تازہ تر ین

ٹرمپ فےصلہ،جابرانہ یا احمقانہ

سلمیٰ اعوان …. لمحہ فکریہ
بات تو تب ہی کچھ کچھ بتاتی اور سمجھاتی تھی کہ ےہ سفےد موٹا رےچھ سعودی عرب مےں محبت و پےار کے جھوٹے گےت الاپ کر اور قےمتی تحفے سمےٹ کر اےکا اےکی اسرائےل کےا کرنے چلا گےا تھا۔تو بس وہ کام اس نے کردکھاےاجو ابھی تک کِسی امرےکی صدر نے کرنے کی کوشش نہےں کی تھی۔اِسے مسلمانوں کے ساتھ کسی ہمدردی کا نام دےناغلط ہے ہا ں البتہ علاقے کی متنازعہ حےثےت اور عالمی قوانےن کے منافی حرکت پر اعتراضات کا شاےد تھوڑا بہت خےال ہو۔دنےا کے بڑے تھانےدار کا بےان جاری ہوا ہے کہ امرےکی سفارت خانہ ےروشلم منتقل ہوجانے سے وہاں امن اور مفاہمت کی فضا پےدا ہونے مےں مدد ملے گی۔کےا کہنے ہےں اس تجوےز کے،اس نےک خےال کے۔اس سپر پاور کے لاڈلے نے جس طرح اےک بے بس مجبور و محکوم قوم کو جےسے اےک بڑے سے جےل خانے مےں قےد اور انہےں اے،بی،سی خانوں مےں منقسم کرکے زندگی کے بنےادی حقوق سے محروم کررکھا ہے۔اس کا تو اِس بڑی طاقت کو رتی برابر احساس نہےں ہے۔
ےہ ےروشلم کو اسرائےلی دارالحکومت بنانے کی خواہش تو ہر اسرائےلی وزےر اعظم کا خواب تھا۔بن گورےاں بھی کم بخت اےک نمبر کا ضدی، ہٹ دھرم اور تعصب کی غلاظت سے اٹا پڑا انسان تھا۔ےروشلم کا تو سمولچانگل جانا چاہتا تھا۔اس نے بھی دفاتر ےروشلم منتقل کرنے کی ہداےات جاری کی تھےں۔ےواےن ٹرسٹی شپ کونسل نے تب کہا تھا کہ وہ اےسی زےادتےوں سے باز رہے مگر اس کی ڈھٹائی کا وہ عالم تھا کہ بھئی جو کرنا ہے کرلو وہ تو ےروشلم سے اپنے دفاتر نہےں ہٹائے گا۔تب غےرملکی سفارت کار پرےشان اور الجھن مےں مبتلا کہ اگر وہ اپنی اسناد مغربی ےروشلم جاکر پےش کرتے ہےں تو گوےا ےہ ےروشلم کی متنازعہ حےثےت کو ختم کرنے کے برابر اقدام ہوگا۔مگر وزےر خارجہ موشے شےرےٹ نے اپنا دفتر ےروشلم منتقل کردےا۔
اب نےتن ےاہو کا کہنا کہ فلسطےنےوں سے بات اسی وقت ممکن ہوگی کہ جب وہ مقبوضہ بےت المقدس کو اسرائےلی دارالحکومت تسلےم کرےں گے۔کےا بات ہے اس بےان کی بھی۔1947مےںاس ارض فلسطےن پر کہےں کہےں چاول کے دانوں کی طرح بکھری صہےونی قوم کےسے اِن بڑی طاقتوں کی شہ،مدد اور اپنے دہشت گرد ٹولوں حگانا، لےھی، اےتزےل اور فوجی دستوں کے ساتھ فلسطےنی گاﺅں اور شہروں پر قبضہ کرتی چلی گئی۔زبردست کا ٹھےنگا سر پر والی بات ہے کہ ابھی تک اسرائےلی حکومت نے اپنی حدود کو واضح نہےں کےا۔کےونکہ ابھی تو نگاہےں بہت آگے تک جمی ہوئی ہےں۔وزےر اعظم مےناحم بےگن کا انٹروےو تو رےکارڈ پر ہے۔
”آج نہیں میں تو 1947ءسے دہائی دے رہا ہوں کہ یہ ہمارا وطن ہے اور یہ ناقابلِ تقسیم ہے۔اِسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اِن ٹکڑوں کو قائم رکھنا مجرمانہ فعل ہے۔میری تنظیم ارگن کا تو نعرہ ہی ایک ہے۔اُردن کے دونوں طرف۔“
صحافی نے وار کےا ”دُعائیں دیں امریکی صدر ٹرومین کو کہ جس نے عربوں کے سینے میں خنجر گھونپا۔جس نے فلسطین صہےونےوںکے حوالے کِیا۔جس نے اقوام متحدہ کی یہ تقسیم جنرل اسمبلی سے دباﺅ کے تحت منظور کروائی۔وگرنہ آپ کی کاوشیں،آپ کی دُہائیاں اور آپ کے نعرے اور اعلان سب کہیں منہ چُھپائے ماتم کر رہے ہوتے۔“
بیگن نے بڑی تیکھی نظروں سے صحافی کو دیکھااور کہا ”ٹرومین کو کریڈٹ دیں اور اپنی جدوجہد کو صفر کہیں۔کیا بات ہے تم جیسے کم عقل صحافی کی۔“
دیریاسین کا واقعہ زیر بحث لاتے ہوئے اُس کا سوال اُس بربریت اور ظلم پر مبنی منصوبے کے بارے تھا جسے ڈیوڈبن گوریاں اور بیگن کی حمایت حاصل تھی۔
”ذرا یہ توبتائیے بن گوریاں نے توفوراََ اپنی اور اپنی حکومت کی بریت کا علان کِیا تھااور ساتھ ہی دہشت گردٹولوں کی خدمت میں بیان بھی داغ دیا تھامگر آپ کو یہ بھی توفیق نصیب نہ ہوئی۔آپ کے ہاں تو افسوس نام کی کوئی چیز نہ تھی۔“جواب آیا تھا۔اُن کو سزائیں دی گئیں۔
”جی بالکل۔ابھی تو مقتولین کا خون بہہ رہا تھا کہ جب حگانا، لیہی ،ایتزیل ٹولیوں کے دہشت گرد اسرائیلیوں کی باقاعدہ فوج بڑے میںبڑے عہدوں پر فائز ہو رہے تھے اور انعام و اکرام سے نوازے جا رہے تھے۔بیگن کے انکار پر اُس نے اُس کے خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”آپ کی تحریر تو ریکارڈ پر ہے۔نہ صرف مبارکبارد بلکہ یہ لکھا جانا کہ آفرین ہے تم لوگوں پر۔ یہودی قوم نازاں ہے تمہارے کارناموں پر۔ اسرائیل کی تاریخ بنانے والے تمہی لوگ ہو۔فیلڈ کمانڈر جو ڈاہ لاپی ڈوٹ پر نوازشوں کی بھی بھرمار ہوئی اور روسی یہودیوں کی ہجرت کو بھی ممکن بنانے کیلئے کوششیں ہوئیں۔“دیر یاسین دراصل فلسطینیوں کا ہولو کاسٹ ہے اِسے تو ماننا پڑے گا آپ کو۔وہ بیگن کو زِچ کرنے پر تُلا ہوا تھا۔اب قبیہ میں کیا ہوا تھا؟یہاں شیرون کے دستوں نے گھروں اوراُن گھروں میں لوگوں کو بارود سے اُڑا دیا۔ جب بات باہر نکلی تو بن گوریاں نے عربوں پر الزام لگایا۔جب اعتراضات شدید ہوئے تو عرب نژاد یہودی زد میں لائے گئے۔بن گوریان نے کہا ان یہودیوں کی ذہنیت کِسی طرح بھی عربوں سے مختلف نہیں۔یہی ناہنجار ہیں مگر پارلیمنٹ کے کیمونسٹ ارکان نے تفصیلات شائع کردی تھیں۔“آپ انکار کرتے ہیں اس سے۔بیگن کا چہرہ بڑا سپاٹ تھا۔ ”کوئی اور سوال کرو۔“
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ اپنا نیا فوجی اتحاد وقتی طور پر ختم کر دیا ہے۔امریکہ آپ کا سب سے بڑا مربی اورخیر خواہ۔آخر ایسا کیوں ہوا؟
بیگن کی نشتر زنی بہت تیز اور شدید تھی۔امریکہ کی کرتوتوں اور اُس کے کچے چٹھوں کا احوال میں نے سیموئل لیوئس(امریکی سفیر)کو اپنے گھر بُلا کراُس کے گوش گزار کردیا تھا۔میں نے کہا تھا کہ تم لوگوں کی تو وہ مثال ہے چھاج تو بولے سو بولے چھلنی بھی بولے جس میں بہتر بہتر سو چھید۔ہمیں شہری ہلاکتوں پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہو اور اپنی کرتوتوں پر پردے ڈالتے ہو۔ہمیں کیا علم نہیں۔دوسری جنگ عظیم اورویت نام میں کیا کیا ہوا؟کیا یہ میں بتاﺅں کہ شہریوں کو کیسے گاجر مولیوں کی طرح کاٹا گیا۔
آپ کے محاورے Body countکو ہم سے زیادہ بھلا کون جانتا ہے۔آپ پلیز کان کھول کر سُن لیں۔ہم کوئی امریکہ کی باجگذار یاست نہیں ہیں۔ہم تیرہ چودہ سال کے لونڈے نہیں ہیں۔جنہیں سرزنش کرنے کیلئے ان کے ہاتھوں کی پوروں پر ضربیں لگائی جائیں۔بنی اسرائیل نے 1948ءمیں جنم نہیں لیا۔3700سو سال پُرانی تاریخ کا مالک ہے۔ یہ تب سے اب تک زندہ ہے بغیر امریکہ کی دوستی اور امداد کے۔ تسلی رکھیںہم مزید تین ہزار سات سو سال بغیرکِسی سہارے اور مدد کے جی سکتے ہیں۔“
”میں ایسی کِسی فضول بات کو یاد نہیں رکھتا۔میرے لئیے سب سے اہم بات،سب سے بڑا اعزاز بس یہی ہے کہ مَیں تاریخ میں صرف اپنے اِس اہم کارنامے کی وجہ سے زندہ رہ جاﺅں کہ اسرائیلی سرزمین کی حدوں کو ابد تک قائم کرنے والا انسان میناحم بیگن تھا۔ “
اور جب لےڈروں کے عزائم کا حال کچھ اےسا ہو۔ اور امریکہ اور برطانیہ کے بااثر ترین یہودیوں کی جان اس میں پھنسی ہوئی ہے۔تبھی تو یہ کِسی بدمست سانڈ کی طرح ڈکراتا ہے۔ 73میں سادات نے سینائی تک دھکیل کر ثابت کردیا کہ یہ کوئی ایسی بھی قابل تسخیر شے نہیں۔اور یہی چیز اِسے انگاروں پر لوٹانے لگی۔“امرےکہ جنگ مےں نہ کُودتا تو معاملہ آرپار ہوجانا تھا۔
اسرائیلی ملٹری آتاشی مورڈیکائی نے امریکی ایڈمرل تھامس مورر جوائنٹ چیف آف سٹاف سے مطالبہ کِیا کہ امریکہ اسرائیل کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے Maverickٹینک شکن میزائل سے آراستہ جنگی جہاز دے۔مورر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ایسے ہوائی جہازوں کا صرف ایک سکواڈرن ہی توہے۔یہ کیسے دیا جاسکتا ہے اوراگر یہ بھی دے دیا گیا تو کانگرس نے حشر کردینا ہے۔”تم اپنی یہ لن ترانیاں بند کرو۔جہازوں کا بندوبست کرو۔کانگرس کو سنبھالنا میرا کام ہے۔“ ”اور اُس نے جو کہا تھا وہ پورا کروایا۔بھئی امریکی صدر تو اُن کی جیبوں میں ہیں۔اسرائیلی سفارت خانہ عملاََ کانگرس پر حاوی ہے۔
اب آسٹرےلےا،فرانس،انگلےنڈ،جرمنی،ترکی نے اعتراضات اٹھائے ہےں مگر سوال ہے کہ اِن کی کتنی چلے گی۔ اسرائےل کِسی سمجھوتے پر آئے گا۔ہرگز نہےں۔اس کےلئے اپنے مفادات سے آگے کوئی اصول،کوئی اخلاقےات اہمےت نہےں رکھتی۔اپنا الّو سےدھا کرنے کےلئے وہ محسنوں کی پےٹھ مےں خنجر گھونپنا بھی جائز سمجھتا ہے۔صرف اےک دو مثالوں سے ہی سمجھ جائےں۔
ےہ 1960کی بات ہے۔وانونو تو (اسرائےل کے اےٹمی رےکٹر کا انچارج) اسرائیل کے خلاف بھرا بیٹھا تھا۔اسرائےل کی عےارےوں پر بڑا جزبز تھا۔اسرائیل کے پاس اس وقت دو سو سے کم جوہری ہتھیار نہیں تھے۔وہ گذشتہ پچیس برسوں سے انہیں تیار کر رہا تھا اور جھوٹ پر جھوٹ بول رہا تھا۔کہیں 1960ءمیں جب امریکی صدر کینیڈی نے معائنے کے لئے اصرار کِیا تو ایک مکمل جعلی کنٹرول روم بنا کر امریکہ کو بڑی عیّاری،بڑی مکّاری اور بڑی ہوشیاری سے الّو بنادیا۔اور ےہ بات بھی رےکارڈ پر ہے کہ اسرائیل امریکہ کی مخبری پر کثیر رقم خرچ کرتا ہے۔امریکی ایجنٹ اُس کے لئیے حساس قومی نوعیت کی تکنیکی معلومات چُراتے ہیں۔اس ضمن مےں دو امرےکی شہری جوناتھن جے پولارڈ اور مسز این ہینڈرسن پولارڈ اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کےے گئے۔انہوں نے اعتراف بھی کِیا۔پولارڈ کو عمر قید اور این پولارڈ کو پانچ سال قید ہوئی۔کوئی ہنگامہ اُٹھا۔ اسرائیل نے شور مچایا مگر ثابت ہوگیاتھا کہ پولارڈ کے ذریعے حاصل کردہ معلومات وزیراعظم شامیر نے سوویت یونین کو دیں۔
اب پارلیمنٹ کے120ارکان میں سے 70اراکین نے ریگن کو پولارڈ کی رہائی کیلئے درخواست کی۔اسرائیلی خواتین کے دو گروپوں نے بھی مطالبہ کِیا۔اِن نامور خواتین نے دہائی دی خدا کا خوف کرو کچھ۔پولارڈمعدے کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہے۔ اُس کی رہائی میڈیکل گراﺅنڈز پر ہونی چاہیے۔سرکردہ اسرائیلی شخصیات نے عوامی کمیٹی فنڈ ریزنگ کیلئے بھی ترتیب دے دی۔ جب این پولارڈ اپنی ڈھائی سالہ قید کاٹنے کے بعد رہا ہو کر اسرائیل پہنچی تھی۔ بن گوریاں ایرپورٹ اُس کے استقبال کیلئے بچھا جا رہا تھا۔استقبالیہ نعرے تھے۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی نمایاں شخصیات اُس کے خےر مقدم کے لےے وہاں موجود تھےں۔
کےااب اس نئے فےصلے سے انتفاضہ کی اےک نئی تارےخ شروع ہونے والی ہے۔لے دے کے دعاکا ہی اےک آسرا ہے کہ خدا مسلمانوں کی اِس بجھی راکھ سے کوئی شرارہ بھڑکائے۔
(ناول،افسانہ، سفرنامہ نگاراور کالم نگار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved