دیں اور اس طرف والی پر احکامات جاری کردیں… انہوں نے آو¿ دیکھا نہ تاو¿ ، پہلے والی فائلیں اٹھائیں اور ان پر دھڑا دھڑ اردو میں ”س“ لکھنا شروع کردیا، کام مکمل کرکے فاتحانہ انداز میں سیکرٹری کی طرف نظر اٹھائی جو بیچارہ کرسی پر جھولتے ہوئے وزیر صاحب کو حیرت سے دیکھ رہاتھا ، کام تو انکی وزارت کا بھی چل ہی رہاتھا کہ اس کے بعد وہ کئی سال تک جھنڈے والی کار پر سوار رہے ، یعنی وزارت نے پھر بھی انکا پیچھا نہیں چھوڑا۔
مرکز یا وفاق میں وزیرخزانہ کو ہی لیں تو دو وزیروں کا ذکر کرینگے، ایک جلال بابا تھے، بڑی پرانی بات ہے ان کے بارے میں دوسروں سے سنا ہے اور دوسرے میاں یٰسین وٹو جن کی وزارت اور وزیرانہ انداز کو ہم نے بذات خود دیکھا ہے …صوبائی وزارت کو بھی اور وفاقی وزارت کو بھی ، جلال بابا کے بارے میں تو بتایاجاتا ہے کہ… اور جو کچھ بتایا جاتا ہے اس سے وزیر محترم کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے ، صرف ایک واقعہ بیان کردیتے ہیں ، جلال بابا ایبٹ آباد کے رہنے والے تھے ، ایک بارکہیں جانا تھا مگر گاڑی موجود نہیں تھی، اس دور کے وزیر ایسے نہیں ہوتے تھے کہ گاڑیوں کی لائن لگی ہوئی ہے …بہرحال ! گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے رکشہ منگوایا اور بیٹھ گئے مگر جھنڈا ساتھ لانا نہیں بھولے ، بیٹھنے سے پہلے رکشہ والے کو حکم دیا کہ یہ جھنڈا لگاو¿ پھر چلو، انکا موقف تھا کہ وزیر کسی بھی سواری پر ہو اسے جھنڈا لگانا چاہئے تاکہ پتہ چل سکے کہ وزیر جارہاہے ۔
رہ گئی بات میاں یٰسین وٹو کی ، موصوف وکیل ضرور تھے، نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کی وزارت میں غالباً وزیر بلدیات تھے اور ایوب خان کے حق میں خوب تقریریں کیا کرتے تھے ، جونیجو حکومت بنی تو وہ بھی قومی اسمبلی کے رکن تھے، انہیں کابینہ میں وزیر خزانہ کا عہدہ دیدیاگیا، موصوف خزانے کی الف ب سے بھی واقف نہیں تھے ، 1986ءمیں انہوں نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا تو ایوان باقاعدہ کشت زعفران بنا ہوا تھا، تقریر اگرچہ اردو میں تھی مگر انہیں اقتصادی اصطلاحات پڑھنے میں خاصی دقت پیش آرہی تھی پھر ارکان کو بجٹ دستاویزات بھی پوری نہیں دی گئی تھیں، خصوصاً وزیرخزانہ کی تقریر کی کاپی کسی کے پاس نہیں تھی، ارکان شور مچاتے رہے، وہ کاپیاں کاپیاں پکار رہے تھے، وزیرخزانہ تقریر کرتے کرتے رکے اور استفسار کے سے انداز میں پوچھا …”اوئے ! ایہہ کی منگدے نیں“ ( یہ کیا مانگتے ہیں ) شاید اس سے دلچسپ بجٹ اجلاس اب تک نہیں ہوا۔
اسحق ڈار صاحب کا ذکر کرتے کرتے ہم کہیں اور نکل گئے، نوازشریف صاحب کے دور حکومت میں ہاتھی کے پاو¿ں میں سب کا پاو¿ں کے مصداق ایسا لگتا تھا کہ ان کی بیٹی کے سسر کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا، غالباً چالیس پچاس کمپنیاں ایسی تھیں جن کے وہ سربراہ تھے یا رکن کی حیثیت سے شامل تھے، ایک دوست کہنے لگے کہ جمعرات کو چندہ مانگنے کیلئے کوئی کمیٹی بنی تو موصوف اس کا بھی حصہ ہونگے، جبکہ داتا دربار کمیٹی تو پہلے ہی ان کی سربراہی میں کام کررہی ہے ۔
انکے بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد ہوگا یہ کہ موصوف پیش ہونے سے تو رہے کہ صاحب فراش ہیں، اسکے بعد انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع ہوگی اور مفرور قراردیدیاجائیگا جس کے بعد وہ مفرور وزیر خزانہ کہلائیں گے، منی لانڈرنگ کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی اداروں نے تو انکے ساتھ ملاقاتیں بند کردی ہیں ، مفرور قرار پانے کے بعد پاکستان میں موجود وہ لوگ بھی ان سے کترائیں گے جو کل تک انکے آگے پیچھے ہوتے تھے، ہوسکتا ہے وہ انتظار ہی کرتے رہ جائیں کہ کبھی تو فون کی گھنٹی بجے مگر وہ گھنٹی بھی روٹھ جائیگی…..اس خاتون کا رویہ معلوم نہیں کیا ہوگا جس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ ان کی باقاعدہ منکوحہ ہیں، اللہ جانے ہیں کہ نہیں …اسکی تصدیق یا تردید تو دونوں یا ان میں سے کوئی ایک ہی کرسکتا ہے ، فی الحال یہ معاملہ دروغ بر گردان راوی والا ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved