تازہ تر ین

کارکن تیار رہیں کسی بھی وقت احتجاج کی کال دے سکتا ہوں، طاہر القادری

لاہور (وقائع نگار) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک بار پھر دھرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارکن تیار رہیں وہ کسی بھی وقت کال دے سکتے ہیں۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کی مصدقہ کاپی نہیں مل سکی۔ تاہم حکومت کی جانب سے دی گئی رپورٹ کی کاپی کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کیا ہے۔ 29 ہمارے وکلا اور کور کمیٹی کا مشترکہ اجلاس ہے جس میں اصل رپورٹ آنے پر تقابلی جائزہ لیا جائے گا۔ اور ہماری کوشش ہے کہ اصل رپورٹ تک رسائی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مرکزی ملزمان شہباز شریف، رانا ثناءاللہ کو گرفتار کیا جائے۔ نوازشریف، شہباز شریف، رانا ثناءاللہ اور دیگر ملزمان جنہیں استغاثہ میں طلب نہیں کیا گیا انہیں طلب کیا جائے اور گرفتار کیا جائے، پھر ان کی ضمانتیں لینا یا نہ لینا عدالتوں کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ نواز شریف، شہباز شریف نے بنایا، عمل رانا ثناءاللہ نے کروایا انتظامیہ معاون تھی۔ بیریئر ہٹانا محض عنوان تھا اصل ایجنڈا میری وطن واپسی کو روکنا اور احتجاج کے آئینی حق کو کچلنا تھا۔ جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیا پولیس نے وہی کیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے تمام ذمہ داران حقائق چھپانے اور ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا پولیس کو پیچھے ہٹنے کا حکم ثابت نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے اپنی 17 جون 2014ءکی پریس کانفرنس میں بھی اس کا ذکر نہیں کیا۔ رانا ثناءاللہ اور ہوم سیکرٹری نے بھی اپنے بیان حلفی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی یہ حکم ثابت ہوسکا۔ جسٹس باقر نجفی کمیشن نے لکھا کہ افراد جھوٹ بولتے ہیں مگر حالات اور واقعات نہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے عوامی تحریک کے ذمہ داران سے کہا میرا کنٹینر 24 گھنٹے تیار رکھیں اس میں مظلوموں کی مدد کا بہت سارا سامان ہے۔ کارکن بھی تیار رہیں، کسی وقت بھی نکلنے کی کال دے سکتا ہوں۔ اس موقع پر عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی، جواد حامد، ساجد بھٹی، نعیم الدین چودھری، راجہ زاہد و دیگر رہنما شریک تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ میں نے عمرہ پر جانا تھا عمرہ ایک نفلی عمل ہے مظلوموں کیلئے انصاف کی جدوجہد کرنا فرض ہے۔ آج حتمی لائحہ عمل کیلئے عوامی تحریک کی سنٹرل کورکمیٹی کا اجلاس بلا لیا ہے جس میں وکلاءبھی شریک ہونگے۔ عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرینگے۔ انصاف کے راستے میں رکاوٹ محسوس ہوئی تو دھرنے کی کال بھی دینگے۔ مصدقہ کاپی مل گئی جسٹس باقر نجفی کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ حاصل کرنے کی کوشش بھی کرینگے اور ایک بار پھر موازنہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ میری پی ایچ ڈی کریمنالوجی پر ہے، ساری عمر لاءپڑھایا۔ قانون اور جرم کے فلسفے کو سمجھتا ہوں ۔ پنجاب حکومت نے عدالت کے حکم پر جو رپورٹ جاری کی ہے وہ شہباز شریف، رانا ثناءاللہ کو مجرم ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ رپورٹ کے نامکمل ہونے کا پروپیگنڈا دھوکا دہی پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں جگہ جگہ ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے۔ جسٹس باقر نجفی نے کمیشن کی کارروائی کا آغاز کرتے وقت پنجاب حکومت کو انکوائری ایکٹ کے سیکشن 11 کے تحت خط لکھا تھا کہ مجھے ذمہ داروں کے تعین کے اختیارات دئیے جائیں جو شہباز شریف کے حکم پر نہیں دئیے گئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ رپورٹ میں یہ رقم ہے کہ بیریئر عدالت کے حکم پر لگے تھے اور 16 جون 2014 ءکی میٹنگ کا ایجنڈا ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی تھا اور اس میٹنگ میں شریک سب جانتے تھے کہ بیریئر عدالت کے حکم پر لگے تھے۔ انہوں نے کہا کہ باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا صفحہ 66 اور 67 انتہائی اہم ہے۔ جسٹس باقر نجفی کمیشن نے لکھا کہ پولیس کی نفری اور غیر مسلح کارکنوں کے درمیان کوئی توازن، تناسب نظر نہیں آتا، یعنی اگر یہ آپریشن بیریئر ہٹانے کا تھا تو پولیس کی اتنی بھاری مسلح نفری کی پھر بھی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق گولی چلانے کا حکم کم از کم اے ایس پی، ڈی ایس پی یا ایس پی کی سطح کا افسر دیتا ہے مگر کمیشن میں پیش ہونے والے تمام ذمہ داران سے سوال کیا گیا کہ گولی چلانے کا کس نے حکم دیا سب خاموش رہے اور حقائق کو چھپاتے رہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ طے شدہ سمجھوتا تھا کہ کوئی کمیشن کو معلومات فراہم نہ کرے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ کے صفحہ 68 پر لکھا ہے حالات بتاتے ہیں کہ پیچھے کوئی آرڈر دینے والا تھا جس کی تعمیل کے سب پابند تھے۔ انہیں یہ ٹاسک دے کر بھیجا گیا تھا کہ ہر حال میں مقصد حاصل کرنا ہے چاہے کتنی ہی لاشیں کیوں نہ گرانی پڑیں۔ سچ کو دفن کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ کمیشن نے یہ بھی لکھا کہ حقائق وہ نہیں ہیں جو کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے ذمہ داران بتانے کی کوشش کرتے رہے حالات اس کے برعکس ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ کمیشن نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آئی جی مشتاق سکھیرا کو کن وجوہات کی بنا پر ہنگامی طور پر تعینات کیا گیا اور ڈی سی او لاہور کو ٹرانسفر کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے جھوٹا بیان حلفی دیا کہ مجھے ٹی وی کے ذریعے 17 جون 2014 ءصبح ساڑھے نو بجے علم ہوا حالانکہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ 16 جون کی میٹنگ میں شریک تھے اور انہوں نے شہباز شریف کا پیغام اور ارادہ شرکاءتک پہنچایا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بیریئر پولیس کی نگرانی میں لگے اور پولیس ان بیریئر کی حفاظت بھی کرتی رہی اور تین سال میں کسی ایک شہری کی طرف سے ان بیریئر کی وجہ سے کوئی شکایت ریکارڈ پر نہیں آئی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی طرف سے یہ کہنا کہ سابق آئی جی خان بیگ کو بدلنے جانے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ ان پر نااہلی یا کوئی اور محکمانہ کوتاہی کا الزام نہ تھا۔ جسٹس باقر نجفی نے صفحہ 69 پر لکھا حقائق حکومتی موقف کے برعکس نظر آتے ہیں۔ انہوں نے رپورٹ کے آخر میں ایک اہم جملہ بھی لکھا کہ رپورٹ پڑھنے والا خود ذمہ داری فکس کر لے گا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ دار کون ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شریف برادران کے انسانیت کے قتل عام کی اس رپورٹ کا اردو ترجمہ کروارہے ہیں اور اس کی کاپیاں پورے ملک میں بانٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ دار اب سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ سب پارٹیاں رابطے میں ہیں انہوں نے کہا کہ دو ٹکے کی نوکری کیلئے وزیر جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان وزارتوں کیلئے ضمیر گروی رکھ رہے ہیں جن کے ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے والے یاد رکھیں کہ اللہ کی عدالت بھی لگنی ہے وہ پیسوں کیلئے اور دنیا داری کیلئے اپنے ضمیروں کا سودا مت کریں سچ کا ساتھ دیں۔

لاہور (نامہ نگار) گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے درجنوں کارکنوں نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی رپورٹ کے لیے سول سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کیا۔ تفصیلات کے مطابق مطابق سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کے لواحقین اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے جوڈیشل رپورٹ کے حصول کے لیے لاہور میں سول سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج کیا۔ اس دوران حکومت کے خلاف اور جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے حصول کے لیے نعرے بازی بھی کی گئی۔ دوسری جانب انتظامیہ نے سول سیکرٹریٹ کے داخلی دروازے عام شہریوں کے لیے بند کر دیے جب کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی، احتجاج کے کچھ دیر بعد پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنما خرم نواز گنڈا پور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کل ہم نے سیکرٹری داخلہ کو رپورٹ کی درخواست دی تھی، اسپیشل سیکرٹری نے ہمیں رپورٹ دے دی ہے، اس رپورٹ کے ایک ایک صفحے پر مہر اور دستخط موجود ہے، ہمارا مقصد رپورٹ کا حصول تھا جو پورا ہوگیا، اس لیے اب کارکنوں کو واپس لے جارہے ہیں تاہم ہم وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں، واضح رہے کہ دو روز لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کی رپورٹ 3 روز میں لواحقین کے حوالے کرنے اور 30 روز میں پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔ فیصلے کی روشنی میں پنجاب حکومت نے رپورٹ جاری کردی تھی۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت پنجاب نہیں چاہتے تھے کہ اصل حقائق سامنے آئیں،شہباز شریف نے کہا کہ انہیں آپریشن کے بارے میں ٹی وی چینلز کے ذریعے پتہ چلا۔ انہوں نے کہا کہ میں قانون کی اے بی سی سے مناسب حد تک آگاہ ہوں، جیسے ہی ہمیں اصل رپورٹ ملتی ہے ہم اس کا سرکاری رپورٹ سے تقابلی جائزہ لیں گے، کل ہمارے وکلاءاور کور کمیٹی کی مشترکہ میٹنگ ہو گی، رانا ثناءاللہ اور دیگر حکومتی ترجمان اس رپورٹ کو ناقص اور نا مکمل قرار دے رہے ہیں جو کہ بدنیتی اور جھوٹ پر مبنی ہے۔حکومت کہہ رہی ہے کہ رپورٹ نے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا، حکومتی ترجمان پروپیگنڈا کررہے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت پنجاب نہیں چاہتے تھے کہ اصل حقائق سامنے آئیں،شہباز شریف نے کہا کہ انہیں آپریشن کے بارے میں ٹی وی چینلز کے ذریعے پتہ چلا، جسٹس باقر نجفی کو سلام پیش کرتا ہوں، وزراءچند روپوں کےلئے اپنا ضمیر نہ بیچیں، آپریشن کے فیصلے کی تائید وزیراعلیٰ پنجاب کے نمائندے توقیر شاہ نے کی۔

 

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved