تازہ تر ین

پاکستانی نیوٹن

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
©آج ہمارے پاس آپ کو سنانے کے لیے تین قصے ہیں، تین نوجوانوں کے قصے جن کی عمریں بالترتیب سترہ اٹھارہ اور انیس برس کے لگ بھگ ہیںان میں پہلا قصہ امریکہ میں رہنے والی انیس سالہ ماڈل گرل جیسلی کا ہے جس نے مبلغ 2.5ملین یورو کے عوض اپنی دوشیزگی نیلام کردی۔اس لڑکی نے جرمنی کی ایک ویب سائٹ کی معرفت اپنی تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیں اور کہا کہ جو سب سے زیادہ بولی دے گا وہ اپنا کنوار پن اس کے نام کر دے گی۔ اطلاعات کے مطابق ابو ظہبی کے ایک بزنس مین نے سب سے زیادہ بولی دے کر جیسلی کو جیت لیا ہے، اگر امریکی ڈالرز میں اندازہ لگایا جائے تو یہ رقم 2.9ملین ڈالر بنتی ہے جبکہ برطانوی پاﺅنڈ میں یہ تخمینہ 2.2ملین پاﺅنڈ کے لگ بھگ ہے اس تحریر کو پڑھنے والے بہت سے لوگ اس رقم کو پاکستانی کرنسی میں منتقل کرنے کی کوشش کریں گے ان کی سہولت کے لیے عرض ہے کہ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں شاید 36کروڑ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، معاہدے کے مطابق ویب سائٹ اس طرح کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا بیس فیصد کمیشن کے طور پر وصول کرتی ہے۔ نیلامی کے اس مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے والے ہالی وڈ کے کوئی اداکار ہیں جنہوں نے اس عظیم مقصد کے لیے مبلغ 2.4ملین یورو کی بولی لگائی۔جیسلی کا کہنا ہے کہ اس سودے سے حاصل ہونے والی رقم سے وہ اپنی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے علاوہ ایک بڑا سا گھر خریدے گی اور پھر دنیا کے سفر پر نکل جائے گی۔
دوسرا قصہ اٹھارہ سالہ پاکستانی نوجوان شہیر نیازی کا ہے۔ممکن ہے شہیر نیازی کا نام ہمارے ہاں ہمارے لوگوں کے لیے بہت مانوس نہ ہو لیکن سائنس کی دنیا میں شہیر نیازی علم اورتحقیق کے آسمان پر کسی روشن ستارے سے کم نہیں۔ اسے دنیا کم عمر ترین سائنسدان کے طور پر جانتی ہے۔لاہور کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز سے گریجویشن کرنے والے اس نوجوان نے کچھ عرصہ قبلElectric Honey comb اورEquilibrium in Eexagonal Shapes کے موضوع پر ایک بین الاقوامی ریسرچ جرنل رائل سوسائٹی آف اوپن سائنس میں ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔شہیر نیازی کا کہنا ہے کہ جب اس کا پہلا ریسرچ پیپر شائع ہوا تب اس کی عمر سولہ سال تھی جبکہ معروف سائنسدان نیوٹن کی پہلی ریسرچ جب لوگوں کے سامنے آئی تھی تو اس کی عمر سترہ برس تھی‘ شہیر نیازی کی خواہش ہے کہ وہ سائنسی ریسرچ کے میدان میں اور بہت سا کام کرے اور اپنے ملک کے لیے نوبل پرائز جیت کر لا ئے۔وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اسے اتنے وسائل دستیاب ہوجائیں کہ وہ Massachusetts Institute of Technology میں اپنی مزید تعلیم پوری کر سکے۔امید ہے کہ سرکاری سرپرستی حاصل ہوگئی تو شہیر بہت جلد ایک نامور سائنسدان کے طور پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
تیسرا قصہ حمید نام کے ایک عام پاکستانی نوجوان کا ہے ۔یہ سترہ سالہ نوجوان مدینة الاولیاءمیں پنجاب کے ایک نہایت معروف پرائیویٹ کالج سسٹم میں آئی کام سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے۔ حمید کے والد ایک بینک میں ملازم تھے، انہوں نے اپنے بیٹے کو نہایت چاﺅ سے اس کالج میں داخل کرایا تھا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ حمید کے والد کااچانک انتقال ہوگیا۔ حمید اور اس کی ماں بہنوں کے لیے اللہ کے سوا اور کوئی سہارا باقی نہیں رہا ، باپ کے بقایا جات قسطوں میں ملتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ختم بھی ہوگئے۔حمید سب سے بڑا ہے، کالج والے ایک سمسٹر کی چالیس ہزار فیس مانگ رہے ہیں۔گھر میں دال روٹی کے پیسے بھی نہیں۔حمید کی ماں کالج کے پرنسپل صاحب سے فیس معافی کی درخواست کرنے گئی تو وہ بڑی بے رحمی سے پیش آئے، کہنے لگے ’منہ اٹھا کر آجاتے ہیں، جیب میں پیسے نہیں تو پڑھنے کی کیا ضرورت۔ہم نے کوئی یتیم خانہ نہیں کھول رکھا۔ ‘ گھر کا نظام چلانے کے لیے حمید شام کے اوقات میں ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کام کرتا ہے، وہاں سے آٹھ نو ہزار روپے ملتے ہیں۔ ایک سال پرائیویٹ کالج میں پڑھنے کے بعد کوئی طالب علم سرکاری کالج میں آسانی سے منتقل بھی نہیں ہوسکتا، حمید مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ اب میں کیا کروں۔اس کے والد مرحوم نے اسے پرائیویٹ کالج میں داخل کرا دیا تھا تو حمید کا کیا قصور؟ باپ کا قضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا، اس میں بھی حمید کا کوئی اختیار نہیں تھا۔یقینا ہمارے نظام میں کہیں نہ کہیں بہتری کی بہت سی گنجائش ہے، حمید جیسے بے شمار بچے اور بچیاں اسی طرح کے مسائل کا شکار ہیں، کوئی نہ کوئی ادارہ کوئی قانون سازی ایسی ضرور ہونی چاہیے جس سے ایسے بچوں کی داد رسی ہوسکے۔
ہمارے نوجوان کھیل سے تعلیم کے میدان تک دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتے رہے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ جیسے انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں بھی بہترین ڈاکٹر اور انجینئرپاکستان سے آئے ہوئے ہیں۔پاکستانی نوجوان ساری دنیا میں مہارت اور اعتماد کے حوالے کے طور پر جانے جاتے ہیںلیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے سارے ذہین لوگ سمندر پار چلے گئے تو ہمارے اپنے لوگوں کی خدمت کون کرے گا۔یونیسیف کی زیر نگرانی حال ہی میں ہونے والے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ چودہ سے پچیس سال عمر کے ان نوجوانوں میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے جو ہر سال بہتر موقعوں کی تلاش میں امریکا ، یورپ اور آسٹریلیا جانے کے لیے کاوشوں میں لگے رہتے ہیں۔یہ ممالک ہر سال ایسے نوجوانوں کے لیے بہت سے وظائف بھی جاری کرتے ہیں جن کی مدد سے ان نوجوانوں کو سمندر پار ممالک میں حصول تعلیم اور پھر روزگار کے مواقع میسر آجاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر نوجوان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان غیر ملکوں کے ہوجاتے ہیں۔اگرچہ انفرادی سطح پر ایسے نوجوانوں کو اس عمل کے نتیجے میں بہت فائدہ ہوجاتا ہے لیکن قومی مفاد کے حوالے سے دیکھیں تو اتنے زرخیز ذہنوں کا ملک سے چلے جانا ہمارے لیے باعث نقصان ہوتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ایسی صورت حال کو Brain-Drain کہا جاتا ہے۔ہمیں مل جل کر اپنے نوجوانوں کا تحفظ کرنا ہوگا، تعلیم اور روزگار کے بہتر امکانات فراہم کیے بغیر نہ تو ہم دہشت گردی کو روک سکتے ہیں نہ ہی جرائم کو۔امریکا میں رہنے والی ماڈل گرل جیسلی کی کہانی لوگوں نے یقینا بہت شوق سے سنی ہوگی لیکن یہ بات اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ اگر حکومتیں اسلحے اور گولہ بارود کے زور پر دوسری دنیاﺅں کو فتح کرنے کی جدوجہد کی بجائے اپنی نوجوان نسل کو بنانے سنوارنے پر توجہ دیں تو جیسلی جیسے کردار کبھی جنم نہیں لے سکتے۔دنیا کو جیسلی کی بجائے شہیر نیازی جیسے کرداروں کی ضرورت ہے ، ہم ذرا سی کوشش کر لیں تو ہم حمید جیسے بے شمار نوجوانوں کو بڑی آسانی سے شہیر نیازی جیسے ہیرے کی صورت تراش سکتے ہیں۔
(کالم نگار قومی اور بین الاقوامی امور
پر انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved