تازہ تر ین

اوبامہ،اسامہ اور ہماری لاعلمی!

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
نئی دہلی میں ”ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمٹ“ 2017ءجاری تھی، امریکہ کے سابق صدر بارک اوبامہ کے ساتھ ہندوستان کے کھرب پتی تاجر مکیش امبانی، حزب اختلاف جماعت کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سمیت سپر ماڈل ناﺅمی کیمبل اور بڑی تعداد میں بھارت اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد اس تقریب میں موجود تھے، بارک اوبامہ نے اپنے خطاب میں ایک ایسی ”پہیلی“ کا جواب دیا جس کا واضح جواب ابھی تک پاکستان کے عوام و خواص کو بھی آج تک مل نہیں پایا اور گزشتہ چھ سال سے اس کا جواب گومگو میں ہے۔ سابق صدر اوبامہ نے کہا، پاکستان القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے لاعلم تھا، دنیا جانتی ہے کہ دو مئی 2011 کو اوباما کے دور صدارت میں امریکہ کی سپیشل فورسز نے بلال ٹاﺅن ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی قیام گاہ پر آپریشن کیا جس کے نتیجہ میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی۔ ہندوستان کا موقف گزشتہ چھ سال سے یہی رہا ہے کہ ”پاکستان نے اسامہ کو چھپایا ہوا تھا“ مذکورہ سمٹ میں بھی اوبامہ سے یہی سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں اوبامہ نے کہا ”ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حکومت پاکستان اسامہ کی ایبٹ آباد موجودگی سے آگاہ تھی“۔ سردست تو کہا جا سکتا ہے کہ سابق صدر کے اس جواب سے ہندوستان کا پاکستان پر الزام تو غلط ثابت ہوگیا لیکن دوسری طرف اب بال پاکستان کی کورٹ میں بھی آ چکی ہے کیونکہ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے عوام کو اس معاملہ میں اپنا واضح موقف دے۔
2مئی 2011ءکی صبح امریکی کمانڈوز نے جب ایبٹ آباد میں آپریشن کیا تو پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی ادارے اس سے باخبر تھے اور امریکی حکومت کو پاکستان کی طرف سے یہ اجازت دی گئی تھی؟ یہ وہ کلیدی سوال ہے جس کا جواب ابھی تک تشنہ ہے۔ پاکستان کی طرف اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں آیا تو اس سے کئی ایک دیگر سوال پیدا ہوں گے، قطع نظر حکومت پاکستان کے موقف کے اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کا جواب پاکستان کے دو سفیروں سے لینے کی ضرورت ہے، 2مئی کو ایبٹ آباد میں ہونے والا یہ آپریشن حالیہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا، دنیا بھر کی سیاست اور صحافتی دنیا میں ایک انتشار کی کیفیت تھی، پاکستان کے دنیا بھر میں جہاں جہاں سفارتخانے ہیں وہاں میڈیا کا ایک جم غفیر تھا جو ہمارے سفراءسے یہی سوال پوچھنا چاہتا تھا، ان دنوں امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی تھے، حقانی نے ایبٹ آباد آپریشن کے فوری بعد میڈیا کو بیان دیا کہ مجھے اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کو اس آپریشن کی کارروائی کا پہلے سے علم تھا، یہ بیان منظر عام پر آیا تو پاکستان کے اندر یہ سوال اٹھا کہ اگر ہمیں علم تھا تو کیا ہم نے امریکی ایجنسیوں کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ ہماری زمین پر آ کر اس قسم کی کارروائی کریں؟ اسی روز لندن میں بھی پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے ”بی بی سی“،سی این این، بھارت کے این ڈی ٹی وی اور برطانوی اخبارات کو انٹرویوز دیتے ہوئے ببانگ دہل اعتراف کہا کہ پاکستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو آٹھ سے دس روز قبل ایبٹ آباد آپریشن کا علم تھا، این ڈی ٹی وی کی اینکر برکھادت کو اگلے ہی روز انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہمیں اس کارروائی کا نہ صرف علم تھا بلکہ ہم نے و امریکیوں کو ایبٹ آباد پہنچنے میں مدد دی تھی ورنہ وہ کبھی وہاں پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ اور یہ کہ ہماری تو ایجنسیاں یہ کارروائی ہونے سے پہلے اور کارروائی کے وقت بھی اس آپریشن کی مانیٹرنگ کر رہی تھیں۔ واجد شمس الحسن نے تو این ڈی ٹی وی کو یہاں تک کہا کہ دو مئی سے چند روز قبل آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے امریکہ کادورہ کیا تھا۔ وہاں اسامہ پر ریڈ کرنے کا معاملہ ڈسکس ہوا تھا!! انہوں نے کہا میں خود وہاں موجود نہیں تھا لیکن ظاہر ہے کہ اس قدر اہم معاملہ تھا اس لیے ضرور ڈسکس بھی ہوا ہوگا اور پلان بھی بنایا گیا ہوگا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ واجد شمس الحسن اور حسین حقانی کو یہ معلومات کہاں سے حاصل ہوئیں ان دونوں کو یہ اجازت کس نے دی کہ وہ اس انتہائی سنجیدہ معاملہ پر اپنے طور سے اس قسم کی گفتگو کرسکیں؟
پاکستان کے یہ دونوں سفیر اب بھگوڑے ہیں، دنیا کی تاریخ میں شاید یہ واحد مثال ہو کہ کوئی شخص کسی ملک کا ہائی کمشنر ہو لیکن وہ اپنے ملک نہ جائے بلکہ عدالتوں میں بلانے پر بھی صاف جواب دے کہ میں نہیں آ سکتا۔ واجد شمس الحسن نے یہی کہا اور اب وہ ریٹائرمنٹ کے بعد لندن مقیم ہے اسی طرح حسین حقانی بھی ایک واقعہ کے بعد ایک دفعہ پاکستان گیا، وزیراعظم ہاﺅس میں چھپا رہا اور پھر اس کی پیپلزپارٹی حکومت نے اسے امریکہ فرار کروا دیا۔ واجد شمس الحسن نے اس سارے قصے میں پاکستان کی کسی حکومتی شخصیت یا کسی سول ادارے کا نام نہیں لیا بلکہ فقط پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں اورآئی ایس آئی کے چیف جنرل شجاع پاشا کا نام لیا، سوال یہ بھی ہے کہ خصوصی طور پر اس وقت جب افواج پاکستان، سول ادارے اور پاکستان کی سبھی سکیورٹی ایجنسیاں سخت دباﺅ میں اور قدرے شرمندہ بھی تھیں ایسے حالات میں آخر وہ کون تھا جوان دونوں بھگوڑے سفیروں کو اس قسم کی سلیپنگ سٹیٹمنٹ دینے کیلئے کہہ رہا تھا، انہیں کس نے بریف کیا؟ اس معاملے میں ایک اور دلچسپ صورتحال بھی رہی، سابق وزیراعظم نواز شریف جوان دنوں اپوزیشن میں تھے نے فوری حکومت سے مطالبہ کیا کہ واجد شمس الحسن کی گوشمالی کی جائے اور اس سے فوری استعفیٰ بھی لیا جائے نیز نواز شریف نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت واضح طور پر بتائے کہ واجد نے سچ کہا یا جھوٹ بولا لیکن اسی واجد شمس الحسن کو نواز شریف نے 2013ءمیں وزیراعظم بننے کے بعد بھی تقریباً ایک سال تک برطانیہ میں بدستور ہائی کمشنر بنائے رکھا چنانچہ نواز شریف نے بھی آج تک اپنی اس ”ادا“ کا جواب نہیں دیا۔سابق صدراوبامہ کی مذکورہ وضاحت کے بعد پیدا ہونے والے کئی ایک سوالات میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے فوری بعد صدر پاکستان آصف علی زرداری نے امریکی حکومت کو اس کامیابی پر مبارکباد کا خط کیوں لکھا۔ وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے اس آپریشن کو ”گریٹ وکٹری“ کیوں کہا؟ اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مارک مولن کو مبارکباد کیوں دی؟ دو مئی کو ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی حتمی یا دو ٹوک موقف تو سامنے نہ آیا لیکن حکومت کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ”ایبٹ آبادکمیشن“ ضرور تشکیل دے دیا یہ کمیشن دو سال تک واجد شمس الحسن اور حسین حقانی کو بھی سمن کرتا رہا لیکن ناکام رہا، دو سال بعد کمیشن نے 3000 سرکاری دستاویزات اور سینکڑوں گواہوں کے بیان قلمبند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ اس وقت وزیراعظم پرویز اشرف کے حوالے کر دی لیکن اس رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا، جبکہ بعدازاں الجزیرہ ٹیلی ویژن نے 8 جولائی 2013 کو یہ رپورٹ ریلیز کردی!!
”میموگیٹ سکینڈل“ کی اہم شخصیت منصور اعجاز نے بھی ایبٹ آباد کمیشن پر ”نیوز ویک“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سوال اٹھایا تھا کہ اس بات سے پردہ اٹھایا جائے کہ یکم مئی 2011 کی شام یعنی مذکورہ آپریشن سے کوئی 12گھنٹے پہلے حسین حقانی نے واشنگٹن سے براستہ اسلام آباد اور لندن تک کا سفیر کیوں کیا۔ اس سے پوچھا جائے کہ اگلے روز صبح ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر ہونے والی ریڈ کے معاملہ پر لندن میں اس نے کس کس سے ملاقاتیں کیں اور پھر حقانی نے برطانیہ کے چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کیوں کی کیا اس نے لندن کو یہ زرداری کا یہ پیغام دیا تھا کہ اگلے روز اسامہ بن لادن پر ہونے والی ریڈ کے بعد برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات پاکستان کے ساتھ کیسے ہونگے؟واجد شمس الحسن نے اوپر بیان کیے گئے اپنے مذکورہ انٹرویو کے بعد ایک اور پینترہ بدلا اور کچھ عرصہ بعد سی این این کو ایک انٹرویو دیا کہ پاکستان کی حکومت کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا قطعی علم نہیں تھا، لیکن پاکستان مکمل اندھیرے میں بھی نہ تھا مگر دو مئی کے آپریشن کا ہمیں بالکل علم نہیں تھا یہ تو امریکیوں نے اپنی ایڈوانس ٹیکنالوجی کی مدد سے اسامہ کے ٹھکانے کا پتہ لگایا، لہٰذا یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اب واجد شمس الحسن کو اپنا بیان بدلنے کیلئے کون بریف کر رہا ہے؟ حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کیلئے ”میموگیٹ“ اور ”ایبٹ آباد“ آپریشن کے واقعات پر سوال ہی سوال ہیں جن کے جوابات حکومت کو آخر کار دینے ہی پڑیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان واقعات کے سرکردہ ایکٹرز، ہدایتکاروں اور مصنفین کو بھی سامنے لانا ہوگا، آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور جنرل شجاع پاشا تو ملک میں موجود ہیں صرف دو بھگوڑے سفیروں کی پاکستان واپسی ممکن بنائی جائے تو پاکستان کے عوام کو پس پردہ حقائق سے آگاہی ہو سکتی ہے، ورنہ سینکڑوں دیگر معاملات کی طرح ”میموگیٹ“ اور ”ایبٹ آباد آپریشن“ بھی وقت کی دھول میں گم گشتہ ماضی بن جائیں گے۔
(معروف صحافی لندن میں خبریں کے بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved