تازہ تر ین

عام ووٹر اور موجودہ جمہوریت

اقبال گیلانی …. اظہار خیال
موجودہ صورتحال میں کسی کے طرفدار نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی ” غیر جانبدار“ ہوکر کسی کی جانبداری کرنا چاہتے ہیں کہ اس میں قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہے مگر عام آدمی اور ووٹر کی طرفداری ضروری ہے کہ اس کے جذبوں میں پاکستانیت موجزن ہے ورنہ یہاں بہت کچھ بدل چکا ہے اور تغیرات سے انقلاب کے دعوے بھی کمال تر ہیں رہائشی لحاظ سے وزرائے اعظم کے ناموںکی فہرست عیاں ہے، متعدد وزرائے اعظم غریبوں کے ووٹ سے کرسی حاکمیت پر براجمان ہوئے اور غریب رہنے کی بجائے امیر تر ہوئے غرباءکے ووٹ کر وڑوں میں ہیں جبکہ امرا ءکے ووٹوںکا تناسب انتہائی کم ہے۔ انہی کم تناسب والوں کو خوشیاں ودیعت ہیں کہ انہی کیلئے ورزرائے اعظم سوچتے ہیں منتخب وزیراعظم ہو یا نامزد وزیراعظم ہو دونوں امارتوں کے حجم میں دولتوں کے انبار بنانے کی فکر کرتے ہیں۔ حکمرانوں کے لئے مال وزر کا حصول دقیق نہیں ہے یہ ارزانی سے ملتے اور بڑھتے ہیں ماضی بعید کے وزرائے اعظم پر دولت سمیٹنے سے متعلق گراں الزامات نہیں لگے مگر بیسویں اور اکیسویں صدی کے حکمرانوں پر اس بابت گھمبیر الزامات لگے اب ہمارے ہاں نیلسن منڈیلا تو ہے نہیں کہ وہ غریب رہے گا اور تدارک غربت کے لئے سچے اقدامات کرے گا یہاں سڑکوں ، پلوں کی تعمیر کو غریب کی خوشی سمجھ لیاگیا ہے اور نئے نئے منصوبوں کی طمانیت سے حاکمانہ جبلت کو خدمت سمجھ لیاگیا ہے۔اس بار عدلیہ پر پیار آرہا ہے کہ اس نے دولت در دولت سے متمول ہونے والے حکمرانوں کو سوچوں کے بھنور میں ڈال دیاہے کہ کہ دولت مند ہونے میں عزت و ذلت دونوں کو دیکھ لینا چاہیے یہاں جج بھی امیر ہیں اور جنرنیل بھی امیر ہیں مگر وہ اس قدر امیر نہیں کہ جیسے مخصوص وزیراعظم اور وزراءامیر تر ہوئے اور جن کی دولت کے چرچے معاشی اقدار میں عجب مضمرات لئے ہوئے ہیں اس بارے سچائیاں زیادہ ہیں اور کذب اتنا سا ہے جتنا آٹے میں نمک ہے ۔ سابق وزیراعظم کے نمک خوار کہتے ہیں کہ دولت کا بڑھنا امیر تقدیر ہے اور میاں نوازشریف عوام کی تقدیر ہیں اور ہم بھی پھر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ وہ تقدیر عوام ہی ہیں کہ عوام کی قسمت تاحال نارسا ہے اور انہیں قدم بہ قدم غموں کے تھپیڑوں کا سامنا ہے ۔ سابق وزیراعظم کے وزیر و مشیر نہال و خوشحال ہیں کہ حاکمیت سے وابستگی انہیں امارتوں کے زعم میں رکھے ہوئے ہے ان میں بعض تو انتہائی رئیس ہیں کہ عجلت میں حاصل کی جانیوالی دولت انہیں انگشت نمائی کے دائرے میں رکھے ہوئے ہے میرے ایک دوست کی منطق ہے کہ وزیراعظم کو امیر نہیں ہونا چاہیے یا بہت زیادہ امیر نہیں ہونا چاہیے ا سکی اس منطق پر میں متعجب ہوا اور اسے حقائی بتلائے کہ وزرائے اعظم میں کبھی بھی کوئی غریب نہیں آیا اور نہ ہی کمتر اثاثے والا وزیراعظم ہوا سب وزیرائے اعظم امیر و رئیس تھے ۔ سابق وزیراعظم تو اس بارے کمال تر وزیراعظم تھے ملک معراج خالد امیر وزیراعظم نہیں تھے اور نہ ہی ایسے وزیراعظم تھے کہ جن کی دولت میں اضافہ ہوتا چلاگیا ہو انہیں غریب وزیراعظم کہا جاسکتا ہے کہ انہیں کلیدی عہدہ رکھنے کے باوجود دولت سمیٹنے کا ملکہ حاصل نہیں تھا ملک معراج خالد ذوالفقار علی بھٹو کے جانثار ساتھی تھے اور اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے بھی سرعت سے دولت مند ہونے سے محفوظ رہے مگر عرصہ بیس تیس سالوں میں حاکمیت کے محلات میں رہنے والے کہاں پہنچ گئے 25کروڑ اثاثوں کے مالک 253 کروڑ اثاثوں کے آقا ہوگئے آج کے حکمرانوں نے 2012ءکے وزیراعظم کو کرپٹ وزیراعظم کہا آج کی قیادت نے بھٹو کی پھانسی سے جلاپائی اور پھانسی کی حمایت سے عنایت حاصل کرکے سفر حاکمیت سے وزیراعظم ہوئے مگر اقتدار کے چھن جانے سے منہ اورمسور کی دال کی تصویر نمایاں ہے، ذوالفقار علی بھٹو پرمال و زرکی انگشت نمائی نہیں تھی خواجہ ناظم الدین سے لیکر ملک فیروز خان نون تک دولتوں کا اشتیاق کم کم رہا بلکہ دولت کے ارتکاز سے اجتناب کیاگیا۔ خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، چودھری محمد علی ، آئی آئی چند ریگر اور ملک فیروز خان نون وزیراعظم ہونے کے باوجود اثاثوں کے اضافے کی پاداش سے محفوظ رہے مگر وہ غریب وزیراعظم نہیں تھے۔ اس لئے ان کے ہاں غریب پروری کے رواجات نہیں تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو غریب پروری رکھتے تھے کہ وہ غرباءکے دکھوں کا نعرہ لیکر ابھرے اور ایوبی آمریت سے نبردآزما ہو کر مسند اقتدار پر براجمان ہوئے مگر بعدازاں ضیائی حکومت نے سیاستدانوں اور سیاست بازوں کو پس دیوار کر کے شریفوں کو اقتدار میں شامل کر کے ”شریفانہ اقتدار“ کی داغ بیل ڈالی۔ مجوزہ اقتدار میں شرفاءکو کیا ملا اور غرباءکے نصیب میں کتنی بدنصیبیاں آئیں‘ اس بارے احوال عوام اور حالات ریاست عیاں ہیں اور دولتوں کے ارتکاز کے قصے بھی نمایاں ہیں کہ وزرائے اعظم میں سے کوئی بھی غریب وزیراعظم نہیں ہے۔ اگر کوئی وزیراعظم بھی غریب ہوتا تو دولت کے افسانے اور اثاثوں کے نمو پانے کے عوامل وبال جان نہ ہوتے اور نہ ہی ریاست اور سیاست کے مابین تفاوت ہوتا۔ عالمی سیاست میں متعدد ممالک کے سربراہان کی مثالیں موجود ہیں کہ ان کی تجوری میں روپے پیسے کی قلت تھی اور برائے نام آمدن کے ذرائع بھی عیاں تھے۔ مذکورہ مثال میں اغیار کے سربراہ ہی آتے ہیں اور یہاں اغیار کی تعریف و توضیع میں مسلم زعماءکی بے توقیری نہیں کی جا سکتی۔ادراک کہتا ہے کہ مظلوم اور عالم ووٹر طبقے میں سے وزیراعظم ہونا چاہئے۔ غریبوں کیلئے صرف ”تقریر“ کرنے والا وزیراعظم نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں تقریریں اور نعرے غریبوں کیلئے ہوتے ہیں جبکہ اعمال و افعال اشرافیہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ غریب کو بجلی کی سہولت میسر ہے اور نہ وہ فریج سے استفادہ کر سکتا ہے کہ فریج کی جاں بلب قیمت اسے اس سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ ملک میں بجلی ہونی چاہئے اور سستی ہونی چاہئے۔ گھر کے لوازمات میں ایئرکنڈیشنر تک پہنچ میں ہونے چاہئیں کہ سب سہولتوں سے سیراب ہوں مگر سب کچھ برعکس ہے۔ تصویر مفلسی رنجیدہ ہے۔ سردی کا ستم بھی غریبوں کیلئے ہے اور گرمی کی تپش بھی غریبوں کیلئے ہے کہ انہیں تختہ مشق بنانے والے اغیار نہیں اپنے ہی ہیں اور اپنوں سے آنے والا وزیراعظم غریب نہیں ہو سکتا اور غریبوں پر حکمرانی کرنے والے امیر وزیراعظم کو ادراک نہیں ہوتا کہ جدید زمانے کی سہولتیں غریبوں کیلئے کیوں نہیں ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں میں سردست پی ٹی آئی فعال اور موجودہ وزیراعظم سے نبردآزما ہے مگر ایک وزیراعظم کے جانے سے دوسرا وزیراعظم کس قدر عوامی اور مفلس ماروں کا نمائندہ ہو سکتا ہے۔ اس بارے سچ یہی ہے کہ کوئی بھی وزیراعظم مفلسوں کیلئے مفلس نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اپنے اوپر ہونے والے کروڑوں روپے کے تصرف کو کم کر سکتا ہے کہ اس میں اس کی شان مضمر ہے۔
(کالم نگار سماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved