تازہ تر ین

زبردست پیش گوئی

توصیف احمد خان
شیخ صاحب کچھ خدا کا خوف کریں۔ ایسا تو نہ کہیں۔
ہاں! ہم اس حد تک مان سکتے ہیں کہ آپ نے نواز شریف اور ضیاءالحق کے جوتے نہیں چاٹے۔ عملی طور پر بھی نہیں اور محاورے کے طور پر بھی نہیں مگر جو کچھ کبھی نواز شریف کے بارے میں اور ان کے حوالے سے فرمایا کرتے تھے…. نہیں، نہیں!اسے جوتے چاٹنا تو ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا…. وہ اصل میں کچھ اور ہی تھا۔
بات محترم شیخ رشید کی ہو رہی ہے جن کا کل کے اخبارات میں ایک بیان ہے اور اس بیان کا لب لباب وہی ہے جو کچھ اوپر لکھا جا چکا ہے یعنی چودھری نثار کی طرح ضیاءالحق اور نواز شریف کے جوتے نہیں چاٹے۔ اس نوعیت کا ایک بیان چودھری نثار کی طرف سے بھی ہے۔ غالباً نہیں یقینا شیخ صاحب کا بیان اس کے جواب میں ہے۔ اس بیان میں شیخ رشید کو عمران خان کا چپڑاسی قرار دیا گیا ہے۔
یہ قصہ دراصل اس طرح ہے کہ کئی سال پہلے عمران خان اور شیخ رشید ایک ٹی وی پروگرام میں اکٹھے ہو گئے اور دونوں نے ایک دوسرے کی خوب خبر لی، اس پروگرام میں عمران خان نے شیخ صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے قرار دیا تھا کہ میں تو تمہیں چپڑاسی تک نہ رکھوں…. ہم سمجھتے تو یقینا ہیں مگر کہہ نہیں سکتے کہ یہ بات کیوں کہی گئی۔ عمران خان سے تو نہیں مگر شیخ صاحب سے بہرصورت یاداللہ رہی ہے اور ان کا احترام بھی موجود ہے اس لیے کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ اب یہ دونوں حضرات لازم وملزموم کیوں ہیں…. ایسا لگتا ہے کہ عمران خان صاحب پرانی باتیں بھول جانے کے عادی ہیں…. یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ انہیں کسی کولڈ سٹوریج میں رکھوا دیتے ہیں کہ محفوظ رہیں اور بوقت ضروری کام آئیں۔
معلوم نہیں چپڑاسی والی بات ان کے ذہن سے نکل گئی ہے۔ انہوں نے ذہن سے نکال دی ہے یا پھر سردخانے میں پڑی ہے کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔ چودھری نثار علی نے شیخ رشید کو اسی بات کا طعنہ دیا ہے جواب میں وہ چودھری نثار کو جوتے چاٹنے والا ثابت کر رہے ہیں۔
دراصل سیاستدانوں کے ساتھ بڑا مسئلہ ہے کہ ایک وقت میں وہ شیروشکر ہوتے ہیں اور دوسرے وقت میں ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کیا پھاڑنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ دونوں کا علاقہ ایک ہی ہے۔ دونوں کو راولپنڈی کے فرزند قرار دیا جا سکتا ہے یعنی ہر دو پوٹھو ہاری ہیں۔ اس خطے کے بارے میں ایک ضرب المثل ہے جس میں چار چیزوں کا ذکر موجود ہے ہم کم از کم اپنے دوستوں کے حوالے سے اسے تسلیم نہیں کر سکتے کہ اس خطے نے ہمیں بہترین دوستوں سے نوازا ہے باقی رہ گئے چودھری نثار اور شیخ رشید…. معلوم نہیں ان کی کیا صورتحال ہے۔
ان دونوں کے بیانات سے ضیاءالحق کا زمانہ یاد آ گیا۔ اس دور میں ایک حکومت کے ساتھ تھا۔ دوسرا اپوزیشن میں تھا مگر وہ اپوزیشن کچھ حکومتی قسم کی تھی…. انہی دنوں راقم کا مسکن بھی راولپنڈی تھا کہ باری تعالیٰ نے رزق کا دروازہ اس سنگلاخ شہر میں کھولا تھا۔ دونوں کی سیاست ہمارے سامنے کھلی کتاب تھی …. کون کس کے سامنے کیا کر رہا تھا سب کو معلوم ہے پھر نواز شریف کادور بھی ہر ایک کے سامنے ہے کہ موجودہ دور کو چھوڑ کر شیخ صاحب بھی ان کے اندر کے آدمی رہے ہیں…. آج نواز شریف بہت برا ہے…. ہو گا!…. ہمیں اس سے کیا لیکن شیخ صاحب کبھی وہ بہت اچھا بھی تو ہوا کرتا تھا۔ اس وقت بہترین قسم کے واشنگ پاﺅنڈر سے دھلا ہوا تھا کہ ایک داغ تک موجود نہیں تھا۔ غالباً اس وقت نواز شریف کو آپ جیسے ساتھی میسر تھے اس پر کوئی داغ موجود بھی تھا تو ”مخلص اور جانثار“ ساتھیوں نے سارے کے سارے دھو دیئے…. یہ جانثار کیا جدا ہوئے کہ دھلے ہوئے داغ دوبارہ سے ابھر آئے اور اب جان چھوڑنے کی بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں…. وقت وقت کی بات ہے۔
نواز شریف صاحب محترم مجید نظامی اور کچھ دوسرے لوگوں کی بات مان لیتے تو آج ان کے جوتے چاٹنے کی تردید کی بجائے ان کے جوتے سیدھے کرنے کی کوشش کی جاتی…. یہ سیاستدانوں کی باتیں ہیں ہمارے جیسوں کا اس سے کیا تعلق ۔سیاست میں وقت کی بڑی اہمیت ہے اور سارے اصول بھی وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے تک کانواز شریف اور تھا اور 1999ءمیں اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا تو وہ مختلف قسم کاانسان ہو گیا۔ ان دونوں میں سے کون سا لیڈر ٹھیک تھا۔ یہ ہم شیخ صاحب سے کبھی پوچھ لیں گے۔
نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ پیش آیا تو پرویز مشرف کا انتخاب چودھری نثار کی سفارش پر کیا گیا۔ نواز شریف نے اپنے اس قریب ترین ساتھی کی بات مان کر جو کچھ بھگتا اسے وہ کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے اور ان کے عزائم بتاتے ہیں کہ وہ اس دور کو فراموش کرنا بھی نہیں چاہتے…. ہاں! جب نواز شریف جیل اور پھر جدہ کو سدھارے تو شیخ رشید نے قدم آگے بڑھایا…. یا کچھ دوست کہتے ہیں کہ ان کے قدم کو آگے بڑھوایا گیا…. کچھ بھی صورت ہو…. ان کی نظر انتخاب پرویز مشرف پر جا پڑی اور میاں صاحب والا خانہ جو خالی ہو گیا تھا اس پر پرویز مشرف نے قبضہ جما لیا کہ ہمارے فرزند راولپنڈی کالیڈر اب وہ تھا لیکن یہ اس وقت تک تھا جب تک ہما پرویز مشرف کے سر پر بیٹھا تھا جو نہی ہما اڑا…. کون سا لیڈر اور کہاں کا لیڈر۔
چودھری نثار بھی کوئی دودھوں نہایا ہوا نہیں…. لوگ کہتے ہیں وہ جو کچھ بھی کہہ لے حکومتی جماعت کو کبھی نہیں چھوڑے گا کہ اس کی اپنی مجبوریاں ہیں…. معلوم نہیں ہیں یا نہیں…. لوگ کہتے ہیں کہ اس کے بھی اپنے علاقے میں بڑے پھڈے ہیں۔اگر شیخ رشید کی بات کریں تو وہ بہرحال اس قسم کی پھڈے بازی کاحصہ نہیں ہیں۔ چودھری نثار یقینا ضیاءالحق کے ساتھیوں میں سے تھے جبکہ شیخ رشید پر یہ ”الزام“ نہیں دیا جا سکتاالبتہ پرویز مشرف کے ساتھ کی بات دوسری ہے۔
دونوں نے ایک ایک پیش گوئی کی ہے چودھری نثار کا کہنا ہے کہ سینٹ الیکشن میں ن لیگ کو اکثریت نہیں ملے گی۔ معلوم ہوتا ہے ان کے کان میں شیخ رشید کی یہ بات پڑ گئی ہے کہ حکومت اور اسمبلیاں مارچ سے پہلے ختم ہو جائیں گی۔ ویسے بھی وہ اب اپنی جماعت کے حوالے سے کلمہ خیر کم ہی کہتے ہیں۔ شیخ صاحب کی پیش گوئی ہے کہ الیکشن سے پہلے کرپٹ لوگوں کی حکومت ختم ہو جائے گی۔
زبردست! الیکشن اگست میں ہوتے ہیں تو جون میں شیخ صاحب کی یہ بات پوری ہو کر رہے گی اور بقول ان کے کرپٹ لوگوں کی حکومت ختم ہو جائے گی کیونکہ اس کے بعد نگران حکومت آئے گی جو انتخابات کرائے گی اور اقتدار نو منتخب حکومت کے حوالے کر دے گی…. یہ زبردست پیش گوئی ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved