تازہ تر ین

تیسری عالمی جنگ؟

امیر افضل اعوان….خاص مضمون
عالمی منظر نامہ میں طویل خاموشی کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجرنے کہا کہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے چین اور روس کسی قابل نہیں رہیں گے اور امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ جیتیں گے، اسرائیل کو اپنی پوری طاقت اور ہتھیاروں کے ساتھ یہ جنگ لڑنا ہو گی،انہوں نے کہا مشرقِ وسطیٰ میں تیسری عالمی جنگ کا نقارہ بج چکا ہے اور جو اسے س±ن نہیں رہے وہ بہرے ہیں،ا±ن کا کہنا تھا امریکہ اور یورپ کے نوجوانوں کو گزشتہ دس سال سے پوری طرح تربیت دی جا رہی ہے اور جب ان کو حکم دیا جائے گا وہ پاگلوں کی طرح لڑیں گے اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے، امریکہ اور اسرائیل نے روس اور ایران کے لئے تابوت تیار کر لئے ہیں اور ایران اس کے لئے آخری کیل ثابت ہو گا، تیسری عالمی جنگ کے بعد د±نیا میں صرف ایک سپر طاقت کی حکومت ہو گی اور وہ ہے امریکہ، سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجرکی اس ہرزہ سرائی کو عملی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اسرائےل بےت المقدس پر ایک عرصہ سے غاصبانہ قبضہ کئے ہوئے ہے یہاں زےر زمین خفیہ اڈے بنانے کی مصدقہ اطلاعات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں، اب یہاں اسرائےل کا دارالخلافہ بنانے کےلئے کی جانے والی پیش رفت ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے کہ جہاں مسلمانوں کے قبلہ اول کا تقدس پامال کیا جارہا ہے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہنری کسنجر چونکہ خود بھی یہودی ہیں اِس لئے مسلمانوں کے خلاف تو انہوں نے اپنا خ±بثِ باطن بھی ظاہر کر دیا ہے اور باطنی ارادے بھی سامنے لے آئے ہیں، اسرائیل کی توسیع پسندی کی پالیسیاں تو نہ پہلے کسی سے ڈھکی چھپی تھیں اور نہ آج ہیں، دشمنانان اسلام نے مشرقِ وسطیٰ کے قلب میں اسرائیل کا خنجر اِسی مقصد کے لئے پیوست کیا تھا تاکہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل ےقےنی بنائی جاسکے، اسی ایجنڈہ کے تحت کام جاری رہا اور اسرائیل کا رقبہ ہمسایہ عرب ممالک کے علاقوں پر قبضے کے بعد وسیع ہواجب کہ اس کے مقابلہ میں کئی عرب م±لک سکڑ کر رہ گئے، آگ و خون کے اس کھےل میں مصر اس لحاظ سے واحد خوش قسمت م±لک تھا،جس نے امریکہ کی معاونت سے اپنے وہ علاقے واپس لے لئے ہیں، جن پر ا±س نے ”جنگِ رمضان“ میں قبضہ کر لیا تھا،اِس جنگ میں مصر کا پلڑا شروع میں اسرائیل پر بھاری تھا،لیکن جب امریکہ نے دیکھا کہ اسرائیل پوری طرح دباو¿ میں ہے تو وہ سارے حجاب بالائے طاق رکھ کر اسرائیل کی حمایت میں خم ٹھونک کر میدان میں آگیا اور یوں جنگ کا پانسہ اسرائیل کے حق میں پلٹ گیا۔
امریکی مداخلت اور اسرائےل کی اس پشت پناہی پر ا±س وقت کے مصری صدر انور السادات کو کہنا پڑا کہ وہ اسرائیل سے تو لڑ سکتے ہیں،لیکن امریکہ کا مقابلہ کرنا ا±ن کے م±لک کے بس میں نہیں، چنانچہ مصر کو اپنے علاقے واپس لینے کے لئے اسرائیل کے ساتھ اس کی شرائط پر تعلقات قائم کرنے پڑے اور بعد میں وہ اِس راستے پر ایسا چلا کہ فلسطین کی ناکہ بندی کے دوران مصر کے ساتھ ملنے والا وہ راستہ بھی بند کر دیا، جس کے ذریعے فلسطینیوں کو ہنگامی امداد پہنچائی جا سکتی تھی، حالیہ انٹروےو میں ہنری کسنجر نے تیسری عالمی جنگ سے مسلمانوں کو خوفزدہ کر کے دراصل اسرائیلی توسیع پسندی سے ہی پردہ ا±ٹھایا ہے،چونکہ کئی عشروں سے اسرائیل پر کسی عرب م±لک نے براہِ راست حملہ نہیں کیا اور فلسطینی اپنی لڑائی تنِ تنہا اپنے ہی انداز میں غلیلوں اور پتھروں سے لڑنے پر مجبور ہیں، اِس لئے طویل عرصے سے اسرائیل کی سرحدوں کی وسعت پذیری کا عمل ر±کا ہوا ہے، تعطل کی اس کیفےت میں ہنری کسنجر نے دراصل اسرائیل کو بالواسطہ طور پر یہی مشورہ دیا ہے کہ وہ اتنے طویل عرصے سے اپنی سرحدوں کے اندر سمٹ کر کیوں بیٹھ گیا ہے، مسلم امہ کے خلاف وہ اپنے مذموم ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے قدم بھی آگے بڑھائے اور خطہ میں جنگ مسلط کر کے سات عرب مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کر لے اور اس طرح عملاً تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کا باعث بن جائے، موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو اس وقت عرب ممالک میں ایران وہ واحد م±لک ہے جو اسرائیل کے لئے ڈراو¿نا خواب بنا ہوا ہے، اےران اگرچہ نہ تو اسرائیل کے پڑوس میں واقع ہے اور نہ ہی اس کی زمینی سرحدیں اسرائیل سے ملتی ہیں،لیکن ایران کے میزائل پروگرام نے یہودی رہنماو¿ں اور ا±ن کے سرپرستوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔
جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہیں وہ وقت بے وقت اپنی اسرائیل نوازی کا مظاہرہ کرنے سے نہیں چوکتے اور معاہدہ منسوخ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں،انہوں نے فلسطین کی آزاد و خود مختار ریاست کا آپشن بھی اسرائیلی رہنماو¿ں کے دباو¿ میں آ کر ختم کر دیا ہے اور دوسرے ”مصالحانہ طریقوں“ سے مسئلہ فلسطین حل کرنے پر زور دے رہے ہیں، اسے تاریخ کی ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ ایک زمانے میں جب فلسطینیوں اور ان کے حامی عرب ممالک سے کہا جاتا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین دو آزاد خود مختار ریاستوں کا تصور قبول کر لیں تو فلسطینی اور عرب ممالک نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی آج اگر فلسطینی یہ حل مانتے ہیں تو اسرائیل طاقت کے زعم میں اسے مسترد کر دیتا ہے، کیونکہ امریکہ نے اسے فوجی لحاظ سے اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ بظاہر کوئی عرب م±لک اسرائیل پر حملہ کر کے ا±سے ختم کرنے کا تصور نہیں کر سکتا، عسکری لحاظ سے اپنی اس برتری کا اسرائل کو بھی بخوبی اندازہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے معےار بھی تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔
اسرائےل کو للکارنے کا ” جرم “ سب سے پہلے غیر عرب م±لک ایران سے سرزد ہوا جس کے سابق صدر احمدی نژاد یہاں تک کہہ گزرتے تھے کہ اسرائیل کو صفحہءہستی سے مٹا دیا جائے گا، غالباً یہی وجہ ہے کہ اسرائیل،ایران سے لرزہ براندام رہتا ہے اور یہودی دانشور ہنری کسنجر کو بھی ایران ہی خواب میں ڈراتا ہے اِسی لئے ان کا خیال ہے کہ اسرائیل ایران کو تباہ کر دے گا، ممکن ہے یہ ہنری کسنجر کی خواہش ہو جسے انہوں نے اپنی دانشوری میں لپیٹ کر د±نیا کے سامنے پیش کیا ہے،کیونکہ د±نیا کے بہت سے مسلمان روشن خیال حکمران ا±ن کی سیاسی بصیرت سے متاثر ہیں اور روشن خیال اعتدال پسندی کا تصور بھی ا±نہی کی دانش کا مرہونِ منت ہے، تیسری عالمی جنگ کب ہونی ہے یہ تو عالمی حالات اور عالمی رہنماو¿ں کی بصیرت پر منحصر ہے،لیکن ہنری کسنجر نے مسلمانوں کو خبردار کر دیا ہے کہ اسرائیل ا±نہیں تباہ کر دے گا، اِس لئے اب مسلمان حکمران بھی آنکھیں کھولیں کیوں کہ طاغوتی طاقتوں کی امت مسلمہ اور اسلامی ممالک کے خلاف کھلی دشمنی بھی کسی سے پوشےدہ نہیں، اسلام دشمن عناصر اس حوالہ سے کوئی اخلاقی ضابطہ بھی ملحوظ رکھنے کو تےار نہیں، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران متحد و یکجا ہوجائےں اور آپس کی لڑائیوں، تنازعات کو فراموش کر کے اور خیر باد کہہ کر آئندہ کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں، ورنہ اسرائیل کے جو عزائم ہیں ا±ن سے تو ہنری کسنجر نے پردہ ا±ٹھا ہی دیا ہے،اس کے علاوہ بحےثےت مسلمان ہمیں بھی اپنی اصلاح پر توجہ دےنی چاہئے اور وقت کاتقاضا ہے کہ ہم اسلام دشمن عناصر کی طرف سے پہنائی ہوئی غلامی کی زنجیرےں توڑ ڈالیں اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھےں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہم دنےا اپنی عظمت رفتہ سے ہمکنار ہوسکیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہی عمل ہمارے لئے دونوں جہانوں میں حقےقی کامیابی وکامرانی کا باعث ہوگاوگرنہ ذلت، رسوائی اور گمراہی ہمارا مقدر بنی رہے گی اور کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔
(کالم نگار مذہبی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved