تازہ تر ین

ہم زخم ہی سہلا سکتے ہیں

توصیف احمد خان
امریکی صدر ضدی آدمی ہے،جو سوچتا ہے کرگذرتا ہے ، اب اسرائیل اور یہودیوں کی خوشنودی کیلئے دنیا بھر کے احتجاج کو نظر انداز کرکے اس نے حتمی وار کردیا، اس سے پہلے وہ سعودی عرب کے دورے پر آیا تو اس نے ایک تیر سے دو شکار کئے، سعودی عرب میں مال کمایا اور سعودیوں کو خوش بھی کردیا، اسکے بعد اسرائیل پہنچا اور وہاں کی قیادت کو کھلے ہاتھوں سے گلے لگایا، اس کی بیوی جو سعودی عرب میں کھلے بالوں کیساتھ پھرتی رہی اسرائیل جاتے ہی بالوں کو باپردہ کرلیا کہ وہاں کی صورتحال کا تقاضا یہی تھا ، عربوں یا مسلمانوں کا کیا ہے ، ان کے پاس تو جیسے بھی جائیں وہ خوشی سے نہال ہوجائیں گے، جیسے کلنٹن اپنے دور صدارت میں کئی دن کیلئے بھارت گئے تو ہم نے ترلے منتیں کرکے انہیں چند گھنٹے ہی سہی اسلام آباد میں روک لیا اور اس پر پھولے نہیں سماتے تھے ، حالانکہ اس سے پہلے وہ بھارت میں جو کچھ کراور کہہ آئے تھے وہ ہمارے لئے تازیانے کی حیثیت رکھتا تھا، ایسی ہی صورتحال جارج بش کے دورے کی تھی ، اسلام آباد سے پہلے وہ بھارت اور افغانستان گئے اور ہماری خوب خبر لی ، ہم اسی پر خوش تھے کہ وہ ہمارے یہاں آئے تو سہی، راقم اس پریس کانفرنس میں موجود تھا جو بش اور مشرف نے مشترکہ طور پر کی ، اس میں بش نے ہمارے لئے جو کیا وہ شاید مونگ پھلی سے بھی کمتر تھا۔
موجودہ امریکی صدر کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیاگیا ہے جس کی1995ءمیں امریکی کانگریس منظوری دے چکی ، جب اسرائیل قائم ہوا تو تل ابیب اسکا صدر مقام تھا مگر بعد میں اس نے پورے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور آخر کار 1980ءمیں اسے اپنا دارالحکومت بھی قرار دیدیا، اس کے اس اقدام کو دنیا بھر اور سلامتی کونسل نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا لہٰذا ابھی تک قریباً تمام ممالک کے سفارتخانے بیت المقدس منتقل نہیں ہوئے، یہ سفارتخانے تل ابیب میں ہیں لیکن امریکی اقدام کے بعد صورتحال بدل جائیگی اور ان میں سے کثیر تعداد امریکہ کی پیروی کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھے گی، محض چند ممالک رہ جائیں گے جو بدستور تل ابیب کو ہی اپنی سفارت گاہ قرار دیتے رہیں گے اور ظاہر ہے اس سے اسرائیل کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔
ٹرمپ کے فیصلے کے بعد عالم اسلام اور اسلامی تنظیموں کی طرف سے آنیوالے بیانات میں اس فیصلے کی مذمت کی گئی ہے ، اسے افسوسناک قرار دیاگیا ہے اور کچھ کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ امریکہ آگ سے کھیل رہاہے، سمجھ نہیں آتی یہ محض رسمی بیانات ہیں یا ان میں کوئی حقیقت بھی موجود ہے ،ماضی کا جائزہ لیں تو ان کے رسمی ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ اب تک تو تنظیم آزادی فلسطین اورحماس وغیرہ کچھ نہیں کرسکیں، انہوں نے کچھ کیا بھی تھا تو اس کا خمیازہ معصوم اور نہتے فلسطینی عوام کو بھگتنا پڑا ، انہیں بے گھر ہی نہیں کیا گیا، فلسطین کی سر زمین میں ان بے گناہوں کا خون بھی جذب ہوتارہا، آج بھی بڑی تعداد میں فلسطینی بے وطن ہیں اور خیموں میں زندگی گذاررہے ہیں ، انہی خیموں میں انکی ایک کے بعد دوسری نسل جوان ہوچکی ہیں، ایسی ہی صورتحال بنگلہ دیش میں بہاریوں کے ساتھ ہے۔
امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل کا کسی قسم کی آگ نے اس وقت بھی کچھ نہیں بگاڑا تھا جب 1948ءمیں یہودیوں کا یہ ملک قائم کرکے عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا، اس ملک کا نقشہ دیکھیں تو اس کی شکل خنجر سے مشابہ ہے …آگ تو اس وقت بھی نہیں لگی تھی جب دو جنگوں میں اسرائیل نے ناصرف پورے بیت المقدس پر قبضہ کرلیابلکہ شام اور مصر وغیرہ کے بہت سے علاقے چھین لئے، خصوصا! شام سے گولان کی پہاڑیاں لے لیں جو جنگی حکمت عملی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جاتی ہیں، آگ تو اس وقت بھی اسرائیل تک نہیں پہنچ پائی تھی جب اس نے1980ءمیں تل ابیب سے اپنا دارالحکومت باقاعدہ طور پر بیت المقدس منتقل کرنے کا قانون بنایا، اس قانون پر عملدرآمد ہوئے بھی مدت بیت چکی ، اب امریکہ نے اسے باقاعدہ طور پر تسلیم کرلیا ہے تو ہم یعنی مسلم ممالک اس کا کیا بگاڑ پائیں گے جو اپنی بقاءکی کنجی امریکہ کو سمجھتے ہیں اور اسکی قیادت کے سامنے بچھے جاتے ہیں۔
رسول اللہ مخبّرصادق ہیں ، آپ نے جو فرمایاتھا وہ بالکل درست ثابت ہورہاہے ، آپ نے جب ایک زمانے میں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کی خبردی تھی تو صحابہ کرام ؓ نے حیران ہوکر پوچھاتھا کہ یا رسول اللہ !”کیا ہم تعدا د میں کم ہونگے …؟“ آپ نے جوجواب دیا آج ہم من و عن اسکی تصویر بنے ہوئے ہیں، نبی کریم نے جواب دیاتھاکہ ”نہیں! مسلمان تعداد میں کم نہیں ہونگے مگر ان کی حیثیت اس کوڑ کباڑ کی ہوگی جو سمندر پر بہتا رہتا ہے “، آپ خود فیصلہ کرلیں کہ ہماری حیثیت بالکل ایسی ہی ہے یانہیں ، ہر کوئی ہم پر چڑھائی کررہاہے اور ہم بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔
رسول کریم نے فرمایا تھا کہ ”روز قیامت میری امت کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی “، آج ہم واقعی دنیا میں سب سے زیادہ ہیں مگر بے دست و پا ہیں ، تین برس قبل تک تاثر تھا کہ عیسائیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ، مگر اس وقت جو سروے کئے گئے انکے مطابق عیسائیوں کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، اس کی دو بڑی وجوہات بتائی گئی ہیں ، ایک یہ کہ دوسرے مذاہب کی نسبت مسلمان کثرت اولاد پر یقین رکھتے ہیں اور یہ انکی تعداد میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے ، دوسرے مذاہب میں چھوٹے خاندان کاتصور پایاجاتا ہے ، اس لئے ان کی تعداد بھی نہیں بڑھ رہی بلکہ ایک طرح سے کم ہورہی ہے ، اس کی جودوسری وجہ بتائی گئی ہے وہ وجہ تبدیلی مذھب ہے ، مغربی تنظیموں کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطابق اسلام وہ واحد مذھب ہے جس میں لوگ بڑی تعداد میں داخل ہورہے ہیں، کسی بھی دوسرے مذھب میں یہ تعداد صفر ہے ۔
یہ سروے بتاتے ہیں کہ چند برس قبل تک دنیا میں عیسائی کل آبادی کا 28فیصد اور تعداد کے اعتبار سے باقی مذاہب کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھے مگر 2014ءمیں جو سروے کیے گئے انکے نتیجے کے مطابق یہ تعداداس سے نہیں بڑھ پائی، اس کے مقابلے میںمسلمانوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے اور وہ بھی 28فیصد ہی ہوگئے ہیں ، ظاہر ہے تین برس میں ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہوگا اور وہ عیسائیوں سے کہیں آگے چلے گئے ہونگے ،سروے میں اگرچہ عیسائیوں کی 28فیصد کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد 29فیصد بتائی گئی ہے مگر ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ اس میں ایک فیصد قادیانی شامل ہیں، مغرب قادیانیوں کو مسلمان قرار دیتا ہے حالانکہ یہ حقیقت کے منافی ہے ، قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے محض اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، یہ حرام پودہ چونکہ مغرب کا ہی لگایا ہوا ہے اس لئے وہ اسے غیر مسلم بلکہ مرتد ماننے کیلئے تیار نہیں۔
ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ 2014ءمیں مسلمان اور عیسائی برابر تھے ،اب عیسائیوں کی عددی برتری ختم ہوچکی ہے اور امت محمدیہ دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں ہے، فرمان رسول کے مطابق آخرت میں تو یہ سب امتوں پر حاوی ہونگے ہی ۔
لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ ہم نے خود کو سمندر پر بہنے والا کوڑ کباڑ بنالیا ہے جس کو پانی جس طرف چاہتاہے دھکیل کر لے جاتا ہے ، وہ اپنے لئے خود کوئی سمت اختیار کرسکتے ہیں نہ کسی رخ پر چل سکتے ہیں، ہمارے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں، افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں، اگر کمی ہے تو حوصلے اور ہمت کی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم میں ایمان کی کمی ہے ، نہ ہوتی تو اسرائیل کا قیام عمل میں آتا اور نہ ٹرمپ کو جرا¿ت ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک سکے، اب ہم اپنے زخم محض سہلا ہی سکتے ہیں …..اور کچھ نہیں کرسکتے ۔
٭٭٭

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved