تازہ تر ین

سیاسی طلاق

ماریہ خٹک ….اظہار خیال
10نومبر کی شب رات 11بجے کے قریب ایک سیاسی دھماکا تب رونما ہواجب رہنما ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار کی جانب سے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کی گئی اس پریس کانفرنس سے قبل وہ کسی سے بھی ملنے کو تیار نہیں تھے اور ان کی جانب سے کافی ناراضی کا مظاہرہ بھی دکھائی دیا ان کے اس رویئے کی سمجھ کسی کو بھی نہیں آرہی تھی کیونکہ ایک روز قبل ہی سب معاہدے ہنسی خوشی دونوں فریقین کے درمیان طے پائے اس اتحاد کی مثال کے چرچے ہر طرف ہونے لگے، کوئی اس اتحاد سے خوش دکھائی دیا تو کوئی ناراض یا شاید حسد، دونوں جماعتوں کا متحد ہونا بہت سے سیاسی لوگوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھا رہا تھا مختلف بیانات بھی سامنے آئے۔پرویز مشرف کے خیال کے مطابق ایم کیو ایم کا اب کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آرہا پرویز مشرف سیاسی مستقبل تو آپ کا بھی کہیں نظر نہیں آرہا۔ خیر بات ہورہی تھی کمال اور ستار کے بھائی چارے کی،دونوں رہنماﺅں نے اس پریس کانفرنس میں یہ بات واضح کر دی کہ آج سے انہوں نے سیاسی اتحاد کا مشترکہ فیصلہ کیا ہے اس اتحاد کا مقصد امن کو دیر پا بنانا ہے اور پہلا مقصد کراچی کے ووٹ کی تقسیم کوروکنا ہے اور ساتھ ہی آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک منشوراور ایک پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کر دیا مگر اگلے ہی روز نا جانے فاروق بھائی کو کیا ہوا انہوں نے پریس کانفرنس میں مصطفی کمال پر الزامات کی بھونچار کر ڈالی یہ پری پلان سکرپٹڈ ڈرامہ تھا یا حقیقت میں شاید ان کی انا جاگ گئی۔ یہ تو وقت ہی حقیقت سے پردہ اٹھائے گا۔ فی الحال تو مصطفی کمال کی جانب سے پریس کانفرنس میں یوں سب کے سامنے ان کو لینڈ کروزر رکھنے والی بات فاروق بھائی کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہو ں نے مظلومیت کے وہ پہاڑ توڑ ڈالے کہ غم اور دکھ سے ہر آنکھ اشک بار ہوگئی۔ شاید بہت سے لوگوں نے میری طرح ان کی مالی معاونت کا بھی سوچ لیا ہوگا غربت کا یہ عالم ہے کہ لینڈ کروزر سے نیچے درجے کی گاڑی کو زیر استعمال لانا پسند نہیں فرماتے، ٹائر ادھار لے کر تبدیل کرا دیں گے مگر لینڈ کروزر ہی میں موصوف سفر کرنا پسند کریں گے۔ یہ تو تھی لینڈ کروزر کی گیتا دوسری جانب ان کا شکوہ کمال صاحب سے یہ تھا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے نام کو مٹانے کی بات کی جوناقابل برداشت ہے ان کو شدید صدمہ پہنچابلکہ کراچی کے تمام مہا جروں کو بہت دکھ پہنچا لہٰذا وہ ایم کیو ایم کا نام زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور مہاجروں کو ان کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان سینیٹ میں تیسری بڑی جماعت ہے ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی بات کرنا مہاجروں کی تذلیل ہے۔ مصطفی کمال کی بات نے ان کا دل دکھایا انہوں نے مصطفی کمال کی پارٹی پی ایس پی کو ایم کیو ایم میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کر دی مگر پھر بھی اگر سوشل میڈیا استعمال کرنا ہے تو میرے اور مصطفی کمال کے راستے الگ ہیں جس کی بنا پر جو یہ سیاسی نکاح ایک شب پہلے ہوا تھا وہ طلاق کی صورت میں ختم ہوگیا ساتھ ہی سیاست سے علیحدگی کا بھی اعلان کر دیاجب ان کو یہ احساس ہوا کہ شاید جوش جذبات میں کچھ زیادہ ہی بڑا فیصلہ کر بیٹھیں ہیں تو والدہ کا سہارا لینا مناسب سمجھا۔کچھ ہی لمحوں بعد فاروق ستار گھر سے باہر تشریف لائے ساتھ ان کی بیگم اور والدہ بھی ہمرا تھیں تب انہوں نے سب کے سامنے یہ اعلان کیا کا کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لے رہے ہیں کیونکہ یہ ان کی والدہ کا حکم ہے۔ قربان جائیں آپ کی فرما داری پر یہ سن کر ہر ما ں کے دل سے یہ دعا ضرور نکلی ہوگی کہ کاش ہر اولاد ان جیسی فرمانبر داربن جائے کیونکہ ماں کے قدموں تلے ہی جنت ہے۔
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved