تازہ تر ین

یہ مجھے مارے گا

توصیف احمد خان
آپ نے وہ قصہ تو سن ہی رکھا ہو گا کہ دو افراد لڑ رہے تھے۔ آخر کار ایک دوسرے کے سینے پر سوار ہو گیا مگر ساتھ ہی رونا شروع کر دیا ارد گرد موجود تماشائیوں میں سے کسی نے پوچھا کہ بھائی تم نے تو اسے گرا لیا ہے اور اس کے سینے پر بھی سوار ہو پھر رو کس بات پر رہے ہو۔ اس کا جواب بڑا دلچسپ تھا کہ یہ مجھ پر حاوی ہو گیا تو مجھے بہت مارے گا۔
یہی صورتحال آج کل بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے ساتھ ہے۔ موصوف ہر معاملے اور محاذ پر پاکستان کو دبانے اور اس پر چڑھ دوڑنے کی فکر میں رہتے ہیں مگر ساتھ ہی رونے والی آواز میں پکار بھی شروع کر دیتے ہیں کہ پاکستان مجھے مارے گا۔ خصوصاً جب سے مودی کے اپنے صوبے گجرات میں انتخابات کا شور اٹھا ہے تو مودی کا شور شرابہ بھی عروج پر ہے کہ ان کی جماعت بی جے پی کو ہرانے کیلئے پاکستان نے کانگرس کے ساتھ سازباز کر لی ہے۔ مسٹر مودی کی جماعت گجرات میں گزشتہ بائیس برس سے برسراقتدار ہے۔ اس جماعت نے خصوصاً مودی نے وہاں مسلمانوں کے قاتل کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے۔
ویسے تو پورا بھارت ہی خونِ مسلم سے رنگین ہے مگر گجرات میں اس خون کی ارزانی کا یہ عالم ہے کہ آپ کو یہاں کی مٹی کا کوئی حصہ ایسا نہیں ملے گا جس میں کسی مسلمان کا ناحق خون جذب نہ ہوا ہو۔ اب بائیس سال کے بعد یہ مٹی پلٹا کھانے کی امنگ لیے ہوئے ہے تو مسٹر مودی کو دن میں بھی تارے ہی نظر نہیں آتے ہر موڑ پر پاکستان کھڑا ہوا ملتا ہے کیونکہ اس بار لگ رہا ہے کہ شکست مودی کی پارٹی کا مقدر بن چکی ہے۔ یہاں شکست ہوئی تو پھر 2019ءمیں بھارت میں ہونے والے عام انتخابات پر یقینا یہ بہت زیادہ اثر انداز ہونگے۔
پاکستان کی ان انتخابات میں مداخلت اور وہاں اپنی مرضی کا وزیراعلیٰ لگوانے کے بارے میں مودی کے واویلے کا تمام تر دارومدار ایک ڈنر میٹنگ پر ہے جو ایک بدبو دار قسم کے پاکستان دشمن کانگرسی لیڈر مانی شنکر آئر کے گھر پر ہوئی۔ اس میں سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ‘ سابق نائب صدر حامد انصاری‘ سابق خارجہ سیکرٹری نٹور سنگھ اور سلمان حیدر کے علاوہ سابق بھارتی آرمی چیف دیپک کپور نے شرکت کی۔ پاکستان سے جو واحد بندہ اس موقع پر موجود تھا اس کا نام خورشید محمود قصوری ہے جو کبھی ہمارے ملک کا وزیرخارجہ ہوا کرتا تھا۔ موصوف کو یہ وزارت پرویز مشرف کی دین تھی۔ وہ اپنی وزارت کے روز اول سے روز آخر تک قوم کو اسی سراب میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے رہے مسئلہ کشمیر حل ہوا کہ ہوا۔ غالباً ان کا خیال تھا کہ ان کے باس نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بیکار قسم کے جو چار فارمولے پیش کیے تھے ان میں سے کسی ایک کو بروئے کار لایا جا سکے گا اور یہ مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہو جائے گا…. پرویزمشرف کچھ اور تھا یاا نہیں گفتار کا غازی ضرور تھا۔ معلوم نہیں وہ کردار کا غازی بھی تھا کہ نہیں۔ اس بارے میں ہمیں فوج میں سے ان کا کوئی ساتھی ہی بتا سکتا ہے کہ جرنیل اور جنگی حکمت عملی کے حوالے سے وہ کس ریٹ میں تھے۔ ہمارے سامنے تو کارگل کا معاملہ ہے جس میں پاک فوج کے جری جوانوں نے داد شجاعت دیتے ہوئے بڑی تعداد میں درجہ شہادت حاصل کیا مگر انجام کار ہزیمت اٹھانا پڑی۔ نوازشریف اور پرویزمشرف ایک دوسرے پر الزام دیتے ہیں مگر ایک بات ہمارے موٹے دماغ میں بھی آتی ہے کہ فوجی منصوبہ ساز نوازشریف نہیں پرویزمشرف تھا۔
خورشید محمود قصوری اسی پرویزمشرف کا وزیر خارجہ تھا اور ان دنوں میاں بیوی عمران خان کے اردگرد ہیں۔ ہم یہ تو ہرگز نہیں کہیں گے کہ قصوری صاحب اس کی جڑوں میں بیٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مشرف دور کا ذکر ضرور کریں گے جب قصوری صاحب مسئلہ کشمیر کے حل کا سبز باغ سجائے بیٹھے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ بڑے سادہ دل ہیں مگر ہمارے نزدیک یہی ان کی ہوشیاری اور چالاکی تھی کہ اس قوم کو وہی مال دکھاﺅ جو اس کو محبوب اور مرغوب ہے۔ اس لیے انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کی بیل پکڑی اور قوم کو پیچھے لگا لیا۔ آپ کو پتہ ہے کہ گدھے یا گھوڑے کو پیچھے لگانا ہو تو مالک تھوڑا سا چارہ ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور کھانے کے لالچ میں وہ پیچھے چل پڑتے ہیں۔
مسٹر مودی کے ذکر سے ہم بھی کہاں پہنچ گئے…. اب اتنے بڑے بڑے بھارتیوں کی موجودگی میں مسٹر خورشید قصوری ان سے اپنی مرضی منوا سکتے ہیں تو بہت ذہین قسم کے انسان ہونگے…. یہ بات تھوڑی پرانی ہے اور وہ غالباً اپنی کسی کتاب کے سلسلے میں بھارت گئے تھے‘ شاید بعد میں بھی گئے ہوں‘ ممکن ہے وہ کانگرس کی وہاں موجود اعلیٰ قیادت پر اثرانداز بھی ہو گئے ہوں۔ وہاں سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل کو گجرات کا وزیراعلیٰ بنانے کی بات بھی منوا لی ہو مگر سوال یہ ہے کہ خورشید قصوری یا کوئی بھی دوسرا پاکستانی گجرات کے ووٹوں پر کیسے اثرانداز ہو سکتا ہے…. یہ چودھری شجاعت یا پرویزالٰہی والا گجرات تو ہے نہیں کہ چودھریوں کی منت کر لی جائے جو اپنے علاقے کے ووٹ کسی مخصوص شخصیت کو دلوا دیں۔ وہ بھی اس صورت میں کہ گجراتی ان کی بات مان لیں۔ وہاں تو محترم چودھری پرویز الٰہی بڑی مشکل سے کامیاب ہو پائے تھے۔ ممکن ہے بھارتی گجرات والے ان کی بات مان لیں کہ آخر گجراتی ہونے کا رشتہ تو سانجھا ہے۔ چودھری ظہور الٰہی مرحوم یونہی سکھوں کے پیچھے پڑے رہے اور انہیں اپنا ہمنوا بناتے رہے۔ وہ گجراتیوں یعنی بھارتی گجرات والوں میں اثرورسوخ پیدا کرتے تو زیادہ کامیاب رہتے کہ وہ نام کی لاج رکھ ہی لیتے۔ واضح رہے کہ اپنے دور میں چودھری ظہور الٰہی مرحوم نے سکھوں کے حوالے سے زبردست کام کیا تھا اور وہ پاکستان میں سکھوں کے مستقل میزبان کی حیثیت رکھتے تھے۔ اب ہماری موجودہ چودھریوں سے درخواست ہے کہ وہ مودی کا یہ دعویٰ بھی درست ثابت کر دیں کہ پاکستان گجرات کے انتخابات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ کمر ہمت کس لیں اور مودی کے گجرات میں کام شروع کر دیں۔
ویسے مودی کی بات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا تو اس سارے معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں مگر محسوس یہ ہو رہا ہے بی جے پی کو اس بار شکست نظر آ رہی ہے کہ اس دھرتی میں جذب ہونے والا خونِ مسلم آخر کو رنگ لائے گا۔ اگرچہ کانگرس بھی مسلمانوں کی حامی نہیں بلکہ بدترین دشمن ہے کہ گجرات کے عوام کے پاس دونوں میں سے ایک کا انتخاب ہی تو ہے۔ کوئی تیسری اتنی بڑی پارٹی ہے نہیں لہٰذا لامحالہ کانگرس ہی کو ووٹ ملیں گے…. جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے …. یہ تو مودی کا واویلا ہے۔ آخر شکست کی شرمندگی بھی تو کسی پر ڈالنی ہے۔ پاکستان تو اس مقصد کیلئے بہت آسان ہدف ہے کہ بھارت میں چڑیا تک پر مار جائے تو اس میں بھی پاکستان ملوث ہوتا ہے۔ معلوم نہیں اس بیچارے کبوتر کا کیا بنا جس نے پاکستان سے اڑان بھری اور غیرقانونی طور پر سرحد عبور کر کے سیدھا بھارت جا پہنچا۔ وہاں ”گرفتار“ ہوا اور جاسوس قرار پایا…. بعد میں اس کے ساتھ کیا ہوا….! کسی کو کچھ علم نہیں۔ ہاں! اتنا ضرور ہے کہ خود بھارت کو اس معاملے میں زبردست جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا…. ہم نے یا ہماری حکومت نے آج تک بیچارے اس کبوتر کی خبر نہیں لی۔ اسے بے یارومددگار چھوڑ دیا…. ہم گجرات‘ اس کے انتخابات اور ووٹروں کی کیا خبر لیں گے…. وہ بھی بذریعہ خورشید محمود قصوری جو سراب دکھانے کے ماہر ہیں۔٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved