تازہ تر ین

مریم نواز کی شادی پر ایک کالم

ضیا شاہد
میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو وزیراعظم پاکستان جناب نوازشریف کی بیٹی مریم نوازکی شادی کا دعوت نامہ میرے سامنے پڑا ہے۔ یہ بہت سادہ سا دعوت نامہ ہے۔ کارڈ کا کاغذ قیمتی ہے نہ اس کی جلد مخملیں۔ اس کی چھپائی بھی صرف ایک رنگ میں ہے اور ہماری رپورٹرز یہ کہہ رہی ہیں کہ اگرچہ انہوں نے مریم بیٹی کی سہیلیوں کے ذریعے دعوت نامہ ضرور حاصل کرلیا ہے لیکن وہ تقریب میں ذاتی حیثیت میں جارہی ہیں اور کوئی تصویر ‘ کوئی خبر شاید فراہم نہ کرسکیں کہ انہیں بطور خاص کہا گیا ہے کہ شریف خاندان والے اس شادی کی تشہیر نہیں چاہتے۔ یہ کالم آپ پڑھ رہے ہوں گے تو شادی ہوچکی ہوگی اور مریم بیٹی اپنے گھر جاچکی ہوگی۔
اگر آج نوازشریف وزیراعظم نہ ہوتے تو شاید میں زیادہ کھل کر مریم بیٹی اور اس کے خاندان کے مشرقی انداز و اطوار کی بات کرسکتا کہ اس گھر میں مجھے سینکڑوں بار جانے کا اتفاق ہوچکا ہے گھر کے بڑے میاں شریف کی مخصوص سوچ‘ جس میں دینداری بھی ہے اور وضع داری بھی ہمیشہ اس گھر پر چھائی رہی ہے اور میں شاید اور بہت سی ایسی باتوں سے واقف ہوں کہ ان کے باورچی خانے سے بھی اور ان کی رہائش سے بھی جس میں سب کچھ ہونے کے باوجود زیادہ سے زیادہ اپر مڈل کلاس کا معیار اور خالصتاً مذہبی سوچ پائی جاتی ہے لیکن ان کا ذکر یہاں اس لئے نہیں کروں گا کہ لوگ سمجھیں گے وزیراعظم اور اس کے خاندان کی تعریفیںکررہا ہے اور کچھ سیاسی مخالف تو شاید مجھے نوازشریف کا خوشامدی بھی قرار دیں‘ حالانکہ خدا گواہ ہے کہ ہم نے اس وقت میاں صاحب کا ساتھ دیا جب وہ مشکل میں تھے‘ آزمائش سے گزر رہے تھے اور آج جب وہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں تو ہم نے مقصدی صحافت کے اعلیٰ ترین اصولوں کی خاطر اپنے لئے وہ مشکل راستہ چنا ہے جس پر چلنے سے ان کی اکثر ناراضگی تو ملتی ہے ‘ خوشنودی نہیں۔
لیکن آج کچھ باتیں سیاست اور حالات حاضرہ سے ہٹ کر وزیراعظم سے نہیں اپنے ایک پرانے اور پیارے دوست سے کرنے کو جی چاہتا ہے جس کے ساتھ بہت سا اچھا وقت گزرا جس کے ساتھ اس ملک کی بہتری کیلئے اس نظام کی اصلاح کیلئے بہت سے وعدے ہوئے جس کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکر بہت سے حلف اٹھائے گئے جس کے دل کے شیشوں پر سیاست کی وقتی مصلحتوں نے اقتدار و اختیار کی مجبوریوں نے شاید بہت سی دھول جمادی ہو لیکن آج بھی نوازشریف کو ٹیلی وژن پر گفتگو کرتے یا اخبارات کیلئے بیان دیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو کہیں کہیں وہ دوستوں سے پیار کرنے والا، آدمی سے محبت کرنے والا، رحمدل اور شفیق انسان باہر کے سارے خول توڑ کر اندر سے یوں نکلتا ہے جیسے سردیوں کے گہرے بادل چھٹ جائیں اور اجلی نکھری اور چمکتی ہوئی کرنیں پھوٹ نکلیں اور سارے ماحول کو روشن روشن کردیں۔
اور نوازشریف آج تمہاری بیٹی کی نہیں بلکہ میری بیٹی کی شادی ہے اس لئے کہ بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ اور میرا جی چاہتا ہے کہ لوگوں کی باتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے تمہیں کھل کر مبارکباد دوں کہ پاکستان کے امیر ترین خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود تم نے جس سادگی کا جس سچائی اور جس انکساری کا مظاہرہ کیا ہے اس پر تمہیں اور تمہارے اہل خانہ بالخصوص بڑے میاں صاحب کو نہ سراہنا ایک ظلم عظیم سے کم نہ ہوگا۔ تم چاہتے تو ہزاروں، لاکھوں افراد جمع کرسکتے تھے تم بھی بینظیر بھٹو کی شادی کی طرح سارے ملک سے کارکنوں کو مداحوں کو پارٹی ورکروں کو بلاسکتے تھے اونچا سٹیج بھی بن سکتا تھا اور روشنیوں کے فوارے بھی چھوٹ سکتے تھے تم خواہش کرتے تو تحفوں کے انبار لگ جاتے اور تمہاری خواہش ہوتی تو شادی میں لاہور کی آبادی سے زیادہ افراد جمع ہوسکتے تھے کہ آج نوازشریف وزیراعظم ہے اور اقتدار کے قریب پہنچنے کیلئے یار لوگوں کے دلوں میں تڑپ بھی موجود ہے اور ان کی بینکوں کی تجوریوں کے منہ بھی کھل سکتے ہیں لیکن میرے بہت اچھے دوست تم نے مریم بیٹی کی شادی اس سادگی سے نام و نمود اور تشہیر کے بغیر کرکے یہ ثابت کردیا کہ تمہارے خوبصورت دل میں واقعی غریب کیلئے پیار ہے اور مخالف کالم نویسوں کے جارحانہ جملوں کے باوجود اگر تم کسی بھی شہر میں کسی بھی مظلوم بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھنے گئے ہو تو یہ سیاسی سٹنٹ نہیں تھا۔ نوازشریف واقعی ایسی خبر پڑھ کر بے چین ہوتا تھا اور اگر وہ شروع میں شادیوں اور دعوتوں پر ون ڈشن پارٹی کیلئے مطالبہ کرتا تھا تو سستی شہرت کیلئے نہیں دل سے محسوس کرتا تھا کہ ایسا ہونا چاہیے۔ دولت کے انبار بھی اسے روایتی سرمایہ دار نہیں بناسکے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ ہماری چھوٹی کاروں میں گھوم پھر کر خوش ہوتا تھا۔ فاسٹ فوڈ کی دکانوں سے قہوے کا کپ پی کر سمجھتا تھا کہ عیاشی مکمل ہوگئی۔ وہ جسے دوست سمجھتا اس کے گھر والوں کی دل سے عزت کرتا تھا، اس کے بچوں کیلئے اچھا سوچتا تھا اور اگر کوئی مشکل آن پڑتی تو نہ صرف دوستوں کے کام کرتا بلکہ انہیں بتائے بغیر ان کے گھروں پر داخلے کے ملازمتوں کے اور دیگر مسائل کے حل کے سرکاری پروانے بھجوا کر خوش ہوتا تھا اور پھر اگر کوئی دوست اس کا شکریہ ادا کرتا تو شرم سے اس کے کان سرخ ہوجاتے تھے اور اس کی آنکھیں جھک جاتی تھیں۔ ایسا معصوم اور پیارا ہوتا تھا ہمارا دوست نوازشریف!
معلوم نہیں آج کا وزیراعظم ہمیںکیا سمجھتا ہے پرانے حوالے یاد رہے ہوں تو شاید دوست اور سرکاری خرچ پر پلنے اور بات بے بات ہم پر غرانے اور بھونکنے والے افسران کی نظر سے دیکھنے اور ان کے کان سے سننے لگا ہے تو دشمن؟ مگر مریم ہمارے پرانے دوست کی بیٹی ہے، اس لئے مریم بیٹی ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ کو تاحیات خوشیاں دے اور آپ کے باپ کو آپ کی شادی کے دن کی طرح سادہ، سچا اور کھرا بنائے۔ اسے اقتدار کے نشے سے دور رکھے اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے کانوں سے سننے کی توفیق دے۔ اس لئے بیٹی کہ اگر اس ملک کو جاہ و جلال والے حکمران کی بجائے تمہارا محبت کرنے والا باپ مل جائے تو اس میں بسنے والی ساری بیٹیاں سکھی ہوجائیں گی۔ سارے باپ نہال ہوجائیں گے۔ سارے بھائیوں کے چہروں پر رونق آجائے گی کیونکہ آپ کا باپ وزیراعظم ہے اور اگر اس ملک کا وزیراعظم چاہے تو وہ جہیز ایکٹ پر عمل بھی کراسکتا ہے جس کا فائیو سٹار ہوٹلوں میں روزانہ کھلے عام مذاق اڑایا جاتا ہے اور وہ سفارش اور اقربا پروری کو ختم کرواکے سماجی انصاف کو ہر گھر تک پہنچا بھی سکتا ہے اور خدا کرے کہ معصوم اور سادہ سی بیٹی مریم کا محبت کرنے والا باپ اور دوستوں کا بہت ہی رحمدل اور انسان سے پیارکرنے والا دوست ایک سفاک، خود غرض اور طوطا چشم سیاستدان بننے سے بچ جائے جس کا جی چاہتا ہے کہ اپنے اقتدار کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دی جائے ہر آنکھ پھوڑ دی جائے اور ہر قلم توڑ دیا جائے۔
اور وزیراعظم جناب نوازشریف صاحب! جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم آپ کو ظلم کے راستے پر چلنے نہیں دیں گے کیونکہ اس راستے کے مسافروں کا آخر تارا مسیح کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور ہماری خواہش ہوگی کہ بیٹی سے پیار کرنے اور بیٹے کو انکساری کی نصیحت کرنے والا نوازشریف ہر اچھے کام کی طرف قدم بڑھائے تو ہم اس کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہوں۔ اس لئے وزیراعظم دی گریٹ بھلے سے آپ کے پرنسپل انفرمیشن آفیسر ہمیں اشتہار بند کرنے کی اور خطرناک نتائج کیلئے تیار ہونے کی دھمکیاں دیتے رہیں ہم ہرگز ہرگز اس راستے سے نہیں ہٹیں گے جس راستے پر چلنے کیلئے ہم نے کبھی آپ کے ساتھ مل کر وعدے کئے تھے۔ یہی کہ ظلم کو روکیں گے مظلوم کا ساتھ دیں گے مگر کیا کریں، آپ ہی بتائیں کہ اگر آپ کا کوئی وزیر بڑی مچھلیوں کی فہرست میں آتا ہے۔ تو اسے کیسے بچائیں اگر مظلوم بیٹیوں کے سروں سے چادریں اتارنے والا آپ کے کسی ایم این اے، ایم پی اے کا بھائی بھتیجا ہے تو اسے کیسے چھوڑ دیں۔ اگرملک وقوم کو لوٹنے والوں میں سے کچھ نے آپ کے حلقہ اثر میں پناہ لے رکھی ہو تو اسے کیسے معاف کردیں۔ ہاں جناب وزیراعظم! یہ جان لیجئے کہ ہم آپ کے خلاف نہیںہیں اور کم ازکم آپ یہ ضرور جانتے ہیں کہ ہم انشاءاللہ خریدے جانیوالے ہیں نہ ڈرنے، جھکنے اور دبنے والے ہیں۔ ہمیں اللہ کی رحمت کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے البتہ آج کے دن مریم بیٹی کی شادی اس سادگی سے کرکے آپ نے جو مثال قائم کی ہے اسے یہیں پر ختم نہیں کرنا ہے۔ بند کردیں ایسی شادیوں میں جانا جہاں رشوت حرام اور استحصال کی کمائی سے ہزاروں افراد کیلئے بیش قیمت کھانے کھلائے جاتے ہیں اور نام و نمود کی ایسی مثالیں قائم کی جاتی ہیں جو غریب کی بیٹی کی شادی کو اور دور لے جاتی ہیں۔
نوازشریف صاحب! غریب کیلئے کام کرو، محروم کیلئے کام کرو، قانون میں تبدیلیاں لاﺅ، جو قانون موجود ہیں ان پر عمل کراﺅ ظلم کا خاتمہ کرو، ظالمانہ نظام کو بدلو اپنی صفوں میں سے وہ لوگ نکال باہر کرو جن کے بارے میں خبریں اور تصویریں تک چھپ گئی ہیں کہ چند مرلوں کے گھر سے کروڑوں روپے کے محلوں میں پہنچ گئے۔ مت بخشو کسی کو خواہ آپ کے پانچ پیاروں میں سے ہو۔ اگر راولپنڈی کا نوجوان وزیر رات کو شراب و شباب کے نشے میں آپ کی حکومت کیلئے بدنامی کا باعث ہے تو نکال باہر کرو اسے۔ اگر کوئی وزیر اربوں کی امپورٹ کیلئے اپنے ہی بیٹے کی کمپنیوں کو اجارہ داری فراہم کرتا ہے تو اسے گلے سے پکڑو خواہ اس نے بگلے بھگت کا سا روپ کیوں نہ دھار رکھا ہو۔ سڑکیں بناﺅ مگر اس طرح کہ سکینڈل نہ بنیں، پرائیویٹائز کرو کہ اس میں ملک کی بھلائی ہے مگر اس طرح نہیں کہ کرنے والوں کے بارے میں دنیا بھر میں خبریں چھپنے لگیں کہ امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔
اور وزیراعظم صاحب! یہ لوگ آپ کے دوست نہیں ہیں، ہم آپ کے دوست ہیں جو آپ کے ہر اچھے کام کیلئے تنخواہ لے کر، پلاٹ مانگ کر نہیں خفیہ فنڈ سے نقد لے کر نہیں، بیٹوں کو نائب تحصیلدار اور بھائیوں کو ناقابل یقین ترقیاں اور اونچے گریڈ دلوا کر نہیں اپنے گھر سے روکھی سوکھی کھا کر غریب کیلئے مظلوم کیلئے منصفانہ اورعادلانہ نظام لانے کیلئے تگ و دو کرنے والے نوازشریف کی خاطر، آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر دن رات کام کریں گے۔
اور نوازشریف صاحب! آپ آج بھی ایک ذرا دیر کیلئے سوچیں تو آپ کو وہ بہت سارے چہرے یاد آجائیں گے جنہوں نے اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی جنگ میں آپ کا ساتھ دیا تھا اور آپ کے کسی کمپیوٹر میں ان کا نام انعام یافتگان میں مراعات یافتگان میں شامل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ایسا چاہتے بھی نہیں تھے اور مزید تحقیق مقصود ہو تو برادرم خیام قیصر سے پوچھ لیجئے گا جن کے کمپیوٹر میں تو سب کچھ محفوظ ہوگا۔ اس وقت تو گھوڑوں کی خریدوفروخت کے بازار لگے تھے۔ اگر ہماری طرف کچھ لینا دینا نکل آئے تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔ تاکہ ہم اصل کے ساتھ سود بھی اتار سکیں۔ ہم تو اس ملک کیلئے ایک فلاحی مملکت اور ہر شہری کیلئے سماجی انصاف کی خاطر آپ کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ آج بھی آپ اچھائی کی طرف ایک قدم اٹھائیں گے تو خدا کی قسم ہم آپ کی طرف دس قدم بڑھائیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ امریکن سفارتخانے سے نہیں صرف اللہ سے ڈریں گے اور آئندہ ہمیں آپ کا پرنسپل انفرمیشن آفیسر صرف اس لئے وزیراعظم کا Displeasure نہیں پہنچائے گا کہ ہم نے اسلام آباد میں امریکن ایمبیسی کے تحت چلنے والے انٹرنیشل سکول کی تصویریں چھاپ دی ہیں! اور یہ کہ وزیراعظم نے اپنے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات بارے شکایت کی ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کی خبریں نہ چھاپیں۔
دیر نہ کیجئے گا وزیراعظم صاحب! وقت ہمارے نہیں آپ کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ آئیے مل کر وہی جدوجہد کریں جس کی علامت بن کر آپ سیاسی افق پر ابھرے تھے دوستوں کو منائیں، پالتو جانور نہیں اچھے ساتھی جمع کریں اور وہ کام جو صدیوں سے Pending فائلوں میں دبا ہوا ہے اسے پورا کریں۔ ورنہ یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ جو اقتدار کے ایوان میں آیا ہے اسے کل یہاں سے رخصت بھی ہونا ہے اور جو کرسی کی مضبوطی کے دعوے کر بیٹھتے ہیں ان کو جلتے ہوئے طیاروں سے نکال سکنے والے بھی اپنے طیارے کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑنے کا حکم دے دیا کرتے ہیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved