تازہ تر ین

ٹرمپ، اسرائیل اور قبلہ اول

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کا اعلان مسلم دنیا کے حکمرانوں کے لیے بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔75 اسلامی ممالک میں سے بس ایک ترکی کا صدر تھا جس نے امریکی احمق صدر کو خبردار کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے سے باز رہے کیوں کہ یہ شہرمسلمانوں کی ریڈ لائن ہے،اسے عبور نہ کرنا۔حیرت ہے باقی دنیا میں اتنا مہیب سناٹا کیوں۔ عربوں کی روایتی غیرت اور جرات کہاں گئی؟ان کی دولت ‘ ان کا جاہ و جلال ان کے بادشاہتیں کب بروئے کار آئیں گی؟ ریت میںمنہ چھپانے اورآنکھیں بند کرنے سے خطرے کب ٹلتے ہیں۔کیا صرف رجب طیب اردوان ہی اس دین کا اکیلا سپاہی ہے؟ جس نے بلند آہنگ احتجاج کیا ہے۔ مرد آہن کی اس آواز نے انڈونیشیا سے مراکش تک ایک ولولہ تازہ عطا کیا ہے۔ باقی دنیا کا احتجاج شائد لپ سروس ہوگا،لیکن رجب طیب نے ایمان کا حق ادا کر دیا۔ رہے ہمارے عر ب شہزادے تو شائد انہیں ابھی اس کی خبر بھی نہیں ہو گی کہ راتوں رات کیا بیت گئی؟بادشاہت اور تن آسانی کا خماراترے تو دین یاد آئے۔ سر پھرے امریکی صدرنے پوری دنیا کوآزمائش میں ڈال دیا۔ بدھ کی رات وائٹ ہاو¿س میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔اس اعلان کے دو ہی نتائج سامنے آئیں گے۔فیصلے کی واپسی یا دنیا کے امن میں اضطراب۔امریکیوں کو دنیا کی تباہی زیادہ اچھی لگتی ہے اور وہ اسی لائن پر سفر کرے گا کیوں کہ امریکیوں کو اس دنیا کا سکوں تباہ کر کے ہی مفادات حاصل ہوتے ہیں۔ امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ‘بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ’ ہے اور ‘یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی’ ہے۔پوری امت کے وسائل سے استفادہ کرنے والے سعودی عرب کا اس قدر پھسپھسا بیان،توقع کے مطابق ہی شمار کیا گیا ہے۔کیا سعودی حکمران نہیں سمجھتے کہ یہ صرف فلسطینیوں کے حقوق کا نہیں پوری امت کے قبلہ اول کا مسئلہ ہے۔یہ الگ بات کہ آنے والے دن پوری امت کے حکمرانوں کی آزمائش کے دن شمار ہوں گے۔اقوام متحدہ کی لاتعدادا قراردادوں کے باوجود اسرئیل ٹس سے مس نہیں ہوااور اب امریکی شہ پر مسلمانوں کی ریڈ لائین تک آگیا ہے۔ایران نے درست کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اعلان اور فیصلے سے ‘اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ ’حماس± نے امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام نے امریکی مفادات کے خلاف جہنم کے دروازے‘ کھول دیے ہیں۔ امریکی صدر کے فیصلے کے بعد خطے میں امریکی مفادات اب داو¿ پر لگ چکے ہیں۔ امریکی صدر نے القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرکے تباہی کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے عرب اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات ختم کردیں اور اپنے ہاں متعین امریکی سفارت کاروں کو نکال باہر کریں۔ ایسا ممکن ہو گا؟یہ تو ہماری اس غیرت پر منحصر رہ گیا ہے جو مدت سے ہمارے حکمرانوں میں نایاب ہے۔برسوں سے غزہ آگ و بارود میں جل رہا ہے۔ یہود کا خونی کھیل عروج پر ہے اور ہماری صرف دعا ہے کہ اﷲ دشمن کی توپوں میں کیڑے ڈالے اس کے میزائلوں کو زنگ لگے۔ کتنے رہنما یہ حکم دیتے ہیں کہ ہم فلسطینی بھائیوں کے لیے سورئہ فتح اور سورئہ الاخلاص پڑھتے رہیں۔ اونٹ نگلتی اور مچھر چھانتی امت اور اس کے حکمران آنکھیں بند کیے ‘ ریت میں منہ چھپائے، سب ٹھیک، کے متمنی ہیں۔ عرب لیگ ‘ خلیج تعاون کونسل اور او آئی سی جیسے ادارے قراردادوں اور بیانات سے کبھی آگے نہ بڑھ سکے۔کچھ عرب حکمران محصور فلسطینیوں کے لیے دوائیوں کے جہاز اور دعاﺅں کی سوغات بھیجتے ہیں۔ کچھ آہوں اور سسکیوں میں ڈوبے بچوں کی تصویروں پر افسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی نہیں جو ظالم کو ظالم کہہ کر اس کے ہاتھ روکے۔اس عرصے میں غزہ میں کتنے معصوم اپنے ہی لہو میں نہا گئے ‘ کتنی عفت مآب خواتین درندگی کا شکار ہوئیں۔ کوئی بھی نہیں تھاجو آگے بڑھ کر عزت کے چند لمحے خریدلیتا۔حماس کی پندرھویں سالگرہ پر شیخ احمد یاسین نے کہا تھا”ہم اپنی بستیوں ‘ اپنے گھروں ‘اپنے شہروں اور اپنے جگر پاروں کی حفاظت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہم امت کے حکمرانوں کا وہ حق ادا کر رہے ہیں جو ہم پر فرض نہیں تھا۔ ہمیں دہشت پسند کہا جاتا ہے،ہم دہشت گردہوتے تو دوسروں کی بستیاں پامال کرتے ‘ سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ‘ کروز میزائل اور ڈیزی کٹر برساتے ‘ ہمارے پاس اﷲ کی مدد کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں۔ہمارے پاس غلیل ہے ‘ پتھر ہے ‘ہم اپنے قبلہ اول کی حفاظت کے لیے ہر محاذ پر ‘ہر دور میں ‘ ہر کہیں ‘ہر دشمن سے ہر حال میں مقابلہ جاری رکھیں گے۔ہم اپنی سر زمین کا تحفظ کریں گے۔ ہماری یہ بات کسی کو پسند آئے یا نہ آئے ہمای بلا سے ‘ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔قبلہ اول کی شمع پر ہمارے پروانے نثار ہوتے رہیں گے۔“آپ دیکھیں گے یہاں سے یہودی قابض نکلیں گے اور اس شہر پر ‘ رملہ پر‘ یروشلم پر ‘ قلقیلیا پر ‘ نابلس پر اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ فتح تو ان ہی کو حاصل ہوتی ہے جو نیک نیت ہوتے ہیں۔” ہماری بد قسمتی یہ نہیں کہ ہم دہشت گرد قرار دیے جائیںگے ‘ ہماری بد قسمتی یہ ہوگی کہ اﷲ اور اس کے رسول ہم سے ناراض ہو جائیں ‘ یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہمارا دشمن طاقت ور بھی ہے اور کمینہ بھی۔طاقت ہمارے نزدیک کوئی چیز نہیں ‘کمینگی کا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے،ہمیں بہرحال اپنی اس امت سے گلہ ہے جس کے حکمران برسوں سے ہمارا تماشہ دیکھ رہے ہیں،یہ سیاسی نہیں ایمان کا مسئلہ ہے۔ ایمان کی سلامتی ہی ہمیں سرخرو کرے گی اہل فلسطین کو فخر ہے کہ سب کچھ لٹاکر بھی ایمان بچا لیا۔“ مسلم دنیا کا امتحان شروع ہو چکا۔رہی حکومت پاکستان تو اسے محض ایک بیان سے غرض ہوتی وہ رات گئے جاری کر دیا گیا۔ پاکستان مدینہ کی اسلامی ریاست کے بعد دنیا کا پہلا نظریاتی ملک ہے ‘جس کے ساتھ امت کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ایسے ہی اسرائیل خطہ ارض پر یہودی نظریاتی مملکت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ سترسال سے زائد عرصے کے دوران اسرائیل اور بھارت پاکستان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے رہے ہیں۔ ان کی مشترکہ کمانڈوز مشقیں ایک طرف ‘ سری نگر کے برفستانوںمیں بر سر پیکار مجاہدین کے مقابل اسرائیلی فوجوں کی معرکہ آرائی کس سے پوشیدہ رہی ہے؟ اسرائیلی اسلحے کے ڈھیر اور اسلامیوں کے سینے میں اترنے والی گولیوں کا موجد یہی اسرائیل ہی تو ہے جس کی ساری تگ و تاز ایک ہدف کے گرد گھومتی ہے کہ کسی طرح مسلم نامی مخلوق کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔
بلاد شام کے جنوب مغرب میں ایشیا اور افریقہ کے سنگم پر واقع فلسطین ‘ایشیائی اور افریقی مسلمانوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاںپر آگ و خون کا ایک معرکہ اپنی انتہاﺅں کو چھو رہا ہے۔ جس کی کوئی صبح ایسے طلوع نہیں ہوتی کہ اس کی بیٹیاں اور بیٹے خون میں ڈوب کر سر خرو نہیں ہوتے ہوں‘ کوئی شام ایسی نہیں آتی جب ان کے گھر راکھ و خاک کا ڈھیر نہیں بن جاتے۔فلسطین کے پیرو جواں مسجد اقصیٰ کے گرد پروانوں کی طرح نچھاور ہو رہے ہیں اور مسلمان حکمران مجرمانہ خاموشی میںغرق ہیں۔ ایک قبرستان جیسی خاموشی جس کے ٹوٹنے کے امکانات کم ہو تے جاتے ہیں۔پیغمبروں کی سر زمین ‘ حضرت ابراہیم ؑ‘ لوطؑ‘ اسماعیل ؑ ‘ اسحقٰؑ‘ یوسف ؑ‘ داﺅدؑ ‘سلیمانؑ‘ صالحؑ ‘زکریاؑ‘ یحییٰؑ ‘ عیسیٰؑ کا مسکن۔ نبی اکرم نے اس کو یہ سعادت بخشی کہ اﷲ کے حکم سے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے عرش تک کا سفر معراج کیا۔ ارض فلسطین پر قبلہ اول میں اﷲ نے تمام انبیاءؑکی ارواح کو جمع کیا اور حضور نے ان کی امامت کرائی۔ذلتوں اور رسوائیوں کی سیاہ رات سے روشنی کی کوئی کرن نہیں پھوٹ رہی ہم سب ارض فلسطین میں کٹتے مٹتے اور سرخرو ہوتے مسلمانوں کو ٹی وی کی سکرین پر دیکھتے رہے۔ ہمارے حکمران اور قائدین بھی یہ منظر دیکھتے رہے۔عرب و عجم کے حکمران ‘ قائدین او57 اسلامی ملک جو ایک قبرستان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ فلسطین مقدس دھرتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی اس کے ساتھ روحانی اور جذباتی وابستگی ہے ‘ یہودی ازل سے اسلام کے دشمن چلے آ رہے ہیں۔ان کی تمام نفرتیں ہمارے لئے ہیں قرآن کہتا ہے: ” اے مومنو!یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناﺅ‘ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے وہ ان میں سے ہے۔بے شک اﷲ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ (المائدہ)
اسلامی دنیا کے حکمرانوں کیلئے بہت سے سوالیہ نشان ہیں ؟عربوں کی روایتی غیرت اور جرات کہاں گئی ؟ان کی دولت ‘ ان کا جاہ و جلال ان کے بادشاہتیں کب بروئے کار آئیں گی؟ ریت میںمنہ چھپائے ‘ آنکھیں بند کیے خطرے کب ٹلتے ہیں۔وہ عرب جو اپنے راستے سے پتھر ہٹانے کی خواہش میں کانٹے بوتے چلے جارہے ہیں جنہیں کل کی نسلوں کو اپنی آنکھوں سے چننا ہوگاجس کے جوانوں کو سرکاری سرپرستی میں تنگ پتلونوں اور چست شرٹس کے ساتھ زنخے بنایا جا رہا ہو ‘وہ آنے والے دور میں کیا کام آئیں گے؟
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved