تازہ تر ین

جنازوں میں شرکت کا موسم

اقبال گیلانی …. اظہار خیال
بلوچستان سے پنجابیوں کے جنازے آ رہے ہیں، ہر آنکھ اشکبار ہے، دل بے قرار ہے کیونکہ میرے علاقے میں بھی یکے بعد دیگرے متعدد افراد کی طبی اموات ہوئیں، اموات سے گزرنے والے کچھ امیر اور کچھ غریب تھے کہ امیر اور غریب دونوں نے موت کی لپیٹ میں آنا اور لحد کی مٹی میں مٹی ہونا ہے، نہ امیر کی امارت کام آئے گی اور نہ غریب کی غربت پر ترس کھایا جائے گا کہ مراحل قبر انتہائی دقیق ہیں ، مگر دنیا کے ظلمت کدے میں غریب کا جینا کرب قبر کی طرح ہے کہ دولت کی تقسیم اور معاش کی درجہ بندی نے اسے بے موت ہی مار ڈالا ہے، معاشرے کی معاشی قدریں ویسے ہی دگرگوں ہیں اور فکر معاش ان کو نہیں ہے جو خوف قبر سے آزاد ہیں اور موت کو بھی فراموش کیے ہوئے ہویں۔ میں ملتان کے معروف علاقے پاک گیٹ میں تھا کہ اس اثنا میں ایک جنازے کا گزر ہوا اور میں بھی جنازے کو کندھا دینے کیلئے ساتھ ہولیا کہ جنازے کو کندھا دینا ، اسے لحد تک لے جانا کار ثواب ہے چونکہ وہ جنازہ ایک غریب مرنے والے شخص کا تھا اس لیے مذکورہ جنازے میں افراد کی تعداد بھی کم تھی، ہستی کی پستی نے انسانی کدورتوں میں انسان کو ہی رسوا کر دیا اور مرنے جینے میں رکھ رکھاﺅ کے اس محرک نے جگہ لے لی ہے جو منافقت سے منافقت تک منتج ہے اور اسی سے کذب پر مبنی تعزیت عیاں ہے۔ سیاستدان تو مسلسل تعزیتوں میں لگے ہوئے ہیں کہ انہیں شنید سی ہے کہ انتخابات کی صورتیں نمایاں ہونے لگی ہیں اور ان کے نزدیک مرنے والوں کے جنازوں میں شرکت ووٹ ہتھیانے کا ہتھیار ہیں۔ میں نے گزشتہ روز اس صورت میں ایک ملتانی سیاستدان کو دیکھا کہ وہ عزم تعزیت لیے مرنے والوں کے ہاں جانے لگے ہیں اور ہمدردی جتانے لگے ہیں کہ وہ لواحقین سے زیادہ دکھی ہیں اس روش کی سمت سیاست میں دیگر سیاستدان بھی ہونے لگے ہیں کہ حلقہ نیابت کے ووٹروں سے تعزیت کی صورت سے ووٹ کے حصول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے آج کل دل کی بیماریاں عام ہونے لگی ہیں اور مرنے والے بھی مرنے لگے ہیں اور جینے والے بھی پریشان ہیں کہ ناقص غذاﺅں اور بے رحم دواﺅں نے سب کچھ ستیاناس کردیاہے اور مریض کی صحت تو قطعی بگڑنے لگی ہے کہ صحت بارے کوششیں سرخ فیتے کی نذر ہونے لگی ہیں۔
مال و زر والے بدیس جاکر بظاہر صحت یاب ہونے لگے ہیں مگر صحت اور موت دونوں الگ الگ پہلو ہیں، موت انتہائی ظالم ہے یہ ظالموں کو بھی دبوچ لیتی ہے اور ان کو بھی کھا جاتی ہے جو ووٹوں کا عزم لئے مرنے والوں کی تعزیت میں جھوٹی تسلی کی سیاہ کاری لیے ہوئے ہیں۔ سابق وزیراعظم ملتان کی شخصیت ہونے کے ناطے آج کل تعزیتوں کی سمت زیادہ ہیں انہوں نے پاک گیٹ کے علاقے ماتم واہ کی تنگ و تاریک گلیوں میں بھی آناشروع کردیا ہے ان گلیوں میںن لیگی بھی بستے ہیں اور پی پی پی کے ووٹر بھی آباد ہیں۔ گزشتہ دونوں یہاں ایسے افراد بھی فوت ہوئے جو ووٹ حاصل کرنے کا فن جانتے تھے اور ووٹ کی اہمیت کا ادراک رکھتے تھے مگر کئی سیاستدان تعزیت کے لئے ان کی سمت نہیں گئے اور شاید غربت ماروں سے غربت کے باعث تعزیت نہیں کی گئی کہ غریب کا ووٹ امیر کے اشارے پر بٹورا جاسکتا ہے یا پھر روایتی حربوں سے کاسٹ کیا جاسکتا ہے اب غریب کو سوچنا چاہیے کہ اس کی تنگدستی کے عوامل کے محرکین امراءو سیاستدان ہی ہیں اور سجادگی رکھنے والے وہ افراد بھی ہیں جو ملا کی طرح سجادگی کی عظمت کو بے نوا کئے ہوئے ہیں۔ مسجد منبر اور قبرتک سیاست کے خرافات نے سب کچھ بھسم کردیاہے اور عصر عظمت نے اس کذب کو نمایاں کردیا ہے جو سیاست کے پروردوں اور حاکموں کے طور طریقوں میں پنہاں ہے زندہ رہنے والوں کے کام نہ آنا اور مرنے والوں کے گن گانا معاشرتی بدنمائیاں ہیں ۔ بات چلی تھی مرنے والوں کے سوگ کی کہ شخصیات کا سوگ میں آنا اور اظہار ہمدردی کے جتن کرنا سیاست ملتان میں کروفر سے جاری ہے اور سجادہ نشین سیاستدانوں کے ساتھ وہ سب جگہ پہنچنے لگے ہیں جہاں انہیں مرگ و میت کی خبریں موصول ہونے لگی ہیں۔ غریب کے بھاگ ہی جاگنے لگے ہیں کہ سابق و موجودہ حکمران بھی اس کے ہاں آنے لگے ہیں مگر ان کی آمد میں مرگ کا ہونا لازم ہے کہ مذکورہ بدشگونی سے ہی وہ غریب کے گھر آتے ہیں اور تعزیت کی صورت میں مرگ والے گھروندوں کو شان بخشتے ہیں حالانکہ وہ کسی کا دکھ نہیں جانتے اور نہ ہی اس ووٹر کی تکریم کرتے ہیں جو انہیں مسند شاہی پر براجمان کرتا ہے۔ میرے خیال میں ایسے سیاستدانوں کو بھی مر جانا چاہئے کہ ایک نہ ایک روز انہیں بھی مرنا ہے اور ان کیلئے بھی تعزیت کے انداز ایسے ہونے چاہئیں۔ مجھے ملتانی سیاستدانوں کا طریق اچھا نہیں لگا کہ وہ اس بنا پر مرگ والوں کے ہاں آنے لگے ہیں کہ ووٹ کھسک نہ جائے اور جیت کے زعم میں شکست کی بدشگونی کا سامنا نہ ہو مگر ہار جیت قدرتی پہلو ہیں۔ ووٹر سے پیار اور انسانیت سے انسیت ہی اصل جیت ہے اور غریب کے دکھوں پر غمگساری بے مثال عظمت ہے۔ امراءکی خدمت اور بااثر لوگوں سے جڑے رہنا کثرت ووٹ کا باعث نہیں ہو سکتے کہ مفلس بھی خوابیدہ نہیں ہے کہ اسے بھی علم ہو گیا ہے کہ امراءکے سینکڑوں ووٹوں کے مقابل اس جیسے غرباءکے ہزاروں ووٹ کیوں کمتر ٹھہرتے ہیں حالانکہ انہی کثیر ووٹوں سے سیاست مقتدر ٹھہرتی ہے مگر امراءاسے اپنے نام کر کے مقتدروں کے حاشیہ بردار ہو کر بہت کچھ بٹور لیتے ہیں اور ذہن نشین رہے کہ جیتنے کے بعد غریب مرگ والوں کے ہاں کوئی بھی نہیں آتا اور اس کے جنازے میں وہی افراد شریک ہوتے ہیںجو خداترس اور رحم دل ہوتے ہیں‘ چاہے یہ چند ایک ہی ہوتے ہیں اور سمجھنے الے یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے والے کی جان پہچان کم تھی حالانکہ یہ غربت ہی تھی جو موت بے کسی بنی اور بے کس کے جنازے میں چند افراد ہی نظر آئے۔ دولتمندوں اور مقتدروں کے جنازے زوروشور سے اٹھتے ہیں اور وزراءکی بڑی بڑی گاڑیاں بھی آگے پیچھے ہوتی ہیں مگر الیکشن کے قریب غریب کے جنازے میں بھی رش ہو جاتا ہے کہ وزیر‘ مشیر چھوٹے بڑے سیاستدان اور سیاستدانوں کے ہم نوا گدی نشین بھی ان دنوں اس کی طرف آ جاتے ہیں اور جیسے تیسے سچا جھوٹا پرسہ دے جاتے ہیں کہ ووٹ کی لگن اور اقتدار کی مستی نے کذب کو بھی سچ کر دیا ہے۔
(کالم نگار سماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved