تازہ تر ین

جینا ہوگا ، مرنا ہوگا …دھرنا ہوگا

توصیف احمد خان
پیپلزپارٹی نے اسلام آباد میں شو لگایا، بہت اچھا شوتھا، جلسے میں کافی تعداد میں لوگ آئے ، ان میں جوش بھی تھا اور جذبہ بھی ، آخر کیوں نہ ہوتا پیپلزپارٹی کے جیالے جو ٹھہرے…یہ عجیب بات ہے ہمارے ملک میں ہر پارٹی کے کارکنوں کو صفات کے حوالے سے ایک نام مل گیا…جیالے کے مقابلے میں متوالے اور ان دنوں جنون کے مقابلے پر ”ن“، آگے معلوم نہیں کس کس کو کیا نام ملے گااور ناموں کا مقابلہ شروع ہوگیا تو ملک میں ایک طوفان سا آجائیگا کہ الیکشن کمیشن کی لسٹ پر سیاسی جماعتوں کی فہرست سینکڑوں میں ہے …ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ ملک کی مقبول ترین جماعت ہے اور اگلا الیکشن وہی جیتے گی، ایسے میں چند بڑی جماعتوں کو اس قسم کے دعوے سے دستبردار ہی ہوجانا چاہئے ، ان درشنی پہلوانوں کو میدان میں اترنے دیں ، دیکھتے ہیں ان کے رنگ کیا ہیں، ویسے اپنی ذات کی طرح پارٹی کے حوالے سے شیخ رشید منفرد ہیں کہ وہ برملا تسلیم کرتے ہیں میری پارٹی چھوٹی ہے ، حقیقت پسندجو ٹھہرے۔
تو اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کا شو بہت اچھا تھا، ایک دور تھا اس جماعت کو وفاق کی علامت سمجھا جاتا تھا کہ یہی وہ جماعت تھی جس کو چاروں صوبوں میں قریباً یکساں پذیرائی حاصل تھی ، اب کیا صورتحال ہے …! قارئین خود فیصلہ کرسکتے ہیں ، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے پھر سے وہی مقام اور مرتبہ عطا کرے، اگرچہ بظاہر یہ مشکل سے بھی آگے ناممکن نظر آرہاہے کہ اس پارٹی کی موجودہ قیادت جوڑ توڑ کی کچھ زیادہ ہی صلاحیت رکھتی ہے ، یہ جوڑ توڑ بعض اوقات اس طرح گڈ مڈ ہوجاتے ہیں کہ بیچارے عوام ان میں الجھ کر رہ جاتے ہیں، شاید اس لئے تو عوام نے ان سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔
اسلام آباد کے جلسے میں بہت سی باتیں ہوئیں، نوازشریف کے مینڈیٹ کو جعلی قرار دیاگیا اور جوڑ توڑ کے ”بادشاہ“ نے اعلان کیا کہ آئندہ وہ انکے کام نہیں آئیںگے…جعلی مینڈیٹ کا تو ہمیں علم نہیں ، ہاں! اگر پیپلزپارٹی ہی کے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اسلم رئیسانی کے فارمولے پر جائیں تو کہنا پڑیگاکہ اصلی ہویاجعلی مینڈیٹ تو مینڈیٹ ہوتا ہے ، معلوم نہیں آصف زرداری صاحب کے نزدیک اسکی کیا اہمیت اور حیثیت ہے…جلسے میں ایک پتے کی بات کہی گئی اور کہنے والے محترم آصف علی زرداری ہی تھے، انہوں نے فرمایا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی صاحبہ آج ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ، انہوں نے خیر اس دیکھنے کو کسی اور پیرائے میں بیان کیا ،ہم نے بھی چشم تصور سے یہ منظر دیکھا، وہ دیکھ ضرور رہے تھے مگر ہمیں تو انکی نظروں میں افسوس اور دکھ کا تاثر نظر آیا کہ ان کی محنت اب نالائق اور نااہل ہاتھوں میں ہے ، جنہوں نے اس کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے، اب نعرے بازی کی حد تک تو یہ بڑی پارٹی ہے مگر عوام میں اس کی جو جڑیں تھیں وہ سوکھ چکی ہیں، اوپر تنوں پر جو تھوڑے بہت پَتّے نظر آرہے ہیں معلوم نہیں وہ کب جھڑ جائیں گے ، محترمہ کی روح تو یہ بھی دیکھ رہی ہوگی کہ پرائم منسٹر ہاو¿س میں جو ہوا سو ہوا ، کہیں وہ ہاتھ قبر تک بھی نہ پہنچ جائیں …ذوالفقار علی بھٹو کی روح یہ بھی دیکھ رہی ہوگی کہ میں نے جو کچھ حاصل کیاتھا وہ سب کچھ ضائع کردیاگیا ہے ، حتّیٰ کہ ”جعلی مینڈیٹ“ والوں کے مقابلے میں میرے وارثوں کا مینڈیٹ …! قبر میں بھی شرم آرہی ہے ، پیپلزپارٹی اتنی گئی گذری تو کبھی نہیں تھی، 1970میں پہلے ہی ہلّے میں اس نے پورا لاہور فتح کرلیاتھا اور آج وہی لاہور اسکو محض 1400/1500ووٹوں پر ٹرخارہاہے…آسمان بھی کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے ۔
حضور آصف علی زرداری صاحب ! اب تو آپ کا مینڈیٹ محض دیہی سندھ تک سکڑ چکا ہے …رہ گیا بلاول …تو ایک بچے کی باتوں کا کیا اثر لینا…آزاد کشمیر کے انتخابات سے پہلے ہم نے ایک للکار سنی تھی کہ دھاندلی ہوئی تو ایسا دھرنا دینگے کہ لوگ یاد رکھیں گے، انتخابات ہوگئے …برخوردار نے دھاندلی کا الزام بھی لگادیا مگر وہ دھرنا…! معلوم نہیں کہاں دیاگیا ہے کہ آج تک عوام کی نظروں سے اوجھل ہے ۔
ویسے یہ دھرنے کا معاملہ بھی عجیب ہے ، تحریک لبیک یا رسول اللہ کی کامیابی کے بعد تو ایسے لگتا ہے کہ دھرنوں کی بہار آگئی ہے، بہت سے لوگ اب دھرنے کی راہ پر چلنے کا اعلان کررہے ہیں ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد والوں کی شامت کے دن ابھی کم نہیں ہوئے ، محترمہ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا فرمانا ہے کہ بہت سے پاکستانی ملک چھوڑنے کا فیصلہ کررہے ہیں، یہ لوگ تو ملک چھوڑتے ہیں یا نہیں ، اگر صورتحال یہی رہی تو راولپنڈی اسلام آباد کے باسی یہ شہر چھوڑنے کی ضرور سوچیں گے ، ایسا ہوا تو جائیدادوں کی قیمتیں جوآسمان کو چھو رہی ہیں وہ یکدم زمین پر آجائیں گی اور معلوم نہیں بیچارے پراپرٹی ڈیلرز کا کیا بنے گا۔
کل تو ہم نے اخبارات میں دھرنے کا ایک اشتہار بھی دیکھا جس کے چاروں طرف یہ نعرہ درج ہے کہ ”جینا ہوگا مرنا ہوگا ، دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا“ ، پھر ایک اور بڑا سا اشتہار ہے جس میں اسی قسم کے اجتماع کی بات کی گئی ہے ، اب دھرنا دینے والے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیاکریں کہ شرکا کو ہارڈیز، گلوریاجینز اور پیزاہٹ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی شہرت یافتہ ریستورانوں کے کھانے کھلائے جائیں گے بلکہ اس کیلئے باقاعدہ ٹینڈر کھول دیئے جائیں کہ ممکن ہے اسطرح کچھ رعائتی نرخ مل جائیں ، پھر لوگوں کو بھی پتہ چل جائیگا اور ان کھانوں کی چاہ میں دھرنے کی رونق میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائیگا کیونکہ بہت سے لوگ کھانوں کے لالچ میں ہی وہاں جابیٹھیں گے ، مولانا خادم حسین رضوی اس حوالے سے باکمال شخصیت ہیں کہ انہوں نے اپنی بات منوانے کیلئے دھرنوں کو ایک نیا رنگ دیدیا ہے۔
علامہ طاہرالقادری تو خیر دھرنوں کے حوالے سے اب خاصے معروف ہیں، ویسے بھی وہ بین الاقوامی قسم کے لیڈر بن چکے ہیں کہ ان کے معتقدین پاکستان میں ہی نہیں بیرونی ممالک میں بھی کثیرتعداد میں ہیں، کینیڈا ، برطانیہ اورسکنڈے نیویا ممالک میں چلے جائیں تو آپ کو مولانا کے پیروکار ضرور مل جائیں گے…اور انہوں نے کمال کردیا کہ میاں شہبازشریف اور رانا ثناءاللہ کے دانتوں کے نیچے سے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے حوالے سے جسٹس نجفی کی رپورٹ نکلوالی، یار لوگوں کو خیال تھا کہ رپورٹ منظر عام پر آگئی تو مذکورہ دونوں کے علاوہ بہت سے دوسرے سلاخوں کے پیچھے ہونگے…مگر ہماری تو سمجھ میں یہ رپورٹ آہی نہیں سکی، عدل اور قانون کی باتیں ہیں ، ہم جیسے بے سمجھوں کی سمجھ میں کیسے آسکتی ہیں ، ہماری تو سمجھ میں یہ آسکا ہے کہ مشکوک تو سبھی ہیں مگر قصور وار کوئی ہے یا نہیں …! اسکے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے … قانون کیا کہتا ہے ، ہمیں علم نہیں مگر ہماری ناقص عقل جو کہتی ہے اسکے مطابق تو کسی کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوگا…ہمیں احساس یہ ہورہاہے کہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کا سب سے زیادہ افسوس علامہ طاہرالقادری اور انکی جماعت کو ہوگا کہ اب پنجاب کے حکمرانوں کیخلاف دھواں دھار تقریریں کیسے ہونگی، مگر طاہرالقادری اعلیٰ پائے کی شے ہیں ، کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیں گے اور پھر راہ نکل ہی آئی کہ کارکن ہروقت تیاری رکھیں ، احتجاج کی کال کا کوئی پتہ نہیں کب آجائے ، کنٹینر بھی 24گھنٹے تیار رہے گا ، علامہ کہتے ہیں کہ موصولہ رپورٹ کا اصلی رپورٹ سے موازنہ ہوگا ، کیا معلوم کوئی فرق نکل ہی آئے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved