تازہ تر ین

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو قریب لانے کیلئے طاہر القادری پل کا کردار ادا کرنے کیلئے رضا مند

اسلام آباد (ویب ڈسک) آئندہ سینٹ الیکشن سے قبل مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے چھٹکارے کے لئے اپوزیشن جماعتیں ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف سے گٹھ جوڑ کے لئے علامہ طاہر القادری کو ذمہ داریاں سونپ دیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان علامہ طاہر القادری پل کا کردار ادا کرنے پر رضامند ہو گئے۔ اپوزیشن نے ”ہیپی نیوایئر“ حکومتی رخصتی کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک نکاتی ایجنڈے پر اتحاد کے لئے متحرک کردار ادا کرنے والے سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین کی علامہ طاہر القادری سے ملاقات صرف جسٹس باقر نجفی رپورٹ پر تبادلہ خیالات کے لئے نہیں تھی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے علامہ طاہر القادری کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے درمیان فاصلوں کو ختم کرانے کے لئے موثر کردار ادا کریں تاکہ یکم جنوری سے پہلے یک نکاتی ایجنڈے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رخصتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو بنیاد بنا کر عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری لاہور میں دھرنا دینے کے لئے تیزی سے ہوم ورک کر رہے ہیں۔ اس دھرنے میں تعاون کے لئے پیپلزپارٹی نے علامہ طاہر القادری کو دام‘ درمے‘ سخنے خدمت کا یقین دلایا ہے۔ لاہور کے دھرنے میں علامہ طاہر القادری کے ایک پہلو میں پیپلزپارٹی اور دوسرے پہلو میں پی ٹی آئی کے ورکر موجود ہوں گے۔ اپوزیشن کے لائحہ عمل کے مطابق اسلام آباد میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکے لئے قصاص تحریک کے نام پر پی ٹی آئی دھرنا دینے کے لئے تیاریاں شروع کر چکی ہے۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کو علامہ طاہر القادری اور پیپلزپارٹی سپورٹ کریں گے جبکہ پیپلزپارٹی کراچی کا مورچہ سنبھالنے کے لئے کام کا آغاز کر چکی ہے اور پشاور میں یہ کام عوامی نیشنل پارٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کو یقین ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود سینٹ کے انتخابات مارچ میں کروا کر ایوان بالا میں عددی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ حلقہ بندیوں میں تاخیر بھی مسلم لیگ (ن) کے لئے درحقیقت ایک غیبی مدد سمجھی جار ہی ہے۔ حلقہ بندیوں میں تاخیر پر تمام سیاسی جماعتیں دانستہ لاپرواہی برت رہی ہیں لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان اس حوالے سے کافی پریشان ہے کیونکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں عام انتخابات سے پہلے کروانے کے لئے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں حلقہ بندیوں سے متعلق جو ترمیم سینٹ میں لا رہی ہیں اس میں بھی آئندہ انتخابات عبوری حلقہ بندیوں کے تحت کروانے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور آئندہ عام انتخابات پر 18 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دینے کے لئے 3 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ حلقہ بندیوں کا معاملہ اب پارلیمنٹ کی عدم دلچسپی اور سیاسی جماعتوں کی رضاکارانہ تاخیر کے باعث کسی بھی وقت عدالت میں چلا جائے گا۔ پیپلزپارٹی‘ پی ٹی آئی‘ عوامی تحریک اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں حلقہ بندیوں کے جھنجھٹ سے زیادہ سینٹ الیکشن کے لئے فکر مند ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) اگر سینٹ میں اکثریت حاصل کر لے گی تو پھر آئندہ پانچ سال کے لئے منتخب ہونے والی حکومت کے لئے اقتدار بے معنی ہو جائے گا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت کا موقع دینا ایسا ہی کہ سارے سسٹم کے خلاف ایوان بالا میں ایک پارٹی کو دھرنے کی اجازت دے دی جائے۔ پیپلزپارٹی‘ عوامی تحریک‘ تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی یکم جنوری سے پہلے دھرنوں کی تیاری میں مصروف ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) سینٹ الیکشن جیت کر سینٹ میں ہر قانون سازی کے خلاف دھرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ راہنماﺅں کو یقین ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نئے سال کے آغاز میں ہی ختم ہو جائے گی جبکہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمارے مخالفین اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے شیطان سے بھی اتحاد کر سکتے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے ان کی خواہشات کی تکمیل نہیں ہو سکے گی۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved