تازہ تر ین

این ایچ اے عوامی دولت لوٹنے کا ادارہ

عبد الودود قریشی
این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کے نام پر ادارہ قومی شاہراہوں کو ترقی دینے کےلئے بنایا گیا تھا مگر اس ادارے نے رفتہ رفتہ ایک مافیا کی صورت اختیار کر لی۔ جی ٹی روڈ جسے مسٹر گرینڈ ٹرنک نے بنایا تھا پر ہر بیس کلومیٹر کے فاصلے پر وار لارڈز کی طرح بیرئیر لگا کر اربوں روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ ان سڑکوں کی حالت زار دیدنی ہے۔ پہلے سڑکوں کے کناروں کو محفوظ بنانے کےلئے روزانہ کی بنیاد پر بیلدار کام کرتے تھے اور سڑکوں کے کنارے پربھی لوگ گاڑیاں چلاتے تھے اب وہ بیلدار افسران کے گھروں میں کام کرتے ہیں یا ان کے ڈرائیور، باورچی یا ان افسران کی زمینوں پر کام کرتے ہیں۔ اس ادارے کے پورے ملک میں افسران کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ملازمین کی تعداد ان سے بھی زیادہ ہے جو گھروں میں کام کرتے اور تنخواہ عوامی ٹیکسوں سے جمع ہونے والے خزانے سے لیتے ہیں۔
جنرل ضیاءالحق کے دور میں ایک بریفنگ میں مجھے بھی بلا لیا گیا میں اس میںواحد صحافی تھا تو یہ انکشاف ہوا کہ بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کےلئے کروڑوں نہیں اربوں قومی بجٹ میں منظور ہوئے مگر سڑک بنانے کےلئے بلڈوزر چلانا بھی گوارہ نہیں کیا گیا اور تمام رقم منتقل کر دی گئی اور پھر اسے قومی راز قرار دے دیا گیا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی ادارہ آئندہ سے گرانٹ نہیں دیں گے۔ مجھے بھی اس اہم قومی مفاد کے راز کو صیغہ راز میں رکھنے کا کہا گیا، میں نے روزنامہ تعمیر میں یہ خبر دے دی جو چھپ گئی اس وقت اس ادارے کے سربراہ فوج سے تعلق رکھتے تھے، میرے ایڈیٹر کو شکایت کی میں نے کچھ دن بعد انکی شکایت ضیاءالحق سے کی کہ یہ خبریں دینے پر میرے ایڈیٹر کو شکایت کرتے ہیں آئندہ ان کی خبر ان سے پوچھ کر دوں جس پر ان کو ضیاءالحق نے جھاڑ پلائی اور وہ مجھ سے تعلقات بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ کوئی نہ کوئی ٹھیکیدار روزانہ میرے آفس آ جاتا تھا۔ خراب سڑکوں پر ٹول ٹیکس میاں نواز شریف کی پہلی حکومت سے لگایا گیا اور پھر اب یہ ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ این ایچ اے جس وزیر کے ماتحت آتا ہے اسے سونے کی کان کا کنجی بردار کہا جاتا ہے۔ چیئرمین این ایچ اے بے تاج بادشاہ مانا جاتا ہے۔ جس بھی ٹھیکیدار کو اشارہ کرے وہ نوازا گیا، اربوں روپے سڑکوں، پلوں کے حوالے سے جاری کئے جاتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال تو بس دکھاوا ہے۔ سڑکوں پر ٹول ٹیکس سے اشیائے خورونوش اور سبزی، فروٹ کی قیمت دگنی ہو جاتی ہے۔ این ایچ اے کی لوٹ مار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اسلام آباد کے وفاقی دارالحکومت کے ادارے سی ڈی اے نے بھی اسلام آباد میں داخل ہونے اور باہر جانے پر ٹول ٹیکس لگا دیا اور پھر تین سال میں اسے دگنا کر دیا اور اس کی نیلامی سے تین چار ارب سالانہ کی آمدنی بتائی گئی۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے تمام تر بیوروکریسی کی مخالفت کے باوجود یہ ٹیکس ختم کر دیا اور راستے میں وار لارڈز کی طرح ٹیکس وصولی کے قلعے مسمار کر دئیے۔ اس کے باوجود اسلام آباد چل رہا ہے اور شہری سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی اس جرا¿ت، بہادری اور عوامی کام کو سراہتے ہیں۔
موٹروے پر ٹول ٹیکس بجا مگر وہاں پر ٹیکس کے عوض جگہ جگہ لگائے گئے مدد کےلئے فون نوے فیصد خراب ہیں، ہیلی کاپٹر جو ڈائیوو نے دئیے تھے کون کھا گیا اور موٹروے پولیس تو لوگوں کے چالان کر کے اپنی تنخواہ سے زیادہ خزانے میں جمع کروانے پر فخر کرتی ہے جیسے انہوں نے یہ رقوم کسی دشمن سے حاصل کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی ہوں۔ آصف علی زرداری کے دست راست ارباب جہانگیر اور انکی بیگم عاصمہ جہانگیر خان پانچ سال تک این ایچ اے کے کرتا دھرتا تھے۔ اسلام آباد کے ایف سیکٹر میں کوٹھیاں خریدیں جن کی قیمت پندرہ سے پینتیس کروڑ ہے مگر ان جائیدادوں کی انتہائی کم قیمت دکھائی اور دس کروڑ سے زیادہ نہیں لکھی گئی۔ قومی احتساب بیورو نے اس معمولی قیمت کو بھی ان کی آمدنی سے زیادہ کہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں، نوٹس بھی دے دئیے گئے۔ این ایچ اے کا کوئی بھی سابقہ چیئرمین ایسا نہیں جس کی اولادوں اور دامادوں کے اثاثے اربوں روپے سے کم ہوں۔ یہ ساری رقم کوئی آسمان سے ہن تو نہیں برسا، قومی خزانے کو ہی لوٹا گیا۔ مگر ضابطہ کی کاغذی کارروائی پوری کی گئی ہے۔ اسلام آباد پشاور ہائی وے لاہور ملتان ہائی وے دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ سڑکوں کا حال کیا ہے ۔ کراچی میں ایک پل بنایا جاتا ہے جو گر جاتا ہے پھر بنایا جاتا ہے پھر گر جاتا ہے کسی کو سزا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کو معطل کیا جاتا ہے کیونکہ مافیا کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں، ان پر ہاتھ ڈالنے والوں کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔ این ایچ اے کے ہر ملازم کو کسی نہ کسی طرح سے بدعنوانی میں جکڑا گیا ہے اور پھر اس میں تعینات ہونے والے وزیر بھی بڑی سیاست کی قربانی یا پھر چمک دے کر لگے ہیں۔
سونے کی کان کےلئے تو صدیوں سے لوگ جان دیتے آئے ہیں۔ سیاست کی قربانی تو ہوتی ہی مال بنانے کےلئے ہے مگر قومی شاہراہوں پر سفر کرنے پر دس میل پر سرکاری ٹول ٹیکس کے نام پر بھتہ دینے والے دُہائی دے رہے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر ہم سے جزیہ بند کیا جائے اور ان سڑکوں کی حالت زار پر رحم کیا جائے، آپ کے گھر اب اور کتنے بھرنے کے منتظر ہیں۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved