تازہ تر ین

پاکستانی صحافت کا بل گیٹس!

علامہ عبدالستار عاصم ….جہان قائد
اردو زبان کے پہلے با ضابطہ صحافی مولانا محمد حسین آزاد کے والد گرامی مولانا محمد با قر سے لیکر ضیاءشاہد تک بے شمار بڑے صحافیوں کے حالات زندگی پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر جناب ضیاءشاہد کی صحافتی زندگی کو قریب سے دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ 4 جنوری 1945 ءکو پیدا ہونے والے ضیاءشاہد نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو اس وقت سے لیکر آج تک یعنی ہفت روزہ اقدام سے لیکر صدر سی پی این ای تک بھر پور اور کامیاب صحافت کی۔ ان کے حوالے سے یہ امر بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ایک صحافی صبح فجر سے پہلے ایکٹو ہو جاتا ہے اور رات دو بجے تک جبکہ خبریں کی آخری کاپی پریس میں جاتی ہے بیدار رہتا ہے ۔ ایوان صدر سے لیکر عام مضافاتی رپورٹر تک سب سے رابطہ میں رہتا ہے ۔ پاکستانی صحافت کا الٹرا ساﺅنڈ کرنے والے ضیاءشاہد اپنے معاشر ہ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر 20 کروڑ پاکستانی عوام کے سلگتے دہکتے مسائل کا حل بھی تجویز کرتے ہیں اور جچے تلے الفاظ میں حکمرانوں اور اہل دانش کے روبرو پیش بھی کرتے ہیں ۔ جناب ضیاءشاہد کا حافظہ ما شاءاللہ اس قدر تیز ہے کہ پچھلی پوری صدی کی تاریخ انہیں از بر ہے ۔ سابق صدر ایوب خان کا زمانہ ہو یا میاں نواز شریف کی نجی زندگی سے متعلق دلچسپ واقعات سب ان کی یادداشت میں ترو تازہ ہیں۔
موصوف کو سابقہ ملکی تاریخ کے ایک ایک واقعہ اور ہر چھوٹی بڑی گھڑی خبر کی جز ئیات اور پس پردہ حقائق سے بھی کما حقہ ُ آ گا ہی حاصل ہے ۔ القصہ انہیں پاکستانی صحافت اور حالات کا انسائیکلو پیڈیاکہا جائے تو بے جانہ ہو گا ۔ وہ ملک معراج خالد ، حنیف رامے ، کے ایچ خورشید ، بیگم رعنا لیاقت علی خان کو پاکستانی سیاست کے رول ماڈل قرار دیتے ہیں ۔ علم و اد ب کے مشاہیر میں آغا شورش کاشمیری ، ڈاکٹر سید عبداللہ ، مختار مسعود ، ارشاد حقانی، مسعود کھدر پوش ان کی نظر میں ہیرو ہیں ۔ ان ہی شخصیات کا فہم و ادراک جناب ضیاءشاہد کی دانش کا ماخذ ہیں جن کی عقل و دانش کے چراغوں سے روشنی لیکر انہوں نے پاکستانی صحافت کو چار چاند لگائے ۔ آج کی صحافت میں روز نامہ خبریں کی کار کردگی اور کام کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آتی ہے کہ ضیاءشاہد جدید اردو صحافت کے بانی اور معمار ہیں ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اردو صحافت کے کارکنان انہیں میدان صحافت کا بل گیٹس قرار دیتے ہیں۔ ملک بھر میں گیارہ سو سے زائد صحافی خبریں گروپ سے منسلک ہیں جو اس سلوگن پر عمل پیرا ہیں کہ ” جہاں ظلم وہاں خبریں“ ۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم مختاراں مائی پر ہو یا ملک کے کسی بھی کونے میں کسی بھی عام شہری پر خبریں گروپ مظلوم کے ساتھ اور ظالم کے روبرو خم ٹھونک کر کھڑا ہوتا ہے ۔ اسلام بھی یہی درس دیتا ہے کہ مظلوم کا ساتھ دو تمام تر جدید اخلاقیات اور نظریات بھی ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کو مثبت قرار دیتے ہیں ۔ جناب ضیاءشاہد اس حوالہ سے ملک کے ہر مثبت سوچ کے حامل محب وطن پاکستانی کے آئیڈیل ہیں کہ انہوں نے مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا ناطقہ بند کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے ۔
ایک کامیاب صحافی سے ایک زیرک اور خوش آواز ادیب ہونے تک کا سفر بھی انہوں نے کامیابی سے طے کر لیا ہے ۔ راقم پچا س سے زائدکتب کی تصنیف و تا لیف کر چکا ہے اور سینکڑوں کتب اپنی نگرانی میں شائع کروا چکا ہے۔ کتابوں کی ترسیل و فروخت بھی بندہ کے مشاغل میں شامل ہے مگر جناب ضیاءشاہد کی کتابوں کی اشاعت اور ترسیل کے دوران یہ حیرت انگیز اور خوش کن تجربہ ہوا کہ اہل ذوق خود فون کر کے ان کی کتابیں منگواتے ہیں اور نہ صرف خود پڑھتے ہیں بلکہ اپنے تعلقداروں اور عزیزوں کو تحفہ میں دینے کے لیے بھی سینکڑوں کی تعداد میں آرڈر دیتے ہیں ۔ پاکستانی تاریخ میں بے شمار ، بہترین کتابیں آئیں اور ماضی کا قصہ بن گئی ۔ سابق صدر ایوب خان کی کتاب ” جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی “ اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی کتاب ” سب سے پہلے پاکستان “ اب میانی صاحب قبرستان میں دم بھی نہیں لے رہیں ۔ ملکی تاریخ میں پاکستانی ادب کے معمار مختار مسعود کی کتابیں ” آواز دوست“ ” لوح ایام “ ” حرف شوق“ اور نسیم حجازی کے ناول ” آگ اور خون “ ”اور تلوار ٹوٹ گئی“ ” آخری معرکہ “ ” گمشدہ قافلہ “ ” داستان مجاہد“ وغیرہ آج بھی فروخت ہو رہی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب ، ممتاز مفتی ، آپا جی بانو قدسیہ ، اشفاق احمد خان کی کتابوںکی طرح جناب ضیاشاہد کی کتابیں بھی لو گ ہاٹ کیک کی طرح ہاتھوں ہاتھ خرید رہے ہیں ۔ رقم نے جناب ضیاشاہد کی والدہ محترمہ کے حوالے سے ان کی تصنیف ” امی جان“ شائع کی تو چند دنوں میں فروخت ہو گئی۔ دوسرا ایڈیشن بھی اشاعت سے پہلے ہی فروخت ہو گیا۔ اب پانچواں ایڈیشن بھی چند دنوں بعد مارکیٹ میں آنے والا ہے ۔ اسی طرح موصوف کی یادداشتوں پر مبنی ایک اور کتاب ”باتیں سیاستدانوں کی“” گاندھی کے چیلے “ ” قلم چہرے “ ” ہنستا کھیلتا عدنان “ قارئین میں بے حد پذیر ائی حاصل کر چکی ہیں ۔تازہ ترین کتاب قلم چہرے ہیں جس کی تعارفی تقریب ا گلے ہفتہ ہورہی ہے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملک کے سینئر اساتذہ یہ کتب اپنے طالب علموں کو مطالعہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں ۔ متعدد نامور شخصیات نے تو استفادہ طلبہ کے لیے یہ کتابیں خود خرید کر مختلف تعلیمی اداروں کو بطور تحفہ بھجوائی ہیں۔ ان شخصیا ت میں رانا عامر رحمان محمود ایڈووکیٹ قابل ذکر ہیں جو کہ تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما چوہدری عبدالرحمان آف راہو جو مغربی پاکستان کی لیجسلیٹو اسمبلی کے بائیس سال تک ایم ایل اے رہے ان کے پوتے ہیں اور خاکسار تحریک کے رہنما رائے حبیب اللہ خان سعدی ، مولانا امین احسن اصلاحی ، آپا نثار فاطمہ سابق ایم این اے کے قریبی عزیز اور پاکستان مسلم لیگ کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل رانا فضل الرحمن محمود ایڈووکیٹ ( مرحوم ) کے صاحبزادے اور جانشین ہیں ۔ایک اور صوفی منش جاوید راہی بھی اس کتاب کے رضا کار تقسیم کاروں میں شامل ہیں۔جو کہ روز نامہ ”خبریں “ کے مستقل فیچر رائٹر ہیں ۔ علاوہ ازیں ملک کے دیگر کتاب دوست اہل دانش جناب ضیاءشاہد کی سینکڑوں کتب خرید کر تقسیم کروا رہے ہیں ۔معروف کالم نویس جناب فاروق چوہان کی تجویز ہے کہ ملک اور بیرون ممالک میں ضیاءشاہد کے نام پر لائبریریاں اور ریسرچ سینٹرز قائم کیے جائیں جہاں عام شہری ، اساتذہ کرام ،محققین اور صحافی موصوف کے ویژن اور دانش کا مطالعہ کر سکیں ان لا ئبریریوں اور ریسرچ سینٹرز کو ملٹی نیشنل اور نیشنل تجارتی کمپنیاں سپانسر کریں ۔ قائد اعظم کی زندگی کے دلچسپ اور سبق اموز واقعات کے تذکرہ پر مبنی ایک اور اہم کتاب جناب ضیاءشاہد نے عوام الناس کے لیے تحفہ کے طور پر شائع کی ہے یہ ان کتابوں میں سے ایک ہے جو قوموں کو بیدار کرنے میں سائرن کا کام دیتی ہے ۔ ضیاءشاہد نے اس کتاب میں بانی پاکستان کی زندگی کے تجربات اور واقعات کو انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب جس پاکستانی گھر میں موجود ہو گی وہاں قائد کی موجودگی کا احساس بھی موجود رہے گا ۔ موصوف کی کتاب” قلم چہرے “ نامور پاکستانی صحافیوں کے خوبصورت خاکوں پر مبنی ہے جو ان کی نجی اور صحافتی زندگی کے واقعات کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے ۔ مثال کے طور پر اس میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر سید عبد اللہ ضیاءشاہد کو اپنا جن بچہ کہتے تھے کیونکہ ادھر ان کو کام دیا جاتا اور ادھر وہ اسے مکمل کر دیتے تھے ۔ اسی طرح اس کتاب میں ضیاشاہد لکھتے ہیں کہ میر خلیل الرحمن کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کمرے کی بجائے فری سویٹ مل گیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے کہ آپ مجھے پہلے بتاتے تو میں اپنی بیگم کو بھی ساتھ لے آتا۔ اسی طرح مولانا کوثر نیازی ، آغا شورش کاشمیری ، عنایت اللہ ، ریاض بٹالوی وغیرہ کے بہت ہی دلچسپ واقعات اس میں شامل کیے گئے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جناب ضیاشاہد کی کتابوں نے منصہ شہود پر آ کر کتاب کلچر کو پھر سے زندہ کر دیا ہے ۔ حکومت بھی دلچسپی لے تو ملک میں کتاب کلچر یورپ کے برابر آ سکتا ہے ۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بظاہر تو یورپ کی ایجاد ہیں مگر ان کے پیچھے بھی مسلم سائنسدانوں کا ویژن کار فرما ہے ۔ یورپ میں آج بھی ہر نئی کتاب پانچ لاکھ تعداد سے کم شائع نہیں ہوتی جبکہ پاکستان میں یہ تعداد تین سو سے ایک ہزار تک ہے جو ہم سب کےلئے سوالیہ نشان ہے کوشش تو یہ ہے کہ ضیاشاہد کی ہر نئی کتاب اپنی اہمیت و افادیت کے پیش نظر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک لاکھ کی تعداد میں ضرور چھپے ۔
ماضی قریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ پنجاب میں ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک لائبریری قائم کی جائے گی لیکن شاید بیوروکریسی کو یہ بات پسند نہ آئی اور یہ منصوبہ سرخ فیتے کی نذر ہو گیا ۔ ضیا شاہد نت نئے آئیڈیاز پر کام کرتے رہتے ہیں اور اپنے کارکنان کو بھی آگے منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے اداروں میں بھی کوئی ہڈ حرام کارکن زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اس عمر میں بھی وہ خود قائد اعظم کے فرمان کام کام اور صرف کام پر عمل پیرا ہیں۔ وہ زندگی کی ستر بہاریں دیکھ چکے ہیں اور پچاس سا ل سے صحافت کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان پچاس سال میں انہوں نے قو م کو کیا دیا اور قوم سے کیا لیا یہ فیصلہ آنے والے مورخین پر چھوڑتے ہیں بہر حال ایک بات طے ہے کہ ضیاشاہد نے قوم کو شعور دیا، ویژن دیا اور بقول جناب ڈاکٹر محمد اجمل خان نیازی ( ستارہ امتیاز) یہ زمانہ تیروں تلواروں اور بندوقوں سے جنگ لڑنے کا نہیں بلکہ آئی کیو اور ویژن کی جنگ لڑنے کا ہے اور ضیاشاہد موصوف نے قوم کو ظلم کے خلاف لڑنے اور کام کام اور کام کا سبق دیا ہے اور جدید صحافت کا ایک پلیٹ فارم عطا کیا ہے اللہ کرے یہ ویژن تا قیامت جاری و ساری رہے۔ ضیاشاہد زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد
(کالم نگارقلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved