تازہ تر ین

تعلیم سب کیلئے، ایک خواب!

ڈاکٹر مریم چغتائی …. نقطہ نظر
صوبہ سندھ معیشت کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے اہم صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی 5کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ صوبہ سندھ کی خاص بات یہاں کی بندرگاہ ہے جس کے ذریعے سے پاکستان پوری دنیا سے تجارتی رابطہ رکھتا ہے اور یہی بندرگاہ زرِمبادلہ کا بڑا زریعہ بھی ہے۔صوبہ سندھ میں نظامِ تعلیم کا موازنہ دوسرے صوبوں سے کیا جائے تو ہمیں صورتحال دوسرے صوبوں سے مختلف نظر نہیں آتی۔
اعدادوشمارکے لحاظ سے دیکھا جائے تو شرح خواندگی تقریباً 60% ہے۔ پرائمری،مڈل،سکینڈری اور ہائر سکینڈری سکولوں کی کل تعداد 46039 ہے جن میں سے 7058 سکول لڑکیوں کے لیے ہیں۔اِن سکولوں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کی کل تعداد 4044476 ہے جن میں سے 1599528طالبات ہیں۔اِن طلبہ اور طالبات کو پڑھانے کے لیے کل اساتذہ کی تعداد 144170ہے اِن میں سے 44677 خواتین اساتذہ ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومتِ سندھ اپنے کل بجٹ کا تقریباً 25% تعلیم پر خرچ کرتی ہے مگر زمینی صورتحال کافی تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسا کہ بنیادی سہولیات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ کل 46,039 سکولوں میں سے 28,760 سکول بجلی کی سہولت سے عاری ہیں۔ 21,102 سکولوں میں بیت الخلا ءنہیں ہے۔ 23,315 سکولوں میں پینے کا پانی میسر نہیں۔ 18,907 سکولوں کی چار دیواری موجود نہیں ہے۔اسی طرح جب سکول میں لیبارٹری ،لائبریری اور کھیلوں کے میدان دیکھے جائیں تو معلوم ہوگا کہ 45,725 سکولوں میں لیبارٹری نہیں ہے۔ 45,264 سکول لائبریری جیسی نعمت سے محروم ہیں اور 38,392 سکولوں میں کھیل کے میدان جیسی کوئی شے نہیں ہے۔
یہ اعدادوشمار کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ سب معلومات حکومتِ سندھ کی ویب سائٹ پر سے لی گئی ہیں۔ اِن اعدادوشمار سے ہٹ کر اگر محکمہ تعلیم پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ دیگر صوبوں کی نسبت سب سے ذیادہ کرپشن سندھ کے محکمہ تعلیم ہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کرپشن میںسندھ محکمہ تعلیم پہلے نمبر پر ہے تو غلط نہ ہوگا۔اِس محکمہ میں گھوسٹ ملازمین کے علاوہ گھوسٹ سکولوں کی تعداد دیگر تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ تعلیم کے شعبے میں رشوت لے کر اُن افراد کو بھرتی کیا گیا جن کا تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔سننے میں آیا ہے کہ اِن افراد سے بھرتی کی مد میں دو لاکھ سے پانچ لاکھ تک وصول کیا گیا ہے۔یہ افراد برائے نام سکول آتے ہیں اور اگر آبھی جائیں تو چند لمحے گزارنے کے بعد چلے جاتے ہیں یہ بھی سنا گیا ہے کہ کئی افراد تو بیرونِ ملک ملازمت کرتے ہیں اور یہاں سے تنخواہ بھی وصول کر رہے ہیں۔اِن اساتذہ کی تعلیمی قابلیت کی چشم دید گواہ تو میں خود بھی ہوں جب ایک دفعہ کسی ٹی وی چینل پر سندھ میں احتجاج کرتے ہوئے اساتذہ کے انٹرویوز لیے گئے۔ یہ احتجاج کرنے والے اساتذہ بنیادی معلومات، قرانی آیات اور صحافی کی طرف سے پوچھے گئے انگریزی کے چند الفاظ کے سپیلنگ بتانے سے قاصر تھے۔ اِس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اساتذہ بچوں کو کیا تعلیم دیں گے۔سب سے زیادہ بری حالت اندرونِ سندھ کے سکولوں کی ہے جہاں پر وڈیرہ سسٹم چھایا ہوا ہے۔ اِن وڈیروں نے سکولوں کو اپنے ڈیروں اور مویشیوں کے باڑوں میں بدلا ہوا ہے اور یہاں کے اساتذہ کو ذاتی ملازم کی طرح سمجھتے ہیں۔خرابی صرف اساتذہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ بھی زبردست بدعنوانی کا شکار ہے۔کتابوں کی چھپائی سے لیکر بچوں تک کتب کی رسائی کے تمام مراحل کرپشن کا شکار ہیں ۔نصابی کتب کی اشاعت انتہائی ناقص مٹیریل سے کی جاتی ہے بلکہ اِس ضمن میں بیرونِ ملک سے ملنے والی رقم بھی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔اِس معاملے میں پنجاب اور کے پی کے میں صورتحال کافی بہتر ہے جہاں کتابوں کی چھپائی میں معیار کو مدِنظر رکھا جاتا ہے اور نسبتاً کرپشن بہت کم کی جاتی ہے۔ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سندھ میں پچھلی کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی کی حکومتیں رہی ہیں مگر افسوس یہ حکومت تعلیم کی فراہمی میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تعلیم ترجیحات میں شامل نہیں ہے تو غلط نہ ہو گا بلکہ تعلیم کو بھی کرپشن اور بدعنوانی کا بہت بڑا زریعہ بنا دیا گیا ہے اور آئے دن کرپشن کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔ بہت سے افسران کو گرفتار بھی کیا گیا اور کئی افسران یا تو روپوش ہیں یا پھر بیرونِ ملک بھاگ چکے ہیں۔ اِن حالات تک پہنچانے والے بھی سیاستدان ہیں اور جس دن وہ یہ فیصلہ کر لیں گے کہ ہم نے اپنے لوگوں تک تعلیم پہچانی ہے اُسی دن سے حالات بہتری کی طرف جانا شروع ہو جائیں گے۔سندھ کے لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں مگر اُن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ غربت ہے۔ اندونِ سندھ میں تو غربت کے مارے لوگوں میں تعلیم کا تصور ہی نہیں ہے۔شہری علاقوں میں پرائیویٹ سکولوں نے تعلیم کے شعبے میں کافی کردار ادا کیا ہے مگر مسئلہ یہاں بھی وہی ہے کہ غریب آدمی یہاں بھی اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتاکیونکہ اِن سکولوں کی فیسیں ہی اُس کی بساط سے باہر ہیں۔ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا ہو گا۔معاشرے میں تفریق کو ختم کرنے کےلئے یکساں نظامِ تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔اِن سب باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے غریب لوگوں تک سستی اور معیاری تعلیم کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اِس سلسلے میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔اب ہمارے سیاستدانوں کو اپنے لوگوں کو بنیادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے موقعے بھی فراہم کرنے چاہئیں تاکہ ” تعلیم سب کےلئے“ ایک خواب نہ رہے۔
(کالم نگار تعلیمی امور پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved