تازہ تر ین

یہ انتظار کی تپتی سیاہ لاشیں

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق \دِل کی بات
فنونِ لطیفہ کی ہر اصناف پر قدرت رکھنے والے لوگوں کوقدرت نے بے بہا ذہانت سے نوازا ہوتا ہے۔وہ لوگ جو صرف یک فنی ہوں اپنے اختصاص کی وجہ سے دنیا میں نام پیدا کر لیتے ہیں مگر وہ لوگ جو ہر اصناف پر طبع آزمائی فرماتے ہوں اور انہیں غزل، نظم، ناول، افسانہ، سفرنامہ، خود نوشت، انشا پردازی، خاکہ نگاری، ڈرامہ، طنز و مزاح، مزاحمتی ادب، تنقید و تحقیق اور انگریزی انشا پردازی میں ید طولیٰ حاصل ہو یہ لوگ آپ کو ادبی دنیا میں خال خال ملیں گے۔اپنے نام کی طرح خوبصورت عادتوں کا یہ دلفریب انسان گو جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہے مگر اس کی یادوں نے شعر و ادب کی دنیا کو متاثر کیا۔ اس نایاب ہیرے کو دریافت کرنے والا جوہری ہم سب کے نزدیک خوش نظری اور احترام کا ہی سزا وار ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق چیئرمین فخر زمان پر پنجابی ادب کو بجا طور پر فخرہے جنہوں نے مادری زبان کو زندہ رکھتے ہوئے ہر اس ادیب کو زندہ کر دیا ہے جس نے پنجابی زبان میں اپنی تخلیقات کے ذریعے دنیا کو متاثر کیا ہے۔ فنونِ لطیفہ کی ہر اصناف پر عبور رکھنے والے زمرد ملک جو 40 سال پہلے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے اُن کی سلیقہ شعار بیٹی قرة العین ملک مرحو م کے بکھرے ہوئے ادبی فن پاروں کو یکجا کرکے کتابی صورت میں منظر عام پر لے آئی ہے اور آج اسی کتاب ”زمرد ملک“ کے حوالے سے ہی ایک تقریب رونمائی اکادمی ادبیات اور تفکر رائٹر فورم کے اشتراک سے انعقاد پذیر ہوئی جس کی صدارت فخرزمان نے کی۔ مہمان خاص لندن میں مقیم خاتون ادیبہ شاعرہ محترمہ مہ جبیں غزل تھیں زمرد ملک کی نواسی نمرہ ملک بھی موجود تھیں زمرد ملک کی ادبی خدمات کا احاطہ کرنے والوں میں ملک کے نامور نقاد، ادیب، شاعر اور محققین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ زمرد ملک نے دنیا جہاں کے ادیبوں اور شاعروں کے کلام کا ہر زبان میں مطالعہ کیا تھا اور اُن کی شاعری پر بھی اُن کے اثرات بدرجہ اُتم موجود ہیں۔ انگریزی ادب کی گہرائی اور گیرائی آپ کے پنجابی ادب میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔ آپ نے طویل عرصہ تک مرے کالج سیالکوٹ میں پڑھایا اورپھر آپ لاہور آگئے۔ آپ نے اپنی حیات مستعار میں بہت زیادہ کام کیا۔ آخر میں آپ نے اُس صنف کو چھوا جو ہماری سب کی مادری پہچان ہے۔ میری مراد پنجابی ادب سے ہے۔ آپ سے دریافت کیا گیا تھا کہ آپ انگریزی ادب کے بعد پنجابی ادب کی طرف کیسے آگئے تو آپ نے کہا کہ میں نے رات کو جو خواب دیکھا تھا وہ پنجابی زبان میں ہی دیکھا اس لئے اب میں تعبیر نکال رہا ہوں او رپنجابی زبان میں غزل، نظم اور دوسری اصناف پر طبع آزمائی کر رہاہوں۔ پنجابی زبان کے حوالے سے جو الزامات لگائے جاتے تھے کہ اس میں غزل کا کوئی مقام نہیں۔ زمرد ملک نے وہ تمام خدشات زائل کر دیئے اور پنجابی زبان میں غزل کو جو عروج عطا کیا ہے وہ زمرد ملک کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ پنجابی زبان اپنے دامن میں استاد دامن سے لے کر زمرد ملک تک ہی کو نہیں بلکہ ہمارے عہد کے جدید نسل کے شاعروں جو جدید ترین طرز و انداز میں غزل پر قدرت رکھتے ہیں۔ زمرد ملک جیسے نایاب ادیب کو جس طرح ڈاکٹر صغریٰ صدف اور ڈاکٹر شاہدہ دلاورنے یاد کیا اس سے ہمیں مرحوم کی زندہ ادبی اصناف کی روح پرور تحریروں کو پڑھنے میں دلچسپی کی تحریک ملی ہے۔ درجن سے زائد مقررین نے زمرد ملک کی کتاب کے حوالے سے گفتگو کی اور اُن کی شاعری کا انتخاب بھی سامنے آیا۔ اردو غزل کے حوالے سے یہ شعر بہت پسندکیا گیا:
یہ انتظارکی تپتی ہوئی سیاہ لاشیں
کلی کلی کو پرکھ، رونق چمن پہ نہ جا
غلام حسین ساجد، مہ جبیں غزل، ممتاز راشد لاہوری، دانش عزیز اور ممتاز ادیب و خطیب منشا قاضی نے زمرد ملک کو ایک گوہر نایاب قرار دیا اور اُن کی ادبی تحریروں میں انمول موتیوں کی مالا پرو کر سامعین کے ذوق سماعت میں ڈال دی۔ اکادمی ادبیات لاہور کے ڈائریکٹر عاصم بٹ نے استقبالیہ کلمات میں تمام ادیبوں شاعروں کا خیر مقدم کیا اور زمرد ملک کے بارے میں مختصر تعارف پیش کیا۔ دوسرے مرحلے میں مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں تمام شعرائے کرام نے پنجابی اور اردو میں اپنا کلام پیش کیا اور داد و تحسین کے بے بہا خزانے مسلسل وصول کیے۔ غلام حسین ساجد، مہ جبیں غزل کی غزل پر سامعین نے بڑی داد دی اور ایک سے بڑھ کر ایک شاعر نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا یہ سلسلہ رات 8 بجے تک جاری رہا اور وقار فخر زماں کے صدارتی کلمات پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
(معروف شاعرہ اور کالم نگار ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved