تازہ تر ین

یوم شہادت بابری مسجد

توصیف احمد خان
آج وہ دن ہے جس سے ٹھیک پچیس برس پہلے ایودھیا (بھارت) میں صدیوں پرانی بابری مسجد کو شہید کردیاگیا ، صرف مسجد ہی شہید نہیں کی گئی بھارت کے طول و عرض میں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے جن میں سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کردیاگیا، محتاط طور پر تصدیق شدہ ذرائع یہ تعداد دوہزار بتاتے ہیں مگر آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی ۔
بابری مسجد کی تاریخ قدیم ہی نہیں تنازعات سے بھرپور بھی ہے جس میں مسلمانوں کا خون بہانے کے علاوہ طویل قانونی جنگ بھی شامل ہے جو ابھی ختم نہیں ہوئی اور بھارتی سپریم کورٹ نے گذشتہ روز سے اس کیس کی سماعت شروع کردی ہے ، سپریم کورٹ الٰہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کررہی ہے جو مسلمانوں اور ہندوو¿ں کے درمیان اب زمین کی ملکیت کا تنازعہ بن چکا ہے ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے معاملے کے عدالت سے باہر تصفیہ کیلئے ثالثی کی پیشکش کی تھی جو مسلمانوں نے مسترد کردی، اب سپریم کورٹ بابری مسجد کی شہاد ت کے ٹھیک 25برس بعد اس کیس کو سن رہی ہے اور اسے اس عدالت کی تاریخ کا مشکل ترین کیس قرار دیاجارہاہے۔
بابری مسجد 1528عیسوی یا 935ہجری میں مغل شہنشاہ بابر کے حکم پر تعمیر کی گئی تھی، اس کی تعمیر کی ذمہ داری ماہر تعمیرات میر بقائی کو سونپی گئی، جنہوں نے اسے دو برس میں مکمل کرلیا، ہندوو¿ں کادعویٰ ہے کہ جس جگہ بابری مسجد تعمیر کی گئی وہ رام کی جنم بھومی یا جائے پیدائش ہے، رام کو ہندو مت کا بانی قرار دیاگیا ہے ، کچھ بزرگوں کا خیال ہے کہ پانچ ہزار سال قبل مسیح پیدا ہونیوالا رام دراصل توحید پرست تھا، کچھ کے خیال میں رام کو نبوت بھی دی گئی تھی تاہم بعد میں اس کے پیروکار رام کی تعلیمات کے برعکس بت پرستی کرنے لگے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ہے تاہم یہ زیادہ تر بھارت تک محدود ہے اور باقی دنیا میں بہت کم ہندو پائے جاتے ہیں ۔
مسجد کی تعمیر ایک پہاڑی پر ہوئی جسے رامکوٹ یا رام کا قلعہ کہاجاتا ہے ، ہندوو¿ں کے دعوے کے مطابق یہ رام کی جائے پیدائش ہے اور اس جگہ رام کا مندر بھی موجود تھا تاہم وہ اس امر کے تاریخی شواہد پیش کرنے سے قاصر ہیں اور ابھی تک یہ محض سنی سنائی بات ہے ، غالباً اسی لئے ہندوو¿ں نے عدالتی دعوے میں اس کا ذکر نہیں کیا اور اسے محض اراضی کی ملکیت کے مقدمے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس میں ایک ہندو اور دو مسلمان فریق ہیں، الٰہ آباد ہائیکورٹ نے دونوں میں اراضی برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا جسے دونوں فریقوں نے قبول نہیں کیا اور وہ سپریم کورٹ میں چلے گئے ۔
ہم مسجد کی قدیم تاریخ کی طرف نہیں جاتے کیونکہ بات لمبی ہوجائیگی، قدیم تاریخ سے صرف ایک واقعہ کا ذکر کرینگے جب اسے رام کی جنم بھومی قرار دیاگیا، قصہ اسطرح ہے کہ مغل دربار کے ایک امیر جے سنگھ ثانی نے 1717ءمیں بابری مسجد کے ارد گرد کی جگہ خرید کر اسے جے سنگھ پورہ کے نام سے آباد کیا، اس دور کے نقشوں میں یہاں رام مندر دکھایاگیاہے جبکہ ہزاروں سال سے اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
بابری مسجد کی شہادت سے قبل اس سے باہر ایک چبوترہ تھا، جس پر ہندوو¿ں کے رامانندی فرقہ کا قبضہ تھاجو سواسوسال سے یہاں رام مندر کی تعمیر کیلئے قانونی جنگ لڑرہاہے ، چبوترے پر اس فرقے کی طرف سے کیرتن بھجن ہوتا، لوگ سیتا رسوئی یعنی سیتا کے باورچی خانے اور رام کے کھڑاون کے خیالی مقامات کے سامنے سر جھکاتے تھے، دسمبر 1949ءمیں ضلع مجسٹریٹ کے حکم پر یہاں رام کی بچپن کی مورتی رکھ دی گئی ، اس وقت نہرو وزیراعظم تھا، س کے حکم پر مورتی ہٹا دی گئی مگر مجسٹریٹ نے حکم نہ مانا بلکہ مسجد سیل کرکے وہاں نگران مقرر کردیا، یہاں پولیس کا پہرہ بھی لگا اورعدالت کے مقرر کردہ پجاری نے اس جگہ پوجا شروع کردی، ہندوو¿ں نے 1984ءمیں رام جنم بھومی کی آزادی کی تحریک شروع کردی ، جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی قائم ہوئی ، پھر معاملہ الٰہ آباد ہائیکورٹ میں چلاگیا، راجیو گاندھی کی وزارت عظمیٰ میں مسجد سے دو سو فٹ دور مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیاگیاجس سے مصالحت کی امید پیدا ہوگئی ، تاہم 1989ءکے انتخابات میں راجیوگاندھی ہارگئے اور وی پی سنگھ کی حکومت قائم ہوئی، اس دوران بی جے پی کے لیڈر ایڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے مبینہ رام مندر تک رتھ یاترا شروع کردی جس سے ایک سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا، 1991ءمیں کانگریس پھر برسراقتدار آگئی اور نرسیما راو¿ وزیراعظم بنے ، تاہم رام مندر تحریک کی وجہ سے اترپردیش میں بی جے پی کے کلیان سنگھ کی حکومت قائم ہوگئی، اس نے سپریم کورٹ میں حلف داخل کیا کہ مسجد کی حفاظت کی جائیگی ، چنانچہ عدالت نے وشوا ہندو پریشد کو وہاں پوجاکی اجازت دیدی، مگر بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کی ملک بھر میں مہم جاری رہی اور مسجد کی شہادت کے منصوبے بننے لگے، مسجد کی ساتھ ہی پریشد کو رام پارک کی تعمیر کیلئے 42ایکڑ زمین بھی دیدی گئی، ہندوو¿ں نے مسجد توڑنے کیلئے یہاں بیلچے ، کدالیں اور دوسرا سامان اکھٹا کرنا شروع کردیا، انہوں نے ارد گرد موجود مسلمانوں کے مکان بھی نذر آتش کردیئے، بی جے پی کے لیڈروں کے بیانات نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا، اب ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی نے اترپردیش کی حکومت سے سازباز شروع کردی۔
آخر کار 1992ءکا 6دسمبر آن پہنچا …ایودھیا میں ہندوو¿ں کا ایک ہجوم تھا، وہ بپھرے ہوئے تھے اور جے شری رام کے نعرے لگارہے تھے، دوسری طرف فیض آباد چھاو¿نی میں نیم فوجی دستے حکم کے منتظر تھے ، جبکہ فوج اور فضائیہ کی نگرانی بھی جاری تھی مگر صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ ان جنونی ہندوو¿ں کےخلاف طاقت استعمال نہیں کی جائیگی یعنی انہیں کھلی چھٹی دیدی گئی کہ وہ جو چاہیں کریں، یہاں بی جے پی کے لیڈروں کے علاوہ سادھو سنیاسی بھی موجود تھے، آر ایس ایس کے غنڈوں نے سر پر زعفرانی پٹیاں باندھ رکھی تھیں، پولیس ان سے پیچھے تھی، صبح ساڑھے دس بجے ایڈوانی اور جوشی وہاں پہنچ گئے ، ان کے ساتھ ہی جنونی ہندو بھی آگئے، پولیس نے لاٹھی چار ج کیا مگر معلوم ہوتا ہے کہ اُسے اسی قدر حکم تھا، اسی دوران ہندو مسجد کی طرف بھاگے اور رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے مسجد کے گنبد پر چڑھ گئے ، پھر وہاں یہ نعرہ گونجنے لگا ”ایک دھکا اور دو “ …”بابری مسجد توڑ دو“ ، اب لیڈروں کی بے جان اپیلوں کو کون سنتاتھا، یہ لوگ اوزار ساتھ لیکر گئے تھے لہٰذا انہوں نے مسجد کے گنبد پر زور آزمائی شروع کردی، جن کے پاس اوزار نہیں تھے وہ ہاتھوں سے ہی چونے اور کیری کو اتارنے لگے…مسجد کی حفاظت پر تعینات فورس نے کوئی کارروائی کئے بغیر اپنی بندوقیں کندھوں سے لٹکائیں اور اس جگہ سے دور ہٹ گئے …پھر کیا تھا…! جس کا جو جی چاہا اس نے کیا اور آخر کار یہ تاریخی مسجد ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
عینی شاہدوں کے مطابق شام پانچ بجے تک مسجد کے تینوں مینار توڑے جاچکے تھے، اس دوران وزیراعلیٰ کلیان سنگھ نے استعفیٰ دیدیا اور ریاست میں صدر راج نافذ کردیاگیا…مگر اب کیا ہوسکتا تھا…وزیراعظم نرسیما راو¿ سارادن تماشا دیکھتے رہے اور شام کو محض ایک مذمتی بیان پر اکتفا کیا، ہزاروں کارسیوکوں کیخلاف مقدمہ بھی درج ہوا، بی جے پی کے لیڈروں پر اشتعال انگیز تصاویر کا الزام لگا ، مگر مسجد تو اب موجود نہیں تھی، یہ تاریخی عمارت تو ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی اور ساتھ ہی وہاں عارضی رام مندر بھی تعمیر ہورہاتھا، نیم فوجی دستوں کو مسجد کی حفاظت کرنا تھی مگر وہ رام کی مورتی کی طرف عقیدت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
اور اب پچیس برس سے اس جگہ کا تنازعہ اپنی جگہ موجود ہے …دیکھتے ہیں بھارتی سپریم کورت کیا کرتی ہے ، لیکن افسوس عالم اسلام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ، شاید اسلامی غیرت و حمیت کا ہم خود جنازہ نکال رہے ہیں کہ اب مسلمان ملکوں میں ہندوو¿ں کے مندر تعمیر کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔
} افسوس …..افسوس …..صد افسوس …..!{
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved