تازہ تر ین

باقر نجفی رپورٹ اور بعد کی صورت حال

عبد الودود قریشی
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی 132 صفحات کی رپورٹ ہائی کورٹ کے حکم پر جاری کر دی گئی یہ رپورٹ محکمہ اطلاعات پنجاب کی ویب سائٹ پر ڈال دی گئی جبکہ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ کی طرف سے فیصلہ سناتے ہی پنجاب کے وزیر مذہبی امور زعیم قادری نے اعلان کیا تھا کہ بنچ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں بھی وزراءحالات واقعات اور فیصلوں سے آگاہ نہیں اور ازخود جو دل میں آئے بیان داغ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے حوالے سے فریقین کے متضاد دعوے ہیں۔ وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ یہ یکطرفہ رپورٹ ہے جبکہ حکومت نے تو اس رپورٹ کی تیاری کےلئے نہ صرف احکام جاری کیے بلکہ متعلقہ افراد پیش ہوئے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بیان حلفی پیش کیا۔ اس انکوائری کا متاثرہ فریق پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری نے بائیکاٹ کیا اور زخمیوں اور مرنے والوں کے لواحقین نے بیانات قلم بند نہیں کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات یکطرفہ ہیں مگر اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور رانا ثناءاللہ نے اس سانحہ کی تحقیقات جلد سے جلد مکمل کروانے کی پوری کوشش کی مگر جن حالات اور واقعات میں سانحہ رونما ہوا اور میڈیا پر اس کی جو تصویر سامنے آئی وہ بھیانک تھی۔ وزیراعلیٰ نے یہ کہا تھا کہ جب میڈیا کے ذریعے انہیں اس ایکشن کا علم ہوا تو انہوں نے اس کو فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کیا۔ وزیرقانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس کارروائی کا علم نہیں تھا یہ پولیس اور انتظامیہ نے ازخود ایکشن لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں پر فائرنگ کرنے کا حکم کس نے دیا کوئی بتانے کو تیار نہیں اور اس آپریشن کا فیصلہ رانا ثناءاللہ نے کیا اور ان کی صدارت میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا یہ ا یک باضابطہ اجلاس تھا جبکہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹری نے جو وزیراعلیٰ کی طرف سے احکامات کی تعمیل کرواتے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری کے مدرسے اور گھر کے باہر لگے بیرئیر ہٹانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی جو وزیراعلیٰ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں جبکہ ان بیرئیر کو لگانے کی اجازت بھی عدالت نے دی تھی جسٹس باقر نجفی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی معصومیت مشکوک ہے جبکہ پولیس افسران بھی اس قتل عام میں بےگناہ نہیں ہیں اور انہوں نے اپنا پورا حصہ ڈالا۔ اس واقعہ سے قبل ڈی سی او اور آئی جی پنجاب کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا جبکہ وزیراعلیٰ نے ایکشن کو روکنے کے احکام نہیں دئیے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ٹربیونل کو مکمل اختیارات بھی نہیں دئیے جس کے ذریعے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور ٹربیونل کو حقائق کی تہہ تک پہنچنے سے روکا گیا۔ پولیس نے وہی کیا جس کے لئے اسے بھیجا گیا تھا اور حکام ٹربیونل سے تعاون نہ کرنے پر متفق تھے اور ایک دوسرے کوبچاتے رہے۔ پولیس کا رویہ سچائی کو دفن کرنا تھا۔ حالات واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعلیٰ کا سیکرٹری ایک اجلاس میں موجود ہو جس میں مخالف پارٹی کے گھر اور دفتر سے تمام بیرئیر ہٹانے کا فیصلہ ہو جس میں انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران شامل ہوں مگر سیکرٹری اور وزیر قانون وزیراعلیٰ کو اعتماد میں نہ لیں۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے اس سانحہ سے پہلے جب یہ خبر آئی کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کینیڈا سے آ کر احتجاج کی کال دیں گے تو انہوں نے کہا تھا مولانا صاحب آپ جلد تشریف لے آئیں تاکہ آپ کی تسلی کروا دی جائے اور آپ کی ہمیشہ کےلئے طبیعت صاف ہو جائے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت نے سارے صوبے میں کسی بھی مخالفت کو برداشت نہ کرنے کا ایک اٹل فیصلہ کر لیا تھا اور پھر عائشہ احد کی طرح کے لوگ ذاتی مقاصد کے لئے نشانہ بنے جس میں گنا کاشت کرنے والوں سے لیکر ادویات اور پولٹری سے متعلق لوگ بھی شامل ہیں۔ وہ ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے ریاست کی طاقت کا استعمال ذوالفقار علی بھٹو کے دور میںعروج پر تھا مگر گزشتہ نو سال نے تو تمام ادوار کومات دے دی۔ حکومت میں مالی بدعنوانی عروج پر ہے اور ہر جگہ لوٹ مچی ہوئی ہے۔ لوگوں میں پولیس مقابلوں کے ذریعے خوف پیدا کر کے سب کچھ چھپانے اور خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کوئی ایسا کمیشن یا جے آئی ٹی ترتیب دے جو گزشہ نو سالوں میں پولیس مقابلوں میںمارے جانے والے لوگوں کا ڈیٹا لیکر اس پر تحقیقات کرے تو یہ چونکا دینے والی رپورٹ ہو گی کیونکہ سیاست دان انتظامیہ اور پولیس والوں نے ذاتی مقاصد کےلئے ریاست کی طاقت سے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ باقر نجفی رپورٹ کو تحریک منہاج القرآن کی مسلسل سعی اور کاوش سے منظر عام پر آئی ہے جو کہ حکومت کی طرف سے نہیں ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کی پارٹی کے عدم تعاون سے یکطرفہ ہے اگر اس میںان کا مو¿قف اور گواہیاں بھی شامل ہو جائیں تو صورتحال کیا ہوتی رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مرتب کرنے کےلئے ملزموں تک رسائی اور مجرموں کے تعین کا اختیار بھی نہیں دیا گیا تھا۔ نہ ہی اس ٹربیونل کو حتمی رائے دینے کا اختیار تھا مگر جو چیزیں سامنے آ گئی ہیں ان پر ایک ہنگامہ برپا ہونے جا رہا ہے ڈاکٹر طاہرالقادری اس پر لانگ مارچ اور دھرنے کی کال دینے پر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں جو مسلم لیگ ن کی حکومت کےلئے انتہائی خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved