تازہ تر ین

موجودہ سیاسی بحران، شریف خاندان کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، چینل 5 کے پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ نواز شریف شہباز شریف کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے لیکن مریم نواز نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا وہ خود سیاست آئیں چینل ۵ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضیا شاہد صاحب جب میں نے سیاست شروع کی اس وقت چودھری ظہور الٰہی اور شورش کاشمیری اپنے عروج پر تھے۔ میری زندگی میں ان کا کردار بہت اہم ہے شورش کاشمیری اکثر مجھے اپنے جلسوں میں لے جاتے تھے اور مجھ سے تقریر کرواتے تھے اس طرح میرا تعارف ہو گیا میرا ان دونوں افراد سے بہت اچھا تعلق بن گیا وہ آج تک بحال ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ میری عمر اس وقت گیارہ سال سے کچھ زیادہ ہوگی۔ اعلان تاشقند کے خلاف احتجاج کرنے پر میں مجھے گرفتار کیا گیا تھا۔ یحییٰ خان کی حکومت آنے کے بعد اس دور میں مجھے ایک سال ملٹری کورٹ نے سزادی۔ جو میں نے بچوں کی جیل میں گزاری۔ اس وقت میرے ساتھ دو اور سٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ انہیں پنڈی میں رکھا گیا مجھے ہری پور، بچوں کی جیل منتقل کر دیا گیا اور میں وہاں ٹیچر لگ گیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ یحییٰ خان کے مارشل لاءکو میں نے قبول نہیں کیا میں نے پولی ٹیکنیک میں سٹوڈنٹس کو کال دی کہ باہر نکلیں۔ اس کے سردار وکیل صاحب نے مجھ پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا اور مجھے ایک سال قید بامشقت ہوگئی۔ میں نے سات ماہ ہری پور جیل میں گزارے۔ اس کے بعد رہائی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز رشید میرے محلے دار ہیں۔ ان کے ساتھ میرا مقابلہ جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر ہوا۔ میں ایم ایس ایف کا صدر تھا۔ 250ووٹ سے الیکشن جیت گیا اس وقت وہ این ایس ایف ہوتی تھی۔ جس کا تعلق پی پی پی سے تھا میں نے گارڈن کالج کے سارے الیکشن جیتے۔ میں صدر کی حیثیت سے بھی جیتا۔ اس طرح گارڈن کالج کی سیاست پر میرا پورا کنٹرول ہوگیا۔ کالج کی تعلیم ختم ہونے کے بعد بھی میں وہاں سیاست کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر صاحب، جو راجہ انور گروپ کے تھے۔ وہ بعد میں ہائیکورٹ کے جج بنے۔ میں چار سال تک گارڈن کالج کی اہم سیٹوں پر رہا۔ کالج سے نکلنے کے بعد یونین کونسل کا الیکشن لڑا۔ عمر کم تھی۔ لیکن میں تیار تھا۔ میرے حلقے میں ایئرمارشل اصغر خان نے الیکشن لڑا میں نے انہیں سپورٹ کیا مجھے یقین ہو گیا کہ میں بھی ایم این اے بن سکتا ہوں۔ 30 سیکنڈ پہلے فیصلہ کیا کہ میں این اے 58 سے قومی اسمبلی الیکشن کا امیدوار بنوں گا اور جب میں باہر نکلا تو وہ لوگ جنہوں نے مجھے دفتر دیا وہ بھی خالی کرا لیا۔ انہوں نے کہا ہم نے آپ کو صوبے کے لئے دیا تھا اور شیخ عشرت علی صاحب جو تھے وہ منسٹرز تھے اور میں نے پھر اس دفتر کے سامنے ٹک شاپ پر اپنا دفتر بنا لیا اور بھاری اکثریت سے 1985ءکا الیکشن جیتا۔ اس سے پہلے میں دو الیکشن بطور کونسلر جیت چکا تھا۔ میں میئرکا الیکشن ہار گیا ایک ووٹ سے۔ انہوں نے کہا کہ شق 63,62 کا ذکر کیا اور مو¿قف اختیار کیا کہ میں شرعی طورپر الیکشن لڑنے پر پورا نہیں اترتا لیکن اس کا دلچسپ واقعہ ہے کہ مجھے جب الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی تو جس جج کے پاس میرا مقدمہ لگا مجھے جج کا نام یاد نہیں۔ آخر میں جب وہ فیصلہ پر آئے تو انہوں نے کہا کہ میرے چار دن ریٹائرمنٹ کے رہ گئے ہیں آپ وہاب الخیری صاحب بڑے بدقسمت ہیں کہ جس جج کے سامنے آپ کا کیس لگا ہے سارا فیصلہ میں نے دیکر جانا ہے اور پرسوں میں خود ریٹائر ہو رہا ہوں اور میں خود بھی شادی شدہ نہیں ہوں۔ بتائیں آپ کا کیس ہی ایسے جج کے سامنے لگا ہے کہ خود غیرشادی شدہ ہے۔ میں کس طرح ان کو نااہل قرار دے دوں۔ اور وہ فیصلہ میرے حق میں ہوگیا۔ میں سیاسی جماعت میں تو بطور ورکر کام کرتا تھا میں شامل نہیں ہوا۔ کونسل لیگ میں میں مادر ملت کا سپورٹر تھا اور ایوب خان کے خلاف جو مادر ملت نے جلسہ کیااس کے سارے انتظامات میرے پاس تھے اور میں سائیکل پر کمپین کرتے پکڑا گیا۔ ایک دو دفعہ مادر ملت کی لالٹین میں سائیکل پر لگا کر پھرتا تھا اور میں اس وقت سمجھدار یا بالغ نہ تھا کہ میں چاول کھانے کےلئے کنونشن مسلم لیگ کے دفتر چلا جاتا کیونکہ وہاں دیگیں شیگیں پکی ہوتی تھیں تو وہاں سے گزرتا تو چاول وہاں کھا لیتا تھا اور نشان وشان چھپا لیتا تھا تو لالٹین کے طور پر وہاں سے باہر نکل پڑتا تھا اور عملی سیاست میں نے مسلم لیگ کونسل لیگ کو سپورٹ کیا شامل نہیں ہوا لیکن ق لیگ میں شامل ہوا۔ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن جیتنے کے بعد 1985ءمیں ق لیگ میں شامل ہوا۔ شیخ رشید نے کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ میں نے کبھی تقریر تیار نہیں کی۔ میں ٹی وی بھی نہیں دیکھتا ا خبار پڑھتا ہوں۔ اللہ کی طرف سے بعض اوقات کراﺅڈ ایسے جذبات دے دیتا ہے کہ ایسے عنوان دیتا ہے اور انسان کو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آمد ہوتی ہے اس کے منہ سے ایسے جملے نکلتے ہیں کہ وہ سحر انگیز ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے عدالت میں 1122 کا قفرہ استعمال کیا وہ بڑا عام ہو گیا۔ سمیع اللہ کو ایک دو تو سیاستدانوں کے بچوں کے بارے میں کہا وہ اس طرح عام ہو گئے کہ وہ مجھے واپس لینے مشکل ہو گئے۔ ایک تو میں تردید کروں کہ 85ءمیں اپوزیشن میں تھا، میں اپوزیشن کا جنرل سیکرٹری تھا اگلا الیکشن میں نے آئی جے آئی سے لڑا اور آئی جے آئی میں کوئی پارٹی نہیں تھی میں ن لیگ کے ساتھ فارم شارم تو بھرا نہیں، نہ کسی نے بھروایا مجھ سے کبھی تو یہ آپ کہہ سکتے ہیں یہ لوگ ایسے ہی کہہ دیتے ہیں کہ فلانا۔ یہ قدرت کی طرف سے انسان کو آمد ہوتی ہے کہ آج دس کروڑ لوگ پرسوں چوتھ چار دن پہلے کی بھی ریٹنگ دیکھی، 10,10 کروڑ لوگ ایک وقت میں ٹی وی شو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ میں نے زندگی میں کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میں ایک لاکھ لوگوں سے خطاب کروں گا اور اب اللہ نے عزت دی ہے کہ بعض میرے پروگراموں کی ریٹنگ آتی ہے تو دس دس کروڑ لوگ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا۔ نواز شریف کے خلاف لڑا اور پہلا الیکشن بھی نواز شریف کے خلاف لڑا۔ بعد میں شامل ہوا تھرڈ الیکشن میں ان کے ساتھ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں نے نواز شریف کے خلاف شیخ غلام حسین کے خلاف 85ءمیں راولپنڈی میں الیکشن لڑا اور بہت تاریخی ووٹوں سے جیتا۔ یہ میرا الیکشن تھا اور اس وقت ساری بلدیہ جو تھی 50 کے 50 کونسلر وہ شیخ غلام حسین کے ساتھ تھے۔ شیخ عشرت علی بھی ضیاءالحق صاحب کے نمائندے تھے۔ شیخ غلام حسین صاحب بھی تھے اور میں نے بغیر نمائندوں کے وارڈ کمیٹی ایک حیدر بھائی، ایک چودھری اسحاق صاحب تھے اور سلامت صاحب تھے، صوفی لطیف تھے، چار بندے میرے ساتھ تھے اور 56 بندے ان کے ساتھ تھے۔ میرے شہر کا رجحان شروع ہی سے میرا خیال ہے کہ اپوزیشن کا مزاج رکھتا تھا جب ضیاء الحق نے میرے خلاف 85ءمیں پانچ مقدمے غداری کے بنے اور میں کسی سے گھبرایا نہیں۔ ایک مقدمے کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا میں خطاب کرتا گیا جب میں جیت گیا تو وہ ختم ہو گئے اور میں نے اپنا تعارف اپوزیشن کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں کروایا اور میں نے بالکل زور دار طریقے سے حصہ لیا۔ اس زمانے میں میڈیا اتنا مضبوط نہیں تھا لیکن بعد میں میڈیا مضبوط ہوا اور میڈیا نے مجھے کافی اللہ کے بعد سپورٹ کی اور پھر میری آواز کافی دور تک پھیل گئی۔ ایک ضمنی الیکشن میں نے نواز شریف سے اور جس میں میرے پانچ لوگ تین لوگ شہید اور 2اپاہج ہوگئے اور میں لیاقت باغ میں جلسہ کر رہا تھا اور نواز شریف صاحب وہاں مری روڈ قبرستان میں کر رہے تھے، ہر الیکشن کا ا میدوار کہتا ہے دھاندلی ہوئی میں اب کہوں گا تو اچھا نہیں لگتا کیونکہ میں لاشیں گھر لے کر آیا ہوا تھا۔ لیکن میں نے سرنڈر نہیں کیا۔ میں پاکستان میں واحد سیاسی ورکر ہوں جس کی لال حویلی کے باہر 5شہداءکی فوٹو لگی ہوئی ہیں۔ یہاں پنجاب میں کوئی سیاستدان ایسا نہیں جس کے لئے عام لوگوں نے جان دی ہو۔ پاکستان میں دو چیزیں میری منفرد تھیں ایک بچوں کی جیل کاٹی سکول لائف میں اور دوسری منفرد یہ تھی کہ میرے محلے سے پانچ جنازے اٹھے مختلف اوقات میں ایک دفعہ 3اٹھے۔ ایک تو ایبٹ آباد کا تھا، ایک دفعہ دو اٹھے سو یہ پانچوں تصویریں آج لال حویلی کے اوپر لگی ہوئی ہیں کہ میرے ساتھ جدوجہد میں ان لوگوں نے، میں بچ گیا دو دفعہ لیکن یہ لوگ شہید ہوگئے۔ دیکھیں نواز شریف صاحب نے سمیع الحق صاحب کو آئی جے آئی کی باری تھی۔ سمیع الحق صاحب کو راضی کر لیا اور وہ آئی جے آئی کے سربراہ بن گئے۔ آئی جے آئی پر میں نے پہلا الیکشن لڑا ان کے ساتھ اور نواز شریف صاحب کے جلسوں میں بھی میں خطاب کرتا تھا اور آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حتی الامکان یہ کوشش ہوتی تھی کہ میں لازمی ان کے جلسے میں شرکت کروں اور میں نے بھی کچھ خدمات ادا کیں، نواز شریف کو پاکستان میں متعارف کرانے کے لئے خدمات ادا کیں۔ ضیاشاہد صاحب آپ مجھ سے کیا پوچھتے ہیں، وہ تو آپ سے جیلس تھے جب ہم کئی شہروں میں جاتے تھے وہاں لکھا ہوتاتھا قدم بڑھاﺅ ضیاشاہد ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ وہ مجھے اشارہ کرتا تھا کہ ”دیکھیا جے، دیکھ رہے او تسی“ پھر آہستہ آہستہ اس نے یہ منشور اور دستور اپنایا کہ آپ اس کے جلسوں میں خطاب نہ کریں۔ وہ بھی میں نے آپ کو بتایا۔ پھر جب میری بہت زیادہ مقبولیت بن گئی تو نیلام گھر کے طارق عزیز کو لے آئے۔ لیکن ان کا بس نہیں چلا اور کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ گوالمنڈی چوک میں انہوں نے جلسہ کیااور میں نے تقریر ختم کی تو کراﺅڈ چلا گیا۔ حالانکہ میں اس وقت اتنا مشہور سیاسی ورکر نہیں تھا سو نواز شریف صاحب کو ہی نہیں سارے بزنس مینوں کو استعمال کرنا آتا ہے۔ بزنس مین کی پوری ٹریننگ ہوتی ہے کہ بندے کو کہاں تک استعمال کرنا ہے اور کہاں اس کو گڈبائی کہہ دینا ہے۔ میں پاکستان میں واحد سیاسی ورکر تھا جس نے نواز شریف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سیاست کی ہے۔ اور جب مجھے وہ کہتے تھے کہ یہ اسمبلی میں نہیں ہوگا میں نے کہا میں ہوں گا آپ نہیں ہوں گے اور اللہ نے ثابت کیا، متعدد بار کہتے تھے یہ نہیں ہوگا۔ اللہ نے مجھے اسمبلی میں رکھا اور میرے کیس میں 63,62 ایف، میں مریم، شہباز یا حمزہ یا کسی پر کیس نہیں کیا میرا گولی کا پستول تھا ون مین میرے کیس کا فیصلہ ہو گیا باقی کیس لگے ہوئے ہیں عمران خان کے۔ حدیبیہ کیس میں بھی اللہ نے مجھے فتح دی اور 203 جس دن لگا میں آپ کے پروگرام میں کہہ رہا ہوں کہ میں یہ کیس جیتوں گا۔ انشاءاللہ مجھے ذرا بھر شک نہیں کہ 203کا فیصلہ بھی میرے حق میں آئے گا۔ یقیناً اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔ پہلا وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ میں ان کے انفارمیشن میں رہا، انڈسٹری میں رہا، میں ان کے ساتھ انویسٹمنٹ میں رہا اور مشرف کے ساتھ ریلوے اور انفارمیشن منسٹری میںرہا۔ تحریک نجات مجھے کہنا نہیں چاہیے زندگی میں پہلی دفعہ کہنا پڑ رہا ہے یہ میری تحریک تھی۔ یہ نام بھی میں نے رکھا تھا اور میں نے ان کو کہا کہ ریلوے سٹیشن سے آپ جائیں۔ میں نے تو جونیجو کو بھی ویلکم کیا جب ضیاءالحق صاحب نے ان کو ہٹایا۔ سارے لوگ سندھی کا ساتھ چھوڑ گئے۔ مجھ پر بڑا پریشر تھا نواز شریف کا میں نے کہا نہیں کبھی۔ میرے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ نواز شریف کا جب ٹرائل شروع ہوا، طیارہ سازش کیس میں۔ میںنے اپنے فون سے ان کا رابطہ کروایا۔ انہوں نے قبول کیا کہ میری وجہ سے ان کو یہ سہولت ملی۔ نواز شریف سعودی عرب جا رہے تھے تو میں نے بہت احتجاج کیا کہ ورکر جیلیں کاٹیں اور وہ محل میں مزے کریں۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ واقعی انہوں نے معافی مانگی ہے۔ مجھے انہوں نے ٹکٹ نہیں دی۔ دوسری دفعہ مجید نظامی صاحب کے کہنے پر پھر اپلائی کیا۔ جب انہوں نے مجھے ٹکٹ نہیں دیا اور یہاں اپنا امیدوار کھڑا کیا۔ جب میں بہاولپور جیل میں قید کاٹ رہا تھا نواز شریف 4,3 مرتبہ مجھ سے ملنے آئے۔ وہ لاہور سے آئے تھے آپ بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ مجھے زچ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت میں نے الیکشن ”بلب“ کے نشان پر انڈیپنڈنٹ لڑا۔ دونوں سیٹیں میں جیت گیا۔ سارے حلقے کو بلایا کہ میں کیا کروں سب نے کہا نواز شریف نے بھرپور میری مخالفت کر لی ہے۔ اسے چھوڑ دیا جائے اتنے میں چودھری آ گئے۔ چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت آگئے۔میں نے پرویز مشرف حکومت کو جوائن کیا۔ جمالی صاحب سے اچھا رابطہ تھا۔ ق لیگ بنی تو مشرف کی خواہش یہ تھی کہ میں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنوں۔ لیکن شوکت عزیر اور چودھری آپس میں ایک ہو گئے۔ میں نے گھر جا کر دو مرتبہ انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن میں اپنی پارٹی بناﺅں گا۔ ان کے ساتھ نہیں ملوں گا۔ میں وزیراطلاعات بنا تو چودھریوں کو مجھ سے اختلافات تھے۔ انہوں نے مشرف کو کہا یہ شخص کسی کی نہیں سنتا۔ شوکت عزیز بھی ان کے ساتھ مل گیا۔ چودھری اور شوکت عزیز نے مشرف کو میرے خلاف کردیا اور میں اطلاعات سے ریلوے میں چلا گیا۔ اس وقت میں نے عوامی مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ پھر عمران خان کا اتحادی بن گیا۔ میں نے عمران خان کی سپورٹ کے ساتھ قلم دوات کے نشان پر عوامی مسلم لیگ سے یہ الیکشن جیتا۔ میں قوم کو باخبر کرتا رہا کہ آج کواٹر فائنل ہوا ہے آج سیمی فائنل ہے۔ وغیرہ لیکن اہم بات یہ ہے کہ چودھری بھی این آر او کے حامی نہیں تھے۔ یہ شوکت عزیز کا ”بے بی“ تھا۔ اس میں شوکت عزیر کو اس وقت صدمہ پہنچا۔ جب شوکت عزیز کی جگہ ہمایوں کو وزیراعظم لانا چاہتے تھے۔ انہوں نے پلان کر کے چودھریوں کو ناک آﺅٹ کیا۔ میں نے مشرف کو کہا کہ میں ہمایوں کو ووٹ نہیں دونگا۔ اہم جرنیل بیٹھے تھے۔ میں نے کہا آپ جرنیل بیٹھے ہیں اور ایک جرنیل کا بیٹا وزیراعظم بن جائے یہ میرے لئے بہت اہم ہے۔ این آر او کے وقت مجھے بے خبر رکھا گیا۔ حالانکہ یو اے ای کے محل میں میرے اپنے ذرائع موجود تھے۔ ڈرائیور، باورچی، خانسامے سب میرے ساتھ اٹیچ ہوتے ہیں۔ یہ اکثر ہمارے علاقے سے ہوتے ہیں یا ہمارے گردو نواح کے ہوتے ہیں۔ گجر خان کے ہوتے ہیں، مجھے پتا چل گیا تھا کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن این آر او پر میری اور چودھری کی حمایت نہیں تھی۔ طارق عزیز نے اکیلے ہی ”موو“ کیا اور یہ گول کیا۔ چودھری مشرف سے ناراض ہو چکے تھے جنرل کیانی بھی آن بورڈ ہو گئے۔ بینظیر کی خواہش پر جنرل کیانی بھی گئے جنرل حامد بھی جاتے تھے۔ این آر او طارق عزیز کا بچہ تھا۔ جبکہ چودھری اس کے حامی نہیں تھے۔ لیکن ان کے پاس اس وقت آپشن کوئی نہیں تھا۔ مجھے ساری معلومات ہیں۔ میں ہمیشہ گیم کے اندر رہنا پسند کرتا ہوں باہر رہنا میری عادت نہیں۔ مشرف کی پوری کوشش تھی کہ نواز شریف سے اس کا مسئلہ حل ہو۔ نواز شریف سے اس کی ڈیلنگ ہو۔ سعودی عرب والوں کی یہ کمٹمنٹ تھی کہ اگر تم بینظیر کو لاﺅ گے تو ہم نواز شریف کو چھوڑ دیں گے۔ پھر ہم نوازشریف نہیں رکھیں گے۔ بریگیڈئر ذاکر جب وہاں جاتے تھے۔ نواز شریف فوجیوں سے نہیں ملتا تھا۔ مشرف اور فوج کی خواہش تھی کہ نواز شریف سے کوئی مسئلہ طے ہو جائے۔ شہباز شریف طول دے رہا ہے۔ حالانکہ شہباز شریف بھی وہی رائے رکھتا ہے جو میری رائے نواز شریف کے بارے میں لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتا۔ وہ اپنے بھائی کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ نہ وہ قابل قبول ہے۔ شہبازشریف نے جو پچھلی دفعہ کام کیا وہی اس دفعہ بھی کر دیا ہے۔ اس دفعہ بھی وہ ناکام ہو گا۔ اس لئے ملکی سیاست میں شدید قسم کا بحران ہے۔ اس وقت شہباز شریف نے ڈیل کروائی۔ 80فیصد کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس لانے میں کامیاب ہوا۔ میں نے مرحوم بریگیڈئر ذاکر سے پوچھا کہ بتاﺅ کیسا محسوس کرتے ہو اس نے کہا میرے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔ نواز شریف نے صاف کہہ دیا کہ شہباز شریف کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا۔ میں سارے فیصلے کرونگا۔ شہباز شریف شرمندہ تھا۔ آج بھی یہی ہوا کہ نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ شہباز شریف اس کا آل ان آل ہوگا۔ این اے 120کا ا لیکشن ہونے لگا تومریم نواز نے شہباز کے فیصلوں کو ”ویٹو“ کر دیا۔ ساری مہم مریم نے خود چلائی۔ بینظیر کی طرح مریم کا بھی ایجنڈا وہی ہے کہ سب کی چھٹی کروا دو۔ مریم نے مراثیوں کی اپنی ٹیم بنائی ہے جس میں طلال چودھری، دانیال عزیز وغیرہ شامل ہیں۔ اس نے چچا اور باپ کی ٹیم کا کوئی بندہ نہیں رکھا۔ مشرف سادہ تھا۔ فوجی سادہ ہوتے ہیں۔ سیاستدان چالاک ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ فوجیوں کو مذاکرات میں شکست دی ہے۔ بینظیر آئی، سعودی حکمرانوں نے ہاتھ اٹھا لئے کہ اب ہم نواز شریف کو نہیں روک سکتے۔ مشرف نے بہت کوشش کی۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ بینظیر آ گئی تو اب نواز شریف کو نہیں روک سکتے۔

 

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved