تازہ تر ین

پھر آپ کیا کرینگے!

توصیف احمدخان
فی الحال ہم اس پر بات نہیں کرتے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد چوک میں کئی روز سے جاری دھرنا ختم ہوتا ہے یا نہیں ، اس کے خاتمے کیلئے کوشش جاری ہے یا نہیں …اگرچہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک طرح سے حکومت کو سرزنش کی ہے ، ہائیکورٹ کی طرف سے تین صفحات پر مشتمل حکمنامہ میں کہاگیا ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ عدالتی حکم نہ ماننے کی اجازت دی جائے، عدالت لاکھوں شہریوں کے حقوق کی محافظ ہے ، اعلیٰ حکام نے مذاکرات کے سوا کوئی کوشش نہیں کی اور اس کے رویّے کے باعث ضلعی انتظامیہ بھی تذبذب کا شکار ہے ، عدالت عالیہ نے آئی جی او رچیف کمشنر کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے کہ دھرنا کیوں ختم نہیں کرایا۔
یہ درست ہے کہ عدالتی حکم ماننا ہر ایک کا فرض ہے ، اصول یہی کہتا ہے مگر ہر وقت اور ہر موقعہ پر یہ ممکن نہیں کہ اصول ہی حاوی رہیں اور انہیں ہرصورت میں مانا جائے…ہائیکورٹ کا یہ فرمانا بالکل درست ہے کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے سوا کچھ نہیں کیا مگر دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ دھرنا دینے والے ہائیکورٹ اورحکومت کی کوئی بات ماننے کیلئے تیار نہیں، معاملہ بہت نازک اور حساس ہے …ناموس رسالت اور حرمت رسالت کا مسئلہ ہے …اور یہ کسی اور کا نہیں خود حکومت کا پیدا کردہ ہے، اس پر بعد میں بات کرتے ہیں، فی الحال سوال یہ ہے کہ دھرنا ختم کرانے کیلئے حکومت کیا کرے، ہماری دعا ہے کہ ان الفاظ کی اشاعت تک دھرنا ختم ہوچکا ہو تاکہ دونوں شہروں کے لاکھوں رہائشی سکون کا سانس لے سکیں، اس وقت بہت سے شہری ایک طرح سے دھرنے کے یرغمال بنے ہوئے ہیں کہ ان کا آزادانہ طور پر کہیں آنا جانا قریباً ناممکن ہوگیا ہے۔
عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا بظاہر جو طریقہ نظر آرہا ہے وہ طاقت کا استعمال ہے اور یہ امر یقینا عدالت عالیہ کے ذہن میں بھی ہوگا کہ اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے …دھرنے میں شریک لوگ جس قدر پُر جوش ہیں اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ ہر قسم کے اقدام کی شدید مزاحمت کرینگے…ایسی صورت میں اللہ نہ کرے …اللہ نہ کرے …ایک اور ماڈل ٹاو¿ن بن سکتا ہے ، یہ بھی ممکن ہے کہ بات ماڈل ٹاو¿ن سے بھی بہت آگے نکل جائے…پھر آپ اس دھرنے اور اس احتجاج کو شہر شہر ، قریہ قریہ اور گلی گلی پھیلنے سے کس طرح روک سکیں گے، عدالتی حکم سِر آنکھوں پر …مگر اس کے نتیجے میں جو خوفناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کسی نے اس بارے میں سوچا ہے ، انتظامیہ کیلئے بڑا آسان ہے کہ وہ طاقت استعمال کرے ، اسکا انجام کچھ بھی ہو، وہ دھرنے والوں کو منتشر کرنے میں کامیاب بھی ہوجائیگی مگر پھر الزام کس پر ہوگا، حکومت اور انتظامیہ تو بری الذمہ ہوجائیں گی…ہائیکورٹ کیلئے یہ سوچنے کا مرحلہ ہے ، ہر معاملہ محض احکامات سے حل نہیں ہوسکتا، بہت سے معاملات میں عقل و فہم اور فکر و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے …یہ بھی درست ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اس سے عاری نظر آتی ہے ، ہمیں اس حوالے سے وزیرداخلہ جناب احسن اقبال کے ساتھ بہت سے اختلافات ہیں، مگر انکا یہ بیان اپنی جگہ درست معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا۔
ہمیں وزیرداخلہ کا یہ بیان انتہائی بچگانہ محسوس ہوا ہے جس میں وہ وزیرقانون کا اس بنا پر دفاع کررہے ہیں کہ موصوف کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا …ثبوت…!کس بات کا ثبوت …؟کیا وزیرداخلہ بھی عقل و فہم سے عاری ہیں ، ہم جس احسن اقبال کو جانتے ہیں وہ تو پڑھا لکھا اور سمجھدار نوجوان تھا، اگرچہ جوانی تو اب ہوا ہوچکی مگر ہمارے ساتھ آخری رابطے تک وہ جوان ہی تھے۔
وزیرقانون کیخلاف ثبوت مانگنا بڑی عجیب سی بات ہے …ختم نبوت کے حوالے سے ترامیم کس نے پیش کی تھیں، …،جناب وزیرداخلہ ! یہ ترامیم خود وزیرقانون زاہد حامد کی پیش کردہ ہیں، اور ہم انہیںکم علم اور جاہل ماننے کیلئے تیار نہیں کہ کسی نے ان سے فرمائش کی اور انہوں نے جھٹ ترامیم تیار کر لیں، اگرچہ راجہ ظفر الحق کہتے ہیں کہ ترامیم کرانے والا ” کوئی اور “ ہے ، مگر کون…؟ آپ لوگ یہ بتانے کیلئے تیار نہیں پھر ہم اس ”کوئی اور“ کو کیسے مان لیں…کسی اور کی اس طرح کی بات مان لینا اور اس پر عمل بھی کرلینا جہالت اور حماقت کی انتہا ہوسکتی ہے جبکہ آپ کو معلوم تھا اور آپ بخوبی اسکا احساس کرسکتے تھے کہ یہ معاملہ منظر عام پر آئیگا تو اس سے ملک میں آگ بھی لگ سکتی ہے کہ یہ میرے آقا کی ناموس کا سوال ہے ، اس معاملے پر لوگوں کا جذباتی ہونا حیرت کی بات نہیں کہ یہ تو ہمارا جزوایمان ہے ، اسکے بغیر ہمارا ایمان مکمل ہوہی نہیں سکتا۔
اگرچہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے مزید اڑتالیس گھنٹے کی مہلت مانگی گئی ہے جو اس نے نہیں دی اس میں سے بھی بہت سا وقت گذرچکا ہے ، حکومت اور علماءمشائخ کے اجلاس میں اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ، اجلاس میں راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر لانے کیلئے کہاگیا ہے جبکہ اس معاملہ کے جامع حل کیلئے علماءو مشائخ کی کمیٹی بنادی گئی ہے، راجہ صاحب کی کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات منظر عام پر آنے کے بعدممکن ہے اس ”کوئی اور“ کا بھی علم ہوجائے جو اس سارے فساد کی جڑ ہے ، یہی نہیں ، یہ بھی علم ہوسکے گا کہ معاملہ کیسے شروع ہوا اور اس میں کس کس نے کیا کردار اداکیا، قصہ کوتاہ اصل مجرم منظر عام پر آجائیگا اور اس سے نمٹنا آسان ہوجائیگا، جبکہ اس کے محرکات کا بھی علم ہوسکے گا۔
یہ باتیں اپنی جگہ اور ہماری دعا ہے کہ معاملہ جلد از جلد حل کرلیاجائے…احسن اقبال کے معاملات اور بیانات بھی اپنی جگہ ، یہاں ہم ایک اور پہلو پر بات کرنا چاہیں گے، فی الحال اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزیرقانون زاہد حامد قصور وار ہیں یا نہیں …ہمارے پیش نظر ان کا یہ بیان ہے کہ وہ سچے عاشق رسول ہیں ، ہم کون ہوتے ہیں اس کی تردید کرنے والے ، یہ براہ راست زاہد حامد کا معاملہ ہے ، اللہ تعالیٰ کے حضور اسکا جواب انہیں خود دینا ہے لیکن وہ ایک پہلو پر غور کریں، یہ سارا ہنگامہ ان کی وجہ سے شروع ہوا ہے ، انہوں نے ایسا بل پیش کیا جس سے عقیدہ ختم نبوت کے منافی پہلو نکلتا تھا…وہ بڑی آسانی کیساتھ اس معاملے کو ختم کراسکتے ہیں، دھرنا دینے والوں کا بنیادی معاملہ انکا استعفیٰ ہے ، یہ ٹھیک ہے کہ اس طرح کے مطالبات کرکے استعفےٰ لئے جاسکتے ہیں نہ دیئے جاسکتے ہیں لیکن اب صورتحال ایسی پیدا ہوگئی ہے کہ دونوں شہروں کے لوگ پریشان ہیں، انکی پریشانیوں کو دور کرنے کیلئے زاہد حامد ایک قدم آگے بڑھائیں اور خود ہی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیں، اس وقت دھرنے والوں کا سب سے اہم مطالبہ انکا استعفیٰ ہی ہے ، معلوم نہیں حکومت کیوں اڑی ہوئی ہے، غالباً اس کی رٹ کا مسئلہ ہے ، لہٰذا آپ حکومت کو اور قوم کو اس صورتحال سے نکالیں اور فوراً مستعفیٰ ہو جائیں ، آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپکو اس کا اجر دیگا، اس وقت حکومتی رٹ کی بحالی یا عدم بحالی اہم مسئلہ نہیں ، اہم مسئلہ یہ ہے کہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے، ان کی مکمل تسلی و تشفی کرائی جائے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ورنہ نظریہ آرہا ہے کہ دھرنا یہیں تک نہیں رہے گا، یہ معاملہ مزید پھیل گیا تو پھر آپ سب کہاں کھڑے ہونگے اور کیا کریں گے، پیشگی معذرت کے ساتھ آپ سب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز و محترم جج بھی شامل ہیں۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved