تازہ تر ین

وسیب۔تازہ صورت حال

عاشق بزدار….نقطہ نظر
ہزاروں سالوں سے موجود سرائیکی خطہ میں رہنے والے لوگ اپنی دھرتی ، زبان، رسم و رواج، آلات ِ پیداوار، رھن سہن اور مشترکہ فکرواحساس کے حوالے سے ایک قوم کہلاتے ہیں۔ اور قدیم سے یہاں رہنے والوں کے بعد یہاں آکر آباد ہونے والے لوگ اس دھرتی اور قوم کا حصہ بنتے رہے۔ اس خطہ میں قدیم سے آباد لوگ دراوڑ کہلاتے تھے۔ باہر سے حملہ آور آئے جنہیں آرین کہا گیا۔ جنہوں نے مقامی لوگ دراوڑوں پر متشدد حکومت کی۔ صدیوں سے اس خطہ پر مختلف ملکوں سے لوگوں کی آمد اور آباد کاری کا سلسلہ جاری رہا۔ جو لوگ بھی یہاں آکر آباد ہوئے اُنہوںنے اس خطہ کے لوگوں کی زبان اور ثقافت سے بڑی حدتک جڑت کی اور اُ ن میں سے اکثریت قدیم سے مقامی لوگوںمیں ڈھل گئی۔ وہ اس خطہ کے لوگوں کی معاشی، سیاسی اور ثقافتی مانگوں کی سچائی تسلیم کرتے ہوئے دھرتی واس ہو کر خود کو مقامی معاشرت میں ضم کر دیا۔ یہ انجذاب کا تاریخی عمل ہے جو دنیا کے ہر خطہ میں ہوتا ہے۔ باہر سے آنے والوں کے ہمہ قسمی مفادات اس دھرتی سے وابستہ تھے وہ مل جل کر باہمی سانجھ بنانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے دھرتی سے محبت کے رشتہ میں بندھ گئے۔ بھارت سے آنے والوں میں کافی لوگوں نے سرائیکیوں کی صوبہ کے لئے کی گئی مانگ کی حمایت کی وہ سرائیکی صوبہ کے لئے جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کا حصہ بنے اور آج بھی وہ سرائیکی قومی اور سیاسی تحریک کا ہراول ہیں۔ بے شک بعض لوگ جنہیں علمی کم مائیگی کے باعث مقامی قومی مسئلہ کا ادراک نہیں وہ مخالفت کرتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی الجھنیں بھی دور ہو جائےں گی۔ دیگر خطوں میں آباد لوگوں کی طرح سرائیکی خطہ کے تمام لوگ مکمل جذب پذیری کے عمل سے گزر کر خود کو سرائیکی کہنے پر فخر کریں گے۔ سرائیکی قوم سے وابستگی کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ سرائیکی زبان کے علاوہ اپنی دیگر زبانوں سے لا تعلق ہو جائیں گے ایسا ہر گز نہیں۔ انسانوں کی تمام زبانیں قابل احترام ہیں کہ وہ لوگوں کا و سیلہ اظہار ہیں۔ صوبہ بننے سے کسی زبان کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ نیا صوبہ ، صوبہ میں بولی جانے والی جملہ زبانو ں کی بقاءکی ضمانت دے گا۔ اور سرائیکی خطہ میں آکر آباد ہونے والوں سے اس بنیاد پر نفرت کا جواز نہیں کہ یہاں آکر انہوں نے زمینیں خریدیں ۔ کتنی زمینیں خریدی ہونگی؟
یہاںکاوڈیرا، جاگیردارتو سینکڑوں مربعوں کا مالک ہے اور اس نے ساری زمینیں ہر دور کے حکمرانوں سے مراعات میں حاصل کیں۔ میں نے روزنامہ خبریں میں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ مشرقی پنجاب سے یہاں آنے والوں کو زمینیں دان کی گئیں۔ جس پر ایک دوست نے جواباً لکھا تھا کہ انہوں نے تھوڑی تھوڑی زمینیں خرید کیں اور جب تک اُن زمینوں کی قیمت کی پائی پائی ادا نہ کی اُنہیں مالکانہ حقوق نہ ملے۔ اور اِ س صورت حال کے مقابلہ میں خطہ کے جاگیردار، زمینداراور وڈیروں نے سِکھوں ، انگریزوں اور دیگر حکمرانوں سے سینکڑوں ایکڑ زمینیں مفت حاصل کر کے مقامی غریب لوگوں اور مزارعین کا حق غصب کیا۔ طاقت کے بل پر قبضہ گیری اور غداری کے عوض ہتھیائی گئی زمینوں پر دہ خدا بننے والے جاگیرداروں اور وڈیروں کے پنجہ ءاستبداد میں جکڑے سرائیکی خطہ کے عوام زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہے ہیں اور اُن کا کوئی پرُسانِ حال نہیں۔باہر سے یہاں آنے والوں خاصی تعداد خطہ کے لئے الگ صوبہ بنانے کے لئے جدوجہد کی حمایت کرتی ہے جبکہ یہاں جاگیردار وڈیرا سرائیکی قومی شعور سے نا آشنا ہونے کے باعث سرائیکی صوبہ کے مطالبہ کی مخالفت پرکمر بستہ ہے۔ یہی لوگ تو تھے جنہوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی صوبہ قرارداد کا ساتھ نہ دیا۔ اس لئے کہ وہ سرائیکی قومی مسئلہ کی سچائی اور اہمیت سے نا آشنا تھے جبکہ سرائیکی قومی شعور سے بہرہ اور ایک پنجابی دانشور اسلم جاوید جو سرائیکی شاعری کرتا ہے اس نے بچیس ، تیس سال قبل لکھا تھا:
میں تسا میڈی دھرتی تسی
تسی روہی جائی ۔۔میکوں آکھ نہ پنج دریائی
اس طرح پنجاب کے معروف دانشور جناب پروفیسر عزیز الدین نے اپنی کتاب ”کیا ہم اکھٹے رہ سکتے ہیں“ میں لکھا کہ پنجابی اور سرائیکی الگ الگ قومیں ہیں یہ اکھٹی نہیں رہ سکتیں۔ اُن کے علاوہ کئی ادیب و شاعر، دانشور، سیاسی کارکن جونئے سرائیکی ہیں وہ پروفیسر عزیز الدین اور اسلم جاوید کے ہم نوا ہیں۔ جو پنجابی، مہاجر سرائیکی صوبہ کی علیٰ الاعلان حمایت کرتا ہے اور سرائیکی قومی تحریک میں حصہ ڈالتا ہے وہ میرے نزدیک کسی بھی سرائیکی مخالف جاگیردار وڈیرے سے ہزار درجے بہتر ہے۔ میرے مو¿قف کی سچائی پر کوئی معترض ہو تو اُس کے لئے عرض ہے کہ جناب ضیا شاہد جو پنجابی ہیں اور سرائیکی خطہ میں بھی آباد رہے ہیں وہ سرائیکی خطہ کے لئے الگ صوبہ کے نا صرف حامی ہیں بلکہ اُنہوں نے اپنے اخبار روزنامہ خبریں کو ایک عرصہ سے سرائیکی مسئلہ پر لکھنے والوں کے حوالے کئے رکھا۔ آج بھی روزنامہ خبریں میں سرائیکی صوبہ اور سرائیکی قومی مسئلہ پر لکھا جا رہا ہے۔ اِس اخبار نے سرائیکی صوبہ کی شہ سُرخیاں لگائیں جبکہ دیگر اخبارات کے نزدیک سرائیکی مسئلہ پر لکھنا اسلام اور پاکستان کی مخالفت تصور کیا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے روزنامہ خبریں سرائیکیوں کے نزدیک پسندیدہ اخبار ہے جو سرائیکی بیلٹ کے مسائل اور سرائیکی ادب و ثقافت کے فروغ کے لئے اُس نے اپنے صفحات وقف کر رکھے ہیں۔اس کے وسیب سنگ اور سرائیکی ادب کے ایڈیشن پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں جن سے مقامی سرائیکی علم و ادب، آرٹ ، فن اور ثقافت کو فروغ مل رہا ہے۔
نوٹ: روزنامہ” خبریں“ کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد چونکہ سندھ کے علاقہ گڑھی یسین میں پیدا ہوئے اس لئے وہ خود کو سندھی کہتے ہیں۔(ادارہ)
(معروف شاعر اور سیاسی و سماجی رہنما ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved