تازہ تر ین

ضیاشاہد- وسیب کاہیرو

ڈاکٹر الطاف ڈاہر \اظہار خیال
میرا تعلق احمد پور شرقیہ سے ہے۔ہاں وہی احمد پر شرقیہ جہاں کے غریب لوگ آئل ٹینکر سے پٹرول ”لوٹتے“ لقمہ اجل بن گئے تھے،ہاں میرا تعلق اسی احمد پر شرقیہ سے ہے جس کی شمال طرف سوکھا ستلج اور جنوب طرف سوکھا چولستان آج بھی اپنی بے بسی پر ماتم کناں ہیں،ایک وقت تھا جب ہمارا علاقہ خوشحال تھا، بزرگ بتاتے ہیں کہ یہاں سعودی عرب کے لوگ بھیک مانگنے آتے تھے،ہمارا علاقہ اتنا خوشحال تھا کہ ایک مرتبہ نواب آف بہاولپور نے رولز رائیس گاڑیوں کو بھی شہر کی صفائی پر لگا دیاتھا،حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کو بھی نوابین بہاولپور سے تعلق رکھنے پر فخر محسوس ہوتا تھا،یہ بھی پڑھا ہے کہ نواب آف بہاولپور نے لاہور تک کے کئی اداروں کو وظائف دیئے سب سے بڑی بات کہ جب پاکستان بن گیا تو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی چلت کے لیے رقم نواب آف بہاولپور نے دی،آج اسی سابقہ ریاست کے لوگوں کی حالت زار دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی نوکریاں نہیں ملتیں،مجھے بھی اس کرب سے گزرنا پڑا جب اسلامیہ یونیورسٹی سے ایم اے پاس کر لیا تو کئی سال در در کی خاک چھانتا رہا،لوگ مجھے کہتے کہ ایم اے کر لیا ہے اب تغاری اٹھاﺅ، تغاری کیونکہ ایم اے سرائیکی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں،میں سوچتا رہا کہ یار کونسا گناہ کر بیٹھا ہوںکہ الٹا لوگ طعنے دیتے ہیں،سوچتا رہا کہ یہاں ایم اے عربی کرنے والوں،ایم اے فارسی کرنے والوں کو تو نوکری مل جاتی ہے ہمیں کیوں نہیں؟کیونکہ اسلامیہ یونیورسٹی میں کئی دہائیاں قبل سرائیکی شعبہ قائم ہوچکا تھااسی طرح بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں بھی سرائیکی شعبہ قائم ہونے سے دھڑا دھڑ ایم اے سرائیکی کرنے والے نوجوان گلے میں ڈگریاں لٹکائے نظر آئے جن میں میں بھی شامل تھا،اس دوران ”خبریں “وسیب سنگ اور سرائیکی صفحہ میں چھپنے والے مضامین ہی ہماری کتھارسس کا ذریعہ ہوتے تھے،صابر چستی کے مضامین ایک نیا ولولہ پیدا کرتے تھے اور شعور کے نئے نئے سوتے پھوٹتے تھے،اسی طرح پورے وسیب سے بلا تفریق رنگ ونسل لکھاریوںکی ایک کہکشاں سجی رہتی،ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب تک ”خبریں “کا مطالعہ نہ کرتے اور چار پانچ دوستوں کوخبر یا کسی مضمون بارے فون نہ کرتے تو چین نہ آتا تھا،جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو ملتان والوںکو بھی احساس ہوا کہ اقتدار بھی کوئی چیز ہوتی ہے یہی بات ہم تک بھی پہنچی۔
ایک دن ملتان سے سماجی رہنما یونس عالم کی کال آئی کہ ہم آپ کا مسئلہ اٹھانا چاہتے ہیں آپ کچھ ایم اے سرائیکی نوجوان اکٹھے ہوکر آئیں پریس کلب ملتان کے سامنے بھوک ہرتالی کیمپ لگائیں چھوٹے موٹے وسائل ہم آپ کو دیں گے،یونس عالم کی بات سن کر میں خوش ہوگیا،فٹ لودھراں کال کی،وہاں سے وارث ملک سمیت دوسرے دوستوںکو کہا،جلال پور پیر والا کے صادق موتھا(اب ان کا انتقال ہوچکا ہے) کو بھی کہا،بہاولپور سے یعقوب خان کاکڑ،واہی جان محمد سے چوہدری امجد رضا، ملتان کے خواجہ طلحہ سمیت سینکڑوں نوجوانوں کے ہمرا پریس کلب ملتان کے سامنے بیٹھ گئے اور” ایم اے سرائیکی نوجوانوں کو نوکریاں دو“ کا بینر بھی لگا لیا،بہت سے سیاسی و سماجی لوگوں نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔ اس دوران صادق موتھا،وارث ملک اور دوسرے ساتھیوں نے جناب ضیاشاہد کے نام ایک خط لکھا اور خبریںآفس ملتان کے استقبالیہ پر چھوڑ آئے،دوسرے اس خط پر مبنی مضمون ”اے وارثان صبح طرب چیختے رہو“ بھی چھپ گیا،اس دن ہم نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے گھر تک احتجاجی واک بھی کی،یوں ہم نے جتنے دن یہ احتجاج جاری رکھا ”خبریں“ میں روزانہ ہماری خبر فلیش ہوکر بیک پیج پر چھپتی رہی جس پر ہمارے بہاولپور کے منسٹر ملک محمد اقبال چنڑ نے نوٹس لیا،انہوں نے ہمارا مطالبہ چیف منسٹر شہباز شریف کے آگے رکھا یوں پورے وسیب میں 35کے قریب سرائیکی لیکچرارز کی سیٹیں منظور ہوئیں جس میں سے ایک پر میں بھی سلیکٹ ہوااور ولائیت حسین کالج میں لیکچرر سے اسسٹنٹ پروفیسر پر ترقی بھی کرچکاہوں،جب اس ترقی کا لیٹر وصول کرنے پروفیسر عصمت اللہ شاہ اور سیادت عارف قریشی کے ہمراہ لاہور گئے تو اپنے مہربان جناب ضیاشاہد کو پھول پیش کرنے اور ان کی پچاس سالہ صحافتی خدمات پر ان کی زیارت کرنے ان کے آفس پہنچے تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی وہ اخبار جس کا ”وسیب سنگ“ اور سرائیکی صفحہ ہم اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیںاور جسے ہم اپنا محسن اور ہیرو سمجھتے ہیں جب اس اخبار کے چیف ایڈیٹر سے ہماری ملاقات ہورہی تھی تو میرے دل میں جناب ضیاشاہد کے لیے دعائیں بھی نکل رہیں تھیں کہ انہوں نے ہمارا مسئلہ بھر پور انداز میں اٹھایااور ہمیں نوکریاں ملیںآج ہم ترقی کا ایک مزید زینہ بھی طے کر کے ان کے سامنے موجود تھے تو میں فخر محسوس کر رہا تھا۔ انہوں نے ہمارے مسائل پر مزید کام کرنے کی حامی بھری،انہوں نے بہاولپور کے پروفیسر عصمت اللہ شاہ کواپنے اخبار میں لکھنے کی بھی دعوت دی۔
اب جبکہ ہمیں ایف اے اور بی اے کے طلباءکو پڑھاتے ہوئے پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر رہا ہے تو ہمیں ایک مسئلے کا سامنا ہے اس مسئلے سے ہزاروں طلباءبھی پریشان ہیں یہ مسئلہ ہے نصابی کتب کا نہ ہونا،اگرچہ بی اے سرائیکی اور ایف اے سرائیکی کا نصاب تیار ہوچکا ہے لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اپنی نااہلی یا سرائیکی سے تعصب کی بنا پر ابھی تک نصابی کتب نہیں چھاپ رہا یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا بروقت حل ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک کتب ہی نہیں ہوں گی طلباءپڑھیں گے کیا،اس بارے ”خبریں “کے توسط سے وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ آپ بھی اس کا نوٹس لیں آپ خود سرائیکی وسیب آتے ہیں سرائیکی بولتے ہیں تو ہمیں بھی اچھا لگتا ہے لیکن آپ کے نیچے بیٹھے چند متعصب اور نااہل افسران کئی سال سے سرائیکی کی نصابی کتب نہ چھاپ کر آپ کی پالیسیز کی دھجیاں اڑا رہے ہیں یہ میرا ذاتی مسئلہ نہیں وسیب کے سینکڑوں کالجز کے ہزاروں طلباءکا مسئلہ ہے اسے جتنا جلدی ہوسکے حل کرنا چاہیے یہاں ایک مرتبہ پھر اپنے محسن جناب ضیاشاہدسے درخواست کروں گا کہ بچوں کے اس مسئلے پر بھی ہمیشہ کی طرح آواز بلند کریں تاکہ آئندہ جب آپ ہمارے وسیب تشریف لائیں تو ہزاروںطلبا ءاپنے مسئلے کے حل پر آپ کو شکرانے کے پھول پیش کریں، ایک اور اہم بات کہ اب بھی ایم اے سرائیکی طلباءکی کثیرتعداد بے روزگاری کے عذاب سے گزر رہی ہے کیونکہ سیٹیں بہت کم تھیںجبکہ ایم اے پاس طلباءکی تعداد بہت زیادہ تھی تو ہماری حکمرانوں سے اپیل ہے کہ مزید سیٹیں بھی دیں تاکہ وسیب کے پڑھے لکھے لوگوں میں موجود مایوسی ختم ہو،میری یہ بھی تجویز ہے کہ ایم اے سرائیکی سمیت ایم اے پنجابی،ایم اے ایم اے بلوچی،ایم اے پشتو نوجوانوں کو ثقافتی اداروںمیں بھی کھپایا جاسکتا ہے جیسے،ریڈیو پاکستان،پی ٹی وی اور آرٹس کونسلوں میں اسی طرح شعبہ سرائیکی بہاولپور اور ملتان میں بھی عرصہ دراز سے کئی سیٹیں ابھی تک خالی پری ہیں ان شعبوں کو زیادہ بجٹ دے کر یہاں بھی کئی بےروزگار نوجوانوںکو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہی وقت ہے کہ نوجوان نسل کو بہتر راستہ دیا جائے اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے ایسا ہی طریقہ دوسرے پڑھے لکھے نوجوانوں کےلئے بھی نکالاجاسکتا ہے۔
(کالم نگار شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved