تازہ تر ین

ضیاشاہد….یہ نصف صدی کا قصہ

اسداللہ غالب….مہمان کالم
ضیاشاہد کو صحافت شروع کئے آج ٹھیک پچاس برس ہو رہے ہیں، ان کاتقاضا ہے کہ میں ان کے جاننے والوں میں سے بہت پرانا ہوں، مقبول جہانگیر اور امین اللہ وثیر چل بسے، اس لئے میں بارش کا پہلا قطرہ بنوں، ضیا شاہد بھول رہے ہیں کہ مجھ سے پہلے ہمارے نوائے وقت کے ادارتی ساتھی محمد شریف کیانی ان کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، ا س لئے ان کا حق فائق تھا، مگرضیاشاہد سے جھگڑا کون کرے۔آخر عزت بھی کوئی چیزہوتی ہے۔
ضیاشاہد دوستوں کے دوست، محبت کا جواب ٹوٹ کر محبت سے دینے والے ا ور دشمنی میں قہر مان یا مولا جٹ ‘ خدا بچائے۔مبالغہ آرائی کی کوئی ڈکشنری دستیاب نہیں، ورنہ میں اس کو کنسلٹ کرتا اور ضیاشاہد کی پچا س سالہ صحافت کی کامرانیوں کا شاہنامہ لکھنے بیٹھ جاتا، تب بھی میں ضیاشاہد کی لیاقت، صلاحیت، ذہانت، فطانت اور توانائی کی مکمل تصویر کشی نہ کر سکتا۔اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ ایک کامیاب صحافی ہی نہیں، بلکہ کامیاب اخباری مالک اور منتظم بھی ہیں۔ کامیاب صحافی تو بہت سے ہیں مگر ایک اخبار، میگزین یا جریدے اور پورے گروپ کو چلا لینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور ضیاشاہد نے فرہاد کی طرح تیشہ پکڑا۔ برسوں خون پسینہ بہا یا اور بالآخر ایک ایسی جوئے شیر نکالی جس کی مثالیں صحافت کی تاریخ اور نصاب کا حصہ بنیں گی۔
کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ضیاشاہد سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئے، ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، شاید وہ پڑھنے لکھنے سے گریزاں تھے یاا ن کے والدین ان کو دینی تعلیم دلوانا چاہتے تھے، اس لئے پہلے تو انہوںنے مدرسوں کا رخ کیااور وہاںجو کچھ دیکھا، ا س سے ان کو ابکائیاں آنے لگیں اوراس کی دکھ بھری، تلخ داستان انہوںنے لکھنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی۔بہاولنگر کے قصبے فقیریئے والی سے وہ لاہور کیوں آئے مگر یہاں گزر اوقات کے لئے انہوںنے وال چاکنگ کا پیشہ اختیار کیا،وہ دیواریں سیاہ کرتے اور اپنے نصیب کی سیاہی کا درماں کرتے رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ صحافت کی گولڈن جوبلی منا رہے ہیں، مگر باون سال تو مجھے صحافت میں ہو گئے اور میں ان کو اسکول کے دنوں میں اردو ڈائجسٹ میں پڑھتا رہا، پھر میں نے اردو ڈائجسٹ کو جوائن کیا تو وہ دو روز قبل یہ ادارہ چھوڑ گئے تھے اور ہفت روزہ کہانی کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا، ا سکے لئے ورکر تو انہیں اردو ڈائجسٹ ہی سے مل گئے مگر سرمایہ کاری کیسے کی، یہ میرے لئے راز کی بات ہے، پھر وہ صحافت نکالتے رہے اور جب میں ان سے دوبارہ ملا تو وہ نوائے وقت لاہور کی ٹیم کا حصہ تھے مگر جلد ہی ریذیڈینٹ ایڈیٹر بن کر کراچی چلے گئے، واپس آئے تو ایک اور ادارے کی طرف رخ کیا جہاں انہوں نے اخباری فورم کی شروعات کیں،اس سے پہلے صحافت میں فورم کا رواج نہ تھا،انہوںنے فورم کو ایک ادارے کی شکل دی۔مالی ا عتبار سے میںنے انہیں کبھی سوکھا نہیں پایا، ہم دونوںمفلوک الحال تھے، کسی سے ادھار کپڑے لیتے اور کسی سے موٹر سائیکل، میں قسطیں ادا نہ کر سکا تو میری موٹرسائیکل واپس چھین لی گئی، پتہ نہیں انہوںنے چھننے سے کیسے بچائی کیونکہ قسطوں کی ادائیگی کے قابل وہ بھی نہ تھے۔
ڈیلی پاکستان نکلا تو ان کی تقدیر بھی بدلی اور انہیں اپنے جوہر اور زور بازو آزمانے کا موقع ملا۔ اس اخبار کے لئے سرمائے کی کمی نہ تھی، مگر میں یقین سے کہتا ہوں کہ دو بڑے اخباروں کے ہوتے کسی تیسرے اخبار کی گنجائش نہ تھی، ضیاشاہد نے محنت شاقہ سے کام لیا، ایک نئی ٹیم بنائی اور اس اخبار کو ایک مرتبہ تو درجہ اول کے اخباروں کے ساتھ کھڑا کر د کھایا۔ ضیاشاہد نے اس اخبار کو چھوڑا تو اس اخبار کی قسمت بھی روٹھ گئی؛ میں یہاں یہ کہوں گا کہ اخبار نویسوں کی میرے سمیت ایک کھیپ کی کھیپ ان کے ساتھ تھی مگر وہ میرا تھون دوڑ میں بہت آگے نکل چکے۔ میں اس کی ایک وجہ جانتا ہوں کہ انہوںنے پہلے تو الطاف حسن قریشی ا ور ڈاکٹرا عجاز قریشی سے اکتساب فیض کیا اور پھر انہیں لمبے عرصے کے لئے میرے مرشد جناب مجید نظامی کی راہنمائی اور کرم فرمائی میسرآئی، مجید نظامی نے ان کی صلاحیتوں کو ایسانکھارا، کہ ایک روز میں اورضیاشاہد اکٹھے مجید نظامی صاحب سے ملنے ان کے دولت کدے پرحاضر ہوئے تو انہوں نے ضیاشاہد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کے چھوڑ جانے کا ہر گز افسوس نہیں، میں آپ کی کامیابی کے لئے دعا گور ہوں گا اور میری خواہش ہوگی کہ میرے بعد آپ کا میری رمیزہ بیٹی سے مقابلہ ہو۔کہاںنوائے وقت ا ور کہاں روزنامہ خبریں مگر میرے مرشد کا بڑا دل دیکھئے کہ انہوںنے ان دونوں اخباروںمیں کوئی فرق نہیں کیا۔
میں یہ نہیں جانتا کہ خبریں کاا دارہ کھڑا کرنے کے لئے ضیاشاہد نے کونسی سائنس استعمال کی مگر یہ ادارہ نہ صرف اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو گیا بلکہ اس نے پاﺅں بھی پھیلائے ا ور بچے بھی جنے۔ دوپہر کی صحافت کے اجرا کا سہرا بھی ضیاشاہد کے سر ہے، اس سے قبل ایسے تجربے ضرور ہوئے ہوں گے مگر روز نامہ صحافت ا ور پھر نیاا خبار نے اپنی مارکیٹ بنانے میں زیادہ دیر نہ لگائی۔
ضیاشاہد کے طرز صحافت سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ یہ صحافت نہیں تھی بلکہ ڈنڈے سوٹے کی چاند ماری تھی۔روزانہ درجنوں نئے مقدموں کا سامنا اور پھر بھی اخبار چل رہا ہے۔ اگرا س اخبار کے ابتدائی دس برسوں کی شو خ و شنگ خبریں اکٹھی کر لی جائیں تو یہ کسی وکی لیکس یا پانامہ پیپرز سے کم سنسنی خیز نہیں۔اس کا نعرہ تھا جہاں ظلم وہاں خبریں چنانچہ یہ اخبار واقعی سے مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی آس کا مرکز بن گیا،ا ور وڈیرے،لٹیرے اس سے تھر تھر کانپنے لگے۔ اب اس اخبار نے یہ روش چھوڑ دی ہے اور سنجیدہ رویہ اپنا لیا ہے مگر نمک مرچ اور بارہ مصالحے کی چاٹ پھر بھی سنجیدگی سے استعمال کی جا رہی ہے۔
ان دنوں ضیاشاہد کی کتابیں دھڑا دھڑ شائع ہو رہی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ فروخت بھی ہو رہی ہیں اور ایک سال میں کئی کئی ایڈیشن آ گئے ہیں۔ ان ایڈیشنوں کازیادہ فائدہ تو ناشر کو پہنچتا ہے مگر دھوم ضیاشاہد کی یادداشت ا ور حافظے کی مچی ہوئی ہے کہ عہد نامہ عتیق کی باتیں بھی انہیں ازبر ہیں۔ پھر ان کی جان پہچان والے لوگوں کی فہرست بنائی جائے تو میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہوں گا کہ میں ان کا پکا حاسد ہوں، شناسائی کااتنا وسیع دائرہ۔ زندگی ان کو بھی وہی ملی جو ہم لوگوں کو ملی مگر وہ سبھی کو ملے ا ور سبھی سے مل کر رہے۔
فیملی کے اعتبار سے بھی وہ خوش قسمت ہیں، ان کی بیگم یاسمین بھابھی تعلیم یافتہ اور ان کی دوست اور دست وبازو۔ ان کی بیٹی نوشین بھی انہی کے ساتھ دفترمیں۔ دو بیٹے عدنان ا ور امتنان بھی والد کے ہی زیر سایہ۔ عدنان کا سانحہ کسی کوبھی کبھی نہیں بھولے گا۔ یہ ضیاشاہد کے خاندان کا دکھ نہیں، صحافت کا دکھ ہے کہ ایک باصلاحیت صحافی جواںمرگی کا شکار ہوا، ضیاشاہد کی تو جیسے کمر ہی ٹوٹ گئی، وہ پہلے ہی بیمار پڑے تھے اور ملکوں ملکوں علاج کرواتے پھر رہے تھے مگر آفریں ہے ضیاشاہد کے حوصلے پر کہ انہوںنے بیماری کو بھول کر عدنان کویادرکھا، جومحنت عدنان کر سکتا تھا وہ ضیاشاہد نے کی اور امتنان نے والد کے حصے کا کام نبٹایا۔ اس طرح یہ ادارہ لمحہ بھر کے لئے نہیں لڑکھڑایا۔ شدید بیماری کے باوجود ضیاشاہد آج بھی اخباراور ٹی وی کو پوراوقت دیتے ہیں،اور کئی ایڈیٹروں اور مالکان سے دگنا وقت دیتے ہیں، یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔
ضیاشاہد ہٹ کے پکے ہیں۔ جو عزم کر لیں، اسے پورا کرنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہارنا، شکست ماننا، حوصلہ ٹوٹنا، دل شکستہ ہونا،مورچہ چھوڑنا۔ پسپائی اختیار کرنا، ان کی عادت میں شامل نہیں۔ ایک لفظ ہے….نہیں…. یہ ان کی زندگی کا ماٹو ہے۔ میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ انہوںنے کاتب تقدیر کو بھی صاف….نہیں….کہہ دیا ہے۔ وہ جس بیماری کا شکار ہوئے بلکہ کس کس بیماری کا شکار نہ ہوئے، اس سے جانبر ہونا صرف ضیاشاہد کا کام تھا۔
ضیاشاہد، ایک انسان، ایک صحافی، ایک اخباری مالک اور ایک دوست کی حیثیت سے لیجنڈ کا درجہ رکھتے ہیں۔وہ سیمابی طبیعت کے مالک ہیں۔جب تک کچھ کر کے دکھا نہ دیں، ان کو چین نہیں آتا،منصوبے بنانا اور انہیں تکمیل تک پہنچانے کا ہنر بھی کوئی ا ن سے سیکھے۔
ایک اچھے اور ذمے دار باپ کی طرح انہوںنے امتنان شاہد کی تربیت پر بے حد توجہ دی ہے۔امتنان ہر لحاظ سے ضیاشاہد کا پرتو ہے، بس اسے باپ کی طرح جن بننا ہے، وہی الہ دین کا جن جو ہر مہم سر کر لیتا ہے، مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔
ضیاشاہد کے پچاس برسوں کے قصے کی میں ایک سمری ہی پیش کر سکا ہوں۔ پوری کہانی توا سکے سارے دوست مل کر بھی لکھنے بیٹھیں تو نہ لکھ سکیں، مبالغہ آرائی کی ڈکشنری بھی استعمال کر دیکھیں تو ضیاشاہد کی شخصیت کا احاطہ نہ کر پائیں،کہ ضیاشاہد بوقلموں، ہمہ پہلو اور ہفت اقلیم شخصیت ہے۔ اسے صحافت کی گولڈن جوبلی مبارک ہو۔میں یہاں ایک گواہی بھی ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں کہ ضیاشاہد نے صحافت کو اوڑھنا بچھونابنایا، ایک مرحلے پر سیاست کی طرف توجہ ضرور کی مگر انہیں جلد ہی محسوس ہو گیا کہ دو کام اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ آج نہ ان کی شوگر مل ہے، نہ ٹیکسٹائل مل، نہ کوئی پٹرول پمپ یا سی این جی اسٹیشن۔ نہ زمینوں کے مربعے، نہ کوئی فارم ہاﺅس۔وہ اسی چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جو انہوں نے نوائے وقت کے دنوں میں تعمیر کیا تھا۔ اللہ! اللہ!استغنا کی یہ معراج۔
(بشکریہ: نوائے وقت)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved