تازہ تر ین

لوڈشیڈنگ کا خاتمہ مگر؟

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
اخبارات کے صفحات پر پھیلی اور ٹی وی چینلز کے نیوز بلیٹن اور ٹاک شوز میں پریشان کُن خبروں اور تجزیوں کے ڈھیر میں ایک اچھی خبر نے بہت سا سکون اور اطمینان مہیا کیا۔ قلبی وذہنی خلجان کو آسودگی میسر آئی اور اُس بہار کی فرحت بخش جھونکے محسوس ہوئے، جس کے لئے موسم کی کوئی قید نہیں۔ دامن جب نوک دار جھاڑیوں کی لپیٹ میں آجائے، اور تن پر بہت سارے زخم لگنے شروع ہوجائیں، تب بسااوقات مرہم کی محض رونمائی ہی سکون بخش ثابت ہوجاتی ہے۔ ہم ہرروز، صبح سے شام تک دلوں اور کلیجوں پر زخم کھاتے ہیں، اور بدلے میں ایک پھیکی، خشک اور خالی ہنسی سے خود کو خوش رکھنے کی لاحاصل کوشش کرتے ہیں۔ مسائل کی آماجگاہ میں نازک وجود دکھائی نہیںدیتا، تو صدائے دل وجگر بھی نقارخانے میں مثلِ آوازِ طوطی ہوجاتی ہے کہ جو بجائے جائیں، لیکن سنتا کوئی نہیں۔ بہت دنوں بعد، اور خاص طور پر پچھلے کئی ہفتوں سے جبکہ اختلاجِ قلب کا باعث بننے والے بہت سے واقعات نے ہر باشعور شہری، ہر سمجھدار شخص اور ملک و قوم کے مستقبل سے متفکر ہر فرد کو ایک انجانی سی پریشانی کے گرداب میں الجھا رکھا تھا، یہ خبر پُرمسرت اور نشاط انگیز ثابت ہوئی کہ لوڈشیڈنگ کے اُس عذاب سے جان خلاصی کی نوید سنائی گئی ہے، جس نے ہمیں پچھلی ڈیڑھ دو دہائیوں سے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس خان لغاری نے یہ خوش کن اعلان فرمایا ہے کہ ملک کے بیشترحصوں میں لوڈشیڈنگ کوختم کردیا گیا ہے، انہوںنے اس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بجلی کی اضافی پیداوار کے باعث کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 8600میں سے 5297فیڈرز لوڈشیڈنگ سے مستثنا قرار دیے گئے ہیں جس سے ڈیڑھ کروڑ صارفین مستفید ہوسکیں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت بجلی کی مجموعی پیداوار 2700میگاواٹ زائد ہے۔ اس زائد پیداوار کا فائدہ صارفین کو پہنچانے کیلئے ایک جانب لوڈشیڈنگ ختم کی گئی ہے تو دوسری جانب یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں فرق بھی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 16477میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے جبکہ اگلے چند ماہ کے دوران یعنی موسم گرما سے قبل یہ پیداواری صلاحیت 25ہزار میگاواٹ تک پہنچانے کی گنجائش بھی موجود ہے کیونکہ بہت سے پیداواری منصوبوں پر نہایت تیزی کے ساتھ کام ہورہاہے جو جلد ہی پیداوار شروع کرکے قومی گرڈ سسٹم میں شامل کردینگے۔ وفاقی وزیر نے صارف کی عزِ ت نفس کی بابت بھی بات کی اور کہا کہ اب بجلی کیلئے کسی سیاسی سفارش کی ضرورت نہیں رہی اور یہ کہ کسی مرمتی کام کی وجہ سے بجلی بند ہوگی تو صارف کو ایس ایم ایس کے ذریعے دورانیہ سے آگاہ کیا جائے گا اور اگر کسی وجہ سے پورا فیڈر ہی بلاوجہ بند ہوا تو ہم اس کا حساب لیں گے۔
ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے جن فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، ان میں صرف پنجاب کے 80فیصد سے زائد فیڈرز شامل ہیں۔ باقی بیس فیصد ملک کے دیگر تین صوبوں میں موجود ہیں۔ ممکن ہے سندھ کے اندرونی علاقوں، خیبر پی کے اور بلوچستان کے دیہی اور قبائلی علاقوں میں کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی کی چوری کے باعث لائن لاسزبہت زیادہ ہوجانے کی وجہ سے انہیں فی الحال لوڈشیڈنگ سے محرومی کا زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ وزیر مملکت برائے پانی وبجلی عابدشیر علی نے ایک بار اقرار کیا تھا کہ پورے فاٹا میں بجلی چوری ہورہی ہے۔ فاٹا اور دیگر علاقوں میں بجلی چوری کی سزا ایسے صارف کو دی جاتی ہے جو باقاعدگی سے بل کی ادائیگی کررہاہو۔ یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی میں ملک کے بڑے شہر جیسے کراچی، لاہوروغیرہ سرفہرست ہیں،شہر جوں جوں اقتصادی و معاشی ترقی سے دور ہٹتے چلے جائیں، بلات کی یہ ادائیگی بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کے بلوں میں بہت زیادہ ٹیکس شامل کیے جاتے ہیں۔ مثلاً لیسکو کو اڑھائی ارب موصول ہوتے ہیں جن میں 85کروڑ روپے سے زائد ٹیکس شامل ہیں۔ اوسطاً ہر صار ف کو 50فیصد سے زائد ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس صورتحال کی تبدیلی بھی حکومتی اقدامات کی متقاضی ہے۔ یہاں وزارت بجلی کی جانب سے اس اچھے اقدام کی تعریف بھی بر حق ہے کہ اب میٹرریڈنگ لیتے ساتھ ہی میسج کے ذریعے صارف کو تفصیل فراہم کردی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے جو خوش کن اطلاع پہنچائی،اورچہار سو چھائے اندھیروں کے باوجود روشنی کی ہلکی سی رمق دکھلانے کی کوشش کی، اس پر حکومت کو داد وتحسین کیا جانا اُس کا حق ہے۔ تاہم زمینی حقائق کی روشنی میں معلوم پڑتا ہے کہ سردیوں کے باعث ملک بھر میں بجلی کا استعمال بہت زیادہ کم ہو گیاہے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آمدہ انتخابات کے باعث بجلی کے پیداواری منصوبے انتہائی سرعت کے ساتھ پایہ ¿ تکمیل تک پہنچائے جارہے ہیں اور شنید ہے کہ وہ سب ابتدائی مراحل میں ہی پیداوار شروع کرکے بحران در بحران میں گِھری حکومت اور قوم کو ریلیف دینے کی کوشش کرینگے۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ موسمِ گرما کا آغاز ہونے تک اس نوعیت کے الیکشن سٹنٹ لیے جاتے رہیں گئے۔ تاہم یہ امتیازی سلوک صرف پنجاب تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے، پورے ملک کو اس کا فائدہ پہنچانا چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اضافی پیداوار کو یکساں تقسیم کردینا چاہیے۔ یہاں اس مسئلے کا ذکر بھی مناسب ہے جس کا ذکر مختلف فورمز پر کیا جاتا رہاہے کہ بدقسمتی سے یوٹیلیٹی بلوں کی فراہمی مہینے کے دوسرے عشرے میں کی جاتی ہے جن کی ادائیگی مہینے کے آخری دنوں تک لازمی ہوتی ہے۔ بصورت دیگر سرچارج اداکرنا پڑتا ہے۔ اس روایت کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بہترین طریق یہ ہے کہ مہینے کے سب سے آخری دن ریڈنگ لی جائے اور پھر اگلے مہینے کے ابتدائی دنوں میںبل فراہم کرتے ہوئے ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ تاریخ 10یا15مقرر کردی جائے۔ اس طرح تنخواہ دار طبقے کو بہت بڑا ریلیف ملے گاجو حکومتی نیک نامی میں اضافے کا باعث بنے گا۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved