تازہ تر ین

پی ٹی آئی امیدوار پی پی اور ن لیگ کا چربہ

عبد الودودقریشی
تحریک انصاف نے آئندہ عام انتخابات کے لئے اہم امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرلیاہے جن میںچند افراد کو چھوڑ کر باقی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے متعلق رہے ہیں اِس فہرست میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھی بھی ہیں۔ تحریک انصاف گزشتہ انتخابات کے بعد ایک نئی صورت میں سامنے آئی ہے اس کی یہ ہئیت لاہور میں ایک بڑے تاریخی جلسے کے بعد تبدیل ہوئی اور لوگ عمران خان کی طرف متوجہ ہوئے مسلم لیگ نے اس جلسے اور عمران خان کی اچانک بڑھتی ہوئی مقبولیت کو آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا سے جوڑا جبکہ آئی ایس آئی میں پولیٹیکل سیل بند ہو چکا۔ جس کی سب سے پہلے لیڈ کی صورت میں خبر روزنامہ خبریں میں راقم حروف کے نام سے شائع ہوئی جبکہ دیگر اخبارات نے اس سیل کو بند کرنے کی بجائے معطل کرنے کا نام دیا اور پھر باضابطہ اعلان وزیراعظم ہاﺅس سے پریس ریلیز کی صورت میں جاری ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے آئی ایس آئی میں قائم سیاسی ونگ بند کر دیا گیا ہے مگر ہمارے سیاست دان ڈرائنگ روم سے جو گپ سنتے ہیں چلا دیتے ہیں انہیں اس کا آج بھی علم نہیں کہ آئی ایس آئی میں اَب ملک کے اندر سیاسی معاملات کے لئے کوئی ونگ نہیں۔ کراچی میں حالات کو پُرامن رکھنے کے لئے رینجر سیاسی جماعتوں سے رابطوں میںرہتی ہے اور ان میں ان کی مرضی کے مطابق ثالث کا کردار ادا کرتی ہے اب ملک میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اپنی مدت پوری کر چکی ہیں ۔ نئی نسل اِن کو اپنا رہبر ماننے کو تیار نہیں لہٰذا مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اپنی لوٹ مار سے آنکھیں بند کر کے سار املبہ قومی اداروں پر ڈالنا چاہتے ہیں لہٰذا اس کی ابتدا عمران خان کے لاہور جلسے سے ہوئی اور آج پیپلزپارٹی کراچی کے نئے صدر نے بھی یہی رویہ اپنایا اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اس لئے کہ وہ دیوار پر لکھا پڑھ رہے ہیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے لئے اَب اقتدار کوئی آسان کھیل نہیں ہو گا جبکہ آج ہی اسفند یار ولی نے بڑی اہم بات دہرائی کے سیاست میں ”مزا“ نہیں رہا دراصل یہ لوگ سیاست میں مزا لیتے ہیں قومی خزانے سے تنخواہیں مراعات اور پھر ٹھیکوں سے کمیشن لے کر عوام سے جلسوں میں کہتے ہیں یہ سب آپ کی خدمت کے طور پر کر رہے ہیںاربوں روپے ان کے بینکوں میں کہاں سے آئے بتا نہیں سکتے اور کہتے ہیںایک پائی کی چوری نہیں کی اور سچ کہتے ہیں اَب تو پائی کا زمانہ نہیں رہا اوپر کا طبقہ گنتی بھی ملین میں کرتا ہے۔ اِن سیاست دانوں سے تنگ آ کر لوگوں نے عمران خان کی طرف دیکھنا شروع کیا اور اِن دو جماعتوں کے اندر گزشتہ چالیس سال سے حکمرانی کے مزا لوٹنے والے عمران خان کے ساتھ شامل ہو گئے اور اَب ایک دباﺅ کے تحت آٹھ ماہ قبل ہی ان لوگوں کی فہرست بھی جاری کروا دی جو آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے اِس فہرست کی قبل از وقت اشاعت سے ان لوگوں نے پارٹی دباﺅ سے اپنے آپ کو آزاد کروا لیا جبکہ اس کے بعد اِن حلقوں سے اِن کے مخالفین تحریک انصاف سے قبل از وقت ہی باہر نکل جائیں گے اِس فہرست میں اکثریت مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور جنرل مشرف کے تابعداروں کی ہے جن سے کسی تبدیلی اور شفافیت کی توقع نہیں ان میں سے کئی افراد کے رشتہ دار ابھی تک قومی دولت لوٹنے پر جیلوں میں ہیں یا عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ اس فہرست سے کئی باتوں کی نشاندہی ہوتی ہے جن میں سے ایک یہ بھی کہ عمران خان کو ملک میں آئندہ کوئی بڑی اکثریت نہیں مل سکے گی اور وہ اِن افراد کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہیں گے جنہوں نے اِن سے قبل از وقت اپنے ناموں کا اعلان کروا کر ان کے پاﺅں پر کلہاڑی مار دی۔ عمران خان اگر اقتدار میں آ گئے تو ان کی حکومت ایک دو سال سے زیادہ نہیں چل سکے گی اور ان کی جماعت کے اندر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سے آنے والوں کے دو دھڑے بن جائیں گے۔ اِن افراد میںپہلی لڑائی ایم پی اے کیلئے امیدواروں پر ہو گی اور پھر اس فہرست کے افراد خصوصی نشستوں پر خواتین کیلئے اپنی منظور نظر کو دیکھنے کے خواہشمند ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی طرح عمران خان کی پارٹی میں گرفت نہیں ہے جس کا اندازہ اس فہرست سے لگایا جا سکتا ہے جس میں متحارب نظر آتے ہیں وہ آپس میں کیسے چلیں گے جبکہ ابھی سے کئی افراد وزارت خارجہ، داخلہ، اطلاعات اور وزارت اعلیٰ پنجاب کے دعوے دار ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو یہ وزارتیں نہ دی گئیں تو پھر تحریک انصاف نہیں رہے گی۔ ممکن ہے عمران خان نے کسی نازک لمحہ میںاِن لوگوں سے اِن عہدوں کا کہہ دیا ہو مگر ”ہنوز دلی دور است“ والی بات ہے۔ سیاست میں بعض اوقات خوش فہمی بھی مروا دیتی ہے جس کا اندازہ اس تازہ فہرست سے لگایا جا سکتا ہے۔ جن افراد کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان کے کئی رشتہ دار ان کو چھوڑ جائیں گے کیونکہ ان کی حیثیت ایک کونسلر کی بھی نہیں یا اگر ترقی بھی پائیں تو ایم پی اے سے زائد کی عقل و شعور کے مالک نہیں ہیں۔ لگتا ہے کہ قوم کی تقدیر میں ابھی وہی لوگ لکھے ہیں جو ان پر مدتوں سے حکمرانی کر رہے ہیں۔ ان پر پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) پرویز مشرف کی بجائے تحریک انصاف اور عمران خان کا لیبل لگ جائے گا کام وہی جاری رہے گا اور پارٹی اِن لوگوں کے ہاتھوں یرغمال رہے گی ایسے ہی جس طرح مشرف لیگ کے لوگوںکو ٹکٹ اور وزارتیں دے کر مسلم لیگ ن اور میاں نوازشریف ہیں کہ ریاض حسین پیرزادہ کی قیادت میں یہ لوگ الگ دھڑا بنا چکے ہیں۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved