تازہ تر ین

سرگنگارام ہسپتال اور انسانی رویئے!

ملیحہ سید …. زینہ
ورکنگ مقام پر انسان کو نہ صرف برداشت بلکہ خوش اخلاقی کا لبادہ ضرور اوڑھناچاہیے تاکہ کوئی بھی آپ کی کسی بھی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔
یہ زیادہ پرانی بات نہیں،میرے بڑے بھائی36 سالہ عفان ہاشمی کوایک ڈاکٹر کی غفلت اور لاپروائی کا شکار ہونے کے بعد سر گنگا رام ہسپتال پہنچایا گیا تو وہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی سر توڑ کوششیں کیں تاہم23نومبر کو سینئر ڈاکٹر بھائی جان اور مجھ پر یہ واضح کر چکے تھے کہ ان کی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں مگر ہم ان کی اذیت کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ صبح میں اور امی کوئی ساڑھے سات بجے تک بھائی کے پاس پہنچ جاتے تھے اور شام تک وہیں رہتے تھے۔بھائی جان شام ۶ بجے سے صبح تک وہیں ہوتے تھے۔ سارا دن وہاں ہونے کی وجہ سے میری پورے وارڈ اور خواتین وارڈ میں بھی مریضوں اور ان کے لواحقین سے ہیلو ہائے ہو گئی۔نوائے وقت کے ایک پرانے گارڈ بھی وہاں پر موجود تھے۔ کینسر کی آخری سٹیج پر کھڑادلدار،اپنڈکس کے بگڑنے پر لایا گیا۔ سولہ سالہ مختار،شوگر کی زیادتی کی وجہ سے بے بس و لاچار رشیدہ آنٹی جن کی خدمت کے لیے ان کی بہن وہاں موجود تھی۔زنانہ وارڈ میں عصمت کی بہن فاخرہ جس نے شوہر کے رویوں سے دل برداشتہ ہو کر زہر پی لیا تھا۔الیاس انکل،حولدار امتیاز اور بہت سارے لوگ۔ہم سب ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی تھے۔سب کے پیارے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے اور جن چار مریضوں کو ڈاکٹر جواب دے چکے تھے ان میں عفان بھائی بھی شامل تھے اور اس بات سے پورا خاندان بے خبر تھا اور جو جانتے تھے وہ سب کو سنبھال رہے تھے اور بھائی کے سامنے پورے دل اور مسکراہٹ سے کھڑے ہوتے تھے۔سرکنگا رام ہسپتال سرجیکل یونٹ ون کے سبھی ڈاکٹر اور نرسیں اچھی اور تعاون کرنے والی تھیں جبکہ نچلے طبقے کو تابع رکھنے کے لیے نرمی اور روپے سے بڑی کوئی طاقت نہیں تھی،میں نے سو اور پچاس روپے کی کرشمہ سازی بارہا آزمائی۔
میرا خیال ہے یہ کوئی دودسمبر کی بات تھی،میں نیچے امی کے لیے چائے لینے گئی،واپس آئی تو دیکھا کہ ایک نرس امی پر برس رہی ہے،بھائی اپنی کمزور آواز میں التجا کر رہا ہے،دونوں بے بس نظر آئے۔اس نرس کو پہلے نہیں دیکھا تھا،میں کچھ کہتی،اس سے پہلے ہی امی نے مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا،موصوفہ بول بال کر چلی گئیں مگر جاتے جاتے میرے چہرے کے تاثرات دیکھ گئی۔ میں نے ایک دو دن اس نرس کے رویوں کا مشاہدہ کیا اور اسے تقریباً وارڈ کے تمام مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بد تمیزی کرتے ہوئے پایا۔ انتہائی درشتگی سے انجکشن لگاتی کہ وہ چیخ اٹھتے اور اگر کوئی دوسری نرس اسے نرم رویہ اختیا ر کرنے کا کہتی تو وہ ان سے بھی بد تمیزی کرتی۔ سوائے ایک بہت ہی ہینڈ سم نوجوان مریض کے جو کہیں باہر سے آیا تھا اور یہاں کسی حادثے کا شکار ہو گیا تھا،اس کے ساتھ اسکا بھائی بھی تھا جو خود بھی کافی ہینڈ سم تھا،موصوفہ دونوں بھائیوں پر بہت مہربان تھیں تاہم وہ دونوں اس کے ساتھ سرد رویہ ہی اپنائے ہوئے تھے۔ خیر تیسرے دن اس نرس نے میری موجودگی میں ہی بھائی کو ڈرپ لگاتے ہوئے درشتگی کا مظاہرہ کیا تو میری بس ہو گئی۔ ڈاکٹر بھائی کو جواب دے چکے تھے اور میں کسی معجزے کی منتظر تھی۔نرس کا رویہ میرے لیے ناقابل برداشت ہو چکا تھا، میرا بھائی ہسپتال میں ہے،اس سے میرے قریبی دوست اور کولیگ واقف تھے اور ایک کولیگ کی کال آ چکی تھی کہ کوئی بھی مسئلہ ہو تو بتانا وہاں ایک بہت اچھا تعلق موجود ہے۔ لہٰذا اس دن بغیر کچھ کہے سنے میں نے محسن سے رابطہ کیا،ان کا ریفرنس لیا اوران سے ملی۔وہ نرسنگ ہیڈ تھیں۔ آپا جی ملیں اور سارا معاملہ سننے کے بعد انہوں نے ایک سینئر نرس کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ معاملہ چیک کریں۔متعلقہ نرس نے وارڈ میں جا کر امی سے بات کی،باقی سب مریضوں اور ان کے لواحقین سے پوچھا، شکایت جائز ہونے کے بعد اس نرس کو اس وارڈ سے ہٹا دیاگیا اور امی سے کافی معذرت کی گئی۔ بعد میں سارے وارڈ والوں نے مجھے داد دی اور امتیاز بھائی نے باقاعدہ مٹھائی منگوا کر کھلائی۔
اگلے دن جب میں بھائی کے ایک ٹیسٹ کی رپورٹ لینے گئی تو نیچے اترتے ہی میری سٹاف نرس سے ملاقات ہوئی،بھائی کا حال پوچھنے کے بعدوہ مجھے کہنے لگیں کہ وہ نرس بہت پریشان رہتی ہے اورا سی وجہ سے وہ اکثر غصے میں آجاتی ہے۔میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اسقدر مضحکہ خیز تھی کہ مجھے اور غصہ آ گیا۔ میرا اگلا سوال تھا کہ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ایک ایسی عورت جو اپنے نفس کے ہاتھوں پریشان ہے اور شادی نہ ہونے کی وجہ سے اور اپنی خواہشات کی عدم تکمیل پر الجھنوں کاشکار ہے تو پھر کیا اسے نرسنگ میں آنا چاہیے یا پھر اس کی ڈیوٹی مردانہ وارڈ میں ہونی چاہیے؟ اور پھر انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی یہ وجہ بتانا کہ ستائیس کی ہو گئی ہے شادی نہیں ہو رہی اس لیے اس کا رویہ ایسا ہو گیا ہے،میرے نزدیک افسوس کا مقام تو ہو سکتا ہے رحم کا نہیں کہ ہم اس پر رحم کھائیں۔ یہ اس کی ملازمت ہے اور اپنے مسائل اسے اپنی ملازمت سے الگ رکھنے چاہیے۔وجہ جاننے کے بعد مجھے اس نرس پر رحم نہیں آیا بلکہ میرا دل کر رہا تھا کہ اسکا لائسنس منسوخ کروا دوں۔ تاہم بہت تحمل سے جواب دیا کہ شادی نہ ہونے پر اس کے یہ حالات ہیں،اور اگر شادی کے بعد بھی اسے ”وہ مطلوبہ سکھ“ نہ ملا تو وہ پھر سب کو قتل کر دے گی اس لیے پہلے اسکا نفسیاتی علاج کروائیں اور پھر کام پر لگائیں۔یہ صرف ایک نرس ہی نہیں بلکہ شاید ایسے بہت سارے واقعات ہوں مگر میر ے اپنے حلقہ احباب میں، خاندان میں عمریں چالیس تک پہنچ گئیں ہیں مگر شادی نہیں ہو پا رہی مگر میں نے کسی کا رویہ اس قسم کا نہیں دیکھا جیسا اس نرس کا تھا۔مہینہ بھی دسمبر کا اور سترہ کو بھائی کو پانچ سال ہو جائیں گے مجھے یہ واقعہ اور ایسے کئی واقعات یاد آ گئے جو ہسپتال میں دیکھے اور محسوس کیے۔ تاہم میں آج بھی اس موقف پر قائم ہوں کہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے اور ہسپتال انتظامیہ کو اپنے عملے کے رویوں پر نظر رکھنی چاہیے اور ریگولر بنیادوں پر مریضوں کے ساتھ بہتر سلوک رکھنے اور برداشت پیدا کرنے کے لیے ورکشاپس کروانی چاہیں۔
(کالم نگار سماجی مسائل پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved