تازہ تر ین

جگنی،زرداری اور اُمید نو!

رازش لیاقت پوری \وسدیاں جھوکاں
نفرتوں کے زرد پتے جھڑ رہے ہیں
چاہتوں کی کونپلوں کو راستے دو
جب یہ شعر میرے ذہن میں گردش کر رہا تھا توعین اسی وقت پیپلز پارٹی کی پریڈ گراونڈتقریب میں سابق صدر آصف علی زردای عارف لوہار کے پنجابی گانوں پر رقص کر رہے تھے ،بلاول بھٹو اور پی پی کی دوسری قیادت کو اسی رنگ میں رنگ ہوادیکھ کر میں ماضی کی یادوں میں کھو گیا، ہم کوئٹہ سکاوئٹ ہیڈ کوارٹر میں نوجوانوں کی ایک تقریب میں موجود تھے ،چیچہ وطنی کے ظفراقبال بھی ہمارے ساتھ تھے ،جب تقریر کرنے کی میری باری آئی تومیں نے پنجاب کی یوتھ پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ نوجوانوں پر پالیسی ابھی صرف صوبہ پنجاب نے بنائی ہے بلوچستان سمیت دوسرے صوبے ابھی تک سورہے ہیںتوچند بلوچ نوجوان اٹھے اور کہا کہ کیونکہ آپ صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اس لیئے پنجاب حکومت کی یوتھ پر بنی پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں،پنجابیوں نے ہمارے اوپر ظلم کیئے ہیں ،پنجاب کے افسران یہاں چیک پوسٹوں پر ہماری بلوچی شلواریں تک کاٹ دیتے رہے ہیں ہم ان کا نام بھی نہیں سننا چاہتے آپ کو اس لیے معاف کر رہے ہیں کہ آپ کا تعلق ملتان سے ہے ورنہ آپ کو بھی بتا دیتے کہ پنجابی کتنے اچھے ہیں،یہی صورتحال سندھ میں بھی دیکھنے کو ملی،گھوٹکی ،شکار پور،لاڑکانہ اور جیکب آباد کی تقریبات میں بھی ایسی تو نہیں مگر اس سے ملتی جلتی تنقید سننے کو ملتی اور ایسا ہی الزام کے پی کے والے بھی لگاتے ہیں کہ سب کچھ پنجاب کھارہا ہے اور ہمارے لوگ کاغذ چننے پر مجبور ہیں اور یہی کچھ صورتحال وسیب میںبھی نظر آئی جب ایک شاعرنذیر فیض مگی نے ایک نظم لکھی تھی چند شعر ملاحظہ فرمائیں:
ہنجھ دی جاہ تے رَت ہے وَہندی اَکھیں رو رو بیرے
لہو نئیں ٹُردا رَگ رَگ دے وچ کیتن سُول بسیرے
کے تائیں ساڈے حاکم رَہسِن تیڈے وَڈ وڈیرے
اے سی ، ڈی سی تیڈے ساکوں ڈِسِن سخت لُٹیرے
بی اے ساڈے برفاں ویچن مونجھے شام سویرے
مڈل تیڈے ایس پی بن± کے رَکھدن رُعب گھنیرے
گوندل ، گُجر ، گھر بَدھ اپن±ے قابو کر سُکھیرے
کیویں ساڈے لیکھ اِچ لکھی تیڈی ڈڈھ نوابی
میں نئیں آہدا جگ پیا آہدے اِتھوں کڈھ پنجابی
(ترجمہ)اب ہماری آنکھوں سے آنساﺅں کی جگہ خون بہتا ہے،اب تو رگوں میں خون دوڑنے کے لیے بھی نہیں بچا،کیونکہ آپ کے اے سی ،ڈی سی ہمارا اتنا استحصال کرتے ہیں کہ وہ اب ہمیں لٹیرے لگنے لگے ہیں اور وہی حاکم بنے ہوئے ہیں،ہمارے بے اے پاس نوجوان انڈے اور برفیں بیچنے پر مجبور ہیںجبکہ آپ کے مڈل پاس افسر بن کر جب ہمارے ہاں آتے ہیں تو وہ رعب بھی جماتے ہیں،اپنے ،گوندلوں،گجروں اور چٹھوں اور سکھیروں کو اپنے پاس رکھیں،ہمیں آپ کی نوابی قبول نہیں یہ میں نہیں کہ رہا بلکہ پورا وسیب کہ رہا ہے کہ یہاں سے پنجابیوں کو نکالیں کیونکہ وہ ہمارا استحصال کرتے ہیں۔
اسی طرح کے شعر عزیز شاہد نے بھی لکھے تھے ” ہر کرسی تے کھﺅرہ چہرہ ہر چہرہ پنجابی “ وسیب کے بعض شعرا نے پنجابیوںکے خلاف ایسی نظمیں تو تخلیق کیںمگر غریب پنجابیوں کے دکھ کسی کو لکھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ ان کے ساتھ کیا گزررہی ہے،ستلج ،راوی اور بیاس کے مکمل سوکھنے کا سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں کو ہوا کہ گذشتہ دنوں ایک شام دفتر سے اپنی رہائشگاہ جانے کے لیئے پنجاب اسمبلی سے گزر رہا تھا کہ اس عمارت سے نکلنے والی بورنگ کمپنی کی گاڑی کے ڈرائیور سے پوچھا کہ کتنے فٹ پر پانی نکلا ہے تو اس نے بتایا کہ 1200فٹ پر یہ سن کر میں حیران رہ گیادوسرا یہاں کے پانیوں میں سنکھیا کی مقدار اتنی شامل ہوگئی ہے کہ اب پینے کےلئے منرل واٹر ہی آخری سہارا رہ گیا ہے ۔ این اے120میں بھی صاف پانی ایسے ناپید ہے جیسے روجھان میں،لاہور کے علاوہ جس شہر کی جانب جائیںٹوٹی پھوٹی سڑکوں اورپسماندہ صورتحال کا سامنا یہاں کے لوگوں کوبھی ہے کہ نارووال جاتے ہوئے ہمیں بھی جگہ جگہ دھکوں کا سامنا رہا ،ساہیوال سے عارف والا روڈ بھی کئی سال سے مکمل نہیں ہوا،ہاں یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے کہ بڑی اور چھوٹی سرکاری ملازمتوں میں پنجابیوں کی اکثریت ہے اور پنجابی حکمران اشرافیہ نے کچھ زیادہ اپنوںکو نوازا ہے،دوسرا یہ افسران جہاں بھی جاتے ہیں ان کا رویہ وائسرائے جیسا ہوتا ہے جسے وقت کے ساتھ ساتھ شعوری طور پر متوازن کیا جاسکتا ہے کیونکہ پاکستان سب کا ہے اور تمام پاکستانیوںکا ملازمتوں اور پاکستان کے دوسرے وسائل پر برابر کا حق ہے ،ایک ملاقات میں ،میںنے جناب ضیاشاہد(سندھ میں پیدا ہونے کے باعث وہ خود کو سندھی سمجھتے ہیں) سے پوچھا کہ آپ نے” پاکستان کے خلاف سازش “لکھی اس کے بعد ”گاندھی کے چیلے “کتاب بھی منظر عام پر آئی یہ لکھنے کی ضرورت کیوںمحسوس کی تو انہوں نے بتایا کہ میرا ہرگز مطلب کسی سے نفرت کرنا نہیں ہے میں تو ان کتابوں کے ذریعے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرحد ہی ہماری زندگی ہے اس کے اندر جو جو کہتا رہے سب کے سیاسی اور سماجی حقوق کا احترام کرنا چاہیے لیکن جو اس سرحد کو نہیں مانتا چاہے وہ گاندھی کا چیلا ہو یا مودی کا چیلا میں ہر کسی کے خلاف لکھوں گا چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا کیونکہ میں اول اور آخر پاکستا نی ہوں اس لیے دوسروں کو بھی مجبورکروںگا کہ وہ بھی پاکستانی سرحدوں کا احترام کریں،اسی طرح کی باتیں قمر جاوید باجوہ نے بھی بلوچستان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھیں کہ پاکستان سب کا ہے جو پاکستان سے وفا کی بات کرتا ہے اس کا پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے پاکستانی کا ،یہ ہے وہ نقطہ جس نے مجھے بھی متاثر کیا ہے کہ اب پنجابی بھی ببانگ دہل یہ کہ رہے ہیںکہ پاکستان سب کا ہے تو پاکستان میں بسنے والے دوسرے لوگوںکو بھی چاہیے کہ وہ بھی اب کسی پاکستانی کے خلاف نفرت آمیز روحجانات کو کم سے کم کریں اور اس کے لیئے شعوری طور پر کام کرنا اشد ضروری ہے ،جس طرح آصف علی زرادری نے عارف لوہار کے گانوں پر بھنگڑا ڈال کر پنجابیوں سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اسی طرح کی شعوری کوششیں دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی کرنی چاہیں ایسا ہی اظہار 2013کے الیکشن سے قبل ق لیگ کی جانب سے بھی ہوا تھا جب ان کی لیڈر شپ نے شہباز قلندر کی دھمال”لال میری پت رکھیو “پر ایک محفل سجائی تھی اگرچہ اس دھمال کے دوران ایک خاتون کے رقص پر خاصی تنقید بھی ہوئی مگراس طرح کااظہار کسی نہ کسی طرح سنجیدہ انداز میں جاری رہنا چاہیئے تاکہ چاہتوں کے یہ چشمے خشک ہونے کے بجائے محبتوں کے پودوں کی آبیاری کرتے رہیں پھر یہ پودے گھنے درخت بن کر مادر وطن پر اپنی گھنی چھاﺅں نچھاور کریں جس سے پاکستان محبتوں کا حقیقی گلدستہ بن کر ترقی کی جانب گامزن رہے ،نفرتوں کے زرد پتے جھڑ رہے ہیں،چاہتوں کی کونپلوں کو راستے دو،شعر بھی اسی صبح کی نوید ہے کہ اب پاکستان بدل رہا ہے کیونکہ اب واقعی خزاں رت ہے اور یہی رت نفرتوں کیلئے بھی خزاں ثابت ہوسکتی ہے اگر سارے پاکستانی ایک دوسرے کو محبتوں کے گلدستے میں پرو لیں تو آنے والی بہار کی رت ہمارے لیے اس رت کی مانند بن سکتی ہے جس کے لیئے ایک شاعریہ کہتا ہے ”تم نے کہا تھا جس موسم میں پھول کھلیں گے،اس موسم کے آتے ہی میں لوٹ آﺅں گا“،پھر آنے والی پھولوں کی رت ہمارے لیئے خوشیوں کے وہ سندیسے لاسکتی ہے جس کی ہر پاکستانی خواہش رکھتا ہے ۔ سارے پاکستانی اپنے اپنے پرانے خیالات کو تجدید کی راہ پر لاکر پاکستان میں نئی بہار لاسکتے ہیں،جس موسم میں ہر طرف رنگ برنگے پھول کھلتے نظر آئیں گے۔
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved