تازہ تر ین

پاکستان کا وقار

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
وہ پھر آگئے ہیں۔ وفد بھی ہمراہ ہے۔ آئیں کیوں نہیں؟ پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی جس طرح سے انہوں نے امریکی افواج کو ویت نام اور کمبوڈیا میں پھنسا لیا تھا آج کل انہوں نے ویسے ہی اپنی افواج کو افغانستان میں پھنسوا لیا ہے۔ نیٹو افواج کے لئے افغانستان ایسی سانپ کے منہ میں چھپکلی ہے جس کو کہ نا تو وہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ اپنی تمام تر قوت اور بہترین ہتھیاروں کے باوجود وہ افغان کلاشنکوف کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں۔ آج بھی وہ قلعہ بند ہوکر فقط شہری افغانستان تک محدود ہیں‘ جبکہ وہاں کی وسیع و عریض وادیاں اور بلندوبالا پہاڑوں پر مجاہدین کھلم کھلا دندناتے پھر رہے ہیں۔ پچھلی صدی ہی میں دیکھیں تو سویت یونین کی سرخ افواج کی تمام یورپ میں جنگ عظیم دوئم کے بعد دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اپنی فاتحانہ ریس میں وہ پورے برلن پر قابض ہونے کو ہی تھے کہ اتحادی افواج میں ایک معاہدہ طے پا گیا اور ان کو نصف شہر پر ہی قناعت کرنا پڑ گئی۔ اپنی ویسی ہی فاتحانہ مستی میں سرخ افواج نے اگلے ہی مہینوں میں اپنے شمال میںواقع ایک چھوٹی سی ریاست فن لینڈ پر حملہ کردیا۔ خیال تھا کہ وہ ریاست چوبیس گھنٹوں ہی میں روند ڈالی جائے گی مگر تاریخ گواہ ہے کہ جس بے جگری سے فن لینڈ کی ریاست اور عوام نے اپنا دفاع کیا‘ اس سے سویت یونین کے چھکے چھوٹ گئے۔ سرخ افواج کا سارا غرور خاک میں مل گیا اور بعد از کوشش بسیار اور نقصان ہائے عظیم ایک معاہدے کے تحت وہ جنگ بند ہوئی اور ریاست فن لینڈ اپنا وجود اور آزادی بحال رکھنے میں کامیاب رہی۔ کچھ ایسا ہی حال آج کل افغانستان اور وہاں پر موجود امریکی اور نیٹو افواج کا ہوچکا ہے۔ امریکی افواج اور ان کی جنگی حکمت عملی افغانستان میں شکست سے دوچار ہیں۔ اس لحاظ سے امریکی ملٹری اور طاقت کی شہرت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ دنیا کی سب سے مہنگی پلنے والی افواج کی آج کل خستہ حال افغان مجاہد شہری کے آگے گھگھی بندھ چکی ہے اور مایوس و نامراد ہوکر اپنے اپنے دفاعی اڈوں پر اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہیں۔ نیٹو افواج کو یوں مجبور و لاچار دیکھ کر آج کل جہاں روس و چین وغیرہ مل کر روئے زمین پر ایک دفاعی بیلنس قائم کرنے کی تگ و دو میں جت چکے ہیں وہیں پر اب کوریا و ایران وغیرہ بھی آنکھیں دکھانا شروع ہوچکے ہیں۔ فن لینڈ کی طرز پر بلکہ شمالی کوریا تو صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے ذرا بھی مرعوب دکھائی نہیں دیتا اور وہ تواتر سے ایٹمی پروگرام اور میزائل سسٹم کو بڑھوتری دیتے جارہے ہیں۔
اب ذرا کچھ پیچھے نظر کریں تو ہمارے قارئین کے علم میں ہے کہ افغانستان پر چڑھ دوڑنے سے قبل اپنی رائے عامہ کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے امریکیوں نے کس قدر بہیمانی سے نیویارک شہر میں اپنی دو بلڈنگوں کو نائن الیون پر زمین بوس کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا۔ اس ڈرامے بازی سے امریکی شہریوں میں غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑ گئی تھی اور اسی لہر کے پردے میں امریکی افواج نے سارے افغانستان پر اپنے ڈیزی کٹر بم گرا کر ”تورا بورا“ بنا دیا تھا۔ لہٰذا اتنے بڑے سی آئی اے کے ڈرامے کے بعد جب کہ امریکی اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اس عمل میں زرکثیر بھی لگ چکا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ کل کو یہی امریکی عوام ایسا گھناﺅنا کھیل کھیلے جانے کی بابت سوال بھی اٹھائے گی۔ امریکی وزیروں کے یہ دورے دراصل اس بات کا پیش خیمہ ہیں کہ اب وہ افغانستان سے غیرت بچا کر نکلنا بھی چاہتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ گرانے کے لئے ریاست پاکستان کا انتخاب کررہے ہیں تاکہ امریکی عوام اور دنیا کو منہ دکھانے کے قابل رہیں۔ امریکی اپنی رعونت میں اس طرح سے پاکستان کو ایک سافٹ ٹارگٹ سمجھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں دراصل ریاست پاکستان کی پالیسی وہی ہونی چاہئے جو دو ماہ قبل پاکستان کے آرمی چیف نے اپنے بیان میں دہرائی تھی۔ انہوں نے آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب میں پاکستانی قوم اور بالخصوص افواج پاکستان کی شہادتوں کو گن کر دنیا کو ”ڈومور“ کا کہا تھا کیونکہ ہمارا وطن اس نام نہاد تھونپی گئی جنگ دہشت گردی میں پہلے ہی بے حدوحساب جانی اور مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔ کیا یہ درست نہیں کہ اس غیروں کی جنگ میں ملوث ہوکر اگر ہم نے سویلین سیکٹر میں پشاور سکول کے بستے اٹھائے معصوم بچوں کا خون دیکھا ہے تو دوسری طرف افواج پاکستان کے ابھی جوانی کی دہلیز پر پاﺅں رکھتے نوجوان افسروں اور سپاہیوں کی لاشوں کو بھی قومی پرچم میں لپٹے دیکھا ہے اور یہ سارا کچھ کیونکر ہوا؟ کیونکہ ایسی قربانیوں سے بھی سفید چمڑی کے امریکی اور نیٹو فوجیوں کی جانیں بچ سکتی ہیں۔ بہرحال! ابھی تلک تو جو ہونا تھا وہ چکا۔ ابھی یہ جو وزیر دفاع موصوف تشریف لائے ہیں‘ ان کے آتے ہی ہمارے وزیراعظم بمعہ اپنے دیگر وزیروں کے لائن لگاکر بیٹھ گئے ہیں۔ پروٹوکول عالمیہ کے مطابق کسی وزیر دفاع کی باضابطہ بات چیت کسی وزیر دفاع سے ہی ہونی چاہئے تھی۔ بعد میں رسمی طور پر وزیراعظم یا صدر مملکت سے بھی ملاقات کی جاسکتی تھی۔ وہ بھی اگر صدر یا وزیراعظم کے پاس وقت ہوتا تو۔ اسی طرح سے کسی بھی بیرونی وزیر یا امیر کو ہوئی اڈوں پر اسی امیگریشن اور کسٹمز حکام کی تلاشی کے واسطے سے گزارنا بھی ضروری ہوتا ہے جیسے کہ ان کے ممالک میں ہمارے وزیر امیر گزرتے ہیں۔ بیان کرنے کی حد تک تو یہ ایک چھوٹی بات معلوم ہوتی ہے مگر کسی ملک کے قومی وقار کے لئے ایسے انداز نہایت ہی ضروری ہوتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے کسی بھی دورے سے ہماری حکومت کو نہ تو متاثر ہونا چاہئے اور نہ ہی مرعوب۔ مگر یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم امریکی ڈالروں کو دھتکار دیں گے اور قرضے اٹھانے سے پکی توبہ کرلیں گے۔ یہ کام ہمارے ان حاضر سیاستدانوں کے لئے تو از بس مشکل ہوگا جن کا کہ سب کچھ باہر ہے اور ہماری افسر شاہی کے منہ کو تو پہلے سے ہی عوام پاکستان کے خون اور امریکی ڈالروں کا چسکا پڑ چکا ہے۔ ایسا سٹینڈ تو کوئی حال مست درویش ہی لے سکتا ہے۔ خواہ وہ افسر ہو یا سیاستدان۔ آج کل جو احتساب کی بات چل نکلی ہے تو ہمیں امید ہے کہ اس کے فیصلوں سے بھی ہر اس نوکر شاہ کو نوکری سے فی الفور فارغ کردیا جائے گا جن کی کہ مال یا اولاد باہر ہیں اور جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے تو ان کا محاسبہ تو بیوروکریسی سے بھی کہیں بڑھ کر ہونا چاہئے۔ اگر اس مقصد کو پانے کے لئے کسی آئینی ترمیم وغیرہ کی ضرورت پڑے تو وہ بھی کر گزرنی چاہئے۔ اس کے بعد جو بھی ایسی چھاننی سے چھن کر اوپر آئے گا وہی یقیناً نہ صرف پاکستان کو ایک تابناک مستقبل دے پائے گا بلکہ وہی رہنما وقار پاکستان تئیں عزت و اقبال کا پروٹوکول بھی نبھائے گا اور یہ دن راقم کو اب کچھ دور نظر نہیں آتا کہ دنیا پاکستان کو اپنے پورے قد سے کھڑے دیکھے گی۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved